بجلی کا بل بائے ون گیٹ ون فری والی صورتحال


گزشتہ ماہ بجلی کا ستاسی ہزار روپے کا بل موصول ہوا تو آنکھوں کے آگے جسے اندھیرا سا چھا گیا سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ بل کس طرح ادا کیا جائے لیکن جیسے تیسے کر کے بل ادا کیا تو سب سے پہلا کام بجلی کی بچت کے حوالے سے کیا پھر کوشش کی جانے لگی کہ جتنی ہو سکے بجلی کی بچت کی جائے۔ زیادہ سے زیادہ بچت کرنے کی غرض سے پورے گھر میں 12 واٹ کے پنکھے لگوائے جو کہ ایک اور مزید خرچہ ہی تھا لیکن ہمت پکڑ کر وہ بھی کیا۔ اب اگلے ماں کے بجلی کے بل کا انتظار تھا کہ کیا بہتری آتی ہے لیکن ہائے ستم ظریفی اسی ماہ بجلی کے یونٹ کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔

آخر کار انتظار ختم ہوا اور بل آہی گیا اس بار تو جیسے پیروں تلے زمین ہی کھسک گئی ہو۔ دنیا گھومتی نظر آ رہی تھی۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا۔ گویا کسی ٹنل کی سیر کے لیے پہنچ گیا لیکن آنکھ کھولی تو پتہ چلا ہاسپٹل کا بیڈ تھا جو آنکھوں کے اگے اندھیرا تھا۔ وہ کسی ٹنل کی سیر نہیں بلکہ بے ہوشی کا عالم تھا۔ اب بجلی کے بل کے ساتھ ساتھ ہاسپٹل کا خرچہ بھی آ گیا ایک کے ساتھ دوسرا خرچہ فری ایسا محسوس ہوتا تھا۔ گویا بائے ون گیٹ ون فری والی سچویشن ہو ہاسپٹل کے بل کو ادا کرنے کے بعد گھر واپس آیا تو بجلی کا بل واپس دیکھا اس بار کا بل پچھلے بل سے زیادہ تھا۔

ایسا نہیں کہ بچت نہیں کی یونٹ تو پچھلے بل سے کافی کم ہی تھے لیکن یونٹ کی قیمت بڑھنے سے بل پر کوئی فرق نہیں پڑا اب پتہ ہی نہیں یہ بل کہاں سے ادا ہو گا۔ ادا ہو گا بھی یا نہیں یہ صورتحال صرف میری نہیں بلکہ ہر عام شہری کی ہے اور اس سے تقریباً ہر عام شہری ہی متاثر ہے۔ شاید میری حالت تو کئی لوگوں سے بہتر بھی ہے کیونکہ ابھی کل ہی سوشل میڈیا پر خبر دیکھی کہ مہنگائی اور بجلی کے بل سے تنگ آ کر مجبور باپ نے خود کشی کرلی۔

بجلی کے بڑھتے ہوئے بل نہ صرف ہماری معاشی بلکہ سماجی زندگی کو بھی تباہ کرتے جا رہے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک عزیز نے بجلی کا بل حد سے زیادہ آنے کی وجہ سے والدین نے علیحدہ گھر لینے کا کہہ دیا ہے۔ یہ قریبی رشتے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ متوسط طبقہ کے لیے اپنی سفید پوشی قائم رکھنا ابھی ایک امتحان بنتا جا رہا ہے۔ لوگ خودکشی کر نے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ نگراں حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا آگے کیا ہو گا۔ کچھ ہو نہ ہو اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عوام کو ایک قوم بن کر نکلنا ہو گا۔ موجودہ حالات کے پیش نظر اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کا خیال رکھیں جو ان مسائل سے لڑ رہے ہیں۔ سفید پوش لوگوں کی اس طرح مدد کریں کہ ان کی سفید پوشی پر آنچ نہ آئے۔

Facebook Comments HS