اے بے گنہی گواہ رہنا


(عزیز از جان دوست علی افتخار جعفری کے لئے یہ سطریں ان کی حیات مستعجل میں 2011ء میں تحریر کی تھیں۔ 9 فروری 2014 کو علی رخصت ہو گئے۔ دوست رخصت کہاں ہوتے ہیں۔ بس ہمارے شجر حیات کی ایک شاخ سبز کم ہو جاتی ہے۔ رائیگانی کچھ بڑھ جاتی ہے اور غریب الوطنی کا خنجر احساس میں کچھ اور گہرا اتر جاتا ہے۔)

علی افتخار پانیوں کا شناور ہے
دو اور کبھی دو سے زیادہ کشتیوں میں پاؤں جمائے
کھلنڈرے لڑکوں کی طرح شرارت سے ہنستا
روداں* کے مجسمے کی طرح سیدھا کھڑا
اپنے ترشے ہوئے رگ پٹھوں کو سورج کے مقابل کیے
غدار پانیوں پہ سہولت سے پھسلتا چلا جاتا ہے

تمباکو سے سیاہ ہوتے اس کے لبوں کا کوئی گوشہ نہیں پھڑکتا
ساحل پر کھڑے ہونے والے دیکھ سکتے ہیں
دو کشتیوں کے سوار کے سرین معلق ہو تے ہیں
اس کے رازوں سے کھیلنے والی ہوا دست صبا جیسی مہرباں نہیں
مگر وہ ڈیک پر پھسلتے پستول کو
بے نیازی سے ایک طرف ہٹاتے ہوئے
ایس ایم ایس لکھتا ہے

”زندگی مختصر ہے
اصول اور ضابطے شکستہ کواڑ ہیں
معاف کرنا سیکھ لو
محبت تہہ دار ہے
تتلی کے رقصاں پر منزلوں کا نشاں ہیں
ایسے ہنسو جیسے کنواری کے پیٹ سے قلقل مے سنائی دیتی ہے
ایسے گاؤ جیسے قیدی چھوڑے ہوئے گلی کوچوں کو یاد کرتے ہیں”

اپالو کا ہمزاد نہیں جانتا
پارسائی کا بدصورت چوپایہ
دانت نکوسے
لمبی خوں آشام زبان نکالے
میرے تعاقب میں ہے
اس نے مری بو پا لی ہے
میں پارسائی کو کتا نہیں سمجھتا
سب کتے پاگل نہیں ہوتے

پارسائی ایک نجس مخلوق ہے
یہ دلوں کی کیاریاں روند دیتی ہے
خواب کے ہرے قطعات کھوند ڈالتی ہے
کنواریوں کے پیٹ میں کیکٹس اگتے ہیں
بوڑھی آنکھوں میں تلخی کی تللی بندھ جاتی ہے
محبت کے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں
سبزہ خط ببول کی شاخ بن جاتا ہے
پریم نگر کی کھڑکیاں شہر پناہ
اور کتابیں آتش زدنی قرار پاتی ہیں

پارسائی ایک تعفن چھوڑتی گھونس تھی
جو کونوں کھدروں میں چھپ کر رہتی تھی
شہر نے یہ آفت کب سوچی تھی
صور اسرافیل کسی نے نہیں سنا
مگر پارسائی کا عجیب الخلقت جانور
ہر جبہ بے شکن اور منافق لبادے سے یوں برآمد ہوا
ہر بلند آہنگ حلقوم سے یوں اچھل کر نکلا
کہ شہر کے کوچے بوش* کا جہنم بن گئے
اپنی جلاوطنی بے لباس ہو گئی

میرے پاس بندوق نہیں ہے
آگ اگلنا میں نے کبھی سیکھا نہیں
ایک کشتی کبھی میری ملک نہیں تھی
گری پڑی ٹہنیوں اور سوکھے پتوں سے
میں نے یہ ڈونگھی بنائی ہے
جو ہر لہر کے ساتھ بری طرح ڈولتی ہے
گدلا پانی رس رس کر اندر آ رہا ہے
پارسائی کا گرسنہ چوپایہ
ساحل پہ بے چینی سے
میرے استخواں کا منتظر ہے

اپالو کے ہمزاد!
دو کشتیوں کے سوار!
مجھے پانیوں کی آغوش ہی میں ڈوبنے دینا
اور میرے ریاکار دوستوں کو بتا دینا
میری رندی اور شہوت کے قصے غلط یا صحیح!
میں پارسائی کی پچھل پیری سے بغل گیر نہیں ہوا

1. Rodin
2. Bosch


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments