کیا جپھی (ہگ) محبت کی دوا ہے
بچہ دنیا میں آتے ہی روتا ہے کیونکہ اس سے وہ ماحول چھن گیا جس میں وہ ماں کے رحم میں محفوظ تھا ۔ پیدائش کے بعد بھی وہ روتا رہتا ہے ۔ اور روتے میں اس کو گود میں اٹھالیں تو پرسکون ہو جاتا ہے ۔ جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے تو رونا کم ہو جاتا ہے ۔ اب وہ خود باہیں پھیلا کر دعوت دیتا ہے کہ اسے گود میں اٹھا کر گلے سے لگایا جائے ۔ بچے کا یہ باہیں پھیلانا اس کی جپھی کی قدرتی خواہش کا اظہار ہے ۔ یہ ایک انسان کا دوسرے انسان کے لمس سے زندگی بخش رابطہ ہے جس کے جاری رہنے کی خواہش تمام زندگی قائم رہتی ہے ۔
بچوں کی نفسیات اس بارے میں کیا بتاتی ہے؟ ۔
1۔ جپھی / ہگ کی خواہش قدرتی ہے جو تحفظ اور محبت کے حصول کے لئے بچے کی درخواست ہے ۔
2۔ بچے کو ہگ کرنا اور اسے اس کے پسندیدہ رشتے خصوصا والدین اور گرینڈ پیرینٹس سے لاڈ پیار اور جپھی ڈالنے کا موقع / اجازت کسی بھی بچے کا حق ہے جو بچے کی ذہنی صحت کی ضمانت ہے ۔
3۔ اگر کوئی بچہ ہگ نہیں کرتا یا ہگ کئے جانے کو رد کرتا ہے اور نا پسند کرتا ہے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔ مثلا ہو سکتا ہے کہ وہ
ایک یا چند نفسیاتی مسائل سے دوچار ہو جیسے آٹزم ، اے ڈی ایچ ڈی ، کنڈکٹ ڈس آرڈر جو مستقبل کے پرسنیلٹی ڈس آرڈرز یعنی سائیکو پیتھ اور نارسسزم کی پیش گوئی ہو ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ بچے کو کوئی صدمہ پیش آیا ہو مثلا والدین اور پیاروں سے جدا ئی وغیرہ ۔
یہ بھی ہو سکتا ہے بچہ اپنے دماغ کی نیورولوجیکل ساخت اور افعال کی وجہ سے کسی ٹچ یا جسمانی لمس سے حسی طور پر الرجک ہو ، اور جب کوئی اسے ہگ کرے تو وہ اس کا سرد مہری سے جواب دے مثلا باہمی طور پر بانہیں نہ پھیلا ئے اور وارفتگی کا اظہار کرنے اور لپٹنے کے بجائے جسم میں مدافعتی اکڑاؤ اور تناؤ پیدا کر لے ۔
ایسے میں ضرور مینٹل ہیلتھ پروفیشنل کو ملنا چاہئے ۔
دیگر وجوہات :
1۔ بچے کو ابتدا سے ہی ماں اور دیگر افراد سے دور یعنی انسانی پیدائش کے فورا بعد انسانی لمس سے محروم رکھا گیا ہو یعنی الگ کمرے میں سلایا جاتا ہو اور بچہ بے بسی کے عالم میں ہر تکلیف سہہ کر خاموش ہونا ، اور جذبات کو دبانے اور تھپکی اور ہگ سے محروم رہنے کا عادی ہو جاتا ہے اور بڑے ہونے پر جب والدین اسے سوشل بننا سکھانا شروع کرتے ہیں تو بچے کو لوگوں کے ساتھ صحتمند انٹرایکشن میں مشکل پیش آتی ہے ۔
2۔ گھر کے جینوئن رشتوں سے انٹر ایکشن سے پہلے بہت جلدی باہر کے اجنبی لوگوں سے انٹر ایکشن کروانا جو کہ غیر فطری ہوتا ہے بچہ اعتبار نہیں کرتا ۔ اور اجنبیوں کے روکھے روئیے اسے سوشل انٹر ایکشن سے بے زار کر دیتے ہیں ۔
3 ۔ ہگ نہ کرنے کی ایک وجہ ماں باپ کا بچے کوہگ کرنے کی حوصلہ افزائی نہ کرنا ہے ۔ نہ خود بچے کو ہگ کرتے ہیں اور نہ بچے کو دوسروں سے ہگ کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ ایسے والدین خاص طور پر ماں کا بچپن ناخوشگوار ہوتا ہے یعنی والدین کو بھی بچپن میں اپنے ماں باپ سے کسی قسم کا ہگ اور لپٹنے کا موقع نہیں ملا ہوتا ۔ شاید یتیمی کی وجہ سے ، ماں / باپ کی دوری اور سر پر نہ ہونے کی وجہ سے یا ماں / باپ میں سے کسی ایک کے پرسنیلٹی ڈس آرڈر خصوصا سائیکو پیتھ یا نارسسٹ ہونے کی وجہ سے ۔ کیونکہ ماں/ باپ میں سے کوئی ایک حسد میں مبتلا ہوتا ہے جب بچہ اپنے ہی والدین میں سے کسی ایک سے ہگ کرنے یا خوشی اور محبت میں لپٹنے کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسی کی ماں/ باپ اس محبت کے مظاہرے کو دیکھ کر حسد کرتا / کرتی ہیں ۔ بلکہ حاسد والدین میں سے ایک بچے کو محبت کے اس اظہار سے روکنے کے لئے منع کرتے ہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں ۔ بچہ سہم کر اس محبت کے اظہار سے اپنے آپ کو باز رکھنے کی کوشش اور مشق کرتا ہے یعنی سپریشن کی تکنیک اپناتا ہے جو ایک منفی ڈیفنس میکانزم ہے ۔
4 ۔ بچے کے ہگ نہ کرنے اور ہگ سے گھبرانے کی ایک وجہ اس کی لو سیلف اسٹیم بھی ہے ۔ یعنی اپنی ذات ، شکل و صورت اور دیگر معاملات میں کمی کا احساس جو کبھی حقیقی ہوسکتا ہے اور کبھی خود ساختہ اور کبھی والدین کی بے جا تنقید ، ڈسپلن کے بے جا قوانین جو چھوٹی عمر میں اس پر سٹرکچرڈ تربیت کی صورت میں لاگو کر دئیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ ضرورت پڑنے پر بھی جسمانی لمس اور ہگ سے گھبراتا ہے ۔
5 ۔ جپھی یا ہگ کا تعلق کلچر اور روایات سے بھی ہے ۔ پدر سری معاشروں میں باپ ایک حاکم کی حیثیت سے جھوٹا رعب جمانے کے لئیے اولاد کو شیر کی نگاہ سے دیکھنے اور اس کو شیر بنانے کے گھمنڈ میں اس سے فاصلہ رکھنا ضروری سمجھتا ہے تاکہ احترام قائم رہے ۔ لہذا ہمارے کلچر میں بیٹا باپ سے صرف عید کے موقع پر ہی گلے ملتا دیکھا گیا ہے ۔ ماں کو بھی بچے سے لاڈ کرنے کی اجازت نہیں ملتی ۔ بیٹی کو بھی مذہبی احکامات کی وجہ سے باپ کے ساتھ گلے ملنے کا صرف ایک ہی موقع ملتا ہے جب شادی کے وقت باپ اسے رخصت کرتا ہے ۔ جب کہ جدید دور میں ماں بچے کو کنٹرول کرنے کی خواہش میں بچے کی باپ کے ساتھ ہگ کو ناپسند کرتی ہے ۔
6 ۔ ہمارے معاشرے میں لڑکے کو لڑکی پر فوقیت دینے کے رواج سے بھی لڑکیاں ماں باپ اور دیگر رشتوں کے محبت بھرے ہگ سے محروم رہتی ہیں ۔
7۔ ایسا نہیں ہے کہ ہگ یا جپھی سے محرومی ہمارے ہی معاشرے کا مسئلہ ہے بلکہ ترقی یافتہ معاشروں میں بھی خاندانوں کی ٹوٹ پھوٹ نے سب کو تنہا کر دیا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی محبت اور جینوئن اظہار محبت ختم ہوتی جا رہی ہے اس لئے بچے اس خوبصورت جذبے سے محروم رہتے ہیں ۔ یہاں بھی خاندان کی ٹوٹ پھوٹ نے خاندان کے وجود کو غیر معتبر کرکے بچوں کو ہگ جیسی جذباتی دوا سے محروم رکھا ہوا ہے ۔ بچہ والدین اور گرینڈ پیرنٹس کی گودوں میں جھولنے اور لپٹنے کے مزے سے محروم ہے شاید یہی وجہ ہو کہ بچے بہت کم عمری میں ڈیٹنگ شروع کرکے اپنے بواۓ فرینڈ یا گرل فرینڈ سے ہی ہگ کرنے میں پناہ ڈھونڈتے ہیں ۔
والدین کو علم ہونا چاہیئے کہ جس طرح اچھی خوراک ، نیند ، علاج معالجہ اور اچھی تعلیم والدین کی ذمہ داری ہے اسی طرح بچے کی جذباتی ضروریات کا پورا کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے ۔ ان میں سے ایک اہم ترین جذباتی ضرورت جینوئن اور محفوظ جسمانی لمس ہے جس میں بچے کو اپنے ساتھ لپٹا کر پیار کرنا اور ہگ کرنا اور اس کی ہگ کرنے کی خواہش کو فوری پورا کرنا اور اسے قریبی رشتہ داروں جس میں سر فہرست گرینڈ پیرینٹس شامل ہیں ان کو ہگ کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا بھی شامل ہے ۔
والدین کو علم ہونا چاہئیے کہ گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے خدشات کو ضرور مد نظر رکھیں لیکن عقل اور شعور سے ان میں فرق کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں تاکہ بچہ محض خوف اور خدشات کی بھینٹ نہ چڑھ جاۓ اور محبت بھری جپھی سے محروم نہ رہے ۔
کلنیکل کیس ہسٹری سے ایک پیش خدمت ہے کہ ایک ماں اپنے بچے کو اس لئیے اس کے باپ ، دادا دادی اور دیگر رشتوں سے ملنے اور ہگ کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ خود اپنے بچپن میں جنسی زیادتی کا شکار ہوئ اور اب اپنے بچے کے لئے اوور پروٹیکٹوو ہوگئی ۔ ایسی صورت میں مینٹل ہیلتھ پروفیشنل کی ضرورت ہے جو بچے کی جذباتی ضروریات کے تحفظ کے لئے ماں کو ریڈ زون سے نکالے ۔
والدین کو علم ہونا چاہئیے کہ نفسیات میں جپھی (ہگ) کو محبت کی دوا یا ٹانک کہا جاتا ہے جو ہر انسان کے لئے ضروری ہے ۔
بچوں کے لئے اس ٹانک کی اشد ضرورت ہے صرف چھوٹے بچوں کو ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہی ماں باپ اور دیگر قریبی مقدس رشتوں کا قرب ، لمس اور ہگ چاہیئے ۔ نفسیاتی مطالعات، ریسرچ اور مشاہدات بتاتے ہیں کہ جپھی یا ہگ انسانی جسم میں خوشی کے ایسے ہارمون پیدا کرتے ہیں کہ جو بچے کی جسمانی و نفسیاتی صحت اور اس کی تعلیمی کارکردگی پر مثبت اور قابل فخر اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔ اور سکول میں ان کے بہترین کرداری نمونے اور کارکردگیاں سامنے آتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ماں باپ یا دادا دادی سے لپٹنے اور ہگ کرنے سے بچے کو کتھارسس کا بھی موقع ملتا ہے یہ مقدس گودیں اس کے لئیے محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں بچہ سر رکھ کر اپنے ڈپریشن غم ، دکھ اور پریشانیاں شئیر کرسکتا ہے ۔ گویا صحت مند ہگ ایک تھیراپی کا کام کرتی ہے ۔ اور بچے خوش رہتے ہیں ۔
جپھی یا ہگ کسی بھی بچے میں انسانی ہمدردی کے جذبات پیدا کرکے اسے دوسروں کی تکلیف محسوس کرنے ، ہمدردی اور تیمارداری جیسی صفات بھی پیدا کرتی ہے ورنہ جپھی سے محروم بچے کٹھور ، سفاک اور خود غرض ہوسکتے ہیں ۔
لہذا والدین کو سمجھنا چاہئے کہ جپھی یا ہگ ان کے بچے کے لئے محبت کی ایک ضروری دوا اور ٹانک ہے جو ذہنی ، جذباتی اور جسمانی نشو نما کے علاوہ سماجی رابطے کی مہارتیں پیدا کرنے کے لئے بہت ضروری ہے جس کی باقاعدہ خوراک ملتی رہنی چاہئے تاکہ بچوں کے چہرے خوشگوارنظر آئیں جو ماحول میں مسکراہٹیں بکھیریں ۔


