وعدہ معاف گواہی قومی مجرموں کی عیدیں


وطن عزیز میں آج بھی لا تعداد اداروں اور ایجنسیوں کے باوجود عام طور پر بڑے بڑے کیسوں میں بیرون ملک ایجنسیوں سے تحقیقات کرانا روایت بن چکی ہیں۔ ایسے ایجنسیوں سے تحقیقات کرانا بذات خود سیاسی اور دیگر مصلحتوں سے مبرا نہیں ہوتے۔ ہم آج بھی انگریز سامراج کے دور کے ان کی اپنی سامراجی پالیسی کے تحت بنائے گئے قوانین پر جن کا مقصد stats۔ quo بحال رکھنا تھا، ان کی حقیقی روح کے ساتھ تواتر سے عمل پیرا ہیں۔

تاج برطانیہ کے دور میں انگریزوں نے بمبئی اور کلکتہ جہاں زیادہ تر انگریز ہی قیام پذیر ہوا کرتے تھے کو Presedency cities کا درجہ دیا تھا۔ جہاں میونسپل اور دیگر سہولیات، مراعات کے ساتھ ساتھ ان کے لیے مہذب قوانین بھی وضع کیے گئے تھے۔ جبکہ باقی سارے ہندوستان میں سامراجی منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے دھونس دھاندلی اور ظلم و استحصال پر مبنی قوانین بنائے اور اس پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے تھے۔

یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں انگریزوں کو بھی تمام جدید اور سائنسی طریقہ تحقیقات کی سہولیات میسر نہیں تھیں۔ جبکہ قانون کی عملداری برقرار رکھنا ان کی مجبوری کی حد تک ذمہ داری تھی۔ ان حالات میں بالخصوص بعض ایسے اندھے فوجداری اور سیاسی جرائم جن کو ثابت کرنے کے لیے عام چشم دید اور واقعاتی شواہد اکٹھا کرنا اور ملزمان کو سزا دلانا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے مقدمات کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے یہ حل ڈھونڈ نکالا کہ اس کے لیے اس وقت کے 1872 Evidence Act کے دفعہ: 133 متعارف کرایا گیا جس کے تحت شریک مجرم (Accomplice) کی گواہی کو خصوصی طور پر متعارف کرایا گیا اور اس کی گواہی شریک ملزم یا ملزمان کو سزاء دلانے کے لیے درست اور کافی گردانا گیا۔

ساتھ ہی قانون ضابطہ فوجداری 1898 کے دفعہ: 337 میں وعدہ معاف بننے، یعنی شریک جرم مجرم کو معافی کا لالچ دے کر شہادت دینے کا اختیار، اجازت اور طریقہ کار کو قانونی شکل دے دی گئی۔ انگریز دور کے دیگر لاتعداد قوانین کی طرح یہ دونوں قوانین بھی حکومت پاکستان نے من و عن اپنائے۔ وعدہ معاف گواہ کا پاکستان میں سب سے بڑی اور مشہور کیس فیڈرل سیکورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل مسعود اظہر کا ہے جس نے اس وقت کے منتخب عوامی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر محمود علی قصوری کے قتل کے مقدمہ میں پھانسی کی سزا دلائی تھی۔

جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں جب حدود آرڈیننس کے نفاذ کے نام سے اسلامی قانون سازی کی گئی۔ تو Evidence Act میں معمولی ترامیم اور دفعات کو آگے پیچھے کر کے ”قانون شہادت آرڈیننس 1984“ بنا دیا گیا۔ اور اس کے آرٹیکل 16 میں وعدہ معاف گواہ کی شق کو اسی طرح شامل رکھا گیا۔ البتہ قصاص و دیت آرڈیننس کے تحت چونکہ قتل اور ضرر کے جرائم متاثرہ شخص اور مقتول کے ورثاء کی مرضی کے ساتھ قابل راضی نامہ بنائے گئے۔ اس صورت میں وعدہ معاف گواہ کی اہلیت بھی تبدیل ہوئی۔ اس کے لیے قانون ضابطہ فوجداری کے دفعہ : 337 میں بھی ترمیم کی گئی اور ایسے جرائم میں وعدہ معاف گواہ بننا یا بنانا متاثرہ شخص یا مقتول کے ورثاء کی اجازت کے ساتھ مشروط کر دی گئی۔

ایسے بہت سے مقدمات اکثر طبقہ اشرافیہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ذاتی اور سیاسی دشمنیوں میں ایسے ہی قوانین کا سہارا لیتے رہے ہیں۔

یہی اشرافیہ اگر مالی کرپشن اور دیگر غیر قانونی طریقوں سے کالی دھن اکٹھی کرتی ہے تو پھر ان کو رعایت دینے کے لیے NAB اور اس جیسے دیگر کئی ادارے اور قوانین بنائے جاتے ہیں۔ جس کی رو سے وہ پلی بارگین کے نام سے کرپشن کی اس رقم کا بہت تھوڑا حصہ ادا کر کے باقی قانونی طور پر ڈکار لیتے ہیں اور گاہے بگاہے ایسے بھی قوانین بنائے جاتے ہیں جس کے تحت وہ کالے دھن کا تھوڑا حصہ ظاہر کر کے باقی غیر قانونی دولت کو سفید بنا دیتے ہیں اور انجوائے کرتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کا بظاہر لاڈلہ پن ختم ہو کے زیر عتاب ہے۔ اور آئے دن اشرافیہ ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی کئی ایلیٹ کلاس کے بندوں کے خلاف ان ہی کے ساتھیوں کے وعدہ معاف گواہ بننے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ظاہر ہے وہ اس حیثیت سے اپنے گلو خلاصی بھی کریں گے، منظور نظر بھی ٹھہریں گے اور مزید کرپشن کے لیے تازہ دم ہو کر مزید مواقع سے لطف اندوز ہوں گے۔

اس جدید دور میں ایسا عمل جدید اور سائنسی سہولیات سے مزین ملک میں کھمبیوں کے حساب سے اگے انٹیلیجنس اور تحقیقاتی اداروں کے منہ پر طمانچہ اور ان کی نا اہلی کا عین ثبوت ہو گا۔ ایسی صورت میں عوام کے ٹیکسوں کی اربوں روپے ان پر ضائع کرنا بھی ایک جرم ہی ہے۔ ایسے افسران کا مواخذہ کرنا لازم ہے۔ ساتھ ہی اداروں کی اصلاح یا خاتمہ ہونا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ جب قتل و ضرر جیسے شخصی جرائم میں وعدہ معاف گواہ متعلقہ فریق کی مرضی اور اجازت کے بغیر بن نہیں سکتا۔ تو قومی اور عوامی جرائم میں ملوث مجرمان کو عوام کی مرضی کے خلاف کیسے وعدہ معاف گواہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس لیے ایسے تمام قوانین جو قومی مجرموں کو رعایت دیتی ہیں وہ اور وعدہ معاف بننے کی سہولت کار قوانین ہی منسوخ کرائی جائیں۔ ورنہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ چالاک اور شاطر لوگ شریک جرم بن کر کرپشن کرتے رہیں گے اور بعد میں ایسے حالات پیدا کریں گے کہ وہ وعدہ معاف گواہ بن کر مزے لوٹتے اور عوام بھوک، افلاس اور قرضوں کے دلدل میں پھنستے رہیں گے۔

اخلاقی اور دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ خودکشیاں بھی بڑھتی جائیں گی۔

Facebook Comments HS