گل بدن کی خوشبو (افسانہ)


چودھری دلاور اپنے باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ تمام جائیداد کا واحد مالک ہونے کے ساتھ ساتھ گاؤں والوں کے سربراہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ میلوں پھیلی زمینوں پر جب فصلیں اپنے جوبن پر ہوتیں تو دلاور کا سینہ فخر سے اور باہر نکل آ تا تھا۔ گاؤں کا اکیلا چودھری تھا۔ وہ اپنے باپ کی وفات کے بعد باپ کی ریتی، رواج کو قائم رکھے ہوئے تھا۔ غریب غربا پر شفقت برتتا تھا۔ یہ روایت کئی نسلوں سے برقرار تھی۔ چودھری دلاور کا بھی ایک ہی بیٹا تھا۔

اس کی پیدائش پر ایک ہفتہ تک جشن جاری رہا۔ سب گاؤں والوں کو بھی شامل کیا گیا۔ چودھری دلاور نے اس کا چودھری سکندر نام رکھا تھا۔ چودھری سکندر کی پرورش شہزادوں کی طرح کی گئی تھی۔ والدہ اور نانی نے لاڈ پیار سے اسے ضدی بنا دیا تھا۔ بچپن سے ہی اسے کچھ لالچی اور خوشامد کرنے والے دوست مل گئے تھے۔ اپنی ضروریات پوری کرتے اور اسے عیش و عشرت کا عادی بنا دیا تھا۔ چودھری دلاور اپنے بیٹے کو ایک اچھا انسان دیکھنا چاہتا تھا جو اس کے بعد اس کا نام روشن کرے لیکن سکندر اس کی امیدوں پہ پانی پھیرتے ہوئے اپنی ہی دنیا میں مست رہنے لگا تھا۔ میلوں ٹھیلوں کا رسیا سکندر اپنے والد کی بات نہ مانتا تھا۔ چودھری دلاور جو پورے گاؤں کا سربراہ تھا۔ اربوں کی جائیداد کا مالک تھا۔ یہ سب کچھ اس نے بہت سنبھال کر رکھی تھی اسے مزید بڑھایا تھا۔ یہ سب کچھ سکندر کا ہی تھا۔

وقت کا دھارا بہتا جا رہا تھا بڑھاپے کا ریلا چودھری دلاور کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ سوچوں نے چودھری دلاور کو دمے کا مریض بنا دیا۔ بیٹا اپنے والد کی لاٹھی بنتا مگر چودھری سکندر کو کوئی فکر نہ تھی۔ چودھری دلاور کو سوچیں دیمک کی طرح کھوکھلا کر چکیں تھیں۔ اسی دیمک نے چودھری دلاور کی زندگی کو چاٹ لیا تھا۔

سکندر پورے گاؤں کا مالک بن بیٹھا جو تھوڑا والد کا خوف تھا وہ بھی جاتا رہا۔ اپنی مرضی کے فیصلے سب پر مسلط کرنے لگا۔ گاؤں والوں سے رویہ بھی سخت رکھا۔ لحاظ اور مروت اس کی آنکھوں سے جا چکی تھی۔ خوشامدی دوستوں کا ہجوم ارد گرد منڈلاتا رہتا تھا۔ آہستہ آہستہ فصلوں کی پیداوار میں کمی آ نے لگی۔ ایک دن والدہ نے سمجھایا کہ اپنے باپ دادا کی دولت کو یوں اپنی آوارگی میں ضائع نہ کرو تو کہنے لگا۔

”بے بے! تو فکر نہ کر بہت زمینیں ہیں ان کو بیچ کر شہر میں فیکٹری لگاؤں گا“
ماں کے دل میں ہتھوڑا سا لگا اور اسے کہا:
”نہ سکندر تو فیکٹری کہاں چلا سکتا ہے۔ زمین نہ بیچنا یہ تو ہمارے خاندان کی شان ہے“

سکندر کب کسی کی سنتا تھا۔ اپنے دوست کے ساتھ شہر کے باہر فیکٹری کے لیے زمین کا سودا کر کے آ یا اور اپنی کچھ زمین بیچ ڈالی۔ دوست پر اعتماد کر کے کام اس کے حوالے کر دیا۔ دوست سکندر کی رگ رگ سے واقف تھا۔ وہ جانتا تھا اسے مزید کیسے کنگلا کیا جا سکتا ہے۔ وہ ایک دن سکندر کو طوائف کے کوٹھے پر لے گیا۔ جیسے ہی تنگ گلیوں سے گزرے گھنگرو کی چھن چھن اور عطر و گلاب کی خوشبو سکندر کے انگ انگ پر رقص کرنے لگی۔ جیسے عجیب سی دنیا میں پہنچ گیا تھا۔ دروازے کا پردہ ہٹا کر سکندر اور اس کا دوست داخل ہوئے تو سکندر کی نظر ایک سولہ سنگھار کیے کوئی لگ بھگ پچاس سالہ خاتون کلے میں پان دبائے پان دان کی ڈبیا پاس رکھے سپاری کاٹنے میں مصروف نظر آئی۔ سکندر کو دیکھ کر بھانپ گئی کہ اچھا شکار پھنس گیا۔

