لاحاصل
جنوں پریوں کا گانا (3)
نزاکت علی خاں صاحب کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد موسیقی میں میری دلچسپی اور بڑھتی چلی گئی۔ میں موسیقی کی ہر محفل میں شریک ہوتا اور آخر تک وہاں بیٹھا رہتا، اس زمانے میں میری دوستی اسلام آباد میں ہر اس شخص سے ہوئی جو موسیقی کا رسیا تھا اور خاص طور پر وہ لوگ جو خود گاتے بجاتے تھے میرے بہت قریب تھے۔ عارف جعفری جو کمال کی بانسری بجاتے۔ علم موسیقی پر ان کی حیرت انگیز دسترس تھی، زاہد فارانی بہت عمدہ گاتا، طبلہ بجاتا اور استاد اجمل خاں جنہیں ہم پیار سے باؤ جی کہتے کمال کے طبلہ نواز تھے، بابر، جاوید نیازی، اور خود طفیل نیازی صاحب کا بلا تکلف میرے گھر آنا جانا تھا، اسی طرح محمد اقبال جو اٹلی کی ایمبیسی میں کام کرتے تھے وہ بھی میرے دوستوں میں سے تھے۔ وہ ضیا جالندھری صاحب کی بیٹٰیوں صبا اور نیناں کو کلاسیکی موسیقی سکھاتے تھے۔ میرے قریبی دوستوں میں آدم نیر بھی تھا جس کے گھر ہم اکثر جمع ہوتے، بعد میں اسد قزلباش اور ماجد خان صاحب جو ستار بجاتے تھے وہ بھی اس قبیلے میں شامل ہو گئے، یہ زیادہ تر اتائیوں کا گروپ تھا لیکن مجھ سمیت سب جگتیں میر عالموں جیسی کرتے۔ ماجد خاں صاحب وگ پہنتے تھے، ایک دن کہنے لگے، ’سرمد یار گرمی سخت تھی اور میں اپنی بیٹھک میں وگ اتار کے بیٹھا ہوا تھا، کسی نے دروازہ کھٹکھٹا یا تو میں ویسے ہی اٹھا اور دروازہ کھولا۔ میرے سامنے ایک اجنبی کھڑا تھا، کہنے لگا، ‘ ماجد خاں صاحب سے ملنا ہے ’مجھے یک دم خیال آیا کہ میرے سر پر وگ نہیں۔ میں نے کہا‘ وہ تو گھر پر نہیں ہیں ”اچھا؟ ’اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا،‘ تو آپ یقیناً ان کے والد صاحب ہیں، بڑٰی خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔ ’
کسی محفل میں ستار بجائی تو ہم میں سے کسی نے کہا، ’واہ خاں صاحب آج آپ نے کیا اچھا بینجو بجایا ہے۔‘ محفل کے بعد کھانے پر کوئی بولا ’خاں صاحب جتنا بجایا جے اوناں ای کھاوناں۔ ‘ (خاں صاحب جتنا بجایا ہے، اتنا ہی کھائیے گا۔ ’) ہم سب کا ماحول بہت کھلا ڈلا اور رسمی تکلفات سے پاک ایک معشوقانہ ماحول تھا۔ سب ایک دوسرے کو پیار کرتے اور میرے جیسے نو آموز کی بھی حوصلہ افزائی کرتے رہتے۔
میں ان دوستوں سے کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا لیکن میرا کوئی باقاعدہ استاد نہیں تھا۔ ایک دن سخت گرمی کے دنوں میں جب میں راولپنڈٰی کے ٹی وی سٹیشن سے باہر نکل رہا تھا تو میں نے سارنگی نواز مبارک علی خاں صاحب کو گیٹ سے باہر، کڑکتی دھوپ میں ویگن سٹاپ پر کھڑے دیکھا۔ میں ان کو غائبانہ طور پر تو جانتا تھا لیکن ذاتی طور پر ہم ایک دوسرے کو بالکل نہیں جانتے تھے، ان کے ماتھے سے پسینہ بہ رہا تھا اور کپڑے بھی پسینے میں بھیگے ہوئے تھے۔ میں نے اپنی گاڑٰی روکی اور ان سے کہا، ’خاں صاحب آپ نے کہاں جانا ہے؟‘ انہوں نے کہا، ’میں نے تو بہت دور جانا ہے‘ ، ’کہاں خاں صاحب؟‘ میں نے پوچھا
’پشاور موڑ سے اگے چوھڑ۔ ‘
’اوہ وہ تو بالکل میرے راستے میں ہے‘ ، میں نے جھوٹ بولا اور کار کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا ’چلیں میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں‘ ۔ مبارک صاحب تھوڑا سا سوچ کر میرے ساتھ گاڑٰی میں بیٹھ گئے۔ گاڑی تو میری چھوٹی تھی لیکن اس میں ایئر کنڈیشن لگا ہوا تھا۔ ہم تھوڑی دیر تک بالکل خاموشی سے سفر کرتے رہے لیکن جب خاں صاحب کو ٹھنڈی ہوا لگی اور ان کی طبیعیت کچھ سنبھلی تو انہوں نے زیر لب راگ میگھ کے پلٹے کرنے شروع کر دیے۔ میں خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا لیکن میرے کان خان صاحب کے پلٹوں پر لگے رہے۔ ان پلٹوں کے سرور میں مجھے سفر کا پتہ ہی نہ چلا، یوں لگا جیسے بہت جلد ختم ہو گیا ہے۔ میں اسی طرح مبارک صاحب کو کئی دن تک ان کے گھر چھوڑتا رہا۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگے، ’سارمد (سرمد) صاحب آپ کو موسیقی سے کوئی لگاؤ نہیں؟‘، میں نے کہا ’نہیں مبارک صاحب‘ کہنے لگے ’کمال ہے، آپ انگریزی تو فرفر بول لیتے ہیں یہ پلٹے کیوں نہیں کر سکتے۔‘ ’نہیں خاں صاحب یہ میرے بس کی بات نہیں۔‘ میں نے ہنس کر کہا اور اگلے کئی مہینوں تک گاڑی میں سفر کے دوران ان کے کانوں میں رس گھولتے پلٹے سنتا رہا۔
ایک دن کوئی تین بجے بعد دوپہر میرے گھر کی گھنٹی بجی۔ یہ جمعہ کا دن تھا، اس زمانے میں جمعہ کو چھٹٰی ہوتی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے مبارک صاحب کھڑے تھے، ’مبارک صاحب آپ؟‘ ، میں نے حیران ہو کر پوچھا۔
’واہ سرماد (سرمد) صاحب، بڑے افسوس کی بات ہے، مجھے آپ سے بہت گلہ ہے‘
’اوہو مبارک صاحب کیا ہوا؟‘ میں یہ کہتے ہوئے ان کو گھر کے اندر لے آیا۔
’آپ نے مجھے بتایا ہی نہیں، آج میں نے کسی سے آپ کا ذکر کیا تو اس نے مجھ سے کہا، سرماد صاحب تو میوزک کے دیوانے ہیں۔ میں نے اسی وقت آپ کے گھر کا پتہ لیا اور ویگن پکڑ کر ادھر آ گیا‘ ۔
’خاں صاحب، چھوڑیں یہ بھی کوئی بات تھی، آپ کو کیا ضرورت تھی اتنی دور آنے کی، آپ کہتے میں خود اپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا‘
’سرماد صاحب مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا کہ میں کب گھر سے چلا ہوں، کب ویگن میں بیٹھا ہوں اور کب یہاں پہنچ گیا ہوں۔ میرے لیے یہ کسی ویگن کا سفر نہیں تھا، کچھ اور ہی تھا۔ ایسے سفر میں وقت ہوا کی طرح اڑ جاتا ہے۔ ‘
مبارک صاحب رمزوں میں باتیں کر رہے تھے، جیسے کوئی مجذوب عالم استغراق میں کلام کرتا ہے۔ محبت اور اپنائیت کی شیرینی میں گندھی ہوئی زبان۔ ہم دونوں شام تک باتیں کرتے رہے۔ کچھ خبر نہ ہوئی، کب کھانا کھایا، کب چائے پی اور کب گانا گایا۔ یہ وہ سفر تھا جس میں وقت ہوا کی طرح اڑ جاتا ہے۔

اگلے جمعے مبارک صاحب پھر میرے گھر آ گئے، میرے ملازم نے بتایا کہ میں سو رہا ہوں۔ اس وقت دن کے گیارہ بارہ بجے تھے۔ میں دیر تک سوتا تھا، یک دم مجھے نیند میں نہایت خوبصورت الاپ کی آواز سنائی دی، یہ مبارک صاحب کی آواز تھی، وہ راگ میگھ کا الاپ کر رہے تھے۔ میں آدھی نیند کے خمار میں ان کا الاپ سنتا رہا، پھر بستر سے اٹھ کر ان کے پاس گیا، ’واہ مبارک صاحب اپ کتنا اچھا گا رہے تھے۔ ‘ میں نے ان کو گلے ملتے ہوئے کہا۔ مبارک صاحب کا چہرہ ایک خوشگوار مسکراہٹ میں بدل گیا۔ ’سارمد صاحب میں گا نہیں رہا تھا، آپ کو جگا رہا تھا۔ ‘
اب مبارک صاحب ہر جمعہ گیارہ بارہ بجے باقاعدگی سے میرے گھر آتے اور مجھے ایسے ہی نیند سے بیدار کرتے۔ میرا دن کبھی گوجری ٹوڈی، کبھی تلنگ اور کبھی میگھ راگ سے طلوع ہوتا۔ صوفی کرم دین تو پہلے ہی سے میرے گھر آتے تھے سو وہ بھی تھوڑی دیر کے بعد ہم میں شامل ہو جاتے۔ دونوں شام تک میرے ساتھ رہتے، ہم کھانا کھاتے، چائے پیتے اور گانا گاتے۔ صوفی صاحب میرے دو بڑے بیٹوں کو طبلہ سکھاتے تھے، مبارک صاحب نے میرے سب سے چھوٹے بیٹے جبران کو سارنگی سکھانا شروع کی۔ چنانچہ جمعہ کے دن ہمارے گھر میں خوب رونق لگ جاتی۔ مبارک صاحب اور صوفی صاحب میں بڑا پیار تھا لیکن چھیڑ خانی بھی بہت رہتی تھی۔ صوفی صاحب تھے تو پکھاوجی لیکن انہیں راگ داری کا بھی شوق تھا۔ کبھی جب صوفی صاحب مبارک صاحب سے پہلے آ جاتے تو مبارک صاحب کی غیر حاضری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے گانا سکھانے لگ جاتے۔ میرا گھر دوسری منزل پر تھا۔ ایک دن جب صوفی صاحب مجھے ایمن راگ کا سبق دے رہے تھے، مبارک صاحب آئے اور آتے ہی کہنے لگے، ’اوئے بزرگو کی کری جا رہے او، ( او بزرگو، کیا کر رہے ہیں آپ؟) سارمد صاحب نوں ایمن دے ناں تے آنندی گوائے جا رہے او۔ ( سرمد صاحب کو ایمن کے نام پر آنندی گوائے جا رہے ہیں ) اوہ خدا دا ناں لوو، گانا نہ سکھان لگ پیا کرو، تال تے ای رہیا کرو۔ (خدا کا نام لیں، گانا نہ سکھانا شروع ہو جایا کریں، تال تک ہی رہا کریں) اروھی وچ دھیوت نہیں لگدا۔ (آروھی میں دھیوت نہیں لگتا) صوفی صاحب نے کھسیانے ہو کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا اور پھر بے تکلفی سے کہا، ‘مبارک یار اج توں دیر نال ایا ایں؟ ’۔ (مبارک یار تم آج دیر سے آئے ہو) ‘ اوئے بزرگو دیر کاہدی؟ میں تے ادھے گھنٹے توں پوڑھیاں وچ کھلوتا تہاڈا گانا سن رہیا ساں، ’( او بزرگو، دیر کیسی؟ میں تو آدھے گھنٹے سے سیڑھیوں پر کھڑا آپ کا گانا سن رہا تھا۔)
مبارک صاحب بڑے غلام علی خاں صاحب کے شاگرد رہے تھے، انہوں نے آٹھ سال ان کے ساتھ دن رات گزارے تھے۔ وہ خاں صاحب کا کھانا پکاتے، گھر کی صفاٰئی کرتے اور رات خاں صاحب کے پاؤں دباتے۔
’مبارک صاحب، خاں صاحب آپ کو کیسے سکھاتے تھے؟‘ ایک دن میں نے پوچھا۔
’ خاں صاحب سکھاتے تو نہیں تھے۔ ‘
’یہ کیا بات کہہ رہے ہیں؟ آپ نے آٹھ سال ان کے ساتھ گزارے ہیں، کچھ تو سکھایا ہو گا انہوں نے آپ کو؟‘
’بس ریاض سننے کی اجازت تھی۔ اور پھر وہ جس محفل میں بھی جاتے، میں ان کی جوتیاں اٹھا کر ان کے پیچھے چلتا تھا۔ ‘
’اچھا؟ لیکن انہوں نے کچھ تو بتایا ہو گا‘
’بس ایک دن مجھ سے کہنے لگے، ‘ اوئے مبارک کی وجانا ایں، مینوں سنا ’( اوئے مبارک تم کیا بجاتے ہو، مجھے سناؤ)
’سرماد صاحب میں ڈردیاں ڈردیاں سارنگی چھیڑی تے ہالی‘ سا ’ای لایا سی جے خاں صاحب نے روک دتا، (میں نے ڈرتے ڈرتے سارنگی چھیڑٰی اور ابھی‘ سا ’ہی لگایا تھا کہ خاں صاحب نے مجھے روک دیا) ، اوناں مینوں پنج گھنٹے بٹھائی رکھیا تے رکھب توں اگے نیں ودھن دتا۔ ‘ (انہوں نے مجھے پانچ گھنٹے بٹھائے رکھا اور رکھب سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔)۔ بڑے غلام علی خاں صاحب نے مبارک صاحب کا پہلا سر ’سا‘ اور دوسرا سر ’رکھب‘ درست کرنے میں پانچ گھنٹے صرف کیے۔ آٹھ سالوں میں پانچ گھنٹے؟ لیکن یہ وہ پانچ گھنٹے تھے جو مبارک صاحب کی ساری عمر میں بدل گئے۔ خاں صاحب نے ’کھرج‘ اور ’رکھب‘ کا دروازہ کیا کھولا، مبارک صاحب پر سنگیت کے سارے اسرار کھل گئے۔
گانے بجانے والوں کے لیے شاید پہلے سماعت کا ہنر پیدا کرنا پڑتا ہے۔ ریاض سننے کی اجازت کا مطلب یہی کہ شاگرد پہلے اپنے اندر حسن سماعت پیدا کرے۔ ہمارا ایک دوست جسے ہم پیار سے شفقت بلا کہتے ہیں بہت اچھا گاتا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے گانا کس سے سیکھا، اس نے کہا استاد فتح علی خاں صاحب سے۔ میں بہت خوش ہوا، ’یار یہ بتاؤ خاں صاحب تمہیں کیسے سکھاتے تھے؟‘ ’سکھاتے تو نہیں تھے‘ تو پھر؟ ”بس صبح اٹھتے ہی مجھ سے کہتے نہانے کے لیے پانی گرم کرو، میں ان کے لیے گرم پانی کی بالٹی تیار کرتا، نہانے کے بعد کہتے، ’جاؤ نیچے سے جا کر کلچے لے کر آؤ، میں کلچے لاتا اور ان کو ناشتہ کراتا۔ ‘ پھر؟ ’پھر کچھ نہیں، بس ریاض سننے کی اجازت تھی‘
کہتے ہیں استاد آپ کو کچھ نہیں دیتا، استاد سے لینا پڑتا ہے، اس لئے کہ یہ کوئی درسی تعلیم نہیں جو کلاس روم میں دی جاتی ہے۔ یہ استاد کی صحبت ہے اور صحبت کا مطلب استاد کی ہر بات کو سینہ شق کر کے سننا اور ایک بے ارادہ سپردگی کے ساتھ اس کی ہر ادا کو اپنے باطنی تجربے کا حصہ بنا لینا ہے۔ ہماری جاپانی دوست سکاتھا جو موسیقی کی بہت بڑی سکالر تھی اسلام آباد سے ہر جمعہ کو لاہور استاد نصرت علی خان کو ملنے جایا کرتی تھی اور سارا دن وہیں گزارتی تھی۔ میں نے ایک دن اس سے پوچھا ’سکاتھا تم وہاں سارا دن کیا کرتی ہو؟‘ اس نے کہا ’کچھ نہیں۔ بس خاں صاحب کو اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، ریاض کرتے، کوئی دھن بناتے، لوگوں سے ملتے جلتے دیکھتی ہوں۔ ‘
بس؟ ’میں نے پوچھا
’ہاں میرے لیے یہی سب کچھ ہے۔ ‘ اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔

مبارک صاحب تمباکو والا پان کھاتے تھے، ہر وقت مستی کی حالت میں رہتے تھے۔ ان کی گفتگو بہت مزے کی ہوتی تھی، وہ جب اپنے استاد بڑے غلام علی خاں صاحب کا ذکر کرتے تو ان کے چہرے اور آواز میں ایک عجیب چمک آ جاتی۔
’سارمد صاحب جد خاں صاحب بوسکی دے کرتے وچ بگھی توں تھلے اترے تے سامنے استقبال واسطے ہندو مہاراجہ کھلوتا سی، (سرمد صاحب جب خاں صاحب بوسکی کے کرتے میں بگھی سے نیچے اترے تو سامنے استقبال کے لیے ہندو مہاراجہ کھڑا تھا) اہدے نال دس وی ہندوانیاں ہار لے کے کھلوتیاں سن۔ (اس کے ساتھ دس بیس ہندو عورتیں ہار لے کر کھڑی تھیں) سارمد صاحب مہاراجے جھک کے خاں صاحب دے چرن چھوئے، تے ہندونیاں نے خاں صاحب دے گلے وچ ہار پائے (مہاراجہ نے جھک کر خاں صاحب کے پاؤں چھوئے اور ہندو عورتوں نے ان کے گلے میں ہار ڈالے) خان صاحب سٹیج تے بیٹھے، سرمنڈل چھیڑیا تے مالکونس دا خیال شروع کیتا۔ ( خاں صاحب نے سرمنڈل چھیڑا اور مالکونس کا خیال شروع کیا۔) سارمد صاحب اوس دن خاں صاحب نے ایسا مشکالات گانا گایا جے وڈے وڈے گویے گونگے ہو گئے، راجے مہاراجے رام ہو گئے، (اس دن خاں صاحب نے ایسا مشکلات گانا گایا کہ بڑے بڑے گویے گونگے ہو گئے) ٹھمری شروع کیتی تے ایسے گرم بہلاوے لتے جے ہندوانیاں مسلمان ہو گیاں۔ (ٹھمری شروع کی تو ایسے گرم بہلاوے لیے کہ ہندو عورتیں مسلمان ہوگئیں۔) بانگاں ویلے جد محفل ختم ہوئی تے خاں صاحب دے واسطے بوہے تک ہندونیاں نے اپنے وال وچھا دتے تے خاں صاحب اوناں والاں تے چل کے محل توں باہر آئے‘ ( اذان کے وقت جب محفل ختم ہوئی تو خاں صاحب کے لیے دروازے تک ہندو عورتوں نے اپنے بال بچھا دیے اور خاں صاحب ان بالوں پر چل کر محل سے رخصت ہوئے۔)
صوفی صاحب واہ واہ کرتے ہوئے اپنے طبلے کو سر کرتے ہوئے مجھے بتاتے کہ کیسے ساحل پر کھڑے کرشن مہاراج کو دوسرے کنارے سے رادھا نے پکارا اور کیسے کرشن دریا میں پڑے پتھروں پر پاؤں دھرتے رقص کے انداز میں رادھا کو ملنے گئے اور کیسے ان کے پاؤں کی دھمک سے تال پیدا ہوئی، اور پھر کیسے کسی عاشق کا دل ہجر کی آگ میں جل کر راکھ ہو گیا اور طبلے کی سیاہی بن گیا، ایک سیاہ داغ جو محبوب کے عشق میں دھڑکتا رہتا ہے۔ ایسے مزے مزے کے قصے کہانیاں جو کتابوں میں نہیں ملتے بلکہ سینہ بہ سینہ چلتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ کہانیاں ناقابل یقین لگتی ہیں لیکن میں انہیں اور انداز سے دیکھتا۔ میرے نزدیک ان کا صیغہ ابلاغ علامتی اور رمزیہ ہے، یہ قصے راوی کے تخیل اور جذبے کی شدت کو نمایاں کرتے ہیں، ان میں مبالغہ ویسے ہی نظر اتا ہے جیسے شاعری اور خطابت میں ہوتا ہے۔ مبارک صاحب کا بیان کردہ قصہ بظاہر ایک ایسا قصہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن جب شاعر اپنے قصیدے میں کہتا ہے کہ ’اے خداوند عالم، تیرا پایہ تخت ساتوں آسمان پر ہے‘ تو ظاہر ہے اس کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں لیکن شاعر کا مقصد بادشاہ کی عظمت کو بیان کرنا ہے۔ مہاراجے کا خاں صاحب کا استقبال کرنے تک تو ایک تاریخی واقعہ ہے لیکن جب خاں صاحب گانا شروع کرتے ہیں تو وہ ایک ماورائی کردار میں بدل جاتے ہیں، یہاں سے مبارک صاحب کا اپنے استاد کی شان میں قصیدہ شروع ہوتا ہے۔ ’مشکلات گانا‘ اور ’گویوں کا گونگا ہو جانا‘ خاں صاحب کے ہم عصر گویوں کو مشکل میں ڈالنا ہے اور ان پر خاں صاحب کی برتری ثابت کرنا ہے، پھر ٹھمری کے ’گرم بہلاوؤں‘ میں لذت کی ایسی انچ ہے کہ ہندو عورتیں اپنے مردوں کو چھوڑ کر مسلمان ہوجاتی ہیں۔ مہاراجے کا ’جھک کر سواگت کرنا، ‘ راجاؤں مہاراجوں کا رام ہونا ’طاقت اور حکمرانی کا سنگیت کے سامنے جھکنا ہے،۔ ‘ عورتوں کا قدموں میں بال بچھانا’، خاں صاحب کی اداؤں اور رجھانے کے فن کا جادو دکھانا ہے۔ یہاں مذہب کا اثر تبلیغ سے نہیں، سنگیت سے دکھایا گیا ہے، ہندو اور مسلمان گائیکوں کی معاصرانہ مقابلوں میں مسلمان گویے کو فاتح قرار دیا گیا ہے۔ شاعر کا قصیدہ بادشاہ کے لیے ہوتا ہے لیکن یہاں ممدوح کوئی حکمران یا بادشاہ نہیں، صرف سنگیت ہے۔
میرے نزدیک دلیل اور منطق پر مبنی حقیقت اور تمثیلی بیان دونوں ایک دوسرے کا حوالہ ہیں، ایک دوسرے کی ضد نہیں، صرف ان کو سمجھنے کے صیغے مختلف ہیں۔ اگر ایک حقیقت ہے تو دوسرا امکان ہے۔ کہتے ہے اچانک بجلی کے چلے جانے سے چاروں طرف اندھیرا ہو گیا لیکن لوگوں نے دیکھا روشن آرا کے چہرے پر روشنی کا ہالہ تھا۔ مہدی حسن نے ایسا سر لگایا کہ گلاس ٹوٹ گیا۔ استاد امانت علی میگھ گا کر سٹوڈیو سے باہر نکلے تو بارش شروع ہو گئی۔ یہ کیسا مقام ہے کہ جہاں سروں سے روشنی پھوٹنے لگتی ہے، چراغوں میں خود بخود اگ لگ جاتی ہے۔ پتھر کے دیوتا رونے لگتے، کرشن مہاراج کی چال پتھروں کی تال کے ساتھ رقص میں بدل جاتی ہے، ہجر زدہ عاشقوں کے دل راکھ ہو کر طبلے کا سیاہ داغ بن جاتے ہیں اور کبھی گمک کی تانیں ایسی سنگین ہو جاتی ہیں کہ شیشہ مشتاق سنگ ہو جاتا ہے۔ یہ سب جنوں پریوں کے قصے ہیں جو معروضی حقیقت پر نہیں، نفسیاتی حقیقت پر مبنی ہیں۔
صوفی صاحب دیکھنے میں بہت عمر رسیدہ، کمزور لگتے تھے لیکن بدن میں جوانوں جیسی پھرتی تھی، کئی میل پیدل چلتے، بسوں اور رکشوں میں سفر کرتے۔ قبرستان جا کر چیونٹیوں کو روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کھلاتے۔ ہر ایک کو دعا دیتے، ان کے دعا کرنے کا انداز بہت دل آویز تھا، چہرہ تو تھا ہی نورانی، اوپر سے کپڑے بھی سفید پہنتے تھے، دعا دیتے ہوئے ہاتھ پھیلا کر آسمان کی طرف دیکھتے، اس لمحے ان کے چہرے پر ایک ایسی معصومیت دمکتی کہ جیسے کوئی فرشتہ ہمارے لیے دعا کر رہا ہو۔ دعا مختصر نہ ہوتی بلکہ پانچ چھ منٹ تک جاری رہتی۔
صوفی صاحب کچھ دنوں سے بہت اداس اور غمزدہ نظر آرہے تھے۔ میں پوچھتا، ’کیا ہوا صوفی صاحب؟‘، صوفی صاحب خاموش رہتے۔ لگتا اگر کچھ کہیں گے تو شاید اپنی جان سے ہی چلے جائیں گے، ایک دن جب میں نے بہت اصرار کیا تو بڑے دردناک لہجے میں ہکلاتے ہوئے بولے، ’میری بیٹٰی کی شادی ہے۔‘ ’واہ یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے‘، میں نے کہا، کہنے لگے ’میرے پاس اس کو جہیز میں دینے کو کچھ نہیں‘۔ میری بیوی سارہ ہمارے ساتھ بیٹھی تھی، کہنے لگی ’صوفی صاحب آپ فکر نہ کریں، میں اپ کی بیٹی کا جہیز تیار کروں گی‘ ۔ انہوں نے حیران ہو کر سارہ کی طرف دیکھا اور پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر سارہ کے لیے بلند آواز میں دیر تک دعا کرتے رہے۔
سارہ نے سب رشتے داروں اور دوستوں کی مدد سے روایت کے مطابق ایک بڑی پیٹی میں صوفی صاحب کی بیٹی کا جہیز رکھا اور بہت سی سلامیوں کے ساتھ ان کے گھر پہنچا دیا۔ ہم لوگ ان کی بیٹی کی شادی پر بھی گئے اور وہاں خوب رونق لگائی۔ اس کے بعد میں نے صوفی صاحب کو ہمیشہ خوش باش ہی دیکھا۔
مبارک صاحب میرے ساتھ موسیقی میں کوئی لحاظ نہ کرتے، ایک سر کی صحیح ادائیگی پر گھنٹوں لگا دیتے،
’سا‘ میں ’سا‘ قائم کرنے کی کوشش کرتا۔
’گھٹ گیا اے، ‘ (کم ہو گیا ہے۔)
’رے‘۔ ’نہیں پورا نہیں لگ رہیا، ودھ گیا جے۔ ‘ (پورا نہیں لگ رہا، بڑھ گیا ہے) وہ ایک ریفری کی طرح اعلان کرتے۔
راگ کے چلن میں کوئی غلطی ہوئی تو یک دم غصے میں مجھ سے اونچی آواز لگاتے ہوئے اسے سیدھا کرتے۔ بھوپالی میں اگر دیسکار کا رنگ آ گیا یا درباری میں جونپوری کا تو مبارک صاحب کی برداشت سے باہر ہو جاتا اور جب وہ میرے کچے پکے گانے سے تنگ آ جاتے تو کہتے،
’سارمد صاحب گانے کا مطلب ہے گا، نا، یعنی سنگیت کہتا ہے مجھے مت گاؤ، اور اگر مجھے گانا چاہو تو ایسے گاؤ کہ جیسے تم اسے کبھی نہیں گا سکو گے‘
1990 میں جب میں اپنی فلم فنکار گلی بنا رہا تھا تو اس میں میرے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس صرف چار پانچ لائٹس تھیں اور تقریباً ساری فلم، رات کو شوٹ ہونا تھی۔ چنانچہ میں نے فلم کی پروڈکشن کا سارا سٹائل بدل دیا۔ ہائی میک اپ اور گہرے رنگوں کے کاسٹیوم کے ساتھ فلم کو ہائی کانٹراسٹ میں شوٹ کیا گیا جس کے لیے زیادہ لائٹس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس تھیم کے ساتھ چلتے ہوئے، بیک گراؤنڈ میوزک کے لیے میں نے بیراگی راگ کا انتخاب کیا، بیراگی صبح کا راگ ہے لیکن ساری فلم رات کی کہانی ہے۔ بیراگی کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہ سب کردار ساری رات رزق کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور صبح کا انتظار کرتے ہیں، یہ انتظار ان کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ لیکن میری فلم کا آخری سین جو صبح کی پہلی کرن کی روشنی میں فلمایا گیا ہے ایک چیخ سے طلوع ہوتا ہے۔ اس فلم کے ماحول اور تاثر کے لیے مرکزی ساز سارنگی سوچا گیا۔ میں نے مبارک صاحب سے سارنگی پر بیراگی کے سارے روپ ریکارڈ کیے اور عدنان سمیع خان جو اس کا بیک گراؤنڈ میوزک کر رہا تھا، اس نے اس کو ہر سین کے مطابق اور دوسرے سازوں کے ساتھ مکس کر کے تقریباً ساری فلم کے میوزک میں استعمال کیا۔
میری مبارک علی خان صاحب سے دوستی کئی برس تک رہی۔ جب میں اسلام آباد سے لاہور شفٹ ہوا تو میرا ان سے رابطہ بہت کم ہو گیا۔ پھر پتہ چلا بہت بیمار ہیں، میں نے ان کے بیٹے سے بات کی، مبارک صاحب سے بات نہ ہو سکی۔ کچھ دنوں بعد مجھے ان کے انتقال کی خبر ملی۔ میں ایک بار پھر ایک باکمال استاد سے محروم ہو گیا۔ میں نے ان کے بیٹے سے بات کی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو تو سارنگی نہیں سکھائی تھی لیکن میرے بیٹے جبران کو سکھاتے رہے۔
میں جب گانا شروع کرتا ہوں تو پہلے کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوں اس لیے کہ ان میں مبارک صاحب کی آواز سرگوشی کرتی ہے۔ ’سارمد صاحب گانے کا مطلب ہے گا۔ نا‘ یعنی مجھے مت گاؤ، میں لاحاصل ہوں، مجھے اس طرح گاؤ کہ کبھی نہیں گا سکو گے۔ سنگیت کی لاحاصلی کو مبارک صاحب نے دو لفظوں میں بیان کر دیا تھا۔ گانا کیا، ہر فن لاحاصل ہے اور جسے ہم حاصل سمجھتے ہیں وہ ہماری لاحاصلی کا اظہار ہے۔
بس ہجوم نا امیدی! خاک میں مل جائے گی
یہ جو اک لذت ہماری سعی لاحاصل میں ہے (غالب)
اور میں۔۔۔
اسی سعی لاحاصل کی لذت سے سرشار رہتا ہوں۔ (جاری ہے-)


