کالی کلوٹی کے نخرے بہت
ویسے تو اماں ابا ہولے ہولے بات کر رہے تھے مگر گھر کی پتلی بوسیدہ دیواروں کے بیچ سے ایک ایک لفظ صاف سنائی دے رہا تھا ”تیس سال کی ہو گئی ہے اب اس سے کون شادی کرے گا؟“ ابا کی اضطراب بھری آواز سنائی دی۔ ”مسئلہ صرف عمر کا نہیں ہے۔ رنگ بہت دبتا ہوا ہے۔ بہت کالی ہے ہماری بیٹی!“ اماں نے اپنی عقل مندی جھاڑی۔
18 سال سے یہ الفاظ بار بار سن رہی ہوں۔ بے عزتی، غصہ، حقارت، تذلیل، ان سب کیفیات سے گزر چکی ہوں۔ ایک عرصے سے اپنی وقعت اور اوقات کو اپنی رنگت میں تولنے لگی تھی۔ تعلیم بھی ادھوری چھوڑ دی تھی، کالج جانے کا اعتماد ہی ختم ہو گیا تھا۔ باقی دونوں بہنوں کے رنگ بڑے صاف تھے۔ نبیلہ باجی کا رشتہ تو بیس سال کی عمر میں ہی آ گیا تھا۔ دولہا بھائی 40 سال کے تھے تو کیا ہوا اپنا گھر تھا اور کیا چاہیے۔ ابا نے کہا کہ ”بیٹا ہمارے پیارے نبی پاک بھی حضرت عائشہ سے قریبا 40 سال بڑے تھے“ ۔ ابا ہمیشہ یہ بتانا بھول جاتے تھے کہ اپنی پہلی بیوی حضرت خدیجہ سے 15 سال چھوٹے بھی تو تھے! اب مسلمان مرد ساری سنتوں پر کیسے عمل کریں بیچارے۔
سائرہ آپا تو بہت ہی گوری تھیں۔ حاجی صاحب کروڑ پتی تھے۔ تین گھر تھے مگر پہلے سے دو بیویاں بھی تھیں۔ جب رشتہ آیا تو سائرہ آپا کی بالکل مرضی نہیں تھی مگر ابا نے یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ ”جب قرآن چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے تو ہم کون ہیں بولنے والے؟“
کالے رنگ کو بدصورتی کی علامت کیوں سمجھا جاتا ہے؟ چار ہزار سال پہلے مصری تہذیب میں کالا رنگ حسن کی علامت تھا۔ کالی عورتیں ملکائیں اور حسن کی دیویاں سمجھی جاتی تھیں۔ ابراہیمی مذاہب نے ایک دوسرا رخ پیش کیا۔ تورات میں خدا کو اجالا اور شیطان کو اندھیرے کا پرتو بنایا گیا، خدا ایک سفید روشنی اور شیطان بدنما کالک۔ انجیلوں نے حضرت عیسی کو سفید نور سے تشبیہ دی اور برائی کو کالا رنگ دیا۔ آہستہ آہستہ حضرت عیسی کی ساری تصویریں اور مجسمے سفیدی میں بدلتے چلے گئے۔ سفید رنگ پاک اور کالا رنگ بد نمائی اور برائی کی نشانی بننے لگا۔
تورات کی کتاب جینیسس کے بیان کے مطابق جب حضرت نوح کے بیٹے حام نے جب حضرت نوح کو بیخودی میں نامناسب حالت میں دیکھا تو اعتراض کیا۔ اس بات پر غصہ ہو کر حضرت نوح نے حام کے بیٹے کنعان اور اس کی اولاد کو ہمیشہ غلام رہنے کے بددعا دے دی۔ بعد کے مسیحیوں نے یہ کہانیاں بنا لیں کہ حام کی اولادیں تو کالی اور افریقی ہیں ( تورات میں کہیں پر بھی حام کا رنگ کالا نہیں بتایا گیا) اسی عذر کو استعمال کرتے ہوئے ان مسیحیوں کے مطابق کالے افریقیوں کو غلام بنانا ہی خدا کی مشیت بن گئی۔
سینکڑوں سال تک مسلمان حکمران بھی ( اسرائیلیات کی بنیاد پر ) اور بعد میں یورپین حکمران، خدا کے اسی فرمان کو مانتے ہوئے افریقہ سے سیاہ فام غلاموں کا کاروبار کرتے رہے۔ بیسیوں صدی کے آخر تک مسلمان حکمران پندرہ بیس ملین اور یورپی انسانی غلامی کے کاروباری، دس بارہ ملین سیاہ فام افریقی مرد، عورتوں اور بچوں کو اپنی منڈیوں میں بیچتے رہے۔ گرچہ بہت سے مسلمان علماء نے اسرائلیات کے اس اصول کی مخالفت بھی کی مگر کاروبار پھر بھی چلتا رہا۔
رہی سہی کسر ڈارون اور ان کے سوشل ڈارونسم نے پوری کر دی۔ جب سنہرے بالوں، نیلی آنکھوں اور سفید چمڑی والے گورے آدمی اور گوری عورتوں کو انسانی ارتقاء کی سیڑھی پر پہلا نمبر اور بلند مرتبہ ملا، تو باقی سب رنگ اور نسلوں کو ان سے کمتر سمجھا جانے لگا۔ یاد رہے کہ اس کے پیچھے جو جعلی سائنسی مقدمہ بنایا گیا تھا وہ اب بالکل غلط ثابت ہو چکا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اب میں کیا کروں؟ میرا مقابلہ تو حوروں سے بھی ہے۔ مسلمان مردوں کو گوری حوریں پسند ہیں آخر وہ جنت کی مخلوق ہیں، مگر ان کو تو دنیا میں بھی ایسی ہی چاہیں۔ اب جب دن رات مولوی حضرات سے حوروں کے حسن کی تعریف سنے گے تو دل تو للچائے گا ہی۔ مرد چاہے جتنا بھی کالا، موٹا، گنجا اور جنسی اعتبار سے نا اہل ہو، اس کی مردانگی ہی اس کا تحفہ بن جاتی ہے۔
میں اپنی بوڑھے ماں باپ پر بوجھ ہوں۔ اللہ سے دعا ہے کہ مجھے بیٹی نا دینا۔ اگر دی تو گوری ہو۔ کاش کہ میں چھے ہزار سال پہلے مصر میں پیدا ہوئی ہوتی تو خوب راج کرتی۔ میری جیسی لاکھوں بیٹیاں جو اپنی ذات پر سے ہر اعتماد کھو بیٹھی ہیں وہ پر اعتماد مائیں کیسے بن سکتی ہیں؟ بغیر پراعتماد ماؤں کے کیا کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے؟ جواب خود میں تلاش کیجئے۔
تمام واقعات اور کردار فرضی ہیں۔


