موسم


م: میرا، و: وعدہ، س: سچی، م: محبت

موسم کا لفظ اپنے اندر کتنی معنویت سموئے ہوئے ہے۔ بدلتے موسم زندگی کی حقیقی رنگوں کو آشکارا کرتے ہیں۔

بہار: نام سنتے ہی اس کی دھنک اور دلکش تصور سے انسان اپنے وجود میں اک طمانیت، تازگی، رعنائی، اک ترنگ، جینے کی امنگ محسوس کرتا ہے۔ نجانے کتنے سہانے سپنوں کی بلند قامت، زندگی کی ہر آسائش سے بھرپور، خوبصورت تزئین، انمول شہ پارے، آرائش اور زیبائش، منقش در و دیوار، تازہ پھولوں کی مہک سے بھر پور محل تعمیر کر لیتا ہے۔ ہر طرف لہلہاتے پودے، مستی سے سرشار جھومتے درخت، خوشبو بکھراتے رنگ برنگے پھول، چہچہاتے اٹکھیلیاں کرتے ہوئے پرندے۔ لیکن! جن کے اپنے۔ انکھیوں سے دور، ان کی لیے کیا بہار، کیسی بہار۔ اکھیوں میں پیا ملن کی اس اک ان بجھ پیاس۔

جب جب بہار آئی اور پھول مسکرائے مجھے تم یاد آہے۔
ساجن/ سجنی بنا بہار رت موسم خزاں محسوس ہوتی ہے۔ تیرے بن سونے نین ہمارے۔

جب جب ان سرسراتے پتوں کو دیکھتا ہوں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ سرگوشیوں میں کسی کی جدائی کے قصے بیان کر رہے ہیں، نہیں! غالباً قادر مطلق سے بچھڑے دلوں کے ملاپ کی دعائیں مانگ رہے ہیں، یا پھر شاید چپکے چپکے تقدیر سے شکایت!

ہائے نی تقدیرے توں رول سٹے دو ہیرے۔

موسم انگڑائی لیتا ہے اور ان کی ان میں اگ برساتا سورج پوری اب و تاب کے ساتھ نیلے اسمان کو پیلا کرتا ہوا جلوہ گر ہو جاتا ہے۔ کیا انسان کیا حیوان، کیا چرند، کیا پرند، سب پیاس کی شدت سے نڈھال، ان بجھ پیاس کا احساس، پسینے سے شرابور وجود، ایسے میں بارش کی ایک بوند گرمی کی تپش سے نجات کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور پھر ساون بھادوں کی موسلا دھار بارشیں جہاں گرمی کی حدت میں کمی کا باعث بنتی ہیں وہاں کئی سلگتے اور تڑپتے دلوں میں اگ لگانے کا موجب بھی بنتی ہیں۔

پیار، محبت، ملن، اور سنگم کے جذبات مچلنے لگتے ہیں۔ ساون کا موسم، گرجتے برستے بادلوں کا موسم، پکوڑوں اور مال پوڑوں کا موسم، ام اور امرود کھانے کا موسم، اور جو اپنوں سے جدا ان کے لیے برستے بادلوں کے ساتھ آنسو بہانے کا موسم۔ نیناں برسیں رم جھم رم جھم آ جا تورے آون کی آس۔ تم بن سجن برسے نیین جب جب بادل برسے۔ اک روویں تو بدلا دوجھے روندے نین نمانے۔ ساون آئے ساون جائے تجھ بن پیا جیا نہ جائے۔ دل کو تسلی دینے کی خاطر ساون کے بادلو ان سے یہ جا کہو تقدیر میں یہی تھا ساجن میرے نہ رو۔

پھر ان موسلا دھار بارشوں پر ایک جنونی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اپنے وجود میں بپھرے ہویے احساسات، غیض و غضب میں ڈوبے ہوئے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کتنے ہی ہنستے بنستے گھروندوں کو طغیانی میں بے رحمی کے ساتھ بہا لے جاتی ہیں۔

کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے بن جائے نشیمن تو کوئی اگ لگا دے

موسم خزاں کی زرد اداس فضاؤں میں اداسی کی لہر عود آئی ہے۔ سر سبز پتوں سے لدے درختوں کی خوبصورت اور دلکش ہریالی میں ویرانی اور زردی چھلکنے لگی ہے۔ ان درختوں کو بھی اپنے خوبصورت پتوں کے بچھڑنے کا غم تڑپا رہا ہے۔ ہم تم سے جدا ہو کے مر جائیں گے رو رو کے۔

بہت جلد درختوں پر ہر سو مرگ کا منظر ہو گا، اور ہریالی کی جگہ برف کی سفیدی ان کو کفن پہنا دے گی۔ اسی میں زندگی کا راز پنہاں ہے۔ بہاریں چار دن کی پھر خزاں ہے۔ رت بدلی، موسم بدلے، وچھوڑے کے مارے دل نوحہ کناں ہیں۔

رت بدلتی رہی برس کے برس جانے والے نہ لوٹ کر آئے

گئی رتوں کو یاد کر کے ہر روز گزرتی رت کو بھلانے کی سر توڑ کوشش، ہر گزرتا پل اداس لمحوں کو قصہ پارینہ بناتے ہوئے بیت جاتا ہے۔ لیکن یہ اداسی، یہ تڑپ، یہ بے قراری!

گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھی ایسے کہ ہم اداس بہت تھے مگر نہ تھے ایسے

جاڑے کی سیاہ رات، نہ کوئی ساتھی نہ کسی سے بات، ایک اللہ کی ذات، اسی سے التجا اسی سے دعا، اسی سے مدعا حاجات۔ تنہائی اور اداسی کا چولی دامن کا ساتھ۔ تنہائیوں کی ساتھی تنہائی جو ہر دکھ اور سکھ میں ہم قدم۔ ہر بات کو سنتی ہے،

کاتب تقدیر نے لکھ دی تنہائی اے ہمدم میری تنہائیوں کی ساتھی میری تنہائی ہے ہمدم

یہ اداسیوں کے موسم بھی اپنی جگہ اٹل، اپنے پیاروں کی یاد ستائے، یہ جدائی دل کو جلائے، یاد کوئی اتنا بھی نہ آئے، برسات آنسوؤں کی تھم نہ پائے۔

یہ اداسیوں کے موسم یوں ہی رائیگاں نہ جائیں کسی درد کو پکارو کسی یاد کو جگاؤ

جدائیوں کے موسم میں رو رو کر خط لکھنا، جاگتی آنکھوں کے ساتھ سونا، ملن کی گھڑیوں کے تصور میں کروٹیں بدلنا، ایسے میں اپنوں کی موجودگی دل کے بہت ہی قریب دھڑکن بن کر ابھرتی ہے اور پانی کے بلبلے کی مانند پل بھر میں نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔

محرومیوں کے موسم میں زندہ رہنے کی امنگ، ایک کٹی پتنگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ زندگی جب زہر محسوس ہونے لگے تو پھر زندہ رہنے کی تمنا خود ہی زہر کی آلودگی میں تحلیل ہو کر فضاؤں میں سوکھے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہے۔

جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے
یہ موسم گھڑیال کی سوئیوں کی طرح ایک محور میں گردش کر رہے ہیں۔
دھرتی پے امبر کی آنکھوں سے برستی ہیں
اک روز یہی بوندیں پھر بادل بنتی ہیں
اس بننے بگڑنے کے دستور میں سارے ہیں
نہ جانے کہاں جائیں ہم بہتے دھارے ہیں
لیکن جیون چلنے کا نام بھی ہے،
نہ منہ چھپا کے جیو نہ سر جھکا کے جیو غموں کا دور بھی آئے تو مسکرا کے جیو

بہار، گرمی، ساون بھادوں، خزاں، جاڑے کی سیاہ ناگن جیسی راتیں، اداسیوں کا موسم، پتوں سے آزاد برہنہ درخت، دھرتی برف پوش کفن اوڑھے محو خراش، پھر امد بہار کا بگل، زندگی رواں دواں۔

میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
جو مل گیا اسے مقدر سمجھ لیا جو کھو گیا اسے بھلاتا چلا گیا۔
موسم
م: موہنی صورت
و: وجود اللہ
س: سوہنی
م: مورت

Facebook Comments HS