ناول ”بت پرستوں کی نئی نسلیں“ ۔ سولہواں باب


نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔

=========================
سولہواں باب
———–
اور پرانے بت کے ڈھینے لگے
—————————

عروسہ فضل رات دس بجے تک سو جاتی تھی لیکن فضل داد کبھی تو دن میں بھی بار بار سو جاتا اور کبھی راتوں کو بھی مسلسل جاگتا رہتا۔ اسے کسی وقت بھی کسی چیز کی طلب ہو سکتی ہے، اس لئے ضروری تھا کہ ایک آدمی ہر وقت چوکنا اس کے پاس بیٹھا رہے۔ ان مددگاروں کی ڈیوٹی ہر چار گھنٹے کے بعد بدل جاتی تھی۔ ویسے دن میں دو بار ایک نرس بھی آتی تھی جو اس کے جسم کی صفائی کرتی تھی۔

روشن داد عام طور پر رات بارہ بجے سے پہلے کم ہی بستر پر جاتا تھا مگر اس رات جب کرسٹینا نے بات کرتے کرتے کال کاٹ دی اور نجانے کیا سوچ کر روشن داد نے فوراً پیر علیم الدین شاہ کو ٹیلی فون کیا اور بتایا کہ وہ اسی وقت ’الماس‘ سے ملنے آ رہا ہے۔ تب رات کے صرف گیارہ بجے تھے۔

گھر کے خدمت گاروں میں سے بس چند لوگ ہی جاگ رہے تھے۔ روشن داد نے اسی وقت ایک ملازم کو بھیجا کہ جا کر غلام حسین کو جگائے۔ اس کا خیال تھا کہ اس وقت پیر علیم الدین شاہ کے گھر جانے کے لئے غلام حسین جیسا وفادار، معاملہ فہم اور جہاں دیدہ ڈرائیور ہی مناسب رہے گا۔

غلام حسین رات کے تمام بہتر راستوں سے واقف تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر گاڑی تیز چلانی ہو تو کون سا روٹ استعمال کرنا چاہیے۔

000000000000

پیر علیم الدین شاہ تو روشن داد کی کال کے وقت ابھی بیدار ہی تھا مگر الماس تو کبھی کی سو چکی تھی۔ جب اسے جگا کر بتانے کی کوشش کی گئی کہ روشن داد اسے ملنے کے لئے ابھی اور اسی وقت آ رہا ہے تو وہ ہکا بکا سی رہ گئی۔ کچھ سمجھ ہی نہ پائی۔ البتہ جب بات اس کے پلے پڑی تو وہ فوراً غسل کے لئے جا گھسی۔

جلدی جلدی نہا کر ہیئر ڈرائیر سے سکھا کر بال سنوارے۔ عمدہ ترین لباس پہنا اور خود کو طرح طرح کی خوشبوؤں میں بسایا۔ کئی ایک خادماؤں کی مدد سے آخرکار وہ روشن داد کی متوقع آمد کے وقت سے پہلے ہی تیار ہو گئی۔

پیر علیم الدین کے حکم سے جلدی جلدی الماس کے کمرے میں ہی کھانے پینے کے لوازمات سجا دیے گئے۔ روشن داد کو خوش آمدید کہنے کے لئے خدام کی پوری طرح سے تیاری کرا دی گئی۔

00000000000

غلام حسین نے راستے میں کئی بار گھما پھرا کر بھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایسی کیا مصیبت آن پڑی ہے جو وہ اس وقت پیر علیم الدین شاہ کے گھر جا رہے ہیں؟ مگر روشن داد نے اسے کوئی جواب نہ دیا بلکہ ایک بار اسے ایسا سوال کرنے سے منع کرتے ہوئے اسے تھوڑا سا ڈانٹ بھی دیا۔ گھر سے نکلتے وقت تو کسی کو یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ اس وقت جا کہاں رہے ہیں؟

روشن داد صرف اس لئے خاموش نہیں تھا کہ وہ کچھ بتانا نہیں چاہتا تھا بلکہ وہ خود ذہنی طور پر اتنا الجھا ہوا تھا کہ اس کے پاس کسی بھی سوال کا کوئی واضح جواب ہی نہیں تھا۔ اس کے دماغ میں بار بار کرسٹینا کا آخری جملہ گونجنے لگتا اور ساتھ ہی کہیں سے الماس کا تصوراتی چہرہ اس کی آنکھوں کے پردے کی زینت بن جاتا۔ (وہ الماس جس کی اس نے ابھی تک تصویر بھی نہیں دیکھی تھی) ۔

پھر پیر علیم الدین شاہ کے بار بار منت سماجت والے الفاظ کی باز گشت اسے گھیر لیتی کہ وہ بس ایک بار اس بے بس لڑکی کو اپنی شکل دکھا جائے۔ علیم الدین بار بار اس حیرت کا اظہار بھی کرتا رہا تھا کہ ایک ایسی لڑکی، جس کے حسن و خوبصورتی کا ایک زمانہ گرویدہ ہے، وہ کیوں روشن داد کی صرف ایک جھلک دیکھ کر اس پر مر مٹی ہے؟

گاہے اسے خیال آتا کہ شاید وہ کرسٹینا کے رویے کی وجہ سے الماس کو ملنے جا رہا ہے اور کبھی اسے گمان گزرتا کہ یہ الماس کی محبت کی طاقت ہے کہ آخرکار اسے یہ کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ بھی رات کے اس پہر جب ساری دنیا سو چکی ہے یا سونے والی ہے۔

دن کے وقت ٹریفک کی وجہ سے یہ فاصلہ کم از کم اڑھائی گھنٹے کا تھا جو انہوں نے صرف ڈیڑھ گھنٹے میں طے کر لیا۔

جیسے ہی روشن داد کی گاڑی پیر علیم الدین شاہ کے گھر کے بڑے دروازے پر پہنچی تو روشن داد حیران ہوا۔ خود علیم الدین اس کے استقبال کے لئے اتنی رات گئے باہر کے دروازے پر کھڑا تھا۔

اندر پہنچتے ہی روشن داد نے پہلے علیم الدین شاہ سے اکیلے میں بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ فوراً عمل ہوا، باقی سب لوگ دائیں بائیں ہو گئے۔ روشن داد نے پانی پینے سے پہلے ہی یہ سوال کر دیا

”آپ اپنی ایک پاگل سی مریدنی کے لئے اتنی رات تک نہ صرف جاگ رہے ہیں بلکہ مجھے ملنے باہر والے گیٹ تک آ گئے۔ ایسی کیا بات ہے آخر اس میں؟“ ۔

”اس میں کس کو کیا نظر آتا ہے؟ یہ تو خیر اپنی اپنی نگاہ کی بات ہے۔ کسی کی آنکھ دوسرے کے اندر تک جھانک سکتی ہے اور کسی کو اس کی ظاہری خوبصورتی بھی متاثر نہیں کرتی“ ۔

”پھر بھی، ہے تو وہ آپ کی ایک مریدنی ہی نا؟“ ۔

”دیکھیے ملک صاحب! آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہاں ہماری ایک جھلک کو ترسے ہوئے مرید بھی آتے ہیں اور وہ بھی جو ہمیں سجدہ کرنے میں ہی اپنی نجات سمجھتے ہیں۔ ہم لاکھ منع کریں لیکن وہ باز نہیں آتے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم بھی اپنے مریدوں کا اتنا ہی خیال رکھتے ہیں۔ ان کے دکھ میں انہیں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑتے ”۔
”مگر آپ کی یہ مریدنی دکھی نہیں ہے۔ میرے خیال میں تو اس کے دماغ میں کچھ خلل ہے“ ۔

”یہ تو خیر کوئی انسانی دماغوں کا ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے۔ میں تو صرف اتنا ہی جانتا ہوں کہ میں نے آج تک کی زندگی میں کسی ایسی نوجوان اور خوبصورت لڑکی کو کسی کے عشق میں اتنا دیوانہ نہیں پایا۔ وہ بھی صرف ایک جھلک دیکھنے کے بعد“ ۔

”میں بھی یہی دیکھنے آیا ہوں کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے؟“ ۔

”دیکھیے دیکھیے! ضرور دیکھیے! میں تو اس دن سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ ہر صبح میرے پاس اپنی درخواست لے کر آتی ہے اور ہر شام کو سونے سے پہلے بھی یہی عمل دہراتی ہے۔ دن میں تین تین بار کپڑے بدلتی اور تیار ہوتی ہے صرف یہ سوچ کر کہ نجانے آپ کس وقت آ جائیں۔ آج بھی وہ شام سے ہی تیار بیٹھی تھی اور خدام کے بار بار عرض کرنے کے باوجود ابھی کپڑے نہیں بدل رہی تھی“ ۔

روشن داد جیسے اس کی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا۔ ویسے اندر ہی اندر کہیں، وہ اس بات پر خوشی بھی محسوس کر رہا تھا۔ آخر علیم الدین نے ایک خادمہ کو آواز دی اور زور دے کر روشن داد کو اس کے ساتھ الماس کے کمرے میں بھیج دیا۔

یہ ایک ہال نما سا کمرہ تھا۔ پھولوں، رنگین پردوں اور قیمتی فرنیچر سے سجا ہوا۔ کم از کم پندرہ بیس نوجوان لڑکیوں نے روشن داد کو خوش آمدید کہا۔ بے شک اسے کئی بار بتایا جا چکا تھا کہ الماس ایک بڑے زمیندار کی اکلوتی بیٹی ہے، پھر بھی یہ اس کے لئے ایک اور وجۂ حیرت تھی کہ رات کے اس وقت ایسا استقبال؟

الماس اس بڑے ”ہال نما“ کے آخری حصہ سے منسلک ایک چھوٹے کمرے میں روشن داد کا انتظار کر رہی تھی۔ دو لڑکیاں اپنی رہنمائی میں اسے وہاں تک لے گئیں۔

الماس نے جونہی روشن داد کو اپنے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا تو وہ موتیے کے گجروں سے سجے ہوئے ہاتھوں سے بالکل کسی خاندانی طوائف کی طرح آداب بجا لائی

”زہے نصیب! آخرکار آپ کو اس داسی پر ترس آ ہی گیا۔ آپ کو سامنے پا کر اس ناچیز کے جذبات کا یہ عالم ہے کہ شکریہ ادا کرنے کے لئے الفاظ ہی نہیں مل رہے“ ۔

روشن داد نے الماس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ یقیناً نسوانی حسن کا شاہکار نظر آ رہی تھی۔ اس کی خوبصورتی کے بارے میں روشن داد نے اب تک جو کچھ بھی سنا تھا، وہ اس سے کہیں زیادہ حسین تھی۔ اس نے الماس کے سراپا پر نظر ڈالی۔ وہ اس وقت ایسے لباس میں ملبوس تھی، جس نے اس کے بدن کے تمام زاویے چھپا رکھے تھے۔ روشن داد پھر بھی کوشش کر کے اس کے جسم کا ناپ تول لینے کی کوشش کر رہا تھا۔

پوری روشنی اور مکمل الف حالت میں اس نے سب سے پہلے کرسٹینا کو دیکھا تھا۔ اس سے پہلے وہ یا تو یونانی دیومالائی مجسموں کی برہنگی سے متاثر ہوا تھا یا پھر کچھ مغربی پورن ویڈیوز میں دیکھی ہوئی لڑکیوں کے اجسام سے۔ پورن ویڈیوز والی، اپنی تمام بدنی خوبصورتی کے باوجود، کسی انجانی سوچ کے تحت، اس کے دماغ میں چند لمحوں سے زیادہ اپنی جگہ قائم نہ رکھ سکیں۔ یونانی دیومالائی مجسمے بے جان ہونے کی وجہ سے اس کی نظروں میں اپنا جائز مقام بھی حاصل نہ کر سکے۔

کرسٹینا، البتہ ایک ایسی لڑکی تھی کہ اس کے بدن کی بناوٹ، ابھی تک روشن داد کے دماغ پر چھائی ہوئی تھی۔ نہ اس سے پہلے اور نا ہی اس کے بعد کوئی نسوانی بدن اسے اس قدر خوبصورت، جاذب نظر اور مکمل نظر آیا تھا۔

اب وہ اپنی آنکھوں سے الماس کے بدن کا ایکسرے کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب وہ یونہی خاموش کئی ثانیے تک الماس کو دیکھتا رہا تو بالآخر الماس نے ہی بولنا ضروری سمجھا

”کیا آپ مجھ غریب کے پاس چند لمحے تشریف رکھنے کی زحمت نہیں گوارا کریں گے؟“ ۔
روشن داد یک دم چونکا، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے بولا

”تمہاری درخواست تھی کہ میں تمہیں ایک بار اور، اپنی جھلک دکھا دوں۔ تمہاری وہ آرزو اب پوری ہو چکی۔ اس لئے میرے بیٹھنے کی ضرورت ہی نہیں رہ گئی“ ۔

”مگر اب آپ نے میری عزت افزائی میں یہاں آنے کی زحمت اٹھا ہی لی ہے تو اس عاجز پر اتنی مہربانی اور فرمائیے، مجھے اتنا موقع تو دیجیے کہ میں آپ کو جی بھر کے دیکھ لوں“ ۔

روشن داد جواب میں خاموش رہا تو اس نے بات جاری رکھنے کی کوشش کی
”اچھا! جی بھر کے نہ سہی، آنکھ بھر کر ہی، مگر اپنے دیدار کی پیاس بھڑکا کر تو نہ جائیے“ ۔
”تم پہلے مجھے یہ بتاؤ، یہ جو اردو تم بول رہی ہو، یہ کہاں سے سیکھی ہے؟“ ۔

”جب سے آپ کی محبت میں گرفتار ہوئی ہوں، آپ سے گفتگو کا سلیقہ ہی تو سیکھ رہی ہوں۔ شاید میں ایسے اپنے دل کی بات کہنے میں کامیاب ہو جاؤں۔ اب تک میں نے جو بھی ڈراموں یا فلموں میں دیکھا سنا تھا، وہ سب الفاظ میرے جذبات کا اظہار نہیں کر پا رہے تھے۔ اس لئے کچھ نیا سیکھنے اور اپنے دل کی آواز کو جاننے کی کوشش میں اس لہجے سے شناسائی ہوئی“ ۔

”دیکھو لڑکی! میں بہت مصروف آدمی ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ میرے پاس اب کسی محبت کے لئے وقت بھی ہے۔ یہ تو شاہ صاحب کے بار بار کہنے پر مجھے یہاں آنا پڑا۔ وہ میرے بزرگوں کی جگہ ہیں، اس لئے جب انہوں نے تمہاری خاطر میری منتیں کیں تو مجھے اچھا نہیں لگا اور میں یہاں آنے پر مجبور ہو گیا۔ البتہ اب میں پھر سے تمہیں ملنے تو یہاں نہیں آ سکتا۔ تم اگر ضرور ہی مجھے ملنا چاہو تو تمہیں میری ملک پور والی حویلی میں آنا پڑے گا“ ۔

”آپ مجھے صرف اجازت دیجیے۔ میں آپ سے ملنے کے لئے دنیا کے آخری کنارے تک کا سفر کرنے کو تیار ہوں“ ۔

”اس وقت میں تمہیں صرف اتنی ہی اجازت دے سکتا ہوں کہ تم کبھی کبھار ملک پور آ کر میری حویلی میں میرا انتظار کر سکو۔ میں جب بھی وہاں آؤں گا تمہیں مل ضرور لوں گا۔ اگر تب تک تمہارے عشق کا بخار قائم رہا تو۔ ہاں! میں وہاں کب آؤں گا اور تمہیں کتنی دیر کے لئے مل سکوں گا، اس بارے میں کبھی کوئی سوال مت کرنا۔ میں ایسے کسی سوال کا جواب نہ دے سکوں گا۔ حویلی میں خبر کر دی جائے گی۔ وہاں تم عزت سے ٹھہر سکو گی“ ۔

وہ واپس مڑا، بغیر الماس کی طرف سے کسی بھی رد عمل کی پروا کیے ، اس ہال نما کمرے سے گزرا۔ سیدھا پیر علیم الدین شاہ کے پاس پہنچا اور اجازت لے کر باہر نکل گیا۔ اس نے علیم الدین کو کچھ پوچھنے کی بھی مہلت نہ دی۔

00000000000000000

عروسہ فضل کو دوسرے دن تمام خبر مل گئی تھی مگر اس نے روشن داد سے کوئی بھی سوال نہ کیا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ جب بھی اور جتنا بھی ضروری سمجھے گا خود ہی بتا دے گا۔ اس طرح اس سے کچھ بھی پوچھنا اس پر اعتماد کی کمی ظاہر کرے گا اور عروسہ فضل یہ چاہتی تھی کہ روشن داد جو بھی قدم اٹھائے، پورے اعتماد سے اٹھائے۔

00000000000000000

الماس دوسرے دن دوپہر کو ہی تین گاڑیوں میں اپنی ضرورت کا سامان بھر کے ملک پور کی حویلی پہنچ گئی۔ چھ خادمائیں، چار نوکر اور تین ڈرائیور بھی اس کے ساتھ تھے۔

حویلی میں اسے خوش آمدید کہا گیا۔ تین بیڈ رومز والا ایک پورا پورشن اس کے حوالے کر دیا گیا۔ نیاز علی اور فراز علی اس کے پاس حاضر ہوئے اور اسے یہ مژدہ سنایا کہ روشن داد کے حکم پر وہ ان کی مہمان ہے۔ جب بھی اور جو بھی ضرورت ہو وہ بلا تکلف کہہ سکتی ہے۔ اس کے ڈرائیوروں اور خدمت گاروں کا بھی پورا خیال رکھا جائے گا۔

روشن داد نے خود ہی، ملک پور والی حویلی میں، الماس اور اس کے خدمت گزاروں کے ٹھہرائے جانے کے احکامات جاری کیے تھے لیکن اب وہ نجانے کیا سوچ رہا تھا کہ وہ تین دن تک ملک پور ہی نہیں آیا۔ اب ایسا بھی نہیں کہ وہ گھر بیٹھا ہوا تھا یا کہیں شہر میں مصروف تھا۔ وہ تو آس پاس کے علاقوں میں روز ہی کہیں نہ کہیں پہنچا ہوتا تھا۔

بے شک الماس کو، اس کے بارے میں روشن داد کی لاپرواہی کا احساس بھی تھا اور وہ کچھ زیادہ کی امید بھی نہیں رکھتی تھی، پھر بھی اس کے لئے انتظار کا یہ وقت بہت جان لیوا ثابت ہو رہا تھا۔

پاکستان واپس آنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ روشن داد نے اپنے پرانے دوست مسعود چیمہ سے بھی کوئی بات چھپائی تھی۔ بے شک موقع پاتے ہی اس کا مسعود چیمہ کے دفتر جانا اور اکثر اکٹھے لنچ کرنا ابھی تک جاری تھا۔

سونے سے پہلے، برطانیہ میں اپنے کسی نہ کسی دوست سے رابطہ اور گپ شپ کرنا ابھی بھی اس کے معمولات میں شامل تھا۔ ہاں! نہ تو کرسٹینا کی طرف سے رابطہ کیا جا رہا تھا اور نا ہی روشن داد ایسی کوئی زحمت اٹھانے کی خواہش رکھتا تھا۔ کرسٹینا کی طرف سے صاف صاف جواب ملنے کے بعد سے روشن داد جیسے یکسر بدل گیا تھا۔ اس کے دماغ میں شاید تکبر نے بھی جگہ بنانی شروع کر دی تھی۔

وہ چوتھے دن شام کو ملک پور والی حویلی میں پہنچا۔ الماس کو خبر مل چکی تھی مگر وہ اس سے ملنے تین گھنٹے کے بعد آیا۔ باوجود یکہ پہلے چار دن اور اب تین گھنٹے کے انتظار نے الماس کے صبر کی تمام طاقت چھین لی تھی مگر روشن داد کو دیکھتے ہی وہ جیسے پھر سے تروتازہ ہو گئی۔

روشن داد، ایک فاتح جنگجو کا انداز لئے اس کے کمرے میں داخل ہوا۔ الماس اسے دیکھنے کے بعد ابھی سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ روشن داد نے باقی سب لوگوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا اور خود ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔

الماس اس کے سامنے ملتجی اور سہمی ہوئی کھڑی تھی۔ لب خاموش مگر آنکھوں میں بہت سے سوال تھے۔
روشن داد نے اسے بیٹھنے کے لئے بھی نہیں کہا اور درشت لہجے میں پوچھا
”کیا تم اب بھی اپنے اس دعوے پر قائم ہو کہ تمہیں مجھ سے شدید قسم کی محبت ہو گئی ہے؟“ ۔
”جی بالکل! اور پوری شد و مد سے“ ۔
”محبت کا مطلب بھی جانتی ہو؟“ ۔
”جانتی ہوں“ ۔
”تو بتاؤ، تمہارے نزدیک محبت کا کیا مطلب ہے؟“ ۔
”خود کو تن من دھن سے کسی کی غلامی میں دے دینا“ ۔
”مطلب، دل، جسم اور دولت بھی؟“ ۔
”جی بالکل!“ ۔
”کیا تم ابھی تک کنواری ہو؟“ ۔
”پوری طرح سے“ ۔
”میرا مطلب شادی شدہ نہ ہونے سے نہیں ہے“ ۔
”میں آپ کا سوال مکمل طور پر سمجھ گئی ہوں، اسی لئے تو کہا ہے پوری طرح سے“ ۔
”اچھا! تو یہ بتاؤ کہ اگر میں آج ہی تمہارا یہ کنوارپن چھین لوں تو تم کیا کرو گی؟“ ۔
”وہ سب کچھ جو ہے ہی آپ کا، اسے چھیننے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ بس حکم کیجیے“ ۔
”تو اتارو کپڑے“ ۔
”کیا اس روشنی میں؟“ ۔
”بالکل! اسی روشنی میں“ ۔

الماس نے آہستہ آہستہ کپڑے اتارنے شروع کیے تو روشن داد اٹھ کر آگے بڑھا اور اس نے الماس کے بدن سے لباس نام کی ایک ایک دھجی تک کھینچ کر اتار پھینکی۔ الماس نے ”سی“ تک نہ کی۔ لیکن جونہی وہ اسے پکڑ کر بستر پر لٹانے لگا تو الماس نے اسے ذرا رکنے کا اشارہ کیا۔ بستر پر پڑے ہوئے تکیے کا سفید غلاف اتارا، اسے بستر پر بچھایا اور خود سپردگی کے انداز میں لیٹ گئی۔

روشن داد نے تکیے کے غلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
”یہ کیوں؟“ ۔
”تاکہ آپ کو اعتماد رہے، آپ جو کرنا چاہتے تھے، آپ نے وہی کیا ہے“ ۔
روشن داد نے اس کی بات کو کوئی توجہ نہیں دی
اور
وہ سب کر لیا جو وہ کرنا چاہتا تھا۔
الماس نے نہ صرف یہ کہ کوئی مزاحمت نہیں کی، بلکہ سارے عمل میں جوش و خروش سے اس کا ساتھ دیا۔

روشن داد بستر سے اترا، کپڑے پہنے اور باہر دروازے کی طرف مڑا ہی تھا کہ الماس نے تکیے کا وہ غلاف، جس پر اس وقت خون کے دھبے صاف نظر آ رہے تھے، اسے دکھاتے ہوئے کہا

”کیا اب بھی شک کی کوئی گنجائش ہے؟“ ۔
روشن داد نے ایک نظر غور سے تکیے کے اس غلاف کی طرف دیکھا اور بغیر کچھ کہے باہر نکل گیا۔

وہ حویلی میں اپنے پورشن کی طرف جانے کی بجائے سیدھا گاڑی کی طرف بڑھا تو نیاز علی اور فراز علی تیزی سے اس کے پاس پہنچے۔

”اس لڑکی اور اس کے ساتھ آئے تمام لوگوں کے آرام کا برابر خیال رکھو۔ باقی باتیں بعد میں ٹیلی فون پر بتاؤں گا“ ۔ وہ نہایت تحکمانہ انداز میں نیاز علی اور فراز علی سے مخاطب ہوا۔

صورت حال کو بھانپتے ہی ڈرائیور بھی وہاں آ گیا۔
روشن داد سیٹ پر بیٹھا تو گاڑی ’ملک ہاؤس‘ کی طرف روانہ ہو گئی۔
0000000000000

بے شک روشن داد کی الماس کے پاس موجودگی میں تمام دروازے کھلے تھے اور کوئی لائٹ بھی بند نہیں کی گئی تھی، پھر بھی کسی کو اندازہ نہ ہو سکا کہ ان چند منٹوں کے اندر کیا کچھ وقوع پذیر ہو چکا ہے۔ دراصل کسی کی جرات ہی نہ ہوئی کہ اندر جھانک سکے۔ الماس نے بھی تکیے کا وہ خاص غلاف چھپا کر رکھ لیا تھا۔

روشن داد کے جانے کے بعد جب الماس کی خادمائیں اندر آئیں تو اس نے اپنی اس ملاقات کی خوشی کے علاوہ کسی پر کچھ بھی ظاہر نہ ہونے دیا۔ چند خادماؤں نے اس کے دمکتے ہوئے چہرے اور ہونٹوں کی سرخی سے کچھ اندازے ضرور لگائے مگر اس سے زیادہ جاننے کی انہیں بھی حسرت ہی رہی۔

الماس کا خیال تھا کہ اب اس سے بڑھ کر روشن داد اس کی محبت کا کیا امتحان لے سکتا ہے! وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ اس آزمائش سے گزر کر سرخرو ہو چکی ہے۔ اسے یقین تھا کہ اب اسے روشن داد کی محبت پورے طور پر حاصل ہو جائے گی۔

لیکن اس کی یہ خوش فہمی جلد ہی مایوسی کے سمندر میں ڈوب گئی۔ اس کے بعد الماس سے ملاقات تو دور، روشن داد نے پورے چھ دن تک ملک پور کا ہی رخ نہیں کیا۔

بے شک الماس اور اس کے ساتھ آئے ہوئے تمام لوگوں کو ہر طرح کا آرام حاصل تھا، مگر پھر بھی الماس کی بے چینی، جب غصے اور چڑچڑے پن میں تبدیل ہو جاتی تو وہ سب لوگ بھی گھبرا جاتے۔

ان چھ دنوں میں روشن داد لگاتار روشن آباد آتا رہا۔ وہ وہاں کے ہر کاروبار میں دلچسپی لے رہا تھا اور ملک فضل داد کے دونوں بہنوئی ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد اس کے ہر سوال کا جواب دینے کے لئے ہمہ وقت ساتھ ساتھ رہتے تھے۔

عروسہ فضل بھی روشن داد کی ہر حرکت پر، اپنے ذرائع سے نظر رکھے ہوئے تھی۔ اسے اس سوچ سے بہت خوشی نصیب ہوتی تھی کہ روشن داد سیاسی حلقوں میں لوگوں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے کاروبار میں بھی دلچسپی لے رہا ہے۔ لیکن ملک پور کی حویلی میں ایک ایسی لڑکی کی آمد جو پیر علیم الدین شاہ کی مریدنی تھی، بار بار اس کے ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی تھی۔

دن میں کم از کم دو تین بار عروسہ فضل باقاعدہ اہتمام کر کے فضل داد کے پاس بیٹھتی۔ اس وقت وہاں موجود دوسرے کسی بھی مددگار کو باہر بھیج دیتی اور اپنے طور پر فضل داد کو ہر طرح کی خبر سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتی۔ اپنی بات کرتے وقت وہ مسلسل فضل داد کی آنکھوں میں دیکھتی رہتی تاکہ اگر وہ کسی رد عمل کا اظہار کرے تو عروسہ فضل اس پر غور کر سکے۔

روشن داد ساتویں شام ملک پور کی حویلی میں پہنچا۔ الماس کو اس کے آنے کی خبر مل چکی تھی اور وہ تیار ہو کر اس کا انتظار کر رہی تھی۔ پورا ایک گھنٹہ گزر جانے کو باوجود بھی روشن داد کی آمد کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ مزید ایک گھنٹہ ایسے ہی بیت جانے کے بعد ، فراز علی نے آ کر اسے بتایا کہ روشن داد اسے اپنے کمرے میں بلا رہا ہے۔

الماس کو کچھ اچھا تو نہیں لگا لیکن وہ انکار نہ کر سکی اور فوراً فراز علی کے ساتھ چل پڑی۔ چند ایک خادماؤں نے اس کے ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کی مگر کسی بھی خادمہ کو یہ موقع نہ دیا گیا۔ وہ فراز علی کے ساتھ اکیلی ہی روشن داد کے کمرے میں پہنچی۔

یہ روشن داد کا ایک خاص کمرہ تھا۔ اس حویلی میں اس کے آرام کرنے کے لئے جو کمرے تیار کیے گئے تھے، یہ ان میں سب سے بڑا تھا۔ ایک شاندار بیڈ کے علاوہ، کھانے کی میز اور پورا صوفہ سیٹ بھی اس میں موجود تھا۔

روشن داد نے الماس کو اپنے سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کے لئے کہا۔ وہ بیٹھ گئی تو حال چال پوچھا۔ الماس کی توقع کے خلاف روشن داد کے لہجے میں کوئی خاص گرم جوشی نہیں تھی۔ وہ اسے کوئی اجنبی محسوس ہو رہا تھا۔

روشن داد نے اسے چائے بنانے کے لئے کہا، جو وہاں میز پر ہی موجود تھی۔
دونوں چائے پینے لگے تو روشن داد، ذرا معذرت خواہانہ انداز میں بولا
”میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں بہت مصروف آدمی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ تمہیں یاد ہو گا!“ ۔
”جی مجھے یاد ہے“ ۔
”تو مجھے امید ہے، تمہیں اس امر کا اچھی طرح احساس ہو گا کہ پچھلے دنوں میں ملک پور کیوں نہیں آ سکا“ ۔

”جی، میں آپ کی مجبوریاں سمجھتی ہوں لیکن کیا کروں میرا دل آپ کی محبت میں اتنا پاگل ہو چکا ہے، یہ کچھ بھی نہیں سمجھتا“ ۔

”تو تم اسے سمجھاؤ۔ ورنہ واپس اپنے گھر چلی جاؤ“ ۔
”گھر تو واپس نہیں جا سکتی البتہ دل کو سمجھانے کی کوشش ضرور کرتی رہتی ہوں“ ۔
”گھر واپس کیوں نہیں جا سکتی؟“ ۔
”اسی دل نے میرے پاؤں میں بیڑیاں جو ڈال رکھی ہیں“ ۔
”ہاں! یاد آیا! کیا تمہارے گھر والوں کو خبر ہے کہ تم یہاں ملک پور میں میرے پاس رہ رہی ہو؟“ ۔

”نہیں! ان کے علم کے مطابق میں اپنے اور ان کے پیر صاحب، یعنی پیر علیم الدین شاہ صاحب کے آستانہ پر ٹھہری ہوئی ہوں۔ اور جب تک وہ یہ سمجھ رہے ہیں، وہ میری طرف سے بالکل بے فکر ہیں“ ۔

”تمہاری جاگیر یا زمینیں وغیرہ اصل میں ہیں کہاں؟“ ۔

”آپ سے التجا ہے، ابھی مجھے اس بارے میں کچھ مت پوچھیے۔ اگر میں نے آپ کو بتا دیا اور کہیں غلطی سے بھی آپ نے کسی سے ذکر کر دیا تو سمجھیں میری تو موت ہی واقع ہو جائے گی“ ۔

”کیوں؟ ایسی کیا بات ہے؟“ ۔

”جونہی حالات میرے قابو میں آ جاتے ہیں۔ میں آپ کو ضرور بتا دوں گی۔ بس تب تک آپ مجھے یہاں قیام کی اجازت دے دیجئے۔ یہاں کم از کم آپ سے ملنے کی آس تو رہتی ہے“ ۔

عام حالات میں روشن داد کبھی بھی اپنے سوال کا ٹھوس جواب حاصل کیے بغیر، بات آگے ہی نہ بڑھاتا مگر اس وقت نجانے کیا سوچ کر اس نے اس بات کو نظر انداز کر دیا۔ وہ اسے تسلی دینے کے انداز میں بولا

”اگر تم یہاں آرام سے ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جب تک چاہو یہیں رہو۔ لیکن تم آرام سے تو ہو نا؟“ ۔

”آپ کی عنایت سے ہر طرح کا آرام ہے۔ بس ایک الجھن ہے“ ۔
”وہ کیا ہے؟“ ۔

”ہماری جاگیر پر چند ایک غریب اور نادار لوگ بستے ہیں۔ میں اپنے والدین سے چھپا کر ان کی کچھ مدد کرتی رہتی تھی جو میں اب نہیں کر پا رہی ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں انہیں یہاں بلا لوں“ ۔

”بلا لو، بلا لو! میں دو چار کمرے اور خالی کرا دیتا ہوں ان کے لئے“

”نہیں، وہ میرے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ یہاں ملک پور میں کہیں انہیں دو دو، چار چار مرلے کے گھر کرائے پر مل جائیں تو آپ کی بہت عنایت ہو گی۔ میں صرف ان کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ ان سے کوئی خدمت لینا میرے اصولوں کے خلاف ہو گا“ ۔

”اچھا! میں کرتا ہوں کچھ ان کے لئے بھی۔ لیکن دوسری بات یہ کہ اگر یہاں حویلی میں رہ کر ہی تمہیں میرا انتظار کرنے میں میں کوئی پرابلم نہیں ہے تو مجھ سے ملنے تمہیں میرے اس کمرے میں ہی آنا پڑے گا“

”میں تو آپ کے حکم کی غلام ہوں۔ جو آپ کو پسند ہو گا ویسے ہی کروں گی“ ۔
اور

وہ رات اس نے روشن داد کے کمرے میں گزاری اور دوسری صبح روشن داد کے جانے کے بھی بعد ، اپنے کمرے میں گئی۔ اب پوری حویلی جان چکی تھی کہ الماس تمام رات روشن داد کے کمرے میں رہی ہے تو آخر کیوں رہی ہے۔

000000000000000

اس رات کے بعد جیسے روشن داد ہی نہیں بلکہ حویلی سمیت پورا ملک پور کسی طلسم کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔ ایک جادو تھا جو الماس نے روشن داد پر پھونک دیا تھا۔ اس افسوں نے روشن داد کی سب اکڑ ملیا میٹ کر کے رکھ دی تھی۔ اب وہ اکثر راتیں، ملک پور کی حویلی میں، الماس کے ساتھ گزارنے لگا تھا۔ یہ سب کیسے ہوا، کسی کو خبر نہ ہو سکی۔ سب لوگ بس اپنے اندازے ہی لگاتے رہ گئے۔

عروسہ فضل کا اس پر فکرمند ہونا عین فطری تھا۔ وہ پہلے کی طرح تمام معاملات سے فضل داد کو آگاہ رکھنا ضروری خیال کرتی تھی۔ الماس اور روشن داد کے بارے میں بات سنتے ہوئے۔ اس نے کئی بار فضل داد کی آنکھوں میں سخت غصہ محسوس کیا تھا۔ بے شک امید کے برخلاف فضل داد کے ہاتھوں پیروں میں ابھی تک کوئی باقاعدہ حرکت شروع نہیں ہوئی تھی، مگر عروسہ فضل اس کی آنکھوں سے ہی اس کی سوچ کو پڑھنے لگی تھی۔

رات کو فضل داد کی نگہداشت پر مامور کئی لوگوں نے محسوس کیا تھا کہ نیند کے دوران فضل داد کے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں میں کبھی کبھی ہلکی سی حرکت ہوتی ہے۔ انہی خدمت گاروں کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار ہی سہی اور نہایت معمولی ہی، مگر وہ اپنے سر کو بھی نیند کے عالم میں غیر محسوس سی جنبش ضرور دیتا ہے۔

ادھر الماس نے روشن داد سے اجازت لے کر، ملک پور میں جو اپنے چند غریبوں کی رہائش کا بندوبست کیا تھا، وہ اب پھیلتا ہی چلا جا رہا تھا۔ اس کے بندے، آہستہ آہستہ مقامی آبادی کے ان لوگوں کو، جو روپے پیسے کے لحاظ سے، دوسروں کی نسبت کمزور تھے، بڑی بڑی رقمیں دے کر ان کے مکانات خرید رہے تھے۔ فضل داد کے اصل ہمدردوں کو یقین تھا کہ ان مکانوں کے خریدار خود اس قابل نہیں ہو سکتے کہ وہ اتنی بڑی رقوم کے مالک ہوں۔ جو سوچ انہیں زیادہ پریشان کر رہی تھی، وہ یہ کہ پھر یہ پیسہ اصل میں کہاں سے آ رہا ہے؟ کون ہے جو ملک فضل داد کی دشمنی میں یہ سرمایہ کاری کر رہا ہے؟

منشی چراغ دین کی نظر میں یہ کوئی گہری سازش تھی۔ اس نے اپنے اس خیال کا اظہار احمد دین سے کیا۔ احمد دین نے نیاز علی اور فراز علی سے مل کر اس بارے کافی غور و فکر کیا۔ آخر تینوں کا فیصلہ یہ تھا کہ اپنے خدشات سے روشن داد کو آگاہ کیا جائے۔ خلاف توقع روشن داد نے ان کی بات کو اہمیت ہی نہ دی۔

روشن داد نے تو اب شام کے وقت اپنے برطانیہ والے دوستوں سے رابطہ کرنا بھی بند کر دیا تھا۔ کرسٹینا کو تو جیسے وہ اب بھول ہی چکا تھا۔ البتہ مسعود چیمہ سے ملنے کبھی کبھار ضرور چلا جاتا تھا۔ وہ بھی وقت بے وقت اور بس چند لمحوں کے لئے۔ مسعود چیمہ نے روشن داد میں ہونے والی تبدیلیوں کا اچھا خاصا نوٹس لیا تھا مگر کچھ کہنے سے پہلے وہ ابھی مزید انتظار کرنا چاہتا تھا۔

00000000000000

وقت کے ساتھ ساتھ روشن داد نے الماس کو اپنی زندگی میں اس قدر شامل کر لیا تھا کہ اب وہ بڑی بڑی پارٹیوں میں بھی اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا تھا۔ ایسی ہی ایک پارٹی میں پلوشہ پاشا بھی موجود تھی۔ پلوشہ کو روشن داد کی طرف سے تمام معلومات ملتی رہتی تھیں۔ اس پارٹی میں روشن داد کے آنے کی بھی اسے پہلے سے خبر تھی۔ دراصل روشن داد میں اس کی دلچسپی ابھی تک قائم تھی۔ بے شک یہ دلچسپی کوئی محبت وغیرہ کے جذبات سے بالکل خالی کسی اور ہی مقصد کے لئے تھی۔

اس پارٹی میں آنے سے پہلے اس نے کچھ منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی۔ چنانچہ جب الماس اور روشن داد سے اس کی علیک سلیک ہو چکی تو اس کی چند قریبی دوست لڑکیاں، الماس سے باتیں کرتے کرتے اسے گھیر کر ایک طرف لے گئیں۔ اب پلوشہ پاشا وہاں روشن داد کے ساتھ تنہا رہ گئی۔ یہ موقع حاصل کرنے کے لئے ہی اس نے پلاننگ کی تھی۔ تھوڑی سی تمہید کے بعد اس نے روشن داد سے کرسٹینا کے بارے میں پوچھا تو اسے جواب ملا

”کرسٹینا اب میرے ماضی کے اندھیروں میں گم ہو چکی ہے“ ۔
”وہ کیوں؟ آپ کو تو اس سے شدید قسم کی محبت تھی؟“ ۔
”مجھے لگتا ہے، اس کا دماغ اب کام نہیں کرتا۔ اس نے میری طرف سے شادی کی دعوت کو یکسر ٹھکرا دیا ہے“ ۔
”مگر آپ نے تو کہا تھا کہ وہ بھی آپ سے بہت محبت کرتی ہے“ ۔

”یہ تو وہ اب بھی کہتی ہے مگر شادی کرنا نہیں چاہتی۔ اب ذرا تم ہی بتاؤ، میں محبت کے بارے میں اس کے دعوے پر کیسے اور کیوں یقین کر لوں؟“ ۔

”آپ نے ہی بتایا تھا، آپ دونوں کے درمیان جسمانی تعلقات بھی رہے ہیں اور خوب جوش و خروش سے رہے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ وہ ان تعلقات کے دوران ایک بہت اچھے پارٹنر کا رول پلے کرتی رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس نے صرف محبت کا دعویٰ ہی نہیں کیا بلکہ اس کا ثبوت بھی دیا ہے“ ۔

”مگر وہ مجھ سے شادی کرنے کو تیار نہیں۔ میری بیوی بننے سے انکاری ہے“ ۔

اس پر پلوشہ نے پوچھا ”اگر کوئی عورت کسی مرد سے محبت تو کرتی ہو لیکن اس سے شادی کر کے اس کی بیوی بننا نہ چاہتی ہو تو کیا آپ اس کی محبت کو محبت ہی نہیں مانیں گے؟“ ۔

روشن داد بولا ”محبت کی تکمیل تو مکمل طور پر ایک دوسرے کا ہو جانے میں ہی ہے، اور اس کا واحد طریقہ شادی ہے“ ۔

پلوشہ نے اس کی بات کاٹی ”جی نہیں! آپ تو صرف ایک ایسے مرد کی زبان بول رہے ہیں جو محبت کی الف ب بھی نہیں جانتا۔ وہ تو بس محبت کے نام پر ایک عورت کے بدن کو اپنی ملکیت بنا کر اپنی قید میں رکھنا چاہتا ہے۔ اور شاید اس کے لاشعور میں کہیں یہ خواہش بھی پنہاں ہے کہ بعد میں وہ اس عورت کی تذلیل کر سکے یا اسے ٹھکرا سکے۔ ٹھکرانے کے لئے پہلے حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے“ ۔

”نہیں نہیں، میری ایسی کوئی خواہش نہیں تھی۔ میں تو اسے دل و جان سے اپنا بنانا چاہتا تھا“ ۔

”آپ کو ایک بات بتاؤں؟ ہم نسل در نسل طوائف ہونے کے باوجود بھی کسی نہ کسی سے محبت کر بیٹھتی ہیں مگر ہم نہ اس سے شادی کرتی ہیں اور نا ہی اپنے دل میں اس کی جگہ کسی اور کو دیتی ہیں۔ ہماری محبت مرتے دم تک اسی کی رہتی ہے۔ خواہ ہمیں بستر کی سانجھ کسی سے بھی بنانی پڑ جائے“ ۔

”مجھے یہ محبت سمجھ نہیں آتی“ ۔
”اچھا چھوڑئیے اس بات کو، یہ بتائیے، الماس کو انگلش میں کیا کہتے ہیں؟“ ۔
”الماس کو؟ نہیں میں نے کبھی اس ڈائریکشن میں سوچا ہی نہیں“ ۔
”الماس کو انگریزی میں ڈائمنڈ کہتے ہیں۔ اردو میں ایک اور لفظ بھی ہے اس کے لئے، اور وہ ہے ہیرا“ ۔

روشن داد، اب ذرا ہوشیار ہو چکا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ پلوشہ دراصل کس ’الماس‘ کے بارے میں بات کر رہی ہے۔ وہ بولا

”تم صاف صاف بتاؤ، تم کہنا کیا چاہتی ہو؟“ ۔

”کچھ خاص نہیں، بس اتنا ہی کہ ہیرا صرف بناوٹ سجاوٹ کے لئے ہوتا ہے۔ یہ انسان کا دوست نہیں ہوتا بلکہ اس کے دشمن پیدا کرتا ہے۔ پرانے زمانوں میں بادشاہ اور شہزادیاں اسے خود کشی کے لئے استعمال کرتے تھے“ ۔

”خود کشی کے لئے؟“ ۔

”جی ہاں! یہ اگر سانس کی نالی میں چلا جائے تو اسے مکمل طور پر کاٹ کر رکھ دیتا ہے اور انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے“ ۔

”مجھے تمہاری کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی“ ۔

”کچھ معاملات کے بارے میں، کچھ خاص حالات میں، انسان سوچنے سمجھنے کی طاقت سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ عام سی انسانی فطرت ہے۔ آپ بس اتنا یاد رکھیں کہ الماس اسی ہیرے کے لئے استعمال ہونے والا دوسرا لفظ ہے“

0000000000000000

روشن داد بے شک اکثر ملک پور آتا اور وہاں راتیں بھی گزارتا تھا مگر وہاں کے سیاسی معاملات میں وہ کوئی دلچسپی نہیں لے رہا تھا۔ روشن آباد کے تمام کاروباروں سے اس نے اچھی خاصی جانکاری حاصل کر لی تھی اور ان کے دفاتر میں بھی آتا جاتا رہتا تھا۔ ملک فیاض احمد اور ملک نیاز احمد اسے وہاں کے کاروبار کی ہر حرکت سے آگاہ رکھے ہوئے تھے۔

تیزی سے گزرتا ہوا وقت عروسہ فضل کی فکر میں اضافہ کر رہا تھا۔ منشی چراغ دین سمیت ملک پور کے پرانے لوگوں کی پریشانی بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہاں ایک ایسا واقعہ ہو گیا، جس نے وہاں کے پرانے لوگوں کی نیندیں ہی حرام کر دیں۔

ملک پور کے نئے باسیوں نے پہلے پرانی مسجد کے انتظامی معاملات کو لے کر جھگڑا کیا اور بعد میں اپنی ایک علیحدہ مسجد بنا لی۔ بات یہیں تک نہیں رکی۔ الماس کی وہاں آمد کے چھ ماہ کے اندر اندر صرف ملک پور میں چار مسجدیں بن چکی تھیں۔ وہاں کے باسیوں کا آپسی اتحاد پارہ پارہ ہو چکا تھا۔

پھر وہاں بس جانے والے نئے لوگوں نے ایسے کئی چھوٹے چھوٹے کارخانے لگا لئے جہاں کیمیکلز کا کام ہوتا تھا۔ بے شک یہ ذرا بڑے بڑے گھروں میں بنی ہوئی چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں تھیں مگر وہاں سے جو کیمیائی فضلہ گلیوں کی نالیوں سے گزر کر کھیتوں تک پہنچ رہا تھا، وہ وہاں کی زمینوں کو تباہ کر رہا تھا۔ ہری بھری فصلیں پیدا کرنے والی زرخیز زمینیں، سیم تھور کا شکار ہو رہی تھیں۔ یہ فیکٹریاں تھیں تو نئے باسیوں کی مگر یہاں کام کرنے والے زیادہ تر پرانے باسی ہی تھے، جو یہاں اچھی اچھی تنخواہیں لے رہے تھے۔ اب ان کی ہمدردیاں بھی نئے مالکان کے ساتھ ہو گئی تھیں۔

ملک پور کے باہر دوسرے علاقوں میں بھی مسجدوں کی تعداد بڑھنے لگی اور آئے دن مختلف مسالک کے لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے بھی ہونے لگے۔ ہر مسلک والے دور دور سے اپنے علما کو بلاتے۔ وہ علما جو بڑے بڑے معاوضوں پر بلائے جاتے تھے، آ کر اپنی شعلہ بیانی سے مخالفوں کے دلوں میں لگی ہوئی آگ کو اور بھڑکا دیتے۔ جھگڑے مزید بڑھ جاتے۔

00000000000000

عروسہ فضل کی فکرمندی سے یہ تو ہوا کہ فضل داد کے ڈاکٹروں نے اس کی فزیوتھراپی پر اپنی توجہ بڑھا دی۔ فضل داد اب کبھی کبھی اپنے

ہاتھوں پیروں کو پہلے کی نسبت زیادہ حرکت دینے میں کامیاب ہو جاتا تھا، مگر یہ فرق بہت ہی معمولی سا تھا۔ پھر اس کی زبان ابھی تک گنگ تھی۔ ڈاکٹروں نے اپنی کوششیں تیز کر دیں تو اتنا ضرور ہوا کہ اب فضل داد کو اٹھا کر وہیل چیئر پر بٹھایا جا سکتا تھا۔ لیکن ڈاکٹر ابھی اسے زیادہ حرکت دینے سے منع کر رہے تھے۔

000000000000

نیاز علی اور فراز علی نے اپنے باپ اور دادا کے کہنے پر روشن داد کو اصل حالات سے آگاہ کرنے کے لئے اپنی تگ و دو جاری رکھی۔ وہ باری باری کسی واقعہ کا ذکر اس سے کر دیتے، جو ظاہر کرتا کہ اب اس علاقے میں ان کی سیاسی ساکھ بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ ان کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخرکار ایک دن روشن داد کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔

جب روشن داد کو اصل حالات سے آگاہی ہوئی، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ اب بھی جب الماس سے کچھ پوچھتا تو وہ اس کی جان کی قسمیں کھا کر کہتی کہ وہ ان تمام معاملات سے لاعلم ہے۔ وہ تو صرف اپنے چند غریب اور نادار لوگوں کو وہاں آباد کرنے تک کا ہی مانتی تھی۔ باقی لوگ کہاں سے اور کیوں آئے؟ یہ سب تو اس کی سمجھ سے بھی باہر تھا (اس کے بیان کے مطابق) ۔

ملک فضل داد، ملک فیاض احمد اور ملک نیاز احمد کے انتخابی حلقوں میں جہاں کبھی کوئی ان کے مد مقابل الیکشن لڑنے کی جرات نہیں کرتا تھا، اب ان کی سیاست پر کھلے عام انگلیاں اٹھائی جا رہی تھیں۔ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اب ان حلقوں سے ان کا الیکشن جیتنا نہایت مشکل ہے۔ اگرچہ ابھی تک کوئی بڑا مخالف سامنے نہیں آیا تھا لیکن ہر سیاسی سوجھ بوجھ والا انسان محسوس کر رہا تھا کہ اگر چند مخالفین نے بھی ان کے خلاف اتحاد کر لیا تو وہ یقیناً ہار جائیں گے۔ ان کی سیاسی ہار ان کے کاروبار کا بھی نقصان بن سکتی تھی۔

نا امیدی کے اس ماحول میں جب کہ مایوسی نے فضل داد کے متعلق ہر شخص۔ ہر ہمدرد کو بری طرح گھیر لیا تھا، ایک معجزہ ہوا۔ ملک فضل داد رات کو کسی ڈراؤنے خواب کے دوران بری طرح تڑپا اور پھر چیخ پڑا۔ یہ چیخ جیسے بھی اذیت ناک احساس کی وجہ سے ہوئی ہو مگر اس سے فضل داد کی قوت گویائی لوٹ آئی۔ بیشک وہ اب بھی وہیل چیئر پر ہی تھا مگر اب وہ بات سننے اور کرنے کے لئے پوری طرح ہوش میں آ چکا تھا۔

Facebook Comments HS