سفر تمام ہوا ہمرہاں بدلتے ہوئے : توصیف تبسم

:ادھر دفتر میں لنچ بریک کا وقت ہوا اور ادھر واٹس ایپ پر کال کی گھنٹی بجنے لگی۔ سکرین پر روشن سرخ اور سبز دائروں میں سے سبز پر شہادت کی انگلی پھیری اور رابطہ قائم ہو گیا
ہیلو، السلام علیکم۔ کیا حامد یزدانی صاحب سے بات ہو سکتی ہے؟ میں توصیف ”تبسم بول رہا ہوں اسلام آباد سے۔“ دوسری طرف سے ایک مشفقانہ آواز کہہ رہی تھی۔ ”
وعلیکم السلام، ڈاکٹر توصیف تبسم صاحب۔ میں، حامد یزدانی ہی بات کر رہا ہوں اور خوش گوار حیرت سے بھرے اس اعزاز پر نازاں ہوں کہ آپ نے مجھے یاد کیا۔ ”میں اس غیر متوقع کال پر فی الواقع بوکھلایا ہوا تھا۔ مجھے تو بس ہلکا سا لنچ کر کے آج بھی دفتر کے نواح میں واقع جھیل کے ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ٹھنڈی ریت اور اٹھلاتی لہروں سے ہم کلام ہونا تھا۔ اور ایک بجے سے پہلے دفتر لوٹ آنا تھا مگر میں محو گفتگو تھا حرف و سخن کے اس بیکراں سمندر سے جس کی روانی سے کئی نسلوں نے اپنے تخلیقی سفر کا رخ متعین کیا۔
بھئی، میں تو کئی روز سے بات کرنا چاہ رہا تھا مگر آپ کا نمبر میرے پاس نہ تھا۔ لاہور فون کیا نوید صادق صاحب کو اور آپ کا نمبر حاصل کیا۔ نوید صادق صاحب نے اپنے رسالے کارواں کا جو ”خصوصی شمارہ میرے حوالے سے شائع کیا ہے ابھی کچھ دن ہوئے وہ مجھے ملا۔ آپ کا اس میں کافی حصہ ہے۔ مجھے یاد ہے میری نذر ایک غزل ہے، ایک مضمون ہے میری غزلوں کے بارے میں اور پھر ایک نظم بھی۔ بس جی چاہا کہ آپ سے بات کروں اور خود شکریہ ادا کروں۔“ توصیف تبسم صاحب کہہ رہے تھے اور میں بس خاموش تھا۔ کہتا بھی تو کیا؟
یہ تو سراسر میرا اعزاز ہے کہ مجھے آپ کے بارے میں کچھ لکھنے کا موقع ملا۔ میں آپ کا پرانا مداح ہوں۔ ”آخر میں نے ہمت مجتمع کر کے کہا۔“
آپ کا نام بھی میرے لیے اجنبی نہیں۔ ہم لکھنے والے سب ایک ہی خاندان کے افراد تو ہیں۔ میں نے آپ کی اور تخلیقات بھی ادبی جرائد بھی دیکھی ہیں اور شاید یہ جان کر آپ کو حیرت ہو کہ میں آپ ”کے والد یزدانی جالندھری صاحب کے فن کا بہت مداح ہوں۔ خاص کر اردو غزل میں جس شائستگی سے انھوں نے کام کیا ہے وہ تعریف کے لائق ہے۔ ویسے میری ان سے زیادہ ملاقاتیں نہیں رہیں۔ لیکن میں نے کہا نا کہ ہم لکھنے والے ایک ہی فیملی ہیں۔ ملیں یا نہ ملیں رشتہ تو بہرحال ہوتا ہے۔ آپ سے بھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔ پاکستان جب بھی آنا ہو مجھے ملے بغیر مت واپس جائیے گا۔“ توصیف صاحب کی آواز میں بے انتہا خلوص اور محبت تھی۔
جی، ضرور۔ جب بھی ادھر آنا ہوا، شرف ملاقات حاصل کروں گا مگر جی چاہتا ہے کہ آپ سے یہ بات شیئر کروں کہ میں آپ سے مل چکا ہوں۔ ”میں نے اپنی یادوں کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔“ بہت سال پہلے کی بات ہے۔ شاید انیس سو ترانوے کی۔ میں جرمنی سے تازہ تازہ واپس لوٹا تھا اور آپ ایک ادبی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔ یہ تقریب ایک فائیو سٹار ہوٹل میں تھی۔ وقفہ ہوتے ہی میں ہوا خوری کے لیے ہال سے باہر نکل کر بیرونی دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا کہ آپ نیچے زینے کے پاس ایستادہ ستون کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے دکھائی دیے۔
میں نے سلام کیا اور مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔ آپ نے مسکراتے ہوئے مصافحہ کیا۔ یہ میری آپ سے پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ میں نے ازراہ تعارف اپنا نام بتایا اور شکریہ ادا کیا کہ آپ نے اکادمی ادبیات کے لیے آفتاب اقبال شمیم صاحب کے ساتھ مل کر منتخب پاکستانی نظموں کا جو انتخاب ترتیب دیا تھا اس میں میری ایک نظم بھی شامل کی۔ مجھے یاد ہے آپ نے فرمایا تھا کہ شکریہ کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ نظم میرٹ پر شامل ہوئی ہے۔ ہمارا تو تعارف آج ہو رہا ہے۔ آپ کے استفسار پر میں نے عرض کیا تھا کہ وہ نظم میں نے جرمنی سے ماہنامہ افکار کراچی کو بھیجی تھی۔ اور اسی دوران میں پھر کچھ اور احباب آپ سے ملنے آ گئے تھے تو میں نے رخصت لے لی تھی۔ ”
بھئی واہ۔ آپ کو یہ تفصیلات یاد ہیں مگر مجھے یاد نہیں۔ ہاں مجھے یہ ضرور یاد ہے کہ اس انتخاب کے لیے آفتاب اقبال شمیم اور میں نے الگ الگ اور مل کر لاتعداد رسالوں اور کتابوں کو کھنگالا ”تھا اور منتخب نظموں کا ایک رجسٹر تیار کیا تھا۔ اس انتخاب پر باقاعدگی سے تبادلہ خیال کرنے کے باوجود حتمی انتخاب سے قبل پھر طویل مکالمے ہوئے۔ کافی توجہ سے کیا تھا ہم نے وہ کام تاکہ جدید تر اردو نظم کا ہر ممکن نمائندہ انتخاب سامنے لا سکیں۔ اشاعت کے بعد پاکستان سے باہر یعنی بھارت میں بھی اس کی پذیرائی ہوئی۔ اس بات پر دل کو طمانیت حاصل ہوئی۔“ توصیف صاحب نے نرمی سے کہا۔
ظاہر ہے وہ ایک تقریب میں ہوئی، سرسری سی ملاقات تھی اور پھر اس کے بعد رابطہ ہی نہیں ہوا تو اس کا ذہن سے اتر جانا کچھ عجب نہیں مگر میں آپ کی تحریروں کی وساطت سے تو آپ سے ”مسلسل ملتا رہتا ہوں۔ آپ سے غائبانہ تعارف گورنمنٹ کالج لاہور کے دنوں میں شاہد ملک صاحب کے ذریعہ ہوا تھا۔ اور پھر ادب سے وابستگی کی بدولت آپ سے ایک تخلیقی قرب قائم ہوتا چلا گیا۔“ میں نے کہا۔
اچھا، تو آپ شاہد ملک کو جانتے ہیں۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ ”ان کے لہجہ سے خوشی جھلک رہی تھی۔“
جی، وہ جی سی میں میرے انگریزی کے استاد تھے اور راولپنڈی، اسلام آباد اور واہ کی ادبی محفلوں اور شخصیات کا اکثر ذکر کیا کرتے۔ آپ اور آفتاب اقبال شمیم صاحب تو ، ظاہر ہے، ان تذکروں کا لازمی حصہ ہوتے تھے۔ وہ بھی آپ کی تخلیقات کو اعلیٰ تخلیقی معیار کا پیمانہ قرار دیتے تھے۔ ”میں نے اپنی یادیں شیئر کرتے ہوئے کہا۔
یہ تو احباب کی محبت ہے بس۔ سچ پوچھیں تو جتنا کام کرنا چاہیے تھا اتنا ”نہیں کیا۔ اس بات پر تاسف رہتا ہے۔ زندگی کے جھمیلوں نے بہت کچھ کرنے ہی نہیں دیا۔ اور زندگی گزر گئی۔ اب نئی نسل کو “ لکھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو جی خوش ہوتا ہے۔ کیا آپ کا کوئی شعری مجموعہ شائع ہوا؟ ”توصیف صاحب نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
جی، میرے دو مجموعے اردو نظموں اور غزلوں کے، ایک نعتیہ مجموعہ اور ایک پنجابی شاعری کا مجموعہ شائع ہوچکے ہیں۔ تازہ شعری مجموعہ اور افسانوں کی کتاب بھی اشاعت کے لیے تیار ہے۔ ”میں نے عاجزی سے جواب دیا۔
کیا مجھے بھیج سکتے ہیں یہ کتابیں؟ توصیف صاحب نے استفسار کیا۔ ”
افسوس، میری یہ کتابیں تو آؤٹ آف پرنٹ ہیں۔ پھر بھی کوشش کرتا ہوں کہ ایک ایک کاپی آپ کو بھجوا سکوں۔ آپ کی نظر سے گزریں گی تو مجھے خوشی ہوگی۔ ”میں نے عرض کیا۔“
پھر انھوں نے میری کینیڈا میں مصروفیات کے بارے میں پوچھا۔ کچھ اپنی صحت کے حوالہ سے بات کی اور رابطہ رہنے کی امید کے اظہار کے ساتھ گفت گو منقطع کردی۔
یوں توصیف صاحب سے رابطے کا ایک باب کوئی دو برس قبل آغاز ہوا۔ سال رواں کے اوائل میں ان کی غزلیات کے بارے میں میری تحریر توصیف تبسم کا ایک اور ستارہ ”“ ہم سب ”پر شائع ہوئی تو اسی شام پھر توصیف صاحب نے یاد فرمایا۔ شام کا آخری پہر تھا جب ان کا فون آیا۔ کہنے لگے :
ہم سب ”پر آپ کا مضمون میں نے بھی پڑھا اور احباب نے بھی۔ بہت اچھا لگا بلکہ بہت خوب صورت لگا۔ میری خواہش ہے کہ ایک ایسا ہی مضمون آپ میری نظموں پر بھی لکھیں۔“
”میں نے کہا:“ جی ضرور۔ میں یہ اعزاز بھی حاصل کرنا چاہوں گا۔ مجھے دلی خوشی ہے کہ آپ نے مجھے اس لائق جانا۔
اس پر توصیف صاحب نے ازراہ حوصلہ افزائی چند توصیفی جملے فرمائے۔ پھر اپنی صحت کا ذکر کیا۔ منیر شکوہ آبادی پر اپنے پی ایچ ڈی مقالہ کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے خود پر لکھے جانے والے تحقیقی مقالہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے میرا مضمون اور نظم بھی مقالہ نگار طالب علم کو دی ہے۔ یہ سن کر ، ظاہر ہے، میرا دل بہت خوش ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے ادبی محفلوں میں کم کم شرکت کرنے کی بات کی۔ احباب سے گھر پر ملاقاتوں کی یادیں تازہ کیں اور پھر کہنے لگے :
لیکن اچھی بات یہ ہے کہ میں لکھتا رہتا ہوں۔ کبھی غزل، کبھی نظم۔ لیجیے چند شعر آپ کو سناتا ہوں۔ گزشتہ دنوں ایک محفل میں سنائے تو دوستوں کو بہت پسند آئے۔ جی چاہ رہا ہے آپ کو بھی ”سناؤں۔“
جی بسم اللہ۔ ارشاد۔ ”میں نے ادب سے کہا اور انھوں نے یہ اشعار عطا کیے“
گماں یقیں سے، یقیں سے گماں بدلتے ہوئے
سفر تمام ہوا ہم۔ رہاں بدلتے ہوئے
گرفت میں نہیں آیا وہ وصل کا لمحہ
گزر گیا تو لگے جسم و جاں بدلتے ہوئے
نظر میں سات سماوات تھے مگر میں تو
زمیں پہ آن گرا آسماں بدلتے ہوئے
وہ ممٹیاں، وہ دریچے، وہ آس پاس کے لوگ
بھلے لگے تھے ہمیں کیوں مکاں بدلتے ہوئے
میں نے مودبانہ داد نذر گزاری۔ مجھے اس وقت یہ بھی یاد آ رہا تھا کہ ”خیال نامہ“ نے کچھ عرصہ قبل جب توصیف تبسم صاحب کی ایک خوب صورت غزل قارئین کی نذر کی تھی تو میں نے ایک مختصر سے نوٹ میں اپنے دل کی بات کہی تھی:
