محقق شیخ عزیز کی رقم کی گئی ”سندھ کی محلاتی داستانیں“


”یہ داستانیں، محض کہانیاں نہیں، جو کسی کہانی نویس یا افسانہ نگار کے ذہن کا اختراع ہو یا کسی محروم دماغ کے خوش کن مستقبل کی خواہش کا پرتو ہوں۔ بلکہ یہ کہانیاں وہ واقعات ہیں، جن کو اسی طرح بیان کیا گیا ہے، جس طرح وہ وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ البتہ ماضی کے داستان گو اساتذہ کی طرح ان واقعات میں انداز بیان کو اسی طرح تبدیل کیا گیا ہے کہ ان واقعات میں تخیل کے ساتھ ساتھ زبان کی چاشنی بھی قاری کو بھا سکے۔

ان داستانوں کو کہانیاں کہنے کو اس لیے جی چاہتا ہے کہ ان میں سندھ کی تاریخ سے چند واقعات تسلسل سے لئے گئے ہیں اور ان کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ عصری ادب کا قاری اس واقعے کے اپنے پس منظر اور اس کے محرکات کو سمجھ سکے۔ ان تمام واقعات کا منبع تاریخ سندھ ہے، جس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے بہت سے اوجھل پہلوؤں کو اجاگر کرنا پڑے گا۔ ”

یہ ہے فروری 2009 ء میں تحریر شدہ، اور اسی برس برکھا انٹرپرائزز حیدرآباد سندھ کی جانب سے طبع شدہ شیخ عزیز کی لکھی منفرد تصنیف، بعنوان ”سندھ کی محلاتی داستانیں“ میں مصنف ہی کی جانب سے ”قصہ مختصر“ کے عنوان سے لکھے گئے ”آتھر نوٹ“ سے ایک چھوٹا سا اقتباس، جس میں وہ بقلم خود اس کتاب کا لب لباب، مقصد و انداز تحریر بیان کرتے ہیں کہ اس کتاب میں کس موضوع کے حوالے سے تحقیق بہ انداز فکشن (قصہ گوئی) شامل کی گئی ہے۔

تاریخ نویسی کا یہ انداز (کہ سچی داستانوں کو قاری کی دلچسپی کی خاطر معمولی مبالغے یا کرداروں کے اضافے کے ساتھ فکشن کے انداز میں رقم کیا جائے ) گو کہ مشرق خواہ مغرب میں عرصۂ دراز سے مستعمل ہے، مگر نامور و ممتاز صحافی اور قلمکار شیخ عزیز جیسے تخلیقی محققین و مؤرخین کے منفرد طرز تحریر کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ اس میں اس قدر صلاحیت کے ساتھ تخلیق کے رنگ بھر دیتے ہیں کہ قاری گویا ان مناظر اور کرداروں کو اپنے سامنے حرکت کرتے دیکھ اور محسوس کر سکتا ہے۔

7 اکتوبر کا دن اس کثیر اللسانی، باصلاحیت اور ہمہ جہت صحافی، صاحب قلم، محقق، ماہر موسیقی اور کئی کتب کے مصنف شیخ عزیز کی وفات کا دن ہے، جن کی صحافتی و قلمی خدمات کو یہ خطہ ہرگز باآسانی فراموش نہیں کر سکتا۔ اس لیے آج ان کے پانچویں یوم وفات کی مناسبت سے ہم ان کی اس کتاب ”سندھ کی محلاتی داستانیں“ کا مختصر مطالعہ کرتے ہیں۔

210 صفحات پر مشتمل 200 روپے قیمت کی اس کتاب میں سندھ کے شاہی محلات کے اندر پنپنے والی جن داستانوں پر تخلیقی انداز میں تحقیق کا اہتمام کیا گیا ہے، ان میں 5 اہم ترین داستانیں شامل ہیں، جو ہیں ماہ بیگم، سونیتی، سونہں دیوی، بالی اور ملک بدری کی شہنشاہت۔ اس کتاب کا منفرد و رومانوی انداز تحریر میں مکالمے کے انداز میں لکھا جانا تو قاری کو یہ داستانیں پڑھنے پر مائل کرتا ہی ہے، مگر ہر داستان سے قبل جو ایک دو جملوں میں مصنف اس کردار کے بارے میں انتہائی مختصر تعارف کراتے ہیں، وہی سب سے پہلے ہر داستان پڑھنے کے لیے قاری کو بے پناہ مائل کرتا ہے۔ مثلاً: ”ماہ بیگم“ کے باب کے آغاز میں ان کا تعارف کراتے ہوئے رقم کرتے ہیں : ”سرخ رخسار پر سیاہ تل والی دوشیزہ، جو نصف صدی تک سندھ کی بساط سیاست پر چھائی رہی۔“

اسی طرح ”سونیتی“ کا یک سطرہ تعارف یوں کراتے ہیں :

”سندھ کی وہ دوشیزہ، جس کے نام سے جو بھی منسوب ہوا، اقتدار اور زندگی سے محروم ہوا۔“ (لگتا ہے گویا! ’سونیتی‘ اپنے زمانے کی ”کرنل سونیتی“ تھی۔ )

”سونہں دیوی“ کی مختصر تعریف میں لکھتے ہیں : ”اپنی محبت کی خاطر اپنے تخت و تاج کو داؤ پر لگا دیا۔“ اور سابق والیٔ خیرپور ریاست، ہزہائی نیس میر علی نواز ’ناز‘ کی محبوبہ اور شریک حیات، اقبال بیگم عرف ’بالی‘ کے باب کے آغاز میں ان کا تعارف کراتے ہوئے کہتے ہیں : ”حسن و آواز کا مرصع: مغنیہ سے ہرہائی نیس تک۔“

تاریخ کے ان اوراق کو شیخ عزیز نے اس قدر قلمی کاریگری سے رقم کیا ہے کہ اس میں منظر نگاری بھی ہے تو کردار نگاری بھی۔ مکالمے بھی ہیں، تو تاثرات کا پورا پورا رنگ بھی۔ گویا آپ کسی ڈرامے کا اسکرپٹ پڑھ رہے ہوں۔ بظاہر خشک نظر آنے والے تاریخ کے موضوع کو اس قدر دلچسپ انداز میں بیان کرنے کی وجہ سے یہ موضوع اور اس کے عنوانات، پڑھنے والے کے لیے اس قدر سہل اور دلچسپی کا باعث بن گئے ہیں، کہ قاری پڑھتا جاتا ہے، پڑھتا جاتا ہے، پڑھتا جاتا ہے اور اس کا مطالعے کا اشتیاق بڑھتا جاتا ہے۔

نمونے کے طور پر ’بالی‘ کی داستان سے میر علی نواز ’ناز‘ اور بالی کے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے سے پہلے والے منظر کی عکاسی اور منظر کشی ذرا شیخ عزیز کے تخلیقی قلم کے ذریعے دیکھیں کہ وہ کس طرح قاری کو بیسویں صدی کے پہلے نصف میں خیرپور ریاست میں سجے نکاح کے اس ایوان میں پہنچا دیتے ہیں، جہاں میر ’ناز‘ اور اس کے والد کے مابین سرائیکی میں اصرار و استفسار جاری ہے۔ لکھتے ہیں :

”اس وقت معاملہ ایک بادشاہ اور ولی عہد میں نہیں تھا، ایک باپ اور بیٹے کے مابین تھا۔ باپ نے بیٹے کو دیکھا اور اس سے پہلے کہ باپ کوئی سوال کر بیٹھے، بیٹے نے مغنیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرائیکی میں کہا:

”بابا، اوہ۔“
”کیا اوہ اوہ لگا رکھی ہئی؟“ باپ نے حیرت اور تجسس کے ساتھ پوچھ ڈالا اور جواباً کہ ڈالا۔
”اوہے تے کیا، میں کی کراں ؟“

”میں وہاں کریساں تہ اوہ نال کریساں نہ تہ نہیں کریساں۔“ نوجوان نے ایک ہی جملے میں سب کہہ دیا۔ اس کا دایاں ہاتھ پہلے کی طرح باپ کے ہاتھ میں رہا۔

”پر میڈے پٹ، اوہ تہ ہک گانے والی ہے؟“ میر صاحب نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔

”پر بابا، میں آکھیا میں پہلوں اونہہ نال کریساں۔ پچھے کوئی گالہہ بدھساں۔“ نوجوان دولہے نے، جو ایک ہی نظر میں گھائل ہو چکا تھا، اپنا جواب دیا۔ میر صاحب آگ اور پانی کے درمیان کھڑا تھا۔ ایک طرف خاندانی رشتے ناتے۔ دوسری طرف حکمران خاندان جو اپنی خدمت اور رعایہ دوستی کی وجہ سے بہت مقبول تھا۔ دور دور سے آئے ہوئے معزز مہمانان۔ اسے تو یہ خوف کھائے جا رہا تھا کہ اگر شہزادہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر بارات چھوڑ کر چلا گیا تو کیا ہو گا۔ اس میں فرماں روا امام بخش کو امید کی کوئی کرن نظر آئی۔

پورا پنڈال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ زیادہ تر لوگ آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور بہت کم حاضرین تھے، جو اس نہ سنائی دینے والی گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، جس میں وہ یقیناً کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔

”پر میڈے شہزادے، اے ساری مخلوق، اے سارے مہمان، اؤں پچھے ساری برادری کیا آکھیسی؟“ ایک بے چین باپ نے اس نازک گھڑی کو ٹالنے کی ایک کوشش کی۔ شاید یہ اس کی آخری امید تھی۔

”لوگاں دی تساں فکر نہ کرو۔ بادشاہ تساں ہو۔ تساڈا فیصلہ سموری برادری دا فیصلہ ہے۔ کیر ہے جو آپ کنوں باہر ویسی؟“ نوجوان دولہے نے اسی دھیمے لہجے میں جواب دیا، جس میں اب تک یہ گفتگو ہو رہی تھی۔ ”

اگر سندھ بھر کی تاریخ اسی دلچسپ انداز میں رقم ہو تو ہر دور کے نوجوانوں کو اپنے خطے کی تاریخ کے مطالعے کی جانب با آسانی راغب کیا جا سکتا ہے اور تاریخ بینی کی طرف ان کی دلچسپی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments