اپنی ’درست‘ جنس تلاش کیجیے – مکمل کالم


ایک زمانہ تھا جب کسی بھی درخواست فارم میں جنس کے خانے میں صرف دو آپشن درج ہوتے تھے، مرد یا عورت۔ اب انسان نے چونکہ ترقی کر لی ہے سو درخواست فارم بھی جدید ہو گئے ہیں، اب اُن میں محض مرد یا عورت لکھنے سے کام نہیں چلتا کیونکہ اِس سے ٹرانس جینڈر افراد کی دل آزاری ہوتی ہے۔ چلیے یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے مگر میرا اللہ جانتا ہے کہ مجھے علم نہیں تھا کہ انسان کی جنس کا تعین سولہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے، وہ تو بھلا ہوا میرے ایک دوست کا جس نے مجھے رائل کالج آف جنرل پریکٹشنرز، یو کے، کا ایک درخواست فارم بھیجا جس میں جنس کے خانے میں سولہ آپشنز درج تھے جنہیں دیکھ کر میرا تو سر ہی چکرا گیا۔ آپ بھی ملاحظہ کریں۔

پہلے خانے میں درج تھا Genderqueer، لغت میں تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ اِس سے مراد ایسے افراد ہیں جو خود کو نہ تو مرد سمجھتے ہیں اور نہ عورت لیکن جب کبھی اُن کا دل چاہے تو وہ خود کو بیک وقت مرد اور عورت سمجھ سکتے ہیں اور کبھی کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ اگر کسی نے موبائل فون پر مجھے یہ مطلب لکھ کر بھیجا ہوتا تو میں جواب میں اسے وہ ایموجی بھیجتا جس میں انسان انگلی دانتوں میں دبا کر حیرت سے آنکھیں چڑھا کر دیکھتا ہے۔

خیر، دوسرے خانے میں CIS Man لکھا تھا، اِس کا مطلب وہ شخص ہے جسے پیدائش کے وقت اُس کے ماں باپ نے لڑکا سمجھا، ڈاکٹروں نے بھی اسے لڑکا ہی بتایا اور اتفاق سے یہ بات درست نکلی۔ اسی طرح CIS Woman کا بھی یہی مطلب ہے کہ ایسی عورت جسے پیدائش کے وقت لڑکی سمجھا گیا اور وہ لڑکی ہی تھی، بڑی ہو کر بھی لڑکی ہی رہی۔ بندہ پوچھے کہ اِس کے ساتھ CIS کا دُم چھلا لگانے کی کیا ضرورت ہے، سیدھی طرح male یا female لکھ دو۔

اُس کے بعد آ گیا Third Gender یعنی تیسری جنس، یہ اُن افراد کے بارے میں ہے جن کی جنس کی درجہ بندی مرد یا عورت کے طور پر نہیں کی جا سکتی۔ پھر اِس فارم میں محض Male اور Female کا آپشن بھی ہے اور کچھ ایسے ہے جیسے بادلِ نخواستہ لکھا ہو، چلیے مہربانی۔ اُس کے بعد فارم میں Agender درج ہے جس سے مراد ایسا شخص ہے جس کو باطنی طور پر یہ احساس ہو کہ نہ وہ مرد ہے اور نہ عورت اور نہ ہی نر اور مادہ کا کوئی مجموعہ! یہ کچھ کچھ genderqueer سے ملتی جلتی بات ہے، نہ جانے کیوں اسے ایک الگ خانے میں لکھا گیا ہے۔ سب سے پیچیدہ جنس جو مجھے اِس فارم میں لگی وہ Two Spirit تھی، یہ اصطلاح اُن لوگوں کے لیے ہے جو محسوس کرتے ہیں کہ ان میں عورت اور مرد دونوں کی روح ہے، گویا یہ ایک تیسری جنس کی طرح ہے جو مرد اور عورت دونوں ہو سکتی ہے یا اُن کے درمیان میں کوئی چیز۔ سوال وہی کہ genderqueer سے یہ کیسے مختلف ہے!

اُس کے بعد آتا ہے Genderless یعنی بے جنس افراد، وہ لوگ جو خود کو کسی بھی جنس کے ساتھ شناخت نہ کریں اور صنفی طور پر غیر جانبدار رہیں، غیر وابستہ تحریک کی طرح۔ اب اگر کوئی بھلے مانس اِن میں اور agender میں فرق پوچھ لے تو LGBT والے لٹھ لے کر اُس کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ اُس کے بعد فارم میں Transman کا خانہ تھا، ایسا شخص جس کا اندراج پیدائش کے وقت عورت کے طور پر ہوا لیکن بعد ازاں اُس نے اپنی شناخت مرد بنا لی، اسی طرح Transwoman بھی ہے جو پیدائش کے وقت مرد تھا مگر بعد میں عورت بن گیا۔ اِس کے بعد Bigender کا آپشن ہے، یعنی وہ شخص ہے جس کی دو صنفی شناختیں ہوں یاوہ دو صنفی شناختوں کا مجموعہ ہو، جیسے کہ مرد اور عورت دونوں شناختیں رکھتا ہو۔ بندہ پھر پوچھے کہ یہ صاحب two spirit سے کیسے مختلف ہوئے؟

