رؤف امیر ایوارڈ
(پاکستان یوتھ لیگ کی جانب سے ڈاکٹر رؤف امیر تعلیمی (وقف) ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر رؤف امیر ممتاز شاعر، نقاد، محقق، استاد اور کئی کتب کے مصنف تھے اور جب وہ پاکستان چیئر، ایبلائی خان یونیورسٹی آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ ورڈ لینگویجز، الماتی، قزاقستان میں خدمات سر انجام دے رہے تھے تو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ عالمی یوم تکریم اساتذہ کے موقع پر تقسیم ایوارڈ کی شاندار تقریب واہ کینٹ کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں واہ اور ٹیکسلا کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اپنے صدارتی خطبے کے آغاز میں ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد دی۔ پھر دیگر باتوں کے علاوہ مجھے یہ کہنا پڑا تھا؛ ہمارے اساتذہ کو اس پر ضرور غور فرمانا چاہیے کہ آخر ان کی اکثریت لائق تکریم کیوں نہیں رہی؟ اور یہ کہ کیا وہ کلاس روم میں محض لیکچر دینے جاتے ہیں یا علم منتقل کرنے؟ اور کیا وجہ ہے کہ طلبا و طالبات کے امتحانات کے نتائج آتے ہیں تو ہر کوئی ناقابل یقین نمبروں کا حق دار ٹھہرتا ہے مگر عملی زندگی میں وہ ناکام ہو جاتے ہیں؟ یہ تقریب چوں کہ تقسیم ایوارڈ کی تھی لہٰذا ایوارڈ تقسیم ہوئے اور میں نے رؤف امیر مرحوم کے حوالے سے اپنی گزارشات پیش کیں۔ جو تحریر اس تقریب میں پڑھی گئی وہ ”ہم سب“ کے قارئین کے ذوق مطالعہ کی نذر۔ )
*** ***
ڈاکٹر رؤف امیر سے منسوب تعلیمی ایوارڈ کے لیے سب سے پہلے مجھے پاکستان یوتھ لیگ کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ دیر سے سہی مگر ایک بے مثل تخلیقی اور علمی شخصیت کے اعتراف کا سلسلہ آغاز ہو چلا ہے۔ میرے دو انتہائی قریبی دوستوں کا عین اس زمانے میں رخصت ہو جانا میرا ذاتی نقصان بھی ہے کہ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میرے وجود کا ایک حصہ جو ان دوستوں کی محبتوں اور رابطوں سے آباد تھا وہ مر چکا ہے۔ اس ذاتی نقصان کے ساتھ، مجھے اس کا بھی شدت سے احساس ہے کہ اردو ادب کاوہ پہلو آباد نہ ہو پائے گا جو بس یہی شخصیات اپنی ذات سے مخصوص صلاحیتوں سے آباد کر سکتے تھے۔
میری ان دو دوستوں سے مراد ڈاکٹر آصف فرخی اور ڈاکٹر رؤف امیر ہیں۔ دونوں کا میدان اور مزاج مختلف سہی مگر عین اس عمر میں اچانک مر گئے جب ہمیں ان کے گزشتہ کام کو دیکھ کر یقین ہو چلا تھا کہ جتنا وہ اب تک ادب کو دے چکے تھے، آنے والے برسوں میں اس سے کہیں زیادہ دیں گے۔ یہ دونوں دوست ایسے تھے جن سے کسی نہ کسی موضوع پر مکالمہ رہتا تھا۔ آصف کراچی میں تھے لہذا فون پر زیادہ اور آمنے سامنے تب، جب ملنا ہوتا تھا۔ رؤف جب تک واہ میں رہے تو ایک آواز کے فاصلے پر تھے جب جی چاہتا ہم آ جاتے یا وہ پہنچ جاتے اور خوب مکالمہ ہوتا۔
