مسلم امہ جاگ اٹھے گی
دنیا بھر کے تمام اسلامی ممالک اور مغرب کی نظروں میں اسرائیلی کی انٹیلجنس اور ٹیکنالوجی سب سے طاقتور، موثر اور با اثر تصور کی جاتی ہے۔ اسرائیل خود پر حملہ آور ہونے والی ہر چیز کو اپنے ملک کی حدود سے باہر ہی تباہ کر سکتا ہے، اسرائیل کا جاسوسی نظام دنیا کا سب سے موثر نظام ہے، ایسے درجنوں دعوے اسرائیل کے متعلق سنتے آرہے تھے لیکن 7 اکتوبر کی صبح حماس کے اچانک حملوں نے پوری دنیا میں اسرائیل کی قلعی کھول دی ہے اس کا جعلی بھرم بھی ٹوٹ گیا ہے۔
حماس نے ایک دو راکٹ فائر نہیں کیے بلکہ پانچ ہزار سے زائد راکٹ ایک ہی وقت میں اسرائیل کے مختلف علاقوں میں فائر کیے۔ اسرائیل میں ہفتے کے روز ویسے بھی ویکلی چھٹی ہوتی ہے اور سات اکتوبر کو ویسے بھی اسرائیلی اپنے اپنا مقدس دن ”یوم کپور“ منا رہے تھے۔ اس دن کو وہ عید کے طور پر مناتے ہیں۔ جب حماس نے حملہ کیا اسرائیلیوں کی اکثریت اپنی عبادت گاہوں اور گھروں میں تھی۔ اسرائیلی کی داخلہ خفیہ ایجنسی شاباک اور بیرونی ایجنسی موساد اور ڈیفنس فورسز کا نظام اور جدید ترین وسائل بری طرح ایکسپوز ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کا میڈیا بار بار ایک ہی سوال اٹھا رہا ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسی کیا سو رہی تھی ان کو حملے کی اطلاع نہیں ہو سکی اگر ہوئی تو بروقت انتظامات کیوں نہیں کیے گئے۔ یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں اسرائیل کے پاس پوری مشرق وسطیٰ سے سب سے زیادہ جدید ہتھیار، انٹیلیجنس کا نظام اور جدید ترین فورسز ہیں لیکن اس کے باوجود حماس کے حملوں کی اسرائیل کو خبر نہیں ہوئی۔ امریکی ایجنسی سی آئی اے خفیہ معلومات میں نمبر ون ایجنسی سمجھی جاتی ہے اس کو بھی حماس کی حملوں کی خبر نہیں ہو سکی۔
امریکہ اور اسرائیل کی تاریخ میں یہ سرپرائز تیسری مرتبہ ملا ہے۔ پچاس سال قبل یوم کپور کے روز ہی مصری اور شامی افواج نے مشترکہ طور پر اسرائیل پر حملہ کیا۔ جب خطرے کے الارم بجے تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ پھر انقلاب ایران کے وقت بھی امریکہ اور اسرائیل کو اس کی خبر نہیں تھی۔ یہ دونوں ملک اس کو معمول کی مذمت سمجھ رہے تھے۔ ایک بار پھر 7 اکتوبر 2023 کے روز بھی امریکہ اور اسرائیل کو ایسا ہی سرپرائز ملا تھا۔
اسرائیل اور امریکہ سمیت پورا یورپ ایسے سرپرائز حملوں کی توقع نہیں کر رہے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے ان کا انٹیلی جنس کا نظام بہت جدید ہے اور حماس یا فلسطین کے پاس اتنی طاقت ہی نہیں کہ وہ اسرائیل پر حملہ کرسکیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔ حماس کے سربراہ اسماعیل نے جب ٹی وی چینل پر لائیو حملے دیکھے تو سجدے میں چلے گئے۔ ایک فلسطینی خاتون نے حملوں کے بعد الجزیرہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے کہا اسرائیل ہمیں ایک عرصے سے اذیتیں دے رہا تھا ہم نے سب کچھ برداشت کر لیا اب اسرائیل کی باری ہے۔
مسلمان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا ہے جبکہ غیر مسلم موت سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے اور ان کو یقین ہے اللہ ہماری مدد کرتا ہے۔ فلسطینیوں کی مدد اللہ تعالی کر رہے ہیں۔ پاکستان نے اس موقع پر وہی موقف اختیار کیا ہے جو کسی امن پسند ملک کا موقف ہو سکتا ہے۔ بالکل ایسا ہی موقف ترکیہ اور سعودی عرب کا ہے۔ کچھ جاہل اور کم عقل کہہ رہے ہیں عمران خان باہر ہوتا تو فلسطین کا وکیل بن کر مقدمہ لڑتا ہے۔
عمران خان نے کشمیریوں کا بھی مقدمہ لڑا تھا۔ امریکہ میں ٹرمپ سے ملاقات کے بعد عمران خان نے کہا مجھے لگ رہا ہے میں دوسرا ورلڈ کپ جیت کر پاکستان جا رہا ہوں۔ پھر پاکستانیوں نے دیکھا اگلے ماہ ہی مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو ہی ختم کر دیا اور کشمیر کو باقاعدہ اپنا حصہ بنالیا۔ 2016 میں جب سعودی عرب اور یمن کی جنگ ہوئی تو عمران خان نے کہا پاکستان کو کسی دوسرے ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
اس وقت وزیر اعظم نواز شریف تھے سعودی عرب نے پاکستان سے فوج مانگی تھی۔ جب عمران خان نے اس کی شدید مخالفت کی تو نواز حکومت فوج بھیجنے کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے گئی۔ تحریک انصاف کی شدید مخالفت کے بعد پارلیمنٹ نے سعودی عرب میں فوج بھیجنے کی قرارداد مسترد کردی۔ اس کے بعد سعودی پاکستان سے ناراض ہو گیا اور ملبہ نواز شریف پر بھی گرا۔
حماس کا اسرائیل پر حملہ بنیادی طور پر سعودی عرب اور امریکہ کے ممکنہ سیکیورٹی معاہدے کو متاثر کرے گا۔ کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان عنقریب یہ معاہدہ ہونے جا رہا تھا۔ جس میں شرائط کیا طے پانی تھی وہ میں اپنے پچھلے آرٹیکل میں تفصیل سے بتا چکا ہوں۔ اب وقت آ گیا ہے دنیا فلسطین اور کشمیر کے مسئلوں کو سنجیدہ لے کیونکہ برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔ کئی سالوں سے بھارت اور اسرائیلی فوجیں نہتے اور مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہیں۔ اب پہلی بار اسرائیلی یہودی کا قتل ہونا شروع ہوا تو مغرب جاگ اٹھا ہے۔ مغرب اس وقت سے ڈرے جب پوری مسلم امہ جاگ اٹھے گی۔