اگلا نمبر Transgender کا ہے جس کو اکثر ٹرانس بھی کہا جاتا ہے، یہ وہ شخص ہے جس کی صنفی شناخت عام طور پر اُس کی جنس سے مختلف ہوتی ہے جو اسے پیدائش کے وقت تفویض کی گئی تھی۔ اِس کے بعد والی جنس بھی خاصی پیچیدہ ہے جسے Non Binary کا نام دیا گیا ہے، اِن سے مراد وہ لوگ ہیں جو خود کو درمیانی یا علیحدہ تیسری جنس کے طور پر شناخت کرتے ہیں یا پھر ایک سے زیادہ جنس کے ساتھ شناخت کر سکتے ہیں یا جن کی کوئی جنس نہیں یا ان کی صنفی شناخت میں اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے۔ ویسے تو زندگی پہلے ہی کافی پیچیدہ ہے مگر اِس non binary جنس پر آ کے تو میری بھی ہمت جواب دے گئی ہے، میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اِس سے کیا مراد ہے، کیا اِس کا مطلب ایسے افراد ہیں جن کی جنس ہر لحظہ بدلتی رہتی ہے یا اُن کے پاس کوئی ایسی قوتیں ہوتی ہیں جن کی مدد سے وہ اپنی جنس کو جب چاہیں تبدیل کر سکتے ہیں!

اگلی اصطلاح مزید پیچیدہ ہے، Genderfluid، اردو میں بولے تو صنفی سیال، اِس سے مراد وہ شخص ہے جو اُس صنف کے حوالے سے لچکدار ہے جس کے ساتھ وہ شناخت کرتا ہے، یعنی اُس کی صنفی شناخت یا اظہار متعین نہیں ہے اور اس میں ایک جنس، ایک سے زیادہ جنس یا کوئی بھی جنس شامل نہیں ہو سکتی ہے اور یوں اُس کی صنفی شناخت اور اظہار بھی وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے۔ میری بس ہو گئی ہے میرے مولا، مجھے اٹھا لے!

مجھے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات سے پوری ہمدردی ہے اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ جن افراد کو صنفی شناخت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ کس قسم کی ذہنی اذیت سے دوچار ہوتے ہیں۔ مگر جس طرح یہ درخواست فارم بنایا گیا ہے اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے مغربی ممالک نے دنیا سے ہر قسم کے ظلم اور نا انصافی کا خاتمہ کر دیا ہے اور اب محض صنفی شناخت کا محاذ رہ گیا ہے جسے فتح کرنا باقی ہے۔ دراصل مغربی دنیا یہ سمجھتی ہے کہ عالمی اخلاقیات کے پیمانے طے کرنے کا اختیار فقط اُس کے پاس ہے، وہ جس مسئلے کو چاہے اہمیت دے اور جہاں دل کرے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر لے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص کو اپنی جنس کے اظہار کا بنیادی حق حاصل ہے مگر جنس کے اظہار کی جتنی شکلیں اِس فارم میں تصور کی گئی ہیں انہیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے انسان دیگر حیوانات یا میملز کی طرح کوئی جاندار نہیں بلکہ ایسی مخلوق ہے جس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چٹکی بجاتے ہی اپنی جنس تبدیل کر لے۔ سچ پوچھیں تو genderqueer، two spirit، non binary یا genderfluid جیسی اصطلاحات میں کوئی خاص فرق نہیں، بلکہ اُلٹا اِن اصطلاحات نے LGBT کے مقدمے کو مضحکہ خیز بنا دیا ہے، اِن اصطلاحات کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ ایسے لوگ بھی سامنے آسکتے ہیں جو کہیں گے کہ ہماری جنس گھنٹوں کے حساب سے تبدیل ہوتی ہے کیونکہ ہفتے کے روز صبح دس بجے سے شام سات بجے تک ہم مرد ہوتے ہیں اور شام سات سے صبح دس بجے تک عورت، لہذا ہمارے لیے کوئی علیحدہ خانہ بناؤ۔

میں سو فیصد اِس بات کا حامی ہوں کہ معاشرے کے کمزور طبقات کو اُن کے بنیادی حقوق لازمی دیے جانے چاہئیں اور کسی فرد یا گروہ کو اُس کی صنفی شناخت یا جنسی محرومی یا وابستگی کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنانا چاہیے، یہی بات ہمارا آئین بھی کہتا ہے، مگر جس طریقے سے مغرب چاہتا ہے کہ ہم یہ کام کریں، اُس طریقے سے اِن طبقات کی مدد نہیں ہوگی بلکہ الٹا انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا جائے گا۔ مغربی دنیا جس رفتار کے ساتھ یہ اصطلاحات ایجاد کر رہی ہے اور اسکولوں میں بچوں کو جس ابتدائی عمر میں LGBT کے بارے میں ’حساس‘ بنایا جا رہا ہے، وہ دن دور نہیں جب خود کو محض مرد یا عورت کہنا باعث شرمندگی ہو گا اور straight لوگوں کو جرمانہ اور سزائیں سنائی جائیں گے۔

 

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada