میرا بیانیہ، میرا الیکشن
بیسویں صدی کے آخری عشرے اور اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں جنم لینے والے پاکستانیوں نے قومی سیاسی المیوں کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ ضیائی آمریت نے سیاست کی گود بھرائی میں جن خانوادوں کو سیاسی شناخت دی ، وہی خانوادے آج قومی سیاست پر ہاوی ہیں۔ کبھی اسلام آباد بیٹھ کر تو کبھی لندن بیٹھ کر یہ خانوادے قومی سیاسی اُفق پر چھائے رہتے ہیں ، کبھی آسیب تو کبھی پرچھائیں تو کبھی چھاؤں کی طرح یہ خانوادے 40 برس سے قومی تقدیر بدلنے کا نعرہ لگارہے ہیں۔ دُنیا کی دو بڑی جمہوریتوں ، برطانیہ اور امریکا میں دو سیاسی جماعتیں ہی برسرا قتدار رہتی ہیں اور ان جماعتوں میں کسی بھی شخص کی آمریت مسلط نہیں ہوئی۔ تیسری دُنیا کے پسماندہ جمہوری ملک پاکستان میں بھی دو سیاسی جماعتیں حکمران ہیں البتہ دونوں سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کے لبادے میں خاندانی آمریت ہے۔ خاندان کی آمریت، قومی جمہوریت تصور کی جاتی ہے اور شخصی فیصلے جمہوری فیصلے تصور ہوتے ہیں۔ پاکستان کی قومی جمہوریت کا یہ المیہ ہی وطن میں آمریت کو تقویت بخش رہا ہے۔
نئے الیکشن کا دور ہے، سیاسی قسمت آزمائی کی فضاء بنائی جارہی ہے لیکن یہ قسمت آزمائی ہائبرڈ نوعیت کی ہے جس میں جمہور کو پھر مائنس کرنے کا انتظام کیا جارہا ہے۔ نواز شریف کو 2019ء میں مقتدرہ نے عدلیہ کے ذریعے سے لندن منتقل ہونے کا راستہ فراہم کیا تھا ، قیدی ہونے کے باوجود ، نواز شریف کیلئے مینار پاکستان پر سیاسی جلسہ کا سٹیج لگ رہا ہے، کیا قومی سیاست میں ہیئت حاکمہ کی مرضی کے بغیر یہ جلسہ ممکن ہے؟ ہیئت حاکمہ کی مرضی کے خلاف شیخ مجیب الرحمان نے سیاسی تحریک چلائی تو 70ء کے الیکشن میں بھاری اکثریت کے باوجود انھیں قومی غدار قرار دے کر جیل میں بند کر دیا گیا اور اُدھر تم کا نعرہ لگا کر بنگلہ دیش بنا دیا گیا۔ ہیئت حاکمہ کی مرضی کے خلاف بھٹو نے آواز اُٹھائی تو گڑھی خدا بخش کی زمین میں دفنا دیے گئے، ہیئت حاکمہ کو عمران خان نے چیلنج کیا تو ان کی پوری جماعت کو ہی تہس نہس کر دیا گیا۔ ماضی میں ہیئت حاکمہ کو جی ٹی روڈ پر للکارنے والے اب کس کے کاندھوں پر سوار ہو کر آئندہ راج دھانی کی خواہش لیے ، وطن لوٹ رہے ہیں؟ اگر یہ کاندھا جمہور کا ہے تو پھر نواز شریف کی جمہور 4 سال تک کہاں غائب رہی؟ اگر یہ کاندھا ہیئت حاکمہ کا ہے تو جمہور کا نعرہ کیوں؟
گجرانوالہ کی سیاسی تقریر پر، میں نے کہا تھا کہ نواز شریف اب ہیئت حاکمہ کے ساتھ زیادہ سمجھوتہ کرنے پر راضی ہوں گے، پھر وہی ہوا۔ باجوہ کی روانگی سے قبل ہی لندن میں معاملات طے ہوگئے اب انھی معاملات کے تحت وزیر اعظم نواز شریف کے پوسٹرز لاہور کی سڑکوں پر لگا دیے گئے ہیں۔ الیکشن کی تاریخ طے نہیں ہوئی، الیکشن ہوا نہیں اور وزیر اعظم کے پوسٹرز لگنا، بہت معنی خیز ہے۔ لندن کی طرح جدہ بھی عالمی استعماریت کا مرکزہ تصور کیا جاتا ہے،پاکستان میں پینٹاگون کے فیصلوں کا نفاذ بذریعہ لندن اور جدہ کرایا جاتا ہے، آئندہ الیکشن میں پینٹاگون کیسے مداخلت کرے گا چند روز میں یہ واضح ہوجائے گا۔ میرے لیے اس وقت نواز شریف کی وطن واپسی اور پاکستان میں برپا ہونے والی نئی سیاسی لہر کا جائزہ لینا بہت اہمیت کا حامل ہے۔
ہیئت حاکمہ، سیاسی گھوڑوں پر سواری کرنے کی ماہر ہے، ان سیاسی گھوڑوں کے استعمال کا ہنر انھیں نوآبادیاتی ورثہ میں ملا ہے جب 1920ء سے لے کر 1946ء تک ہندستانی الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوتے رہے۔ ریاست پاکستان چلانے کے لیے سیاسی اصطبل ہیئت حاکمہ نے تشکیل دے رکھا ہے اور اس اصطبل سے اپنی مرضی کے گھوڑے اقتدار کے ایوانوں میں بھیجے جاتے ہیں، آج کالا گھوڑا تو اگلی بار سفید گھوڑا۔برطانوی استعمار نے فوج میں بھرتی کیلئے مارشل ریس کا تصور پیش کیا تھا اور تقسیم ہند کے بعد نیو کالونیل ریاستی ضروریات کے مطابق اسی martial race نےپاکستان کی political race کی نشوونما کی جوا ٓج ملک کی پولیٹیکل ایلیٹ بن چکی ہے۔ اگر نواز شریف مینار پاکستان کی جلسہ گاہ تک پہنچ کر سیاسی تقریر کر لیتے ہیں تو یہ سیاسی تقریر آئندہ الیکشن کی بنیاد بنے گی۔ اس سیاسی تقریر میں سابقین بشمول جنرل باجوہ، جنرل فیض حمید، ثاقب نثار، عمران خان پر حملہ ہوگا اور قومی تقدیر کے صفحات پھاڑنے کا انھیں ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ کیا الیکشن کا یہ بیانیہ مارکیٹ میں قابل فروخت ہے؟ یا اس بیانیہ کو قابل فروخت بنانے کے لیے براڈ کاسٹ میڈیا کے دانش ور وں کا استعمال کیا جائے گا؟ اُس وقت کی ہیئت حاکمہ جابر تھی تاہم اب کی ہیئت حاکمہ ؟ مجھے یقین ہے کہ عرفان صدیقی صاحب اس دفعہ کوئی دھانسو قسم کا بیانیہ تشکیل دینے کے لیے دن رات تقریر کے متن پر کام کر رہے ہوں گے۔
2018ء میں عمران خان کی حکومت کے بعد ہیئت حاکمہ نے اداروں میں سرایت کر لی اور جب شہباز شریف وزیر اعظم کے منصب پر بٹھائے گئے تو ہیئت حاکمہ کی قوت کو مزید طاقت ور کیا گیا اس میں بہت کچھ اعلانیہ ہوا اور بہت سے بھی زیادہ کچھ غیر اعلانیہ ہوتا رہا۔ پاکستان چوں کہ ایک تجربہ گاہ ریاست ہے اس لیے ہر دفعہ ایک نیا پراجیکٹ لانچ کیا جاتا ہے، جمہور کیلئے 2024ء سے پاکستان میں نیا پراجیکٹ لانچ کرنے کو تیار ہے، یہ پراجیکٹ دراصل پاکستان میں نافذ کیے گئے ایوب مارشل لاء کا تسلسل ہوگا۔ پیپلز پارٹی اس پراجیکٹ کا حصہ بننے کے لیے بے قرار ہے لیکن ابھی شرائط و ضوابط طے ہونا باقی ہیں۔ پاکستانیوں نے بھی کیا قسمت پائی ہے، ضیاء، مشرف سے نجات پاتے ہیں تو پھر وہی نواز، زرداری استقبال کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔
الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے بے تاب ووٹرز اپنے اپنےحلقوں کے رؤساء سیاست سے بس یہ ضرور پوچھیں، کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی، تعلیمی ترقی، سماجی ترقی کا منصوبہ جہاں لکھا گیا ہے اس کی دستاویز ہمیں بھی دو تاکہ ہم پڑھ کر اپنی رائے قائم کر سکیں، ویسے توجمہور کی رائے کو دستور پاکستان نے آئینی تحفظ دے رکھا ہے لیکن رائے کے استعمال پر جانی و مالی تحفظ کی کوئی گارنٹی نہیں دی، جو رائے کا استعمال کرے گا وہ تختہ دار پر بھی لٹکایا جاسکتا ہے، بم بارود سے بھی اُڑایا جاسکتا ہے اور قیدی نمبر 804 بھی بنایا جاسکتا ہے، لہذا الیکشن سیزن میں اپنی اپنی جان کی امان پانا مقصود ہے تو پھر صرف ایک ہی نعرہ لگاؤ، میرا بیانیہ اور میرا الیکشن، میرا جرنیل ہی طے کرے گا۔ یہاں قومی فکر، قومی فلسفہ، قومی سوچ، قومی خود داری کے تصور کی باتیں نصاب میں پڑھانا شجر ممنوع ہے اور شجر ممنوع کو ہاتھ لگانے کی سزا، سر تن سے جدا، سر تن سے جدا۔


