طارق محمود مرزا کے اسفار اربعہ


زمانۂ قدیم سے یہ روایت ہے کہ ہر بوالہوس، حسن پرستی اشعار کرتا ہے۔ زمانۂ حال میں اس سے ملتی جلتی ایک نئی رسم نکلی ہے کہ ہر ’بوالقلم‘ سفر نگاری اختیار کرتا ہے۔ احوال واقعی یہ ہے کہ آج کل سیاح، کاندھے پر بیگ اور کان پر قلم رکھ کر صبح گھر سے نکلتا ہے اور شام کو ایک سفرنامہ لے کر واپس لوٹتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لمحۂ موجود میں وطن عزیز کو دو خوف ناک مسائل کا سامنا ہے۔ ایک مسئلے کا تعلق کثرت آبادی سے ہے اور دوسرے کا کثرت نگاری سے۔

اول الذکر مسئلے پر قابو پانے کے لیے حکومت نے الگ سے ایک محکمہ قائم رکھا ہے جو مختلف حیلوں اور بہانوں سے چمن میں دیدہ وروں کو پیدا ہونے سے روکتا رہتا ہے، لیکن تاحال کوئی ایسا ادارہ قائم نہیں ہوا جو ادیبوں کو سفرناموں کی افزائش نسل سے باز رکھے۔ اکادمی ادبیات کا یہ فرض بنتا ہے کہ کوئی ایسا سلوگن متعارف کرائے جو اس مقصد کی نگہبانی کرتا ہو۔ ایک سلوگن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’سفرنامے، دو ہی اچھے‘ ! لیکن چوں کہ ابھی یہ سلوگن متعارف نہیں ہوا، سو اس رعایت سے طارق محمود مرزا نے خوب فائدہ اٹھایا ہے اور چار سفرنامے جنم دیے ہیں۔ چپڑی اور دو دو نہیں، چار چار۔ گویا اولاد معنوی نہ ہوئی، ازدواج شرعی ہو گئیں۔

اس وقت میرے پیش نظر طارق محمود مرزا کا چوتھا سفرنامہ ہے اور اس سفرنامے کی حد تک میں کہہ سکتا ہوں اس میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو کسی اچھے بچے میں ہوتی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا بچے برے بھی ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، تمام بچے اچھے ہی ہوتے ہیں کہ وہ فطرت پر پیدا ہوتے ہیں لیکن بڑے ہو کر وہ اچھے اور برے انسانوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ بعد ازاں انہی انسانوں میں کئی انسان روئے ادب پر سفر نگاروں کی صورت میں نمایاں ہوتے ہیں۔ تقسیم یہاں بھی وہی ہے، یعنی اچھے اور برے سفر نگار!

طارق محمود مرزا ایک اچھے سفر نگار ہیں۔ ”ملکوں ملکوں دیکھا چاند“ ۔ ان کا چوتھا سفرنامہ ہے اور اس میں چار ہی ملکوں کی سیاحت کا احوال درج ہے۔ ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور قطر۔ یہ چار ممالک ہوں تو بنتا ہے سفرنامہ! (عروض بر گردن راوی)

مصنف نے ان ممالک کی سیاحت کا حال یوں سنایا ہے جیسے حال دل سنایا جاتا ہے۔ ان کا انداز بیاں دل کش ہے۔ تحریر میں ایک خاص طرح کی روانی ہے جیسی ایک خوش گوار سفر میں ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ایک خوش باش دوست ہم کلام ہے۔ کلام میں اگر شوخی اور معنی خیزی نہ ہو تو وہ محض ’آواز دوست‘ ہوتا ہے جو کانوں میں رس تو گھولتا ہے لیکن قلب کو گرماتا اور روح کو تڑپاتا نہیں ہے۔ طارق مرزا کی آواز ملاحظہ ہو جس میں سوز بھی ہے اور ساز بھی!

”ان کم بخت جنگوں نے سالہا سال سے دنیا کے کتنے خطوں میں بے امنی اور بے سکونی کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ ان کی وجہ سے عوام کا جینا محال ہو چکا ہے۔ افغانستان، عراق، شام اور یمن جیسے ملکوں میں ایک سے زیادہ نسلیں جنگوں اور خوف کی فضا میں پروان چڑھ رہی ہیں۔ آخر کیا قصور ہے ان معصوم بچوں کا جو ان آفت زدہ علاقوں میں جنم لیتے ہیں۔ کیا جرم ہے ان نوجوانوں کا جو گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور توپوں کی گھن گرج میں پرورش پاتے ہیں۔

کس جرم کی سزا ملتی ہے ان ماؤں کو جن کے لخت جگر ان جنگوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ سہاگنوں کے سہاگ اجڑ جاتے ہیں۔ ضعیف والدین کے بڑھاپے کے سہارے، ان کے جوان بیٹے، ان کی آنکھوں کے سامنے منوں خاک تلے دفن ہو جاتے ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں تو چرند، پرند اور اشجار بھی محفوظ نہیں رہتے۔ وہاں چڑیاں چہکنا بھول جاتی ہیں۔ کوئل کی کوک اور پپیہا کی پکار بھی کھو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ شجر بے برگ و بار اور سرسبز میدان بے آب و گیاہ ہو جاتے ہیں۔

مزید ستم یہ ہے کہ عصر حاضر کی جنگوں میں بے گناہ اور معصوم لوگ سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ان معصوموں کو یہ سزا محض اس لیے ملتی ہے کہ وہ ایک مخصوص خطے میں جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ جنگ انسانوں کا انسانوں پر مسلط وہ قہر ہے جو صدیوں سے نازل ہو رہا ہے اور مستقبل میں بھی اس سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ جب تک مہذب کہلانے والا انسان درحقیقت مہذب نہ ہو جائے۔“

ایک اچھے سفرنامے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف مناظر اور مقامات سے متعارف نہیں کراتا بلکہ روح عصر سے بھی آشنا کراتا ہے اور ایک سماجی اور تاریخی سیاق و سباق فراہم کرتے ہوئے عصر حاضر کی داستان سناتا ہے۔

یہ داستان سادہ بھی ہو سکتی ہے اور رنگین بھی۔ طارق مرزا نے سفرنامے میں اپنے مزاج کی ”رنگینی“ تو کہیں ظاہر نہیں ہونے دی لیکن اہل عرب کے ’ذوق ازدواج‘ کو اس طور بیان کیا ہے کہ رشک کا مضمون پیدا ہو گیا ہے ۔ یہ رشک نہ صرف ان کے اپنے دل میں بیدار ہوتا ہے بلکہ معصوم قاری کے ارمان بھی جگا دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

”ساتھ کام کرنے والے عمانی گھر سے کھجوریں اور قہوہ ضرور لاتے تھے۔ ہر ڈیڑھ دو گھنٹے بعد زمین پر چوکڑی مار کر بیٹھتے، اردگرد موجود ہر فرد کو با اصرار بلاتے، کھجوریں نکالتے، چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں قہوہ انڈیلتے اور قہوہ نوشی کے ساتھ اپنے گھروں میں غیر ملکی ملازماؤں کے بارے میں چسکے لے لے کر باتیں کرتے۔ جس طرح کھجوریں اور قہوہ ان کے لیے ضروری تھا اسی طرح حرمہ (عورت) کا ذکر بھی لازم تھا۔ دوسری شادی کی خواہش اور کوششوں کا تذکرہ کرتے۔

جس کی پہلے سے دو بیویاں ہوتیں وہ تیسری کی تگ و دو میں ہوتا اور جس کی تین ہوتیں وہ چوتھی کے ارمان میں ہوتا۔ عمان میں شادی کرنے کے لیے مرد کے پاس اتنا پیسا ہونا چاہیے کہ وہ عورت خرید سکے۔ جس کے پاس وافر پیسا ہوتا اس کی لازماً چار بیویاں ہوتیں۔ بیویوں کے علاوہ انہوں نے فلپائن، سری لنکا اور بھارت سے تعلق رکھنے والی عورتوں کو گھروں میں ملازم رکھا ہوا ہے۔ عرب ملکوں میں تقریباً ہر صاحب حیثیت نے ایسی ملازمائیں رکھی ہیں جو دراصل ان کی داشتائیں ہوتی ہیں۔

یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ صرف قطر میں لاکھوں عورتیں اس کام پر مامور ہیں۔ ایک ایک قطری کی گھر میں کئی کئی غیر ملکی عورتیں ہیں۔ ان کی حیثیت لونڈیوں سے زیادہ نہیں ہے۔ ان کے مکمل حقوق اس شخص کے پاس ہوتے ہیں جو انہیں سپانسر کر کے لاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ انہیں آگے بھی پیش کرتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ایک موبائل ایپ کا انکشاف ہوا ہے جس کے ذریعے ایسی عورتوں کی خریدوفروخت اور ترسیل ہوتی ہے۔

جہاں تک شادی کا تعلق ہے اس میں عمر کا خیال بالکل نہیں رکھا جاتا۔ بس مرد کے پاس پیسا ہونا چاہیے۔ اس کی جو بھی عمر ہو، نوجوان لڑکی سے شادی رچا سکتا ہے۔ میں نے ساٹھ ستر سال کے بوڑھوں کو دس بارہ سال کی کم سن لڑکی سے شادی رچاتے دیکھا ہے۔ ”

طارق مرزا نے جہاں لذت پرستوں کا ذکر کیا ہے وہاں یورپ کے ان رومان پسندوں کو بھی یاد رکھا ہے جنہیں ہنگاموں سے زیادہ تنہائیاں عزیز ہیں اور جو دنیا کی محفلوں سے اکتا کر فطرت کے دامن میں پناہ لیتے ہیں۔ طارق مرزا کے مطابق:

”بودوباش کے اعتبار سے یورپی عوام بخوشی ماضی میں جی رہے ہیں۔ وہ مصروف شہروں، انسانوں کے جم غفیر اور مشینوں اور گاڑیوں کے دھوئیں اور شور شرابے سے دور مضافاتی قصبوں اور دیہات کے سادہ طرز رہائش کو ترجیح دیتے ہیں۔ یورپین اور آسٹریلین باشندوں کی اکثریت کا اولین انتخاب اور ترجیح چھوٹے قصبات کی پرسکون آبادیاں ہیں۔ شہروں میں یہ لوگ روزگار اور دوسری وجوہات کی بنا پر با امر مجبوری رہتے ہیں۔ جونہی ان کی یہ ضروریات پوری ہوتی ہیں وہ شہروں کے گھر فروخت کر کے کسی دوردراز قصبے میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ جہاں نہ صرف زندگی کا رنگ ڈھنگ روایتی، پرسکون اور فطرت سے ہم آہنگ ہوتا ہے، وہاں گھر سستے اور رہن سہن سہل اور ارزاں ہے۔ لہٰذا وہ اپنی جمع پونجی اور پنشن کے سہارے صحت مند فضا میں سادہ اور پرسکون زندگی گزارتے ہیں۔“

طارق محمود مرزا ایک اچھے سفر نگار ہیں کہ ان کا اسلوب دل کش ہے، تحریر میں شوخی بھی ہے، منظر نگاری عمدہ ہے۔ مشاہدہ قابل تعریف ہے۔ سیاحت ان کا شوق ہے، مجبوری نہیں ہے، پاؤں میں چکر ہے، آنکھ میں حیرت ہے اور دل میں محبت ہے، انسان سے محبت! ایک سفر نگار کے لیے انسان سے محبت بہت ضروری ہے، گو طارق مرزا نے اپنے میزبانوں اور مسافر نوازوں سے خصوصی محبت کا اظہار فرمایا ہے لیکن وہ عام انسان کو بھی محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کی ذات میں دل چسپی محسوس کرتے ہیں، ان کے غم کو اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں۔ سفرنامے کے آخر میں ان کا ننھا سا دل غریب ٹیکسی ڈرائیور کے لیے بھر آتا ہے۔ یہی وہ دل ہے جو آغاز سفر میں آئرش حسینہ ملیسا کے لیے دھڑک رہا تھا۔

Facebook Comments HS