ظلم ،ظالم اور مظلوم
نو آبادیاتی نظام اور جدید نظام نے دنیا بھر میں سے انسانیت نامی مادے کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ کہیں کہیں بے حسی کے ملبے تلے چند چنگاریاں ضرور ہیں جو کبھی کبھی بھڑک اٹھتی ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر یہ کرہ ارض صرف سرمایہ دارانہ نظام کا تابع ہو چکا ہے۔ طاقت کا بلاواسطہ تعلق نت نئے جوہری ہتھیار ہیں جن کا حصول یقینی طور پر سرمایہ کے بغیر ممکن نہیں۔ تو جہاں سے سرمایہ کی تقسیم ہوتی ہے وہیں پر کہیں اسلحہ سازی بھی کی جا رہی ہوتی ہے۔ گھوم پھر کر دیا گیا سرمایہ دوگنا ہو کر واپس وہیں پہنچتا ہے جہاں سے نکلتا ہے۔
انہیں جنگی حالات سے سرمایہ دارانہ نظام دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا ہے اور کرتا رہا ہے۔ اور یہ طریقہ واردات آج سی نہیں نسلوں سے عام ہے۔ وادی یثرب میں اوس اور خزرج کو ہتھیار دینے والا ایک ہی قبیلہ تھا وہ سارا سال کھیتی باڑی کرتے اور جنگ کرتے جب کٹائی کا وقت آتا وہ اپنی ساری جمع پونجی اسی یہودی قبیلے کو دیتے پھر اپنے کھانے پینے کے لئے انہیں سے سود پر ادھار لیتے۔ وہ قبیلہ ان دو قبیلوں کی جنگ میں پھلتا پھولتا رہا۔
فلسطین اور اہل غزہ کے معاملے میں بھی کچھ یہی طریقہ واردات نظر آتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ اہل غزہ نے اسی قبیلے سے جنگ مول لے لی ہے جہاں سے سب کا دانہ پانی چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیس لاکھ کی آبادی والے ایک چھوٹے سے خطے کو کہ جس کا رقبہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے بھی کم ہے بڑی بڑی طاقتوں اور ملکوں نے دہشتگرد قرار دے دیا ہے۔ اور وہاں دن رات آگ برسائی جا رہی ہے بچوں عورتوں اور بوڑھوں کا بلا امتیاز قتل عام کیا جا رہا ہے اور بڑے بڑے ملک اور قوتیں بغلوں میں ہاتھ دبائے انسانیت کو ملیا میٹ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
ابھی کل ہی اسرائیل کے فضائی حملے میں ایک ہسپتال مکمل طور پر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں پانچ سو بے گناہ لوگ لقمہ اجل بن گئے لیکن اقوام متحدہ سوتی رہی اور دوسرے بین الاقوامی امن قائم کرنے والے ادارے بھی بھنگ پی کر سوئے رہے۔ امریکہ اپنے بحری اور فضائی بیڑے اسرائیل کی حفاظت کے لئے بھیج چکا ہے۔ یاد رہے کہ یہ اسرائیل اپنے آپ کو ناقابل شکست سمجھتا اور اپنے دفاعی نظام کو دنیا کا نا قابل تسخیر دفاعی نظام گردانتا ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو ایک چند سو کلومیٹر کی ساحلی پٹی پر آباد، باہری دنیا سے تعلق اسرائیل اور مصر کے مرہون منت 58 فیصد آبادی بچوں پر مشتمل یہاں تک کہ پانی اور بجلی کے لئے بھی قابض افواج کے مرہون منت ہیں۔
ان سب واقعات اور حالات کو ملا کر دیکھا جائے تو ایک تصویر تو واضح نظر آتی ہے۔ ظلم کی تعریف وہ تو بالکل بھی نہیں ہے جو ہم آج تک پڑھتے اور سنتے آئے ہیں بلکہ ظلم وہ ہے جسے یہ سرمایہ دارانہ نظام ظلم کہے۔ مظلوم وہ نہیں ہے جو ایک حملے میں ہسپتال میں موجود 500 لوگ کھو دے بلکہ مظلوم تو وہ ہے جس کی حمایت سرمایہ دارانہ نظام کر دے۔ اور چھوٹے ملکوں اور خطوں کے پاس ان کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ورنہ کا حال بھی اہل فلسطین و غزہ کی طرح ہو جائے گا۔ دعا ہے کہ اقوام متحدہ کی آنکھ جلد کھلے اور ”ظالم کے اوپر ہوتے ہوئے ظلم اور ظلم کرتے ہوئے مظلوم“ کا فیصلہ کر سکے۔


