نواساری: جہاں اکبر کی دی ہوئی زمین پر ایک قدیم لائبریری قائم ہے


اورنگ آباد سید مودودی کی جائے پیدائش، اورنگزیب کا دکنی تاج محل۔

سورت کے ساتھ ہی ایک اور شہر بھی ہے جسے سورت کا جڑواں شہر بھی کہتے ہیں۔ اس کا نام نوا ساری ہے۔ جب میں نے اس علاقے کی تاریخ پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہاں دو اہم ترین واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے نوا ساری ایک اہم شہر گردانا جاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ ان واقعات کو آپ تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔

پہلا واقعہ یہ ہوا کہ ایک بندرگاہ ہونے کی وجہ سے بہت سے پارسی یہاں پر آ کر رہنے لگے۔ مجھے اصفہان میں پارسیوں کا ایک پرانا آتش کدہ دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا اور اس کے ساتھ ہی مجھے یہ علم بھی ہوا کہ اب ایران میں پارسی بہت کم رہتے ہیں۔ میں جب 1982 ء میں آئی سی آئی میں کام کرتا تھا تو میرے ساتھ ایک پارسی بھی کام کرتے تھے جن کا نام ڈنشا جان وکیل تھا۔ ایک منفرد نام ہونے کی وجہ سے یہ نام مجھے ابھی تک یاد ہے۔ کراچی شہر میں اب بھی بہت سے پارسی رہتے ہیں۔ اردو شیر کاؤس جی ایک معروف انگلش کالم نگار تھے، وہ بھی کراچی سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ ایران پر مسلمانوں کے قبضہ کے بعد وہاں سے نکل کر مختلف علاقوں میں چلے گئے۔ وہ زیادہ تر ان علاقوں میں گئے جہاں بندرگاہیں تھیں جیسا کہ کراچی، ممبئی، سورت وغیرہ۔

اکبر ایک ان پڑھ آدمی تھا لیکن وہ مختلف علماء کو بلاتا اور ان کے درمیان بیٹھ کر ان کی باتیں سنتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو بلوایا اور ان سے کہا کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے بارے میں بتائیں۔ اس میں مسلمان، جین، عیسائی، بدھ اور ہندوؤں کے ساتھ ساتھ پارسی بھی تھے۔ سب نے اپنی اپنی باتیں کیں۔ ہر کسی نے یہ ثابت کیا کہ اس کا مذہب سب سے اچھا ہے۔ آخر میں پارسی مذہب کے نمائندے جن کا نام دستور مہر جی رانا (Dasture Meherjirana ) تھا، نے کہا کہ ان کے نزدیک تمام مذاہب اپنی طاقت، نظریے اور اصولوں کے تحت ایک جیسے ہی ہیں اور ہم ان میں کوئی فرق نہیں کرتے۔

اکبر یہ سن کر بے حد خوش ہوا اور دستور صاحب کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوا۔ اس نے انعام کے طور پر دستور صاحب کو نواساری میں ایک بڑی جگہ الاٹ کردی اور اس کے لیے ایک شاہی فرمان بھی جاری کر دیا۔ پارسی لوگوں نے اس جگہ پر کوئی پارک یا کوئی ذاتی مکانات نہیں بنائے بلکہ انھوں نے اس جگہ پر ایک لائبریری تعمیر کی۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ترقی کا راز علم حاصل کرنے میں پنہاں ہے۔ اس لائبریری کا نام مہر جی رانا لائبریری ہے۔ اس کے متعلق تمام تر معلومات میں نے اس کی ویب سائٹ سے لی ہیں 1۔

اس بات کو تقریباً ًپانچ سو سال ہونے والے ہیں۔ اب یہ ایک بہت بڑی لائبریری بن چکی ہے۔ اس لائبریری میں اکبر کا شاہی فرمان اب تک آویزاں ہے۔ میں نے جب اس لائبریری سے متعلق پڑھا تو پتہ چلا کہ یہ جنوبی ہندوستان کی سب سے پرانی لائبریری ہے۔ اس کی تصاویر سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک قدیم طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔ جنہوں نے اسے دیکھا انھوں نے بھی اس کے بارے میں یہی لکھا ہے کہ یہ بہت ہی خوبصورت طریقے سے بنائی گئی ہے۔ بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی اور خوبصورت جگہ ہے جہاں پر لوگ جاکر آرام بھی کر سکتے ہیں اور پڑھ بھی سکتے ہیں۔ اگر مجھے کبھی دوبارہ اس شہر میں جانے کا موقع ملا تو میں اس لائبریری کو ضرور دیکھنے جاؤں گا۔

اس شہر کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ 1930 ء میں مہاتما گاندھی نے انگریزوں کی طرف سے نمک پر لگائے گئے مختلف ٹیکسز کے خلاف ایک طویل پیدل مارچ کا اختتام یہاں کیا تھا۔ یہ مارچ احمد آباد سے شروع ہوا اور چوبیس دن تک جاری رہا۔ مہاتما گاندھی نے اس مارچ کا خاتمہ نواساری شہر کے قریب ایک گاؤں ڈانڈی (Dandi) میں کیا۔

اس مارچ میں اسی کے قریب لوگوں نے گاندھی کے ساتھ ان کے مارچ میں شرکت کی۔ ان میں سے بیشتر کی عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان تھیں۔ ان کا تعلق ہندوستان کے کئی علاقوں سے تھا۔ میں نے شرکاء کے نام پڑھے ہیں۔ دو ناموں سے لگتا ہے کہ وہ مسلمان تھے۔ ایک نام پنجابی شاہ بھی ہے۔ میں تو اس سے یہی مراد لیتا ہوں کہ یہ صاحب پنجاب سے گئے ہوں گے۔

انڈین ایکسپریس نے 9 فروری 2014 ء ء کو ایک مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے : Remembering the 80 unsung heroes of Mahatma Gandhi ’s Dandi Marchاس میں لکھا ہے کہ ان افراد کے مجسمے ایک پارک میں تیار کیے جا رہے ہیں جنھوں نے گاندھی کے ساتھ مارچ میں حصہ لیا تھا۔ یاد رہے کہ اس مارچ میں 338 کلومیٹر فاصلہ طے کیا گیا تھا۔

یہاں کی ایک اور اہم بات ٹاٹا خاندان سے متعلق بھی ہے۔ ہم سب نے ٹاٹا خاندان کا نام تو سنا ہوا ہے۔ اس خاندان کے بانی کا نام جمشید جی ٹاٹا تھا۔ ان کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ مہاتما گاندھی کے چوبیس روزہ مارچ کی یاد میں شہر میں ایک چوراہا بنایا گیا ہے جسے چار راستہ کہتے ہیں۔ اس چوراہے پر مہاتما گاندھی کے مجسمے نے پیدل مارچ والا لباس پہنا ہوا ہے۔

عام سے شہروں میں بھی اگر کوئی خاص بات ہو جائے تو وہ انھیں بھی خاص کر دیتی ہے۔

اورنگ آباد: جہاں عالمگیر نے دفن ہونا پسند کیا اور مولانا مودودیؒ کی جائے پیدائش

بھارت کے وہ چند شہر جو میں خواہش کے باوجود نہ دیکھ سکا، ان میں اورنگ آباد بھی شامل ہے۔ ہم سورت سے گزر رہے تھے اور اس وقت سب لوگ سونے کی تیاری کر رہے تھے لیکن میں جو کتاب پڑھ رہا تھا اس میں لکھا ہوا تھا کہ گجرات کا علاقہ بہت دور تک پھیلا ہوا تھا اور گجرات سلاطین دلی اور مغل حکمرانوں کو بہت ہی پسند تھا۔ خاص طور پر اورنگزیب عالمگیر نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ یہاں پر گزارا۔ اورنگزیب عالمگیر سے پہلے اس کا والد شاہجہاں بھی اسی علاقے میں جہانگیرہ کا گورنر تھا۔ اورنگزیب کی پیدائش بھی یہیں ہوئی اور شاہجہاں کے دور میں اورنگزیب اس علاقے کا گورنر بھی بنا۔ آخری عمر میں بھی وہ اس علاقے میں اپنے مخالفین سے جنگ میں مصروف تھا۔ اسی علاقے میں اس کی وفات ہوئی اور اسے یہیں پر دفن کیا گیا۔

یہ شہر مولانا مودودی ؒ کی جائے پیدائش بھی ہے اور ان کا بچپن بھی اسی شہر میں گزرا۔ یہ جان کر اس شہر سے میری عقیدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ میں شدید خواہش رکھتا تھا کہ اورنگ آباد دیکھوں لیکن ایسا ممکن نہ تھا کیونکہ اورنگ آباد کا علاقہ سورت سے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور ہم بذریعہ ٹرین جا رہے تھے اس لیے اورنگ آباد دیکھنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ البتہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں چند دلچسپ باتیں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جن کا تعلق اورنگ آباد سے ہے۔

یہ ہندوستان کی تاریخ کا وہ حصہ ہے جس سے ہم پاکستانی زیادہ واقف نہیں ہیں۔ اسی علاقے میں ایک افریقی غلام، ملک امبر نے بھی اپنی ریاست بنائی۔ اسی شہر میں اورنگزیب کے بیٹے نے اپنی ماں کے مقبرہ کی تعمیر مکمل کی جس کا آغاز اورنگزیب نے کیا تھا۔ جو ہو بہو تاج محل کی نقل ہے۔ تصویر میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا لیکن اس کی شان و شوکت میں یقینی طور پر بے حد فرق ہے۔ یہ بھارت کا دوسرا تاج محل ہے جسے دکنی تاج محل کہتے ہیں

میں نے آج تک جتنے بھی شہروں سے متعلق پڑھا ہے ان میں کسی کے پانچ دروازے، کسی کے بارہ دروازے جیسے لاہور میں بارہ دروازے ہیں۔ اورنگ آباد کے باون دروازے تھے اسی وجہ سے اسے دروازوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جس کا نام تین مرتبہ بدلا گیا۔ موجودہ دور میں بھی اس شہر نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی اور اسے بھارت کا سمارٹ سٹی ہونے کا اعزاز ملا۔

میرے سب ساتھی سو رہے تھے اور میری نیند مجھے سے ابھی تھوڑی دور تھی لہذا میں تصور ہی تصور میں صدیوں پیچھے چلا گیا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ دوسری صدی عیسوی سے ہی آباد ہے۔ اس وقت یہاں پر ہندو راجاؤں کی حکومت تھی۔ دولت آباد اور دیواگری بھی جدید اورنگ آباد کی حدود میں واقع ہیں۔ چودہویں صدی کے آغاز میں سلطان علا الدین خلجی کے دور حکومت میں یہ علاقہ سلاطین دلی کے ماتحت آ گیا۔ بعد ازاں سلطان محمد بن تغلق نے بھی اس علاقے پر حکمرانی کی۔ اس نے بڑے پیمانے پر دلی کی آبادی کو دولت آباد منتقل کرنے کا حکم دیا تاہم بعد میں دارالحکومت واپس دلی منتقل کر دیا گیا۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ اس علاقے میں پانچ مسلمان ریاستیں قائم تھیں، جن میں سے ایک احمد نگر بھی تھی اس کی بنیاد ملک احمد نظام شاہ اول نے رکھی جو نظام الملک کا بیٹا تھا۔ وہ بہمنی ریاست کی طرف سے اس علاقے کا گورنر تھا۔ اس نے اپنے ایک جرنیل جہانگیر خان کی زیر قیادت میں بہمنی فوج کو شکست دینے کے بعد آزادی کا اعلان کیا اور ریاست احمد نگر کی بنیاد رکھی۔ احمد نگر شہر اسی دور میں بسایا گیا اور اسے دارالحکومت کا درجہ دیا گیا۔

اورنگزیب نے اس ریاست کو ختم کر کے مغل سلطنت کا حصہ بنایا۔ یہ کیسے ہوا؟ وہ ایک دلچسپ کہانی ہے جس میں ایک حبشی غلام ملک امبر کا کردار نہایت ہی اہم ہے۔ یہ سب کچھ یقیناً آپ کے لیے بھی بے حد دلچسپی کا باعث ہو گا۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ چند اہم باتیں آپ کے سامنے پیش کروں لیکن آپ سے یہ گزارش ضرور کروں گا کہ آپ اس علاقے کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کریں۔

Facebook Comments HS