مقبوضہ چترال ۔۔۔۔


جب سے سوشل میڈیا آیا ہے لوگ اپنی مرضی کی تاریخ لکھنے میں مصروف ہیں۔ پھر اس سوشل میڈیائی تاریخ پر لوگ بحثیں کرتے ہیں اسی طرح کی ایک خود ساختہ تاریخ یہ بھی ہے۔ کہ۔ افغانستان کبھی کسی کے زیر تسلط نہیں رہا اور یہاں جو بھی آیا شکست کھا گیا وغیرہ وغیرہ۔ تاریخ پڑھیں تو حقائق کچھ اور بتاتے ہیں گزشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ دیکھی جائے تو اس خطے کو جسے ہم افغانستان کہتے ہیں اور اسے ایران اور ہندوستان سے جدا کرتے ہیں ہمیشہ کسی نا کسی کا بلو واسطہ یا بلاواسطہ مقبوضہ رہا ہے۔ اس کے لیے آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو حقائق معلوم ہوں گے۔ سردست میرا موضوع ایک معاہدہ ہے۔ جو انگریزوں اور انگریزوں کے افغانستان پر مسلط کردہ امیر عبدالرحمن کے مابین ہوا تھا۔ اس سرحدی معاہدے کو ہم ڈیورنڈ لائن کے نام سے جانتے ہیں۔

بیسویں صدی کے شروع ہی میں لارڈ کرزن اس وقت کے وائسرائے ہند نے پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقہ کو پنجاب سے الگ کر کے ایک صوبہ کا درجہ دے دیا تھا۔ جس میں وہ تمام علاقے شامل تھے جن میں پشتو بولنے والے رہائش پذیر تھے۔ اس کی بنیادی وجہ انگریزوں اور روسیوں کے درمیاں سرد جنگ تھی جو کئی دہائیوں سے چل رہی تھی۔ روس کا ہندوستان تک رسائی کا ممکنہ راستہ اسی شمال مغربی سرحدوں سے ممکن تھا۔ اس دور میں روس اور انگریز دونوں سازشوں کے ذریعہ افغانستان میں اپنی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرنے کی کوششوں میں مشغول تھے۔ اور اس مشغلے میں اس دور کے افغانستان پر حکمران خاندان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب پختون عالمی پراکسی جنگوں کا شکار ہوئے اور آج تک اس کی جنگل سے آزاد نہ ہو سکے۔

اس دور کے حکمران امیر دوست محمد خان کو سازشوں کے ذریعہ ہٹا کر انگریزوں نے اپنے حمایت یافتہ شاہ شجاع کو تخت پر بٹھایا اور امیر دوست محمد خان کو گرفتار کر کے قید میں ڈالا گیا اور شاہ شجاع کو ایک معاہدے کے تحت 1838 میں پابند کیا گیا کہ وہ انگریزوں اور سکھوں کے وفادار رہیں گے۔ اور اسی معاہدے کے تحت رنجیت سنگھ کو کشمیر، کوہاٹ، اٹک قلعہ، مچھ ہزارہ، امب پشاور، ہشت نگر، خیبر، ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور ملتان کا پورا علاقہ دے دیا گیا۔ جس کے عوض کچھ شالیں، دوپٹے، کمخواب کے تھان، چادریں، کچھ دستاریں، اور پچپن بوری چاول افغانوں نے وصول کیے۔ اس کے بعد امیر محمد خان کو اقتدار اس شرط پر دیا گیا کہ وہ ایک انگریز نمائندہ کے مشورے کے بغیر کچھ نہیں کریں گے اور خیبر، کرم اور پشین کا علاقہ انگریزوں کے حوالے کریں گے۔ جس کے عوض انگریز انہیں پچاس ہزار پاونڈ سالانہ دیں گے۔

اس کے بعد سردار یعقوب کو بھی معزول کر کے اسے ہندوستان میں قید کر دیا گیا تھا، امیر عبدالرحمن کو جو پہلے روسیوں کے وظیفہ خور تھے ان کو بھی انگریز اقتدار میں لائے جنہوں نے 1878 میں انگریزوں کو خط لکھا کہ وہ ان کے ساتھ سرحدوں کا ایک معاہدے کریں۔ جیسا انہوں نے روس کے ساتھ کیا ہے یوں نومبر 1893 میں ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ کیا گیا۔ یہ معاہدہ کرنے والے ماٹیمر ڈیورنڈ تھے اس لیے اس معاہدے کو ان کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ واخان، کافرستان کا ایک حصہ جسے بعد میں انہوں نے نورستان کا نام دیا، اسمار، وزیر ستان کا کچھ حصہ افغانستان کو دے کر باقی حصہ کو انگریز سلطنت میں شامل کیا گیا جس پر امیر عبدالرحمن نے دستخط کیے، اس سے پہلے 1879 میں روس کے ساتھ بھی سرحدات کے تعین کا معاہدہ ہوا ہے۔ جسے ”گندوماک“ معاہدہ کہا جاتا ہے جس میں روس، افغانستان اور ایران کے مابین مستقل سرحدوں کا تعین کیا گیا ہے۔

ڈیورنڈ معاہدے میں جو علاقے افغانستان کو دیے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ نقصان چترال کی ریاست کا ہوا۔ اس لیے کہ واخان، نورستان، اور اسمار و چغہ سرائے کے بیشتر علاقے چترال کے ریاست کا حصہ تھے اسمار اور چغہ سرائے کے کچھ علاقے اس وقت کے باجوڑ کے حکمران عمرا خان نے اپنے قبضے میں لیے ہوئے تھے ان علاقوں کو آج کل کنڑ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ان علاقوں پر زمانہ قدیم سے چترال کے حکمرانوں نے حکومت کی تھی۔ آج بھی ان علاقوں میں جو شاہی قبیلے آباد ہیں ان کا تعلق چترال کے شاہی خاندان سے ہے۔ یہاں تک کہ اب بھی یہ خاندان آپس میں رشتے کرتے ہیں اور ان کا ملنا ملانا ہے۔ افغان جنگ کے دوران یہ سب چترال میں آ کر اپنے رشتہ داروں کے ہاں رہتے رہے ہیں۔ اور چترال کا دنیا سے زمینی راستہ بھی یہی تھا۔

چترال کے موجودہ علاقے ارندو سے براستہ بیریکوٹ، جلالہ سے ہوتے ہوئے چغہ سرائے کراس کر کے نوا پاس سے گزر کر چترال کے تجارتی قافلے مہمند کے علاقہ محمد گڈ میں داخل ہوتے تھے۔ لیکن انگریزوں نے امیر عبدالرحمن کو خوش کرنے کے لیے ریاست چترال کے یہ علاقے افغانستان کو تحفے میں دے دیے۔ جس کی ایک بڑی وجہ عمرا خان کی انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد تھی۔ جس کی وجہ سے انگریزوں کو ان علاقوں میں بہت مشکلات درپیش ہوتی تھیں۔ ان سے مستقل نجات کے لیے انگریزوں نے ریاست چترال کے یہ سارے علاقے امیر عبدالرحمن کو تحفے میں دیے۔ یہ تمام علاقے اس وقت کے بھی ضلع چترال سے مختلف راستوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ واخان اور نورستان تک افغانستان نے تو گزشتہ چند دہائی پہلے سڑک بنا کر رسائی حاصل کی اور وہ بھی جنرل ضیا الحق کی فرمائش اور مالی و فوجی امداد سے ورنہ اس سے پہلے افغانستان کی وا خان اور نورستان تک کوئی رسائی کا ذریعہ نہیں تھا۔

ان علاقوں کے لوگوں کی تہذیب، ثقافت اور بود و باش افغانستان کے دیگر لوگوں سے بالکل مختلف ہے۔ نورستان جو کافرستان کا حصہ تھا۔ اس کو امیر عبدالرحمن نے بزور شمشیر ایک ہی دن میں مسلمان کروا کر اس پورے علاقہ کا نام نورستان رکھ دیا تھا۔ جسے آج بھی تاریخ کی کتابوں میں کلاشستان، اور کافرستان کے نام سے سے لکھا جاتا ہے۔ چونکہ انگریزوں کو ان اطراف میں روسیوں سے زیادہ خطرہ نہیں تھا۔ یہاں کے درے بہت دشوار گزار تھے اور عملی طور پر فوجیں ان علاقوں سے شمالی مغربی سرحدی صوبہ میں داخل نہیں ہو سکتیں تھیں۔ اس لیے ان کو امیر عبدالرحمن کے حوالے کر کے ایک طرف وہ عمرا خان کی یورشوں سے جان چھڑانا چاہتے تھے اور پھر ان کے بدلے میں آسان زمینی راستے یعنی خیبر، کرم کو اپنے قبضے میں لیا گیا جس کا نقصان ریاست چترال کو ہوا اور اس کے تمام زمینی راستے کٹ گئے۔ اس لیے بعد میں چترال کو دیر سے ملانے کے لیے لواری جیسے دشوار گزار علاقے میں رسائی کے لیے سڑک بنائی گئی۔ یہ راستہ جو سال میں چھے سے سات مہینے برف کی وجہ سے آمد و رفت کے لیے دستیاب ہی نہیں ہوتا۔

ایک دہائی پیشتر جب لواری سرنگ نہیں بنی تھی تو چترال کے لوگ موسم سرما میں آمد و رفت کے لیے اپنا قدیمی راستہ جو اب افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ہو کر گزرتا ہے۔ استعمال کرتے تھے۔ اور نوا پاس میں واپس پاکستان میں داخل ہو جاتے تھے۔ چترال کی ریاست کے وسطی ایشیاء کے اقوام سے قریبی تعلقات تھے۔ وہ بذریعہ واخان، تاجکستان اور دیگر علاقوں کے ساتھ تجارت کرتے تھے۔ ایک صدی سے زیادہ صوبہ بدخشاں کے سرحدی اضلاع پر چترال کی ریاست کا قبضہ تھا۔ اور دریائے آمو ان کی دسترس میں تھا۔ ان علاقوں کے افغانستان میں شامل ہونے سے ریاست چترال کے راستے بھی بند ہوئے اور اس کے علاقے بھی چھین گئے۔ چترال اپنی جغرافیائی حیثیت سے ہمیشہ ممتاز رہا ہے اس لیے کہ یہ چاروں اطراف سے ہندوکش کے پہاڑوں میں محصور ہے۔ اور اس میں گلیشیروں اور معدنیات کا خزانہ موجود ہے، یہاں دنیا کے قدیم زندہ ثقافتی انسان کالاش آباد ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کی خیبر پختونخوا کی زیادہ تر آبادی اس ضلع کے دریائی پانی جو ان گلیشیروں سے رس کر آتا ہے کی وجہ سے آباد ہیں، اس خطے میں دنیا سے معدوم ہونے والے جنگلی جانور جیسے برفانی چیتا، مارخور اور سینکڑوں دیگر پرندوں اب بھی پائے جاتے ہیں، اس کے پہاڑوں میں سینکڑوں چھوٹی بڑی قدرتی جھیلیں ہیں، اس کا علاقہ شندور جہاں سطح زمین پر سب سے بلندی پر واقع پولو گراؤنڈ واقع ہے۔

اس خطے میں نباتات کی ہزاروں ایسی اقسام ہیں جو باقی دنیا سے ختم ہو گئی ہیں۔ اس کے نصف پہاڑ ماربل اور گرینائٹ کے ہیں اور اس میں لوہے کے پاکستان کے سب سے بڑے ذخائر بھی ہیں۔ اس کے نصف حصے پر دیودار اور دیگر ہمالیائی پودوں کے جنگلات ہیں اور اس کے علاقوں نورستان اور کنڑ میں جسے ڈیورنڈ لائن کے ذریعہ اس سے زبردستی الگ کیا گیا میں بھی جنگلات اور معدنیات کا خزانہ موجود ہے۔

ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے ہمیشہ صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع زیر بحث آتے رہے ہیں اس کی وجہ سیاست ہے۔ پشتون قوم پرست اس کو بنیاد بنا کر ”لر او بر“ کے نعرے لگاتے رہے ہیں۔ جبکہ اس معاہدے سے حقیقی نقصان صرف چترال کا ہوا ہے۔ چونکہ چترال پشتون بیلٹ میں نہیں آتا ہے اس لیے اس کا ذکر اس قضیہ میں کہیں نہیں ہوتا۔ میں نے ڈیورنڈ معاہدے کی دستاویز دیکھی ہے جس میں کہیں بھی سو سال کا تذکرہ نہیں ہے۔ یہ کچھ لوگوں نے شوشہ چھوڑا اور پھر کسی نے اس کی تصدیق نہیں کی کہ اصل معاہدہ دیکھا جائے۔

یہ معاہدہ فارسی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہے۔ اس میں امیر عبدالرحمن کی طرف سے اقرار کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ کبھی بھی ان علاقوں پر ملکیت کا دعوی نہیں کرے گا۔ سو سال کا شوشہ غالباً ہانگ کانگ کے معاہدے کو دیکھ کر اخذ کیا گیا ہو گا۔ جس میں سو سال کے لیے وہ علاقہ برطانیہ کو لیز پر دیا گیا تھا جبکہ ڈیورنڈ معاہدے میں کہیں بھی لیز کا تذکرہ نہیں ہے۔ مستقبل میں جب افغانستان چترال سے آنے والے پانی میں چھیڑ چھاڑ کرے گا تو پھر یہ بحث شروع ہوگی کہ جہاں جہاں سے دریائے چترال گزر کر واپس پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ وہ علاقہ کبھی افغانستان کا تھا ہی نہیں بلکہ ایک تیسرے فریق انگریز نے ایک معاہدے کے تحت ریاست چترال اور باجوڑ کی زمین ان کو تحفہ میں دی تھی۔ جس کے وہ اس وقت قانونی طور پر مجاز ہی نہیں تھے۔ اس لیے کہ ریاست چترال ایک خود مختار ریاست تھی اور معاہدہ اس کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ ایک ایسے فریق نے کیا جو اس کا مجاز ہی نہیں تھا۔ وہ قبائلی علاقوں پر تو حق رکھتا تھا اس لیے کہ یہ علاقے اس کے زیر تسلط تھے لیکن یہ حق ان کا چترال کی زمینوں پر نہیں بنتا تھا۔ اس لیے ایک ضلع چترال ہے جو دو اضلاع پر مشتمل خیبر پختونخوا کا حصہ ہے اور ایک مقبوضہ چترال ہے جس پر افغانستان نے ڈیورنڈ لائن معاہدے کی آڑ میں قبضہ کیا ہوا ہے۔

Facebook Comments HS