مریم نواز شریف کا جی سی یونیورسٹی لاہور میں خطاب متنازعہ کیوں بنایا جا رہا ہے
مسلم لیگ نون کی سب سے اہم خاتون سیاسی رہنما مریم نواز شریف کا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور جانا اس وقت موضوع بحث بنا ہوا ہے اور اس میں کوئی برائی بھی نہ ہے، بات ہونی چاہیے لیکن یہ کہنا کہ وہ اس قابل نہ ہے یہ بات درست ہے اور نہ ہی ہضم کی جا سکتی ہے کیونکہ مریم عرصہ دراز سے بھرپور مزاحمتی سیاست کی ایک زبردست علامت بنی ہوئی ہے اور آمر بشرف کے دور سے لے کر سابق منتقم مزاج اور غیرسیاسی ذہن عمران خان کے دور تک اس کو بری طرح نشانہ بنایا گیا، اسے ملک کا وزیراعظم طنزاً ”نانی“ کہہ کر اپنی ذہنی معذوری کا اظہار کیا کرتا تھا اور بے شرمی سے صنفی امتیاز برتا کرتا تھا، مریم کو عورت ہونے کا رتی بھر فائدہ نہ ہوا اور اسے والد کے سامنے کمزور ترین کیسز میں پکڑ کر جیل بند کیا گیا اور قید کے دوران اس کے ساتھ افسوس ناک رویہ اور سلوک بھی اپنایا گیا جس کی کہانیاں اب سب سن چکے ہیں، اس لیے اگر ایک یونیورسٹی میں اسے خطاب کے لیے بلایا جا رہا ہے تو دیکھنا اور سننا چاہیے کہ وہ وہاں آخر کہتی کیا ہے؟
اپنے کن تلخ و شیریں سیاسی تجربات کا کس طرح اظہار کرتی ہے؟ وہ ان نوجوان اسٹوڈنٹس کو کیا پیغام دیتی ہے جو کہ آنے والے دنوں میں ملک کے مختلف شعبوں بشمول سیاست و حکومت میں کسی نہ کسی حوالے سے خدمات سرانجام دیتے ہوئے ملیں گے؟ اور یاد رہے کہ یہ پریکٹس پوری دنیا میں ہوتی ہے کہ سیاستدان دیگر جگہوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں بھی جا کر خطاب کرتے ہیں، جانے کیوں ہمارے ہاں ابھی کسی بھی سیاستدان کو اس قابل نہ سمجھا گیا ہے کہ وہ کسی تعلیمی ادارے میں جاکر اپنا منشور بیان کرے، اپنی رائے کا اظہار کرے۔
اپنے تجربات ان کے ساتھ شیئر کرے، انہیں سیاسی داؤ پیچ سکھائے، سمجھائے۔ اونچ نیچ بتلائے۔ کچھ ان سے کہے، کچھ ان کی سنے، ڈائیلاگ ہو گا تو معاشرے میں اعتدال بھی آئے گا، سیاست میں انتہائی درجے پر پہنچے ہوئے کتھارسس کے بعد ٹھنڈے بھی ہوں گے لیکن یہاں ہو یہ رہا ہے کہ جیسے ہی مریم کے جی سی یونیورسٹی جانے کی خبر باہر نکلی ہے، کچھ لوگوں نے تلواریں سونت لی ہیں، بھالے اٹھا لیے ہیں اور طنزیہ نشتروں سے بلانے والوں کو چھلنی کرنے کی راہ لے لی ہے، المیہ ہے کہ ہمارے ہاں صرف سیاستدان مرد ہی نہیں بلکہ کسی سیاستدان عورت کو بھی اس قابل نہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اسٹوڈنٹس سے حال دل کہہ سکے، ان کی سن سکے، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو جب آکسفورڈ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ تھی تو آکسفورڈ کی اسٹوڈنٹس یونین میں اس کا کردار بہت نمایاں ہوتا تھا، مریم کیا کہتی ہے؟
یہ دیکھنا اہم ہونا چاہیے شاید، باقی تنقید کرنے والوں کی مرضی ہے کہ ملالہ یوسف زئی ایک بچی ہونے کے باوجود دنیا بھر کے تعلیمی اداروں اور دیگر فورمز پر تقریریں کرتی پائی جاتی ہے، حماد صافی سا کاکا پاکستان کی ایک اہم یونیورسٹی میں خطاب کرتے دیکھا گیا، مولانا طارق جمیل اور بہت سے مذہبی عناصر دیکھے جاتے ہیں، اداکارائیں تک خطاب کر سکتی ہیں، کھلاڑی، صحافی، اینکر، سماجی کارکن، بزنس مین وغیرہ تک خطاب کرتے ملتے ہیں لیکن سیاستدان اور وہ بھی ایک خاتون کا جانا آج بھی قابل گردن زنی ٹھہرا دیا جاتا ہے جو کہ المیہ ہے۔
مریم کی جی سی یونیورسٹی میں آمد کا سنتے ہی کچھ لوگوں کو مرچیں کیوں لگ گئی ہیں؟ یہ بات سمجھ سے بالاتر نہ ہے، ہمارے اذہان میں شاید یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ کسی بھی طرح کے مکالمے کو فروغ نہیں دینا ہے بلکہ ایسا ہونے بھی نہیں دینا ہے، وہی پرانی ڈگر پر چلتے رہنا ہے اور اگر کوئی اس جمود کو توڑنے کی کوشش کرے تو اس پر لٹھ لے کر حملہ آور ہوجانا ہے اور نئی نسل کو کچھ بھی نہ سیکھنے دینا ہے اور نہ ہی کسی کو انہیں سکھانے کے لیے آگے آنے دینا ہے، خود بھی سدا سے کنویں کے مینڈک بنے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اگلی نسلیں بھی اسی لائن پر چلیں اور یہی وہ انتہاپسندانہ سوچ ہے جس نے ہماری نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی بجائے منفی استعمال کی راہ دکھائی ہوئی ہے، چھوٹے بڑے کی تمیز سے بے بہرہ کر دیا ہے اور وہ خود کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے اس قدر محروم ہوچکے ہیں کہ جو بھی ان کے کان میں پھونک مارتا ہے وہ اسی کے ہمنوا بن جاتے ہیں اور پھونک مارنے والے کے سیاسی مخالف پر چڑھ دوڑتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ نہ صرف اس کے مذہبی رجحانات کو بے دردی، سفاکی اور حماقت سے نشانہ بناتے ہیں بلکہ اس کے خاندان، ذات برادری، جماعت، احباب اور شکل تک کا مذاق اڑاتے ہیں، ٹرولنگ کے دوران یہ ہر قسم کی اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں اور فیک انفارمیشن، ایڈٹ شدہ ویڈیوز اور تصاویر کو آگے سے آگے پھیلاتے رہتے ہیں اور جب ان سے کوئی تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی اپیل کرتا ہے تو یہ اسے بھی اپنی زہرآلود مہم کا نشانہ بنانے سے نہ چوکتے ہیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ بھٹکی ہوئی نوجوان نسل کافر، مرتد، غدار اور کرپٹ کے ٹرینڈز اس سفاکی سے چلاتی ہوئی نظر آتی ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ جن لوگوں نے ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہایا ہے، جانی قربانیاں تک دی ہیں، سزائیں بھگتی ہیں، ماریں کھائی ہیں یہ انہیں بغیر کسی تصدیق کے رگڑا لگا دیتے ہیں اور ان کی نظر میں ان کے سیاسی رہنما کو خدانخواستہ کسی پیغمبر کا درجہ مل چکا ہے کہ اس کی ہر بات کو آسمانی صحیفہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور اس میں کسی بھی خامی یا کوتاہی کا تصور تک ذہن میں لانا گناہ سمجھتے ہیں تو کیا ان حالات میں ضروری نہیں ہے کہ مکالمہ فروغ پائے؟
سب اپنے اپنے دل کی بات کہیں اور دوسروں کی سنیں گے تو معاشرے میں کچھ بہتری ہوگی، سب شانت ہوں گے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کم از کم پڑھے لکھے اور باشعور لوگ تو مکالمے کی مخالفت نہ کریں، آپ کا ہزار اختلاف ہو مگر یہ بھی سوچیے نا کہ آپ امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں سیاستدانوں کے ایسے خطابات اور لیکچرز کی حمایت کرتے ہیں، ان کی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ
”ہمارے ہاں بھی ایسا کیوں نہیں ہوتا ہے؟
اور جب ہوتا ہے تو آپ ہی مخالفت پر کمربستہ ہو جاتے ہیں، یہ منافقت نہیں ہے؟ اچھا آپ مریم کے وہاں جانے سے خوف زدہ کیوں ہیں؟ اسے بات کرنے دیں، وہ اپنی بات کہے گی اور آ جائے گی، کسی کے ذہن کو ہیپناٹائز کر کے نون لیگی بنانے کے فن کی حامل تو اب تک وہ شاید نہ ہے اور فرض کیے لیتے ہیں کہ ایسا فن مریم جانتی بھی ہے تو یہ تو ایک سیاسی شخصیت کی وہ خوبی ہے جس پر اسے سراہنا چاہیے نہ کہ اس سے خوف زدہ ہو کر اسے عوام، نوجوان نسل اور پڑھے لکھوں سے دور رکھنے کے لیے باقاعدہ پراپیگنڈا کر کے ایک منظم مہم چلائی جائے،
عجیب بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں مکالمے کی روایت کو خوشدلی سے آگے بڑھایا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں باقی معاملات کی طرح اس حوالے سے بھی الٹی گنگا بہہ رہی ہے جو کہ جمہوری روایات اور اصولوں کی بھی نفی ہے۔


