وہ اک تارا قسط نمبر8:


دوست تو دونوں کے مشترکہ تھے۔ وہ سب بھی ہیثم کی طرح چاہتے تھے کہ اب ان کی شادی ہو جانی چاہیے۔ نینا نے پورا پروگرام مرتب کر ڈالا تھا۔ سبھی تھوڑا ہلا گلا کرنے اور رونق میلہ منانے کے موڈ میں تھے۔ زیگ والوں نے دو ماہ کی تاریخ دی تھی۔

اس دن وہ شام کو واپس آئی۔ ہیثم گھر میں موجود تھا۔ ٹانگیں میز پر رکھے کسی کتاب کے مطالعے میں گم۔ ڈائننگ ٹیبل پر دو بڑے سے پیکٹ پڑے تھے۔ وہ راہداری سے ہی شور مچاتی اندر آئی تھی۔

”میں ارباط سٹریٹ سے سپیشل پیروشکی (روسی سموسے ) لائی ہوں۔ اتنے خستہ اور لذیذ ہیں کہ کھاؤ گے تو مزہ آ جائے گا۔“

وہاں کوئی نوٹس ہی نہیں تھا۔ وہ چپ چاپ کتاب میں گم رہا۔

اپنے داہنے ہاتھ کی انگلیاں اس کی آنکھوں کے سامنے نچاتے اور تمسخرانہ تاثرات چہرے پر بکھیرتے ہوئے وہ گھٹنوں کے بل جھکی اور بولی۔

”عزت مآب توجہ فرمائیں گے۔“ اس نے سموسوں سے بھرا لفافہ اس کی آنکھوں کے سامنے نچایا۔
”دیکھو تو میں کتنے مزے کی چیز لائی ہوں۔“
”کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟ بولتے نہیں۔“

جھنجھلاتے ہوئے دفعتاً اس کی نظریں بے اختیار کھانے کی میز پر دھرے خوبصورت پیکٹوں پر پڑیں۔ اسے چھوڑ کر وہ فوراً ان کی طرف لپکی۔ اس نے ایک پیکٹ اٹھایا۔ پھاڑا۔ اندر سے بے حد خوبصورت پھولوں والا لونگ سکرٹ، بلاؤز اور سکارف نمودار ہوئے۔

اس نے حیرت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔
”کچھ بولو گے بھی۔“
”بس تیار ہو جاؤ۔ ابھی نکاح کے لئے چلنا ہے مسجد۔“
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
”ارے تم تو پکے بنیاد پرست مسلمان نکلے ہو۔“
”اب جو تمہاری مرضی ہے سمجھو۔“
”پر تمہارے ہونٹوں کو تالے کیوں لگے ہوئے ہیں؟“

”دعائیں مانگ رہا تھا کہ یہ جنونی بلی کی سی آنکھوں والی لڑکی خیر سے وقت پر گھر آ جائے۔ اور مجھے معزز امام کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔“

”ہیثم اب اس کی کوئی ضرورت تھی۔“
اس نے خوبصورت بلاؤز کو تنقیدی نگاہوں سے جانچتے ہوئے کہا۔ وہ نکاح کے بارے میں کہتی تھی۔

”بھئی ہے اور بہت ہے۔ اب میں اپنے پانچ وقت نماز پڑھنے والے باپ اور ماں کے استفسار پر کہ نکاح کیا ہے یا ویسے ہی اس کے ساتھ رہ رہے ہو۔ جھوٹ نہیں بول سکتا۔“

”اور ہاں اس میں کیا ہے؟“ وہ اس دوسرے پیکٹ کو تو بھول ہی گئی تھی۔
”اس میں نکاح کا ضروری جز چھوہارے ہیں اور منہ میٹھا کرنے کے لئے کوئین آف سپیڈ Spade ہے۔“

چائے کے بعد ہیثم فون پر مصروف ہوا اور وہ تیار ہونے چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ آ کر اس کے پاس کھڑی ہوئی اور بولی۔

”تم ابھی تک فون کے ساتھ ہی الجھے ہوئے ہو۔“

اس نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ چند لمحوں تک دیکھتا رہا۔ پھر اس کے بالمقابل کھڑا ہو گیا۔ تھوڑا سا جھکا۔ کوہ یورال کی کانوں اور پہاڑوں کے ہیرے پتھر سے بنے انتہائی خوبصورت چھوٹے سے ہار اور بندوں کو اس کی گردن اور کانوں میں پہنانے کے بعد سیدھا ہوا۔ اپنی بانہوں کے کلاوے میں سمیٹے اسے لاؤنج کے بڑے آئینے کے سامنے لے آیا۔

مسکراتے ہوئے آئینے سے مخاطب ہوا۔

”میں کچھ کہوں گا تو میری بات اس نے ہنسی میں اڑا دینی ہے۔ تم کہو گے تو شاید یقین کرے۔ ذرا اس سے پوچھو۔ یہ اینا جو اس وقت سامنے کھڑی ہے یہ تو پہچاننے میں نہیں آ رہی ہے۔ سارا وقت اس اونگی بونگی اینا کو خود پر سوار کیوں رکھتی ہے؟ ایسے ہی سج سنور کر رہنے میں اسے کوئی تکلیف ہے کیا؟“

ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا تھا۔
”کمال ہے ہیثم۔“

میرا پراسپیکٹ کی مسجد میں کافی لوگ تھے۔ آرمینیائی، بلغاری، ازبک، روسی، بشکری اور قازق۔ خاصی تعداد تھی۔ سب بہت خوش ہوئے۔ معزز امام نے کلمہ پڑھایا۔ پھر نکاح ہوا۔

چھوہارے اور مٹھائی کھائی گئی۔ ہاتھوں کو اٹھا کر کامیاب اور محبت بھری زندگی کے لئے دعائے خیر ہوئی۔ ”آمین“ کہنے میں سبھی پر جوش تھے۔ اینا نے اس ساری صورت سے بہت حظ اٹھایا۔

اگلے دن نینا کو ہنس ہنس کر تفصیل سنائی۔

دو ماہ بعد جب زیگ والا سلسلہ شروع ہوا۔ تب سب دوستوں کو بلانا پڑا۔ خوب محفل جمی۔ رات بہت دیر تک شراب نوشی، کھانا اور ڈانس ہوئے۔ یار لوگوں نے شادی میں نہ صرف بھرپور شرکت کی بلکہ خوب لطف بھی اٹھایا۔

صبح کوئی بارہ بجے وہ سو کر اٹھا۔ اینا نہیں تھی۔ شاید باہر ہو۔ اس نے سوچا اور لاؤنج میں آیا۔ سب یار دوست کوئی صوفوں پر، کوئی میٹرس پر اور کوئی کونے کھدروں میں اوندھے سیدھے قالین پر بکھرے پڑے تھے۔

اینا سارے گھر میں نہیں تھی۔ یہ کہاں چلی گئی ہے؟ اس نے تھوڑی کوفت اور بیزاری سے سوچا۔

ٹی وی کھولا تو جان گیا کہ وہ کہاں ہے؟ چرنوبل میں ایٹمی پاور پلانٹ پر زبردست حادثہ ہو گیا تھا۔ پلانٹ پر کام کرنے والے سینکڑوں افراد کی فوری ہلاکت اور قریبی جگہوں کے متاثرین کے بارے میں خبریں نشر ہو رہی تھیں۔ کسی تخریب کاری کا نتیجہ؟ کسی بے احتیاطی کی وجہ یا کوئی تعمیراتی فالٹ۔ ابھی تو کچھ کہنا مشکل تھا۔

پر تین بجے جب سب بیٹھے ناشتہ کرتے تھے۔ ان کی متفقہ رائے تھی کہ اب حکومت چاہے جو مرضی بیان بازیاں کرے۔ جوہری توانائی میں جس جدید ریسرچ اور پیش رفت کی ضرورت ہے سوویت انڈسٹری اور سوویت نیوکلیئر پاور اس میں پیچھے ہے۔ الٹے سیدھے تجربات کی ناکامی ماحولیات کی تباہی کا سبب بن رہی ہے۔

”اور اس بیوقوف اینا کو تو دیکھو۔ بھاگنے کی کیا جلدی تھی۔ یوکرائن کوئی ایک گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔ عجیب جنونی ہے یہ لڑکی بھی۔ شادی کا ہنگامہ ابھی گرم ہے۔ گھر میں دوست ہیں اور وہ خود غائب ہو گئی ہے۔

نینا کو تپ چڑھی ہوئی تھا۔
گلا شانینا کی بات پر منہ پھاڑ کر ہنسی۔
اس کی یوں بے محل اور بے ہنگم سی ہنسی پر نینا کو او ر غصہ آیا۔
”اتنے خوبصورت دانت ہیں تمہارے۔ موقع محل بھی نہیں دیکھتی ہو نکالے چلی جاتی ہو۔“
ارے نینا اس نے قہقہوں کی چند اور پلجھڑیاں چھوڑیں۔

مجھے تو اس غیرب پر ترس آ رہا ہے۔ کمیٹڈ، فرض کی پوٹلی اور سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں جیسے جذبے رکھنے والی سے متھا جوڑ لیا۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتی اس کا بنے گا کیا؟ وہ پھر ہنسی اور بولی۔

بیوقوف کو بہیترا سمجھایا تھا کہ شیر کی کچھار میں مت جاؤ۔ پر اسے چین نہیں تھا ”اب نینا سمیت سب ہنس رہے تھے۔

صرف دو دن بعد سب کچھ سامنے آ گیا تھا۔ پاور سٹیشن پر غیر مستند تجربات ری ایکٹر میں آگ لگنے کی وجہ تھے۔ آگ کنٹرول سے باہر ہو کر شدید ترین نقصان کا باعث بن رہی تھی۔

کوئی تین دن بعد وہ آئی۔ نڈھال، تھکی تھکی، اس اتنی بھیانک تباہی پر ماتم کناں۔

اب نئی ایکٹویٹی شروع ہو گئی تھی۔ اس حادثے نے چرنوبل سوسائٹی کے نام سے ایک ادارہ تشکیل دیا۔ جس کا نصب العین مدد اور تحفظ ٹھہرا۔ وہ نہ صرف اس سوسائٹی کی ممبر بنی بلکہ سرگرمی سے کام بھی کرنے لگی۔ ایک دن جب وہ اس نئے پراجیکٹ پر کام کر رہی تھی اس نے کہنا ضروری سمجھا تھا۔

”اینا تمہیں تھوڑا وقت گھر کو اور اس غریب بندے کو بھی دینا چاہیے جو تمہاری نظر کرم کا محتاج رہتا ہے۔“

لاؤنج میں گیس پائپ کے عین اوپر دیوار پر سوویت یونین کا بڑا سا نقشہ ٹنگا تھا۔ ہیثم منہ دھو کر آیا تھا۔ تو لئے سے صاف کرتا ہوا وہاں جا کر کھڑا ہو گیا۔

”دیکھو اینا اس نے نقشے کی طرف اشارہ کیا۔ سوویت کتنا بڑا ہے؟ لوگ کیا تمہاری طرح دیوانے ہو گئے ہیں؟ زندگی میں توازن پیدا کرو۔ کبھی تم نے جو کچن دیکھا ہو؟ کبھی کوئی اچھی ڈش بنائی ہو۔

اس نے یہ سب سنا۔ تھوڑی دیر چپ رہی۔ پھر دھیرے سے بولی۔
”ہیثم تمہیں یہ سب معلوم تو تھا کہ میں بس ایسی ہی ہوں۔“

”ہاں مجھے معلوم تھاپر اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ تم ساری زندگی اسی جنون اور اسی بے ترتیبی سے گزار دو۔ تھوڑی سی توجہ تو گھر اور شوہر مانگتا ہے اور تم اس تھوڑی سی کے لئے بھی حد درجہ کمینی بن رہی ہو۔“

وہ بڑ بڑائی ضرور مگر زیادہ نہیں۔ اٹھ کر اس کے پاس آئی۔ اس کے گلے لگی۔ کچن میں گئی۔ بورششBorshuss سوپ بنایا۔ بلینی بنائی۔ سویٹ ڈش کے طور پر آئس کریم فرج سے نکالی۔ چلو اس کی اس ذرا سی توجہ نے اس کا موڈ خوشگوار کر دیا۔

Facebook Comments HS