یہیں ”ادبی تنازعات“ کا قصہ بھی کہے دیتا ہوں۔ جی، میرے تنقیدی مضامین کا پہلا مجموعہ۔ یہ مضامین مختلف اوقات میں لکھے گئے تھے اور یہاں وہاں بکھرے ہوئے تھے۔ ظاہر ہے اسی سبب اپنے مزاج کے اعتبار سے مختلف ہو گئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ فرد فرد مضامین جب تک بہم نہ ہوئے تھے میرے سان گمان میں بھی نہ تھا کہ انہیں کتابی صورت میں منضبط کیا جا سکتا تھا۔ رؤف امیر کے سلیقے، محنت اور محبت نے یہ کام کر دکھایا تو مجھے حیرت ہوئی۔
میں ایک افسانہ نگار ہی رہتا اگر مجھے میرے اس دوست نے یہ راہ نہ دکھائی ہوتی۔ یاد رہے تب تک رؤف امیر کی غزل اپنی شناخت کے سفر میں قابل قدر منازل طے کر چکی تھی۔ تحقیق اور تنقید کے میدان کے بھی وہ باقاعدہ شہسوار تھے۔ غزل کی مدافعت سے لے کر شخصیت نگاری اور پھر شخصیات کے تخلیقی پہلوؤں اور ادب پاروں کے فنی تجزیے جیسے موضوعات پر ان کے قلم نے خوب خوب جولانیاں دکھائی تھیں۔ ان کے اندر سچے شاعر کی غنا اور مصغر نقاش کا سا سلیقہ اور دل بستگی پائی جاتی تھی۔
وہ اپنے موضوع اور ممدوح سے پہلے محبت کا رشتہ قائم کرنے کے لئے مشترکہ علاقے دریافت کرتے پھر کئی کئی دن اور بعض اوقات کئی کئی مہینے ان علاقوں کی سیاحت میں گزار دیتے۔ اس سیاحی کے مشاہدات کو اپنے وجود کا حصہ بناتے، تب کہیں قلم اٹھانے کی باری آتی تھی۔ گردن نہڑائے سکون سے آسن جما لینے کی باری۔ یوں کہ جب وہ قلم ایک جانب دھرتے تو موضوع جگمگانے لگتا تھا۔ میں اسے تنقید میں احسان کی روش گردانتا ہوں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لئے انور مسعود کی شخصیت و فن پر کام کی تکمیل کے بعد جب وہ افتخار عارف پر لکھنے کے لئے مطلوبہ مواد اکٹھا کر رہے تھے تب میں نے ان کی محویت کو حیرت سے دیکھا تھا، پھر جب وہ اپنے ممدوح کو لہو کی طرح رگوں میں اتار چکے تھے تو ان کا سراپا لشکارے مارتا تھا اور پھر جب وہ کام مکمل کر کے قلم ایک طرف رکھ چکے اور چمکتی آنکھوں سے مجھے فتح مندی کے احساس کے ساتھ دیکھا تھا تب تو میں انہیں دیکھتا تھا تو ان پر نظر ٹھہرتی نہ تھی۔
مسودہ دیکھا، اعتراف کر نا پڑا کہ افتخار عارف کی شخصیت اور فن پر اس قدر بھر پور کام اب تک نہ ہوا تھا۔ عثمان ناعم کے نعتیہ مجموعے کی تقریب میں ان کے ممدوح کو دیکھا، ان کے کند ہے اس بار احسان سے جھکے جاتے تھے۔ صدارتی خطبے کے بیچ ہی کہہ اٹھے۔ ”رؤف امیر میرا محسن ہے۔“ مزید کہا۔ ”کوئی چھوٹا بڑا عمر کے سبب نہیں ہو تا، جو جتنا علم اور حلم رکھتا ہے اور جو جتنے بڑے احسان کا حوصلہ رکھتا ہے، اتنا ہی قد آور اور بڑا ہوتا ہے۔
“ افتخار عارف کو جب میں نے بھری محفل میں انکساری سے رؤف امیر کو اپنا محسن گردانتے سنا تو مجھے صاحب نہج البلاغہ کے الفاظ یاد آرہے تھے۔ قیمة کل امرئٍ ما یحسنھ ”ہر شخص کی قیمت وہ ہنر ہے جو اس شخص میں ہے۔“ گزشتہ دنوں اختر عثمان، شمشیر حیدر اور راکب راجہ کے انٹرویوز پر مشتمل وڈیوز دیکھ رہا تھا وہ سب رؤف امیر کے فن کے معترف ہو رہے تھے تو مجھے اچھا لگا تھا۔ اپنے جونیئرز اور ہم عمر ہم عصروں سے لے کر احمد ندیم قاسمی اور شہزاد احمد جیسے سینئرز تک سب کہہ رہے تھے کہ رؤف امیر کے ہاں تنوع ہے اور انہوں نے اس پتھر سے بھی پانی کشید کیا ہے جس میں بظاہر موجود ہی نہیں تھا۔ گویا یہ تین نسلوں کا اعتراف ہے اور یوں ہے کہ اس خاکسار کا بھی مسلک رہا ہے کہ فن کو تعلق پر نہیں اس کے اپنے تقاضوں پر ماپا جائے۔ فن کے تقاضوں سے کنی کاٹ کر نکلنے والے دوستوں کو میں انور شعور کا یہ شعر سنا دیا کرتا ہوں :
دوست کہتا ہوں تمہیں شاعر نہیں کہتا شعورؔ
دوستی اپنی جگہ ہے شاعری اپنی جگہ
تاہم رؤف امیر ایسا دوست تھے کہ ان کا فن اور شخصیت باہم گھل مل کر ایسی چمکاٹ رکھتے تھے کہ بدن بیچ آلتی پالتی مار کر بیٹھنے والا دھمپال چندھیا گیا تھا اور انہیں دل و جان سے ماننا پڑا تھا۔ اور ہاں جب تک میرے فرد فرد پچپن مضامین دوسرے مسودات کے پلندوں میں دبے رہے، بے معنی لفظوں کا ڈھیر تھے۔ انہیں ایک خاص ترتیب میں لانا، مختلف حصص بنا کر ہر حصے کا عنوان تجویز کرنا، تمام تحریروں کے اندر ایک ربط تلاش کر لینا کہ مربوط ہو کر ایک کتاب میں سما جائیں پھر کتاب کو مناسب سا نام دینا رؤف امیر نے محبت اور خلوص سے ممکن بنایا تھا کچھ یوں کہ بقول اصغر عابد: ”چھلنی میں زور عزم سے پانی اٹھالیا“ ۔ اسے تنقید میں احسان کی روش کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا تھا۔ لہٰذا میں نے رؤف امیر کی محبتوں کے اعتراف میں اپنے مضامین کے اس مجموعہ کی بابت لکھ دیا تھا کہ اب ”ادبی تنازعات“ میری نہیں روف امیر کی کتاب ہے۔
ایک دو باتیں رؤف امیر کی شاعری کی بابت۔ یاد رہے ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ”در نیم وا“ 1994 ء میں شائع ہوا تھا اور مجھے یاد ہے ہر کہیں اس کی دھوم مچ گئی تھی۔ خود رؤف امیر اپنی اس کامیابی پر بے حد شاداں تھے ؛ یوں لگتا تھا جیسے ان کے وجود کے اندر ایک نئی روح داخل ہو گئی تھی۔ مجھے یاد ہے جب انہوں نے مجھے اپنی پہلی کتاب عطا کی تھی تو یہی سرشاری ان کے وجود کے اندر سے ابلی پڑتی تھی۔ کتاب کے ابتدائی اوراق پر محبت سے میرا نام لکھا اور میری طرف بڑھائی۔ ابھی میں نے کتاب تھامی ہی تھی کہ میرے ہاتھ سے اچک لی اور نہایت شوخ لہجے میں کہا : ”پہلے غزل سنو کیا کمال غزل ہے۔“ اور پھر کتاب کھول کر ایک کے بعد ایک غزل سناتے چلے گئے :
سانس لینا بھی اشجار کی جان پر ہو چلا تھا کڑا اور ہوا چل پڑی
پھر سے رنگ فضا معتدل ہو گیا، حبس حد سے بڑھا اور ہوا چل پڑی
شہر سارا تلاوت میں مصروف ہے پھر بھی موسم کے تیور بدلتے نہیں
یہ سنا ہے کہ پہلے کسی شخص نے صرف کلمہ پڑھا اور ہوا چل پڑی
اور۔
ربط مٹی سے رکھ تاکہ تازہ رہے رخ پہ غازہ رہے
کھا گیا کتنے سوکھے درختوں کو گھن ہم سفر بات سن
آخرش یوں ہوا اس کا رستہ الگ میرا رستہ الگ
لاکھ میں نے کہا، ہم سفر بات سن، ہم سفر بات سن
وہ جو غزلیں سنا رہے تھے، ان میں نئی زمینیں آزمائی گئی تھیں ؛ اب بھی جب میں یہ اور اس طرح کی کئی اور غزلیں پڑھتا ہوں تو اظہار الحق کا کہا میرے اندر گونجنے لگتا ہے :
یہی نہیں کہ زمینیں مری اچھوتی ہیں
میں آسمان بھی اپنے نئے بناتا ہوں
ایک اور شاعر ہے جو ادھر الہ آباد میں جلد راہی عدم ہوا خواجہ جاوید اختر، اس نے بھی شاید اظہار صاحب کے تتبع میں کہا تھا:
نئی زمین نیا آسماں بناتے ہیں
ہم اپنے واسطے اپنا جہاں بناتے ہیں
تو یوں ہے کہ رؤف امیر غزل کی جانب آیا تو اس تہذیبی صنف کا مزاج آشنا ہو کر آیا۔ اپنی زمینیں وضع کیں اور کہیں چونکانے کو کوئی حیلہ نہ کیا۔ ان کی غزل کے دونوں مجموعے دیکھ لیجیے ”در نیم وا“ اور دوسرا مجموعہ ”دھوپ آزاد ہے“ جو انہوں نے مجھے اگست 2007 میں یہیں اپنے گھر بلا کر عطا کیا تھا؛ جی تب، جب وہ ایبلائی خان یونیورسٹی الماتی قزاقستان سے بچوں کے ساتھ کچھ دنوں کے لیے آئے تھے ؛ ان دونوں مجموعوں میں کہیں بھی وہ لفظی بازی گری سے یا چونکانے والے موضوعات سے، یا پھر استادانہ مہارت کو کام میں لا کر مفرس اصطلاحات سازی سے متوجہ نہیں کرتے۔ زبان سادہ رکھی۔ سادہ اور رسیلی۔ روایت کی پاس داری کی اور اس میں اضافہ بھی کیا۔ مصرع جات ایسے تازہ اور لچکیلے تخلیق کیے ہری شاخ کے سے، جو ذرا سی ہوا چلنے پر جھولنے لگتی ہے۔ اور احساس ایسا کہ ہر لفظ کی مٹی کو جیسے انہوں نے اپنے لہو سے گوندھا ہو:
ترے فراق میں مجھ پر جو سانحے گزرے
اگر یہ دن پر گزرتے تو رات ہو جاتا
۔
میں اپنے گلے لگ کے بین کرتا ہوں
روف امیر! میرے ویر! میرے سارے خواب
۔
مجھے یہاں مری محرومیوں نے پہنچایا
مرے عروج میں میرا کوئی کمال نہیں
۔
یہ آئنہ مجھے کس رخ پڑا نظر آیا
میں اپنی عمر سے کتنا بڑا نظر آیا
امیر خان سے بے سرو ساماں نکلے رؤف امیر کی محرومیاں انہیں کمال تک لے گئیں ؛ یہ ریاضت اور کمال انہیں فنی عروج تک لے گیا اور وقت آئینے نے انہیں اپنی عمر سے بڑا کر کے دکھا دیا کہ وہ بڑے تھے ؛ اتنے بڑے کہ جست لگا کر ہم سے آگے نکل گئے۔ سولہ ستمبر 2010 کو الماتی قزاقستان ان کا دل جو بہت مچلتا تھا، زور سے دھڑک کر کچھ ایسے عالم میں بند ہو ا کہ ان کی ننھی سی بیٹی ان کی سینے پر بیٹھی تھی اور ادھر سے کوئی فون سنا تھا۔ جس روز ہم نے قزاقستان سے ان کے جسد خاکی کا استقبال کیا تھا اور جنازہ پڑھ کر انہیں ان کے آبائی گاؤں امیر خان کی مٹی میں مٹی ہونے کو روانہ کیا تھا، نہ جانے کیوں ان کی ایک نظم ”موت سے پہلے“ کی اختتامی لائن میرے اندر اتر کر ایک چیخ ہو گئی تھی: ”نیند میں اکثر مرے ہوئے لوگوں سے ملنے جاتا ہوں۔“
وہ زندہ آدمی مرے ہوئے لوگوں سے ملنے جا چکا اب پیچھے رہ جانے والوں کو اپنی زندگی کا ثبوت دینے کے لیے رؤف امیر کو یاد رکھنا ہو گا۔ میں دل کی گہرائیوں سے بردار عزیز عابد حسین، اپنی بیٹیوں جیسی بہن اور بیٹی عفت رؤف اور پاکستان یوتھ لیگ کے تمام عہدے داران اور اراکین کا شکر گزار ہوں کہ ”رؤف امیر ایوارڈ“ کے اجرا کے اس اہم موقع پر اس خاکسار کو یاد رکھا۔
۔