”جو یہاں آ گیا جب تک میں نہ نکالوں تب تک جانے کا نہیں“ خودکلامی کرتے ہوئے اس نے چودھری کی طرف دیکھا۔ ”دوست نے تعارف کروایا تو خاتون بولی“ آئیے آئیے چودھری صاحب تشریف رکھیے۔ ”دوسرے لمحے ایک دوشیزہ سے کہا،“ او چندو چودھری صاحب کی کوئی خاطر کرو پان، شربت پیش کرو، تکیہ پیش کرو ”

”نہیں نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ گل بدن کہاں ہے؟ اس کا جلوہ دیکھنے آئے ہیں چودھری صاحب“ چودھری سکندر کے دوست نے کن اکھیوں سے چودھری کی طرف دیکھ کر کہا۔

” گل بدن ہر کسی سے نہیں ملتی وہ عام رقاصہ نہیں ہے بہت خاص ہے۔ تمھیں اس کی ایک جھلک کی قیمت پتہ ہے نا“

اس عورت نے دوسرا پان کلے میں دباتے ہوئے جھوم کراس انداز سے کہا کہ اس کی ساڑھی کے ہاف بلوز سے موٹا سا لٹکتا ہو پیٹ بھی جنبش میں آ گیا۔

”آپ فکر نہ کریں جی! چودھری سکندر ہے یہ سو مربعوں کا مالک۔ ایک فیکٹری بھی لگا رہا ہے جی!“ سکندر کے دوست نے خوشامد کی۔

چودھری سکندر صرف گل بدن کے خیالوں میں کھو چکا تھا۔

اس عورت نے جو ہر روز گل بدن کا سودا کرتی تھی اس نے ایک ملازم کو آ واز دی اور گل بدن کو بلانے کے لیے کہا۔

سکندر کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔ کہ اچانک اس کے کانوں میں چوڑیوں کی کھن کھن اور گھنگرو کی جھنکار کی آواز سنائی دی۔ چوکنا ہو کر بیٹھ گیا۔ ادائیں دکھاتی مٹک مٹک کر دھیمے قدموں سے گل بدن اس بڑے سے ہال میں داخل ہوئی جہاں ہر روز نہ جانے کتنی ہی حرص و ہوس سے اٹی نظریں اس کے بدن اور روح کو چھلنی کرتی تھیں۔ اب تو اسے ان زخموں کا احساس تک نہ ہوتا تھا۔ گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لبوں پہ مصنوعی مسکراہٹ سجائے چودھری سکندر کے پاس آ کر بولی آداب جناب۔

سکندر کی ایک نگاہ اٹھی تھی کہ وہ گل بدن کے حسن و ادا کا اسیر ہو گیا۔ ساز بجنے لگے گل بدن کے پاؤں تھرکنے لگے۔ جام گردش کرنے لگے ہوش اڑنے لگے۔ رات کب گل بدن کے پہلو میں گزر گئی سکندر کو پتہ ہی نہ چلا۔ جتنے پیسے پاس تھے سب گل بدن کے جلوے کی نذر ہو گئے۔

صبح اس بڑی طوائف نے سکندر کو ہاتھ پکڑ کر دروازے سے باہر نکال دیا۔ سکندر کا دل دماغ یہیں رہ گیا اور بے جان جسم لے کر گھر پہنچا تو ماں نے سوال جواب کیے لیکن سکندر کو ایک طوائف کے نشے نے خاموش ہی رہنے دیا۔ کچھ دن گزرے تھے کہ سکندر نے اپنے دوست سے کہا کہ گل بدن کے پاس لے چلے۔ اس بار بھی سکندر نے اپنے گھر والوں سے چوری اپنے ساتھ کے گاؤں والے چودھری کے ہاتھ زمین کا ایک ٹکڑا بیچ دیا۔ پیسے لے کر گل بدن کے کوٹھے پر پہنچا۔ تو وہاں بہت زیادہ چہل پہل تھی ہر طرف مٹھائی بانٹی جا رہی تھی۔ بڑی طوائف نے سکندر کو دیکھا تو کہنے لگی:

”آؤ چودھری صاحب! آپ بھی مٹھائی کھائیں۔ دل بھر کر کھائیں۔“
”یہ مٹھائی کس خوشی میں ہے؟ سکندر نے حیرت سے پوچھا۔
”ہمارے ہاں ایک بیٹی آئی ہے چاند بی بی کے ہاں بیٹی ہوئی ہے۔“ اس بڑی بی نے جواب دیا۔

ان طوائفوں کے ہاں اگر بیٹی ہوتی ہے تو وہ بہت خوشیاں مناتی ہیں اور مٹھائی تقسیم کرتی ہیں اور اگر بیٹا ہو تو سوگ کا سماں ہوتا ہے۔ بیٹی کو خوش بختی کی علامت قرار دیتی ہیں۔

سکندر گل بدن کے لیے بے چین ہو رہا تھا۔ رات کا اندھیرا بڑھ رہا تھا۔ انتظار کرتے کرتے سکندر تھک گیا۔ لیکن وہ گل بدن کے بنا نہیں جائے گا۔ بڑی بی سکندر کو گل بدن کے کمرے میں لے گئی۔ سکندر نے گلبدن کو دیکھا جیسے اسے دنیا جہان کی دولت مل گئی ہو۔ گل بدن کی اداؤں میں کھو کر ساری رات وہیں گزار دی۔ سارے پیسے بڑی بی لے چکی تھی۔ سکندر اب گل بدن سے دور نہیں رہ سکتا تھا۔

”گل بدن! تم مجھ سے شادی کرو گی؟ میں تمھیں اپنی بیوی بنا کر عزت دوں گا۔“ سکندر نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

”ہماری زندگی میں کوئی ایک شخص نہیں رہ سکتا۔ مجھ جیسی سے کوئی کیوں کر شادی کرے گا؟ لوگ دل بہلانے کا سامان سمجھتے ہیں۔ تو مجھے عزت نہیں دے سکتا۔“ اس نے سوچ میں ڈوبی آ واز سے کہا۔ اس کے اندر کی عورت نے سر اٹھایا ہی تھا کہ کچھ سوچ کر پھر ریت کی دیوار کی طرح ڈھے گئی۔

”میں کروں گا تجھ سے شادی“

سکندر نے ہاتھ پکڑ کر چوما اور بڑی بی سے گل بدن کی شادی کی بات کی۔ بڑی بی نے قہقہہ لگایا اور پھر کچھ سنجیدگی سے بولی:

”سوچ لو تم ایک طوائف کے کوٹھے پہ کھڑے ہو کر عزت دینے کی بات کر رہے ہو جہاں جو بھی آ یا عزت لوٹنے ہی آ یا“

”سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ میں عزت دوں گا“ سکندر سنجیدہ ہو گیا۔
”اچھا اپنے ماں باپ کو لاؤ وہ اسے بیاہ کر لے جائیں۔ ایسا کر سکتے ہو؟“ بڑی بی نے کہا۔

سکندر سوچ میں پڑ گیا، اس کے خاندان کا کوئی فرد بھی نہیں مانے گا۔ سکندر کے لب سل چکے تھے۔ گل بدن اس کی بے بسی دیکھ رہی تھی لیکن کچھ لمحوں کے لیے اس کی اندر کی عورت نے اسے ایک امید دلائی تھی۔ جو سکندر کو خاموش دیکھ کر دم توڑ چکی تھی۔ سکندر لڑکھڑاتے قدموں سے باہر نکل گیا۔

بڑی بی نے گل بدن کو سمجھایا کہ، ”شادی کا خواب نہ دیکھو مگر اس کی دولت سمیٹو۔

سکندر کا دل گل بدن میں اٹک چکا تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنی ساری زمینیں بیچ کر گل بدن کے ساتھ کچھ راتیں گزارنے میں اجاڑ دی۔ اب اپنی ماں کا خاندانی زیور بھی گل بدن کو دیتا رہا کہ ایک دن وہ اس سے شادی کر لے گی۔ بڑی بی ہر روز کوئی نیا مطالبہ کر دیتی کہ یہ شرط پوری کر دو پھر وہ گلبدن کی شادی کر دے کی لیکن یہ چودھری سکندر اس کے لارے اور بہانے دیکھتے دیکھتے کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا۔ اب نہ اس کے پاس زمین رہی نہ گھر رہا نہ چودھراہٹ رہی۔ صرف گل بدن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کوٹھے پر دن سے رات اور رات سے دن تک کا انتظار کرتا رہتا۔

سکندر کی والدہ بیٹے کے غم میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اب سکندر کے پاس صرف طوائف کا کوٹھا تھا جہاں اسے ذلیل کیا جاتا تو باہر گلی میں بیٹھا رہتا۔ اس امید نے اسے آج بھی زندہ رکھا ہے کہ گل بدن اس کی ہے اور وہ ایک دن اس سے شادی کر لے گی۔ کوٹھے کی گلی میں گلبدن کی خوشبو میں اس کا وقت گزرتا ہے۔

ڈاکٹر شگفتہ خورشید

Facebook Comments HS