قرض۔ برنارڈ میلامڈ کا افسانہ
عنوان: قرض۔
کہانی: برنارڈ میلامڈ۔
ترجمہ: جاوید بسام۔
نانبائی لائب کے تندور میں روٹیاں ابھی بھوری نہیں ہوئی تھیں، لیکن خریدار اس کی اشتہا انگیز خوشبو سے وہاں چلے آئے تھے۔ لائب کی دوسری بیوی بیسی کاؤنٹر کے پیچھے تیاری میں مصروف تھی کہ اس کی نظر لوگوں کے درمیان ایک خستہ حال اجنبی پر پڑی جو گیند بازوں کی ٹوپی پہنے کھڑا تھا۔ اگرچہ وہ چاق و چوبند خریداروں کے درمیان کافی بے ضرر لگ رہا تھا، لیکن بیسی بے چین ہو گئی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ مگر وہ کچھ نہ بولا، بس سر جھکایا جیسے انتظار پر آمادہ ہو۔
اس کا چہرہ مصائب سے بگڑا ہوا تھا۔ جسے چھپانے کی اس نے کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ بیسی نے اس سے خوف محسوس کیا۔ اس نے جلدی سے گاہکوں کو نمٹایا اور جیسے ہی آخری گاہک اسٹور سے نکلا۔ اس نے دوبارہ اس کی طرف دیکھا۔ اجنبی نے اپنی ٹوپی سر سے اٹھائی اور بولا۔ ”معاف کیجیے گا، میں کوبوٹسکی ہوں۔ کیا نانبائی لائب گھر پر ہے؟“
”کوبوٹسکی کون؟“ بیسی نے پوچھا۔
”ایک پرانا دوست۔“ وہ بولا۔ بیسی مزید خوفزدہ ہو گئی۔
”کہاں سے آئے ہو؟“
”ہم ایک ہی قصبے میں رہتے تھے۔“ اجنبی نے جواب دیا۔
”لائب سے کیوں ملنا چاہتے ہو؟“ بیسی نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
کوبوٹسکی نے اس سوال سے توہین محسوس کی اور جواب سے گریز کیا۔
نانبائی غالباً آوازوں کی بازگشت سن کر پچھلے دروازے سے دکان میں داخل ہوا۔ اس کے جسم پر قمیض نہیں تھی اور پر گوشت سرخ بازو کہنی تک آٹے میں لتھڑے ہوئے تھے۔ اس نے نانبائی کی ٹوپی کی جگہ آٹے کا کاغذی تھیلا سر پر چڑھا رکھا تھا۔ جس سے آٹا جھر کر اس کے چہرے اور عینک پر چلا آیا تھا۔ وہ ایک موٹا اور توندل آدمی تھا اور سفید چہرے کے ساتھ بھوت سے مشابہ لگ رہا تھا۔ حالاں کہ یہ کوبوٹسکی تھا جو اچانک بھوت کی طرح نمودار ہوا تھا۔ وہ کچھ لمحے تک اسے تکتا رہا پھر پہچان کر سسکاری بھری۔ ”کوبوٹسکی!“
پرانے دوست کو گزرے دن یاد آ گئے تھے۔ جب وہ جوان تھے اور ہمیشہ ساتھ رہتے تھے۔ شدت جذبات سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے انہیں ہاتھ سے صاف کیا۔ کوبوٹسکی نے ٹوپی اتاری اور رومال پیشانی پر پھیرا۔ وہ سر سے گنجا تھا۔ جب کہ لائب کے سفید بال تھے۔ آخر الذکر اسٹول اس کی طرف کھسکاتے ہوئے بولا۔ ”بیٹھ جاؤ دوست۔“
”یہاں نہیں۔“ بیسی فوراً بولی پھر فوراً وضاحت کی۔ ”رات کے کھانے کا وقت ہے۔ کسی وقت بھی گاہک آسکتے ہیں۔“
”یقینا، یہاں ٹھیک نہیں رہے گا۔“ کوبوٹسکی سر ہلا کر بولا۔
اسے اس پر اطمینان تھا کہ اب کوئی ان کی باتوں کے درمیان مداخلت نہیں کرے گا۔ دونوں دوست پچھلے کمرے میں چلے گئے، لیکن جب بیسی نے دیکھا کہ کوئی خریدار نہیں ہے تو وہ بھی ان کے پیچھے چلی آئی۔
کوبوٹسکی، کوٹ اور ٹوپی اتارے بغیر کونے میں رکھے اونچے اسٹول پر بیٹھ گیا اور سر جھکا کر ابھری سرمئی رگوں والے ہاتھ اپنے کمزور گھٹنوں پر رکھ لیے۔ لائب آٹے کی بوری پر بیٹھا موٹے شیشوں کے پیچھے سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بیسی نے کان لگا رکھے تھے، لیکن مہمان خاموش تھا۔ لائب نے شرمندہ ہو کر خود ہی گفتگو شروع کردی۔ وہ بولا۔ ”آہ۔ کوبوٹسکی! وہ گزرا زمانہ! دنیا نئی نکھری ہوئی تھی اور ہم جوان تھے۔ کیا تم کو یاد ہے کہ ہم دونوں نے تارکین وطن کے نائٹ اسکول میں کیسے داخلہ لیا تھا؟
”ہبن، ہٹے، غیبت۔“ کوبوٹسکی نے ہکلا کر کچھ کہا اور اقرار میں گردن ہلائی۔ وہ بہت دبلا پتلا تھا۔ بالکل ڈھانچہ لگ رہا تھا۔ اس کے منہ میں بار بار پانی چلا آتا تھا۔ بیسی بے چینی سے جھاڑن لیے جھاڑ پونچھ کر رہی تھی۔ غالباً وہاں اپنی موجودگی کا جواز فراہم کرنا چاہتی تھی، وقتاً فوقتاً وہ دکان میں بھی جھانک لیتی، لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔
لائب دوست کو خوش کرنے کے لیے بچپن کی ایک نظم گانے لگا۔ ”آؤ! ہوا نے ایک دن درختوں سے کہا، میرے ساتھ گھاس کے میدانوں پر آؤ اور کھیلو۔ یاد ہے، کوبوٹسکی؟“
بیسی نے اچانک زور سے سونگھا اور چلائی۔ ”لائب! روٹیاں تیار ہو گئی ہیں!“
نانبائی اچھل کر چولہے کی طرف دوڑا اور دروازہ کھولا۔ پھر بیکنگ ٹرے نکالیں جن کے سانچوں میں روٹیاں سرخ ہو گئی تھیں اور غلاف شدہ میز پر رکھ دیں۔
بیسی نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔ ”میں نے دیکھ لیا ورنہ ہم ان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔“
لائب نے آنکھیں سکیڑ کر اسٹور میں دیکھا۔
”گاہک!“ وہ تیزی سے بولا۔
بیسی خجل ہو کر چلی گئی۔ کوبوٹسکی نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ لائب نے ایک بڑا پیالہ لیا اور آٹا سانچوں میں ڈالنے لگا۔ جلد ہی ٹرے تندور میں رکھ دی گئیں، لیکن بیسی واپس آ گئی تھی۔
میٹھی گرم روٹیوں کی اشتہا انگیز خوشبو نے کوبوٹسکی کو بے چین کر دیا۔ اس نے گہری سانس لی، جیسے زندگی میں پہلی بار سونگھ رہا ہو اور اپنی مٹھی سینے پر ماری۔ ”اوہ خدا! حیرت انگیز!“ اس نے زور سے پکارا۔
”آنسو شامل ہیں۔“ لائب نے آہستہ سے پیالے کی طرف انگلی کرتے ہوئے کہا۔
کوبوٹسکی نے سر ہلایا۔
”میں تیس سالوں سے یہ محنت کر رہا ہوں۔“ نانبائی نے وضاحت کی، ”لیکن ہمیشہ غریب رہا۔ ایک دن آٹا گوندھنے ہوئے شدت غم سے رو پڑا۔ اس کے بعد روٹی اتنی میٹھی ہو گئی کہ ہر جگہ سے گاہک آنے لگے۔ میرے کیک انھیں زیادہ پسند نہیں ہیں، لیکن روٹی اور رول خریدنے کے لیے وہ دور سے دوڑے آتے ہیں۔“
کوبوٹسکی نے ناک سکیڑ کر دکان کی طرف دیکھا۔ جہاں تین گاہک موجود تھے
”لائب۔“ اس نے سرگوشی کی۔
نانبائی غیر ارادی طور پر سن ہو گیا۔
اجنبی نے پہلے کاؤنٹر کے پیچھے بیسی کی طرف دیکھا، پھر بھنویں اٹھائیں اور استفساری نظروں سے لائب کی طرف دیکھا۔
لائب خاموش رہا۔
کوبوٹسکی نے اپنا گلا صاف کیا اور بولا۔ ”لائب مجھے دو سو ڈالر چاہئیں۔“ آخر میں اس کی آواز کٹ گئی تھی۔
لائب دھیرے سے بوری پر بیٹھ گیا۔ کوبوٹسکی کی آمد کے بعد سے وہ اس بات کی توقع کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کوبوٹسکی اس متعلق بات ضرور کرے گا۔
وہ پندرہ سال پہلے دیے ہوئے دو سو ڈالر کو یاد کر رہا تھا۔ لائب نے قسم کھائی تھی کہ اس نے دے دیے تھے۔ کوبوٹسکی نے انکار کیا تھا۔ ان کی دوستی میں دراڑ آ گئی تھی اور ناراضگی ختم ہونے میں برسوں لگ گئے تھے۔
کوبوٹسکی نے سر جھکا لیا۔
لائب نے سوچا۔ وہ کم از کم یہ تو تسلیم کرے کہ میں غلط تھا۔ مگر خاموش رہا۔
کوبوٹسکی اپنی ٹیڑھی انگلیوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہ سمور فروش تھا، لیکن جوڑوں کے درد کی وجہ سے کام چھوڑنا پڑا تھا۔
لائب نے خاموشی سے آنکھیں بند کر لیں۔ اسے سانس لیتے ہوئے سینے کے دائیں طرف درد ہوتا تھا۔ دونوں آنکھوں سے موتیے کے باعث دھندلا نظر آتا تھا۔ اگرچہ ڈاکٹر نے یقین دلایا تھا کہ وہ آپریشن کے بعد دوبارہ اچھی طرح دیکھنے لگے گا، لیکن لائب کو یقین نہیں تھا۔ اس نے آہ بھری اور سوچنے لگا کیا تم کو خدا کی ناراضگی کا بھی احساس نہیں ہے؟ تم ایک دوست کو معاف نہیں کر سکتے؟ یہ افسوس کی بات ہے۔ اسے سب کچھ دھندلا نظر آتا ہے۔
پھر لائب نے اسٹور کی سمت دیکھ کر سر ہلایا اور ہکلایا۔ ”میں، ہاں، لیکن سب کچھ دوسری بیوی کے نام پر ہے۔“ یہ کہہ کر اس نے اپنے خالی ہاتھ آگے پھیلا دیے۔
کوبوٹسکی نے آنکھیں بند کر لیں۔
”لیکن میں اس سے ضرور پوچھوں گا۔“ لائب نے بے یقینی سے کہا۔
”میری بیوی ڈورا کو ضرورت ہے۔“ کوبوٹسکی بولا۔
نانبائی نے ہاتھ اٹھایا۔ ”بس کچھ مت بولو۔ اس سے کہو۔ یہ مجھ پر چھوڑ دو۔“
پھر اس نے جھاڑو اٹھائی اور سفید دھول کا بادل اڑاتے ہوئے کمرے کے دوسرے کونے تک چلا گیا۔
بیسی ہانپتی ہوئی واپس آئی اور انہیں دیکھ کر فوراً اپنے ہونٹ بینچ کر انتظار کرنے لگی۔
لائب نے کاسٹ آئرن سنک میں ٹرے کو جلدی سے صاف کیا، میز کے نیچے سانچہ پھینکا اور ٹرے پر خوشبودار روٹیاں ترتیب دیں۔ پھر اس نے تندور کے سوراخ میں دیکھا۔ خدا کا شکر ہے کہ روٹیاں ہمیشہ کی طرح پک رہی ہیں۔
جب وہ بیسی کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے خود کو بیمار محسوس کیا اور الفاظ اس کے حلق میں اٹک گئے۔
کوبوٹسکی اسٹول پر بے چین ہو گیا۔
”بیسی، یہ میرا پرانا دوست ہے۔“ نانبائی نے بات شروع کی۔
بیسی نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔ کوبوٹسکی نے اپنی ٹوپی اٹھائی۔
”اس کی ماں، خدا اس پر رحمت نازل کرے ہمیشہ مجھے گرم سوپ کا پیالہ دیتی تھی۔ میں نے ان کے دسترخوان پر کئی سال کھانا کھایا ہے۔ اس کی بیوی کا نام ڈورا ہے، جو بہت مہذب خاتون ہے۔ تم جلد ہی اس سے ملو گی۔“
کوبوٹسکی آہستہ سے کراہا۔
”ہم ابھی تک کیوں نہیں ملے؟“ بیسی سے پوچھا۔
”کیوں کہ میں خود اس سے پندرہ سال بعد ملا ہوں۔“ نانبائی نے اعتراف کیا۔
”تم اس سے کیوں نہیں ملتے تھے؟ جب کہ جانتے تھے کہ وہ اسی شہر میں ہے۔“ وہ پیچھے ہٹنے والی نہیں تھی۔
لائب ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔ پھر بولا۔ ”کچھ غلط فہمی کی بنا پر۔“
کوبوٹسکی نے منہ موڑ لیا۔
”لیکن یہ میری اپنی غلطی تھی۔“ لائب نے کہا۔
”اس کی وجہ یہ ہے کہ تم کہیں نہیں جاتے۔“
بیسی پھنکاری۔ ”کیوں کہ تم بیکری سے باہر نہیں نکلتے۔ تمھارے لیے کوئی دوست اہمیت نہیں رکھتا۔“
لائب نے سنجیدگی سے اتفاق کیا اور بولا۔ ”وہ اب بیمار ہے۔ اسے آپریشن کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر نے دو سو ڈالر مانگے ہیں۔ میں کوبوٹسکی سے وعدہ کر چکا ہوں کہ۔ ۔ ۔“
بیسی زور سے چلائی۔
کوبوٹسکی گھبرا کر اسٹول سے اتر آیا۔
بیسی نے اپنے سینے کو پکڑا ہوا تھا، پھر اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھے اور لڑکھڑا گئی۔ لائب اور کوبوٹسکی اسے سہارا دینے کے لیے دوڑے، لیکن وہ سنبھل گئی۔
کوبوٹسکی فوراً پیچھے ہٹ گیا اور لائب سنک پر چلا گیا۔
بیسی کا چہرہ ٹوٹی ہوئی روٹی جیسا ہو گیا تھا۔
”مجھے آپ کی بیوی کے بارے میں جان کر افسوس ہوا۔“ اس نے نرم لہجے میں مہمان سے کہا، ”لیکن مسٹر کوبوٹسکی! ہمارے پاس مدد کے لیے کچھ نہیں ہے۔ معذرت ہم غریب ہیں، ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔“
”جھوٹ!“ لائب غصے سے چلایا۔
بیسی شیلف پر جھپٹی اور بلز کا ڈبہ اٹھا کر میز پر اس طرح الٹا کہ وہ ہر طرف اڑنے لگے۔
”یہ ہے ہمارے پاس!“ وہ چلائی۔
کوبوٹسکی کا سر کندھوں میں دھنس گیا۔
”بیسی، بینک میں۔ ۔ ۔“ لائب ممیایا۔
”نہیں!“ وہ پھر چلائی۔
”میں نے پاس بک دیکھی تھی۔“ لائب بولا۔
”تو کیا ہوا اگر تم نے چند ڈالر بچائے ہیں؟“ کیا تم ہمیشہ صحت مند رہو گے؟ کیا تمھیں کبھی موت نہیں آئے گی؟ ”
لائب نے کوئی جواب نہیں دیا۔
”تم کچھ سمجھے؟“ اس نے طنز کیا۔
کسی نے بیرونی دروازہ کھٹکھٹایا۔ پھر مسلسل دستک ہونے لگی۔ روٹی لینے کے لیے گاہک آنے لگے تھے۔ بیسی تیز قدموں سے چلتی ہوئی باہر چلی گئی۔
صدمے سے دوچار دوستوں میں اضطراب پھیلا تھا۔ کوبوٹسکی نے اپنے اوور کوٹ کے بٹنوں کو سوکھی انگلیوں سے بند کرنا شروع کیا۔
”کوبوٹسکی بیٹھ جاؤ! مجھے افسوس ہے۔“ نانبائی نے آہ بھر کر کہا۔
کوبوٹسکی بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ اداسی سے سیاہ پڑ گیا تھا۔
جب بیسی نے گاہکوں کو نمٹا دیا تو لائب باہر گیا اور رسان سے کچھ بولا، تقریباً سرگوشی میں، پہلے تو اس کی آواز سنائی ہی نہیں دی، لیکن ایک منٹ کے بعد وہ پوری طاقت سے ایک دوسرے کو کوسنے لگے۔
کوبوٹسکی اسٹول سے اتر گیا۔ وہ سنک کے پاس گیا، نل کھول کر رومال آدھا گیلا کیا اور اپنی خشک آنکھوں پر پھیرا۔ پھر رومال کو لپیٹ کر اوور کوٹ کی جیب میں رکھتے ہوئے اس نے چاقو نکالا اور جلدی سے ناخن صاف کیے۔ جب وہ باہر اسٹور پر آیا تو لائب، بیسی سے التجا کر رہا تھا، وہ اسے یاد دلا رہا تھا کہ اس نے کتنی محنت کی تھی اور اس کے کھاتے میں کچھ رقم ہونے کے باوجود کیا وہ اپنے دوست کی مدد نہیں کر سکتا؟ ”
”براہ کرم، ضد نہ کریں۔ میں جا رہا ہوں۔“ کوبوٹسکی نے کہا۔
لائب نے مایوسی سے اسے دیکھا۔ بیسی نے حرکت نہیں کی تھی۔
کوبوٹسکی نے آہ بھری۔ ”لائب تم ڈورا کے بارے میں پورا نہیں جانتے۔ اب وہ بیمار نہیں ہے۔ وہ مر چکی ہے۔“
”آہ!“ لائب ہاتھ رگڑتے ہوئے کراہا۔
بیسی نے اپنا زرد چہرہ مہمان کی طرف گھمایا۔
کوبوٹسکی نے آہستہ سے کہا۔ ”پانچ سال ہو گئے ہیں۔“
لائب پھر کراہا۔
”مجھے قبر پر کتبے کے لیے رقم کی ضرورت ہے۔ ڈورا کی قبر بے نام ہے۔ اگلی اتوار کو اسے مرے ہوئے پانچ سال ہوجائیں گے۔ میں ہر سال اس سے وعدہ کرتا ہوں۔ ڈورا، اس سال میں کتبہ لگوا دوں گا اور ہر بار نہیں لگا پاتا۔ میرے لیے یہ بڑی شرمندگی کی بات ہے کہ قبر ایسے کھڑی ہے جیسے وہ ننگی ہو۔ میں نے بمشکل پچاس ڈالر جمع کر لیے تھے، لیکن باقی رقم نہیں ہوئی۔ ایک کے بعد ایک آزمائش آتی رہی۔ پہلے سال ایک آپریشن، دوسرے سال گٹھیا کی وجہ سے زیادہ کام نہیں کر سکا، تیسرے سال بیوہ بہن نے اپنا اکلوتا بیٹا کھو دیا اور میری ساری کمائی وہاں چلی گئی۔ چوتھے سال میں پھوڑے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا تھا۔ یہ سچ ہے کہ اس سال کام ہے، لیکن گرانی کے باعث کھانے اور رہائش پر پوری رقم خرچ ہوجاتی ہے۔ ڈورا بغیر کتبے کے پڑی ہے۔ اگر کوئی قبرستان آئے تو اسے کبھی قبر نہیں ملے گی۔“
لائب کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں۔ اس نے بیسی کی طرف دیکھا، اس کا سر جھکا ہوا تھا اور شانے ڈھے گئے تھے۔ آخر وہ پسیج گئی اب وہ منع نہیں کرے گی، پیسے دے دے گی۔ پھر ہم سب مل کر کھانے کے لیے میز پر بیٹھے گے۔ اس نے سوچا۔
لیکن بیسی نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ اندازہ کر پاتے۔ اس نے اپنے مصائب کی داستان شروع کردی۔ جب وہ چھوٹی بچی تھی بالشویکی کیسے آئے اور اس کے محبت کرنے والے باپ کو میدان میں ننگے پاؤں کیسے گھسیٹا گیا اور گولیاں چلنے کے بعد درختوں سے کوے کیسے اڑے اور برف خون کے دھبوں سے سرخ ہو گئی۔ کیسے شادی کے ایک سال بعد اس کا شوہر، ایک مہربان، تعلیم یافتہ شریف آدمی، ایک محاسب (اکاؤنٹنٹ) جو ان دنوں بہت کم ہوتے تھے، سرخ بخار کے باعث وارسا میں مر گیا۔
وہ غمزدہ بالکل اکیلی تھی، آخر ایک بزرگ کے پاس پناہ ملی۔ جرمنی میں ایک بھائی نے اسے امریکہ بھیجنے کے لیے جنگ سے پہلے اپنا سب کچھ عطیہ کر دیا۔ اس نے خود اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ نازی گیس چیمبر میں دن پورے کیے اور وہ کس طرح امریکہ آئی اور ایک غریب نانبائی سے ملی، ایک آوارہ جس کے پاس کھانے کے لیے ایک پیسہ بھی نہیں تھا، جس نے زندگی میں کوئی خوشی نہیں دیکھی تھی اس سے شادی کی، خدا جانے کیوں؟ اور دن رات محنت سے کام کرتے ہوئے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا اور اب بارہ سال کے بعد ، ہم تھوڑا بہت کمانے کے لائق ہوئے ہیں، لیکن لائب بیمار ہے، اس کے پھیپھڑے کمزور ہیں اور آنکھوں کا آپریشن ہونا ہے اور اگر خدا نہ کرے وہ مر جائے تو میں اکیلی کیا کروں گی؟ میں کہاں جاؤں گی، پیسے کے بغیر اپنی ضروریات کیسے پوری کروں گی؟
کہانی کے اختتام پر کوبوٹسکی نے کانوں کو ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔
بیسی کے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے، لیکن اچانک اس نے سر ہلایا اور مشکوک انداز میں سونگھا۔ پھر چیختے ہوئے وہ پچھلے کمرے میں بھاگی اور تندور کا دروازہ کھولا۔ دھوئیں کے بادل نے اس کو ڈھانپ لیا۔ ٹرے پر کالی روٹیاں جلی ہوئی لاشوں کی طرح پڑی تھیں۔
کوبوٹسکی اور لائب لڑکپن کے دوست آہ بھرتے ہوئے گلے ملے۔ پھر ہونٹ بھینچے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔


