فکر کا جنازہ ہے ذرا دھوم کے نکلے
میں نے آج تک پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا پر جو کچھ ( کالم بلاگز، مضامین) لکھا ہے۔ اس سے دستبردار ہو رہا ہوں۔ میری تحاریر و تقاریر سے اگر کسی کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور ذاتی جذبات اور اعتقادات مجروح ہوئے ہیں تو معذرت خواہ ہوں۔ میرا کسی سیاسی، سماجی، مذہبی اور ذاتی پارٹی سے تعلق نہیں ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ نہ مجھے الہام ہوا ہے اور نہ ہی کسی نے مجھے اسے لکھنے اور بولنے پر مہمیز کیا ہے۔ میں آج سے گوشہ نشین ہو جاؤں گا اور اپنے کام سے کام رکھوں گا۔
میری یہ گزارشات بطور معافی نامہ قبول کی جائیں اور مجھے محب وطن ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیا جائے۔ یہ معافی نامہ کیوں پیش کیا گیا ہے اور اس کے پیش کرنے کی وجہ کیا ہے۔ اس معافی نامہ کے پس منظر میں میری فکر کی باغیانہ جولانی کا عنصر کارفرما ہے جس نے مجھے اس عمل پر اکسایا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے رب تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتوں اور معدنیات سے نواز رکھا ہے۔ اس ملک کے پاس تمام وسائل موجود ہیں۔ یہ ملک دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔
بہت جلد یہ ملک دنیا کی دسویں بڑی تجارتی منڈی بننے جا رہا ہے۔ پاکستان کی شرح خواندگی نوے فیصد اگلے پانچ برس میں ہو جائے گی۔ پاکستان میں کوئی شخص رشوت نہیں لیتا اور نہ کسی کو یہاں بد دیانت اور راشی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ہم آہنگی اور رواداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ پاکستان کی سرحدیں ہر قسم کے خطرات سے نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ محافظوں کے ہوتے ہوئے کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں ہے۔ پاکستان میں کوئی بھوکا پیٹ نہیں سوتا۔
غربت کا تصور پاکستان میں مٹ چکا۔ ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے ہر گھر میں موجود ہیں۔ پاکستان میں چاروں موسم اپنی نعمتوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہ ملک ایک دن پوری دنیا کو فتح کرے گا اور اسلام کا جھنڈا ہر دشمن اور مخالف ریاست کے دارالحکومت پر گاڑے گا۔ اب آپ یہ کہیں گے کہ نہیں، نہیں ؛یہ ملک اتنا بھی اچھا نہیں ہے۔ کچھ چیزیں اس ملک میں ٹھیک ہیں اور کچھ نہیں ہے۔ اب میں یہ کہتا ہوں کہ اس ملک کی سیاست نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔
سیاست دانوں نے اس ملک کو اتنا لوٹا ہے کہ اب لوٹنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ اس ملک کے محافظوں نے اس ملک کے نظام کو کٹھ پتلی بنا رکھا ہے۔ بھاگیں اپنے ہاتھ میں لے کر رقص بے حسی سے لطف اٹھاتے ہیں۔ پاکستان میں غربت اپنی آخری حد کو چھو رہی ہے۔ غریب روٹی کے لیے مر رہا ہے اور والدین خودکشیاں کر رہے ہیں۔ مہنگائی نے اس ملک کی عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ بجلی اتنی مہنگی ہے کہ روشنی میں بیٹھنے کو عوام ترس گئی ہے۔
بنیادی ضرورتوں کی عدم دستیابی نے اس ملک کو دنیا کے پلیٹ فارم پر اس قدر شرمسار کیا ہے کہ منہ چھپانے کے لیے منہ ہی نہیں رہا۔ مساجد سے لے کر ایوان سیاست تک ہر شخص اپنے مفادات کے تحفظ میں غرق ہے۔ کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس ملک کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔ اس ملک کا اپنا