جے یو آئی / ڈیجیٹل میڈیا سیل کا قیام!
وقت بدلتا ہے تو اپنے ساتھ بہت کچھ بدل دیتا ہے، بلکہ یوں کہیں کہ نئے آئیڈیاز کی آمد وقت کو بدل دیتا ہے، آپ 1450 سے قبل کی دنیا کا سوچیں جب پرنٹنگ پریس ایجاد نہیں ہوا تھا، اظہار خیال اندر ہی اندر گھٹ کر مر جاتا تھا، یا صرف چند لوگوں تک پہنچایا جاسکتا تھا، دماغ کے چشموں سے پھوٹتے خوبصورت خیال کبھی لفظ بن کر لوگوں کے دل و دماغ پر بسیرا نہیں کر سکتے تھے، یا بہت ہی محدود پیمانے پر کہیں پہنچائے جا سکتے تھے، پرنٹنگ پریس آیا تو دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوا، خیالات کے تبادلے ہوئے، مسائل پر گفتگو ہوئی، سیاست کو نئی جہت ملی، سماجیات کے نئے زاوئیے طے ہوئے، رسائل، اخبارات اور کتابوں نے سوچ کی نئی راہیں تخلیق کیں، اذہان کے دھارے بدلے اور ترقی کے نئے افکار نے جنم لیا، پرنٹنگ پریس سے ماقبل کی دنیا اور مابعد کی دنیا دو الگ الگ دنیا ہیں۔
کائنات بہت بڑی ہے لیکن ان میں سوچنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، اس کے باوجود آج کی دنیا میں ہمیں جمود نظر نہیں آتا ہے ان کا سہرا انہی سوچنے والوں کے سر ہے، ایک خیال ذہن کے کسی نہاں خانے میں ابھرتا ہے، قوت پکڑتا ہے، زمین پر آتا ہے، عملی شکل اختیار کر کے ایک نئی تخلیق میں ڈھل کر دنیا بھر کی ضرورت بن جاتا ہے۔
ملک بھر میں چھوٹی بڑی درجنوں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے وژن کے مطابق بر سر عمل ہیں، بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس لاکھوں کارکنان اور کروڑوں ووٹرز و ہمدرد موجود ہیں، عوام سیاسی جماعتوں کو فالو کرتے ہیں ان کے خیالات سے ہمہ وقت آگاہ رہنا چاہتے ہیں، ان کے منصوبوں سے متعلق جاننا چاہتے ہیں، ان کے قائدین کی گفتگو سننا چاہتے ہیں، ان کے وژن کو سمجھنا چاہتے ہیں، یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہے جب عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان فاصلے کم سے کم ہوں، یہ فاصلے میڈیا کم کرتا ہے۔
انگریز سامراج کے خلاف ہندوستان کی تحریک آزادی میں مولانا ابوالکلام آزاد کے ”الہلال“ اخبار نے ذہنوں کو جلا بخشی، تحریک کے رخ کا تعین کیا، ابوالکلام آزاد کی تحریروں نے فکری محاذ کو گرمایا، ہندوستان کی سیاسی قیادت اور عوام کے درمیان فاصلے سمٹ گئے اور برطانوی راج کی طاقت میں شگاف پڑا، الہلال بند ہوا تو 1920 کو مولانا ظفر علی خان کے زمیندار اخبار نے محاذ سنبھالا اور تحریک کے فکر و شعور کو روشنی دی۔
آج کی دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے، یہ اسکرین کا دور ہے، پوری دنیا انسانی انگلیوں کے پوروں میں سمٹ گئی ہے، یہاں انگلی کو جنبش ہوئی وہاں کائنات کی وسعتیں انسانی آنکھ کے سامنے آ گئیں، ڈیجیٹل دنیا نے ایک نئی تہذیب کا اجراء کیا ہے جسے آپ گلوبل تہذیب کہہ سکتے ہیں، سیاست کے طریقہ کار بدلے، ثقافت میں نئے اثرات شامل ہوئے، رہن سہن اور تمدن کی نئی شکلیں وجود پذیر ہوئیں یہ سب ڈیجیٹل دور کی دین ہیں، اب کسی کو اس سے فرار نہیں ہے، نیویارک سٹی کے ہنگامہ خیز گلیوں سے لے کر سندھ و بلوچستان کے خاموش دیہاتوں تک، سب اسکرین کی دنیا سے وابستہ ہوچکے ہیں، ڈیجیٹل دور ابھی اپنے شباب پر ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا غلغلہ کانوں کی سماعتوں سے ٹکرانے لگا ہے آنے والی دہائیوں میں ڈیجیٹل دور سے بھی دس قدم آگے کی ایجادات دنیا کو انگشت بدنداں کرنے آ رہی ہیں۔
جمعیت علماء اسلام ملک کی بہت بڑی منظم و مربوط سیاسی جماعت ہے، جس کے لاکھوں کارکنان اور کروڑوں چاہنے والے ہیں، پاکستان میں مذہبی مکتبہ فکر کا سب سے بڑا سیاسی پلیٹ فارم ہے، دور حاضر میں ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے امیر مرکزیہ حضرت مولانا فضل الرحمن نے مرکزی جماعت کی مشاورت سے ڈیجیٹل میڈیا سیل کو باقاعدہ دستوری حیثیت دے کر نظم جماعت کا حصہ بنا دیا ہے، یہ نہیں کہ اس سے قبل جے یو آئی سوشل میڈیا پر متحرک نہیں تھی، بلکہ اس سیل کے قیام سے پہلے بھی جمعیت علماء اسلام سوشل میڈیا کے میدان میں سینکڑوں نوجوان اپنی خدمات انجام دے رہے تھے، قیادت کا لفظ لفظ اور جماعت کا ہر پروگرام باقاعدہ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان سمیت دنیا بھر تک پہنچایا جا رہا تھا، لیکن چونکہ اس سے قبل سوشل میڈیا کسی نظم یا دستور کے ماتحت نہیں تھا، جے یو آئی کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کا آپس میں ربط کا سامان بھی نہ تھا، اس لیے ضرورت محسوس کی گئی کہ سوشل میڈیا چونکہ دور جدید کے ذرائع ابلاغ کا سب سے موثر ترین ذریعہ ہے اس لیے اسے باقاعدہ تنظیم کا حصہ بنا کر ملک بھر میں پھیلے ہوئے جے یو آئی سوشل میڈیا کے ستاروں کا ایک خوبصورت کہکشاں بنایا جائے، ان کی سرپرستی کی جائے، ان کے حوصلوں کو مہمیز کیا جائے، ان کی کارکردگی کے حسن کو مزید نکھارا جائے تاکہ وہ جماعت کے عظیم سرمایہ کی صورت میں ابھر کر سامنے آجائیں۔
جے یو آئی ڈیجیٹل میڈیا سیل کی مرکزی تنظیم کا دستوری اعلان کیا جا چکا ہے جس کے سربراہ انجنئیر ضیاء الرحمن ہوں گے، انجنئیر ضیاء الرحمن ایک باصلاحیت انسان ہیں جو بیوروکریسی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں، کراچی میں چند ہفتے بطور ڈپٹی کمشنر اور اس سے قبل مختلف محکموں میں خدمات انجام دے چکے ہیں، وہ نہ صرف سوشل میڈیا کے مزاج سے آشنا ہیں بلکہ خود سوشل میڈیا پر عملاً متحرک بھی ہیں، سوشل میڈیا کا اپنا مزاج ہے جو دیگر الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا سے یکسر مختلف ہے اور یہ ایک طرح سے نازک پلیٹ فارم ہے جو نپی تلی صلاحیتیوں کا تقاضا کرتا ہے، اس کے اسکرین پر آیا ہوا لفظ لمحوں میں دنیا بھر کی نظروں میں آ جاتا ہے، اس میں غلطی کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے، اس کی کمان زیرک اور سنجیدہ انسان کے ہاتھ میں ہو تو اس کے فائدے سمیٹے جا سکتے ہیں۔
امید واثق ہے کہ جے یو آئی کا مرکزی ڈیجیٹل میڈیا سیل بہت جلد ملک بھر کے سوشل میڈیا ورکرز کو ایک بہتر پلیٹ فارم دینے میں کامیاب ہو گا، جماعتی کاز کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کی تربیت اور ذہن سازی کر کے معاشرے کو قابل و فائق رجال کار بھی مہیا کرے گا اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر جے یو آئی میں ایک نئے باب کا اضافہ بھی سمجھا جائے گا۔