محترم توصیف تبسم ہمارے عہد اظہار کی ترجمان صدا ہیں۔ ان کی غزل کا ہر شعر منفرد و منتخب ہوتا ہے۔ مضامین کا تنوع اور اظہار کی رنگا رنگی ان کی غزل کو سدا بہار بنائے ہوئے ہے۔ غزل ’کے اسلوب میں گھلی روایت کی دھیمی دھیمی لو اور جدت کی چکاچوند کے باہم تال میل سے وہ آسمان ادب پر مصرع مصرع ایسی کرنیں تخلیق کرتے رہتے ہیں جن کی دل کشی ماند پڑنے کو نہیں۔ تلخ حقائق کے آہن کو بھی وہ ایک ہنر ور سنار کی طرح بہت پیار اور نرمی سے تخلیقی زیور میں ڈھالتے ہیں۔ زیور کا حسن دیکھ کر کاری گر کی نفاست تو ہر ایک کو دکھائی دیتی ہے لیکن شب خیال‘ میں فن کی بھٹی سے چھنتی تپش اور روح پر جھیلی حرف حرف ضربوں کی خاموش بازگشت کم کم لوگوں کو سنائی دیتی ہے۔
مذکورہ غزل کے چند اشعار آپ بھی پڑھ لیجیے :
پچھلی شب جب یاد میں تیری آنکھ سے آنسو ٹپکا تھا
تارے بھی جھلمل کرتے تھے، چاند بھی تھا کچھ زرد بہت
پہلا لفظ محبت تھا جو ہم نے پہلی بار لکھا
اب تک یہ پوریں جلتی ہیں، دل میں بھی ہے درد بہت
وحشت میں جب ہاتھ اٹھا کر ہم نے رقص آغاز کیا
ایک بگولا اٹھ کر بولا: تم سے صحرا گرد بہت
………
افسوس کہ ان کی نظموں پر اپنا مضمون میں تاحال مکمل نہیں کر پایا۔
اور آج خبر آئی کہ صف ادب کا یہ درویش تخلیق کے ہمہ وقت وسعت پذیر دائروں میں دھیما دھیما رقص کرتا ہوا وہ لکیر عبور کر گیا جس سے، سنتے ہیں، ابدی سکوں کی وادی کی سرحد آغاز ہوتی ہے۔
……….
میں نے اپنے تازہ شعری مجموعہ کا نام ”ہم ابھی رستے میں ہیں“ اس نظم کے عنوان سے مستعار لیا ہے جو میں نے توصیف صاحب کے لیے ان کی زندگی میں لکھی تھی اور ان سے شاباش اور دعا پائی تھی۔ یہ نظم آج ان کو یاد کرتے ہوئے پھر سے پڑھ رہا ہوں :
ہم ابھی رستے میں ہیں
(جناب توصیف تبسم کے لیے )
۔
اے امین باب حیرت
ہم ابھی رستے میں ہیں
اس کھوکھلی عمروں کے مکتب سے ابھی چھٹی ملی ہے
وہ بھی آدھی۔
سو ہمیں جلدی سے
دروازے پہ کھینچی زرد زنجیریں مٹانا ہیں
سفر کی سمت آنا ہے
ہمیں پیکر تراشی کا ہنر
آنکھوں کو دیواروں میں چنوانے کا فن
امکاں کا لہجہ اور لہروں کا تلفظ سیکھنا ہے
اک بھنور سے اپنا ساحل چھیننا ہے
اور ستم یہ ہے کہ
ہم واقف نہیں دریا کے رستوں سے
بہت مدت سے غیر آباد اس پھیکی شفق کو پار کر پائیں
تو صحرا سے ملیں
اور اس سے آگے دور۔ نیلی دھند میں لپٹے ہوئے خطے کی سرحد
کوئی جنگل رات جیسا ہے
مزاج موسم اظہار سے نا آشنا
نادان بچوں نے غلیلوں میں پرندے رکھ لیے ہیں
پتھروں سے جنگ ٹھہری ہے
ہوا سے بر سر پیکار
ان رنگیں پروں پر ثبت دل کی داستاں
اک زرد پتہ، سر نوشت جاں
کہ رقص غم زداں
خود سر بگولے کا تمسخر جھیلنا باقی رہا
اجلی مسافت کے صحیفے میں لکھی
بارش کی اس مبہم عبارت کی یہی تفسیر ہے
اے دل
قدم لرزاں سہی
دیکھو، ادھر دیکھو
شکستہ حرف و معنی کے برش جیبوں میں اڑسے ہیں
کئی پیلے سے بوسیدہ ورق
اور مٹتی جاتی روشنائی سے
خط مہتاب میں لکھے ہوئے
کچھ خواب
اب امید کے بستے میں ہیں
ہاں، اے امین باب حیرت
ہم ابھی رستے ہیں۔
۔ ۔



