اسرائیل،فلسطین تنازع کےحقائق
بحیرہ روم اور دریائے اردن کے درمیان واقع فلسطین کا علاقہ مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں سب کے لیے مقدس ہے۔
بیت المقدس کوتمام الہامی مذاہب کے پیروکاروں کے لیے تقدس کا حامل ہے۔ اندرون شہر میں مسیحی، یہودی اور اسلامی مقدس مقامات ایک دوسرے سے چند منٹ کے فاصلے پر ہیں۔
اسرائیل، فلسطین تنازعہ کی ابتداء بیسویں صدی کے آغاز میں ہوئی جب یورپ میں یہودیوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
یہودیوں کا خیال ہے کہ آج جہاں اسرائیل واقع ہے یہ وہی علاقہ ہے جس کا وعدہ خدا نے ان کے آباؤ اجداد حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد سے کیا تھا۔ قدیم زمانے میں اس علاقے پر بابلیوں، فارس، مقدونیہ اور رومیوں نے حملہ کیا۔ اس علاقے کو رومی سلطنت کے دور میں فلسطین کا نام دیا گیا۔ اورحضرت مسیح کے سات دہائیوں بعد اس علاقے سے یہودی بے دخل کئےگئے۔ اسلام کے عروج کے ساتھ، فلسطین ساتویں صدی میں عربوں کے قبضے میں آیا۔ 1516 ء میں یہ ترکی کے کنٹرول میں آیا۔پہلی جنگ عظیم کے دوران 1915ء میں یہودی وفد نے جرمنی کے ہٹلر کو پیش کش کی کہ اگر وہ اسرائیل کو تسلیم کریں تو یہودی جنگ میں جرمنی کا ساتھ دیں گے مگر ہٹلر نے ان کی پیشکش ٹھکرادی۔ یہودی وفد نے برطانوی وزیر اعظم کے سامنے بھی یہی پیشکش رکھی تو قبول کرلی گئی ۔برطانوی حکومت کے صہیونی حلقوں نے صہیونی اہداف کی حمایت کے لیے اس مسئلے کو کابینہ میں پیش کیا۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد، سلطنت عثمانیہ بکھر گئی اور برطانیہ نے فلسطین کے انتظامی امور پر قبضہ کرنے کے لیے لیگ آف نیشنز سے منظوری حاصل کی۔ جنگ عظیم اول سے قبل اور اس کے دوران انگریزوں نے عربوں اور یہودیوں سے بہت سے وعدے کیے، لیکن ان میں سےکوئی ایک وعدہ بھی پورا نہ کیا۔ برطانیہ نے فرانس کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی تقسیم کی، جو عربوں اور یہودیوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بنی۔قضیہ فلسطین کے حوالے سے بدنام زمانہ اعلانِ بالفور’ جو مغرب کی جانب سے مظلوم فلسطینی عوام پرمسلط کیا گیا تھا’ برطانیہ کے صہیونیت نواز وزیر خارجہ جیمز بالفور کے نام سے منسوب ہے۔ بالفور اعلامیہ کی بنیاد پر مغرب نے عالم اسلام پر جارحیت کی ابتدا کی اور یہودیوں کو فلسطین میں اپنا الگ وطن تشکیل دینے کی اجازت دی۔
بالفور نے 2 نومبر 1917ء کو برطانیہ کے صہیونی لیڈر لارڈ روتھس چائلڈ(Lord Rothschild) کو ایک خط لکھ کر یقین دلایا کہ برطانیہ فلسطین میں یہودیوں کے قومی گھر کے قیام کی حمایت کرتا اوراس کے حصول کے لیے برطانیہ بھرپور کوشش کرے گا۔ اس خط کو "بالفور اعلامیہ” بھی کہا جاتا ہے۔اس اعلامیے میں لکھا گیا تھا کہ ایسا کوئی کام نہیں کیا جائے گا جس سے فلسطین کی غیر یہودی آبادی کے شہری اور مذہبی حقوق پامال ہوں۔نہ ایسا کچھ کیا جائے گا جس سے دیگر ملکوں میں آباد یہودیوں کے حقوق اور سیاسی حیثیت متاثر ہو۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے ہاتھوں یورپ میں لاکھوں یہودیوں کے قتل عام کے بعد ایک علیحدہ یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھنے لگا۔ اس وقت یہ منصوبہ بنایا گیا تھا کہ برطانوی زیر کنٹرول علاقے کو فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔عربوں اور یہودیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو حل کرنے میں ناکامی کے بعد برطانیہ نے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کیا۔29 نومبر 1947 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کی منظوری دی۔ اس میں ایک عرب ملک اور یہودی ریاست کے قیام کی سفارش کی گئی اور یروشلم کے لیے خصوصی انتظامات کا بھی بندوبست کیا گیا۔اس منصوبے کو یہودیوں نے قبول کیا لیکن عربوں نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے اسے اپنی زمین کھونے کے طور پر دیکھا۔ یہی وجہ تھی کہ اقوام متحدہ کے منصوبے پر کبھی عمل درآمد نہ ہوسکا۔ آزاد اسرائیل کے قیام کا اعلان فلسطین پر برطانیہ کے تسلط کے خاتمے سے ایک دن قبل 14 مئی 1948ء کو کیا گیا تھا۔ اگلے دن اسرائیل نے اقوام متحدہ کی رکنیت کے لیے درخواست دی اور ایک سال بعد اس کی منظوری مل گئی۔ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کے تحت چانجا جائے تو وہ ریاست کی تعریف پر ہی پورا نہیں اترتا۔ لیکن عملاً صورت حال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے 83 فیصد رکن ممالک اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔ دسمبر 2019 تک 193 میں سے 162 ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اسرائیل ریاست کی تعریف پر پورا کیوں نہیں اترتا؟۔
کسی بھی ریاست کے لیے کم از کم تین شرائط ضروری ہیں۔ کہ اس کے پاس اپنا علاقہ ہو، اس کی سرحدی حد بندی ہو اور اس کے پاس اپنے شہری ہوں۔ اسرائیل کااپناعلاقہ تھا ہی نہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے محض ایک قرارداد کے ذریعے اسر ائیل ، فلسطین کی زمین پر بناڈالا اوراس سے کسی نے پوچھنے کا تکلف ہی نہیں کیا۔ جبر دھونس اور دھاندلی سے امریکہ نے مطلوبہ ووٹ لیے ۔اگر اقوام متحدہ کے اس غیر منصفانہ فیصلے کو مان بھی لیا جائے توریاست کی دوسری شرط اس کی باقاعدہ سرحد ہو اسرائیل اس کاقائل نہی ۔جارحیت اس کی حکمت عملی کا بنیادی اصول ہے۔اسرائیل کے ہاں یہ بات ایک مذہبی عقیدے کا درجہ رکھتی ہے کہ نیل سے فرات تک کا علاقہ خدائے تعالی نے بنی اسرائیل کے لیے خاص کر رکھا ہے اوربنی اسرائیل کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ وہ اس علاقے پر قبضہ کریں ۔جب تک اس پر اس کی حکومت قائم نہیں ہو تی اس کا وجود نامکمل ہے۔10 اگست 1967ءکو موشے دایان نے کہا کہ اگر کسی کے پاس تورات ہے تو اس کے لیے ان تمام زمینوں پر قابض ہونا لازم ہے جن کا ذکر تورات میں ہے۔ اسی لیے”ہم اپنی ریاست کی سرحدوں کا تعین کرنے کے پابند نہیں ہیں’ اس تصور کے ہوتے ہوئے صرف فلسطین نہیں سارے عرب غیر محفوظ ہیں۔
ریاست کی تیسری شرط شہریت کے حوالے سے دیکھیں توملک میں موجود لوگوں کوشہری قرار دینے کی بجائے یہ کہا گیا کہ دنیا میں جہاں بھی کوئی یہودی ہے وہ اسرائیل کا شہری ہے۔فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کی آبادی بڑھانےکیلئے بر طانیہ نے 1922ء سے 1935ء تک یہودیوں کی ہجرت کو یقینی بنایا۔ اور یہودیوں کی فلسطین میں آبادی 10فیصد سے بڑھ کر 27 فیصد تک پہنچ گئی۔ کچھ عرصے بعد یہ آبادی 33فیصد تک پہنچ گئی۔:”1967 سے 1969 تک غزہ اور مغربی کنارے کے علاقے میں عربوں کے بیس ہزار گھروں کو ڈائنا مائٹ سے اڑایاگیا۔فلسطینیوں کی دیہی آبادی کی یادداشت مٹانے اورمتروک شدہ ملک کے افسانے کو سچ ثابت کر نے۔ فلسطینیوں اور دنیا کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے کہ اسرائیل سے قبل فلسطین ایک بے آباد صحرا تھا،کے لیے عربوں کے سینکڑوں گاؤں بلڈوزروں سے مسمار کر دیے گئے۔ مکان، کنویں اور قبرستان تک تباہ کر دیے گئے۔
فلسطینیوں کے برعکس اسرائیل یورپی ممالک سے لا کر بسائے گئے لوگوں کا آبائی وطن نہیں’ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی سرزمین سے ان کی اس قدر جذباتی وابستگی نہیںکہ وہ دھرتی کیلئے مر مٹنے کو تیار ہو جائیں چنانچہ حماس سمیت عربوں کے مسلح گروہوں کا خوف کے باعث آبادکاروں کی پسپائی روکنے کیلئے پہلے امریکہ سمیت یورپی ممالک کی تل ابیب سے ایئر سروس بند کی گئی پھر غزہ پہ فضائی حملوں کے ذریعے ان کےخوف کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ امریکہ نے بھی فوری بحری بیڑہ بھیجا اور اسرائیل کی مکمل مدد کرنے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک سے بھی اعلان کروایا۔اگر اسرائیل’ حماس جنگ نے طول پکڑا تو عدم تحفظ کا احساس آبادکاروں کا انخلاء بڑھاسکتا ہے۔موجودہ اسرائیل اقوام متحدہ نے بنائے ہوئےاس اسرائیل سے 72فیصد بڑا ہے اور یہ ساری زمین اس نے فلسطینیوں اور عربوں سے چھین رکھی ہے۔ اقوام متحدہ کے اس قبضے کو ناجائز قرار دینے کے باوجود اقوام متحدہ کی ایک قرارداد سے قائم ہونے والا اسرائیل اقوام متحدہ کی بیسیوں قراردادوں کو پامال کر کے ان علاقوں پرناجائز قابض ہے جن میں یروشلم اور مسجد اقصی بھی شامل ہیں۔ قانونی اعتبار سے یہ آج بھی اسرائیل کا حصہ نہیں۔جس ملک کا 72 فیصد سے زائد علاقہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کا ہی نہیں ، وہ کیسے کہلا سکتا ہے
اسرائیل کے ہاں بقائے باہمی نام کی کسی چیز کا وجود نہیں۔ اسرائیل کی وزیر اعظم گولڈا مائر کا سنڈے ٹائمز میں پندرہ جون 1969ء کوبڑاواضح موقف شائع ہوا کہ یہاں فلسطینی عوام نام کی کسی شے کا کوئی وجود نہیں۔یہ حقائق واضح کرتے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں اسرائیل کو ایک ریاست نہیں کہا جا سکتا۔فلسطینی اپنی سرزمین کو اسی لیے بھولنے کے لیے تیار نہیں کہ اسرائیل غاصب ہے اور دنیا کے قوانین کی رو سے بھی وہ ایک ریاست نہیں تو ہمیں بےدخل کرنے کے لیے آئے دن ظلم وستم کی داستانیں کیوں رقم کی جارہی ہیں؟بقول راحت اندوری:
ہمیں بنیاد کا پتھر ہیں لیکن .
ہمیں گھر سے نکالا جارہا ہے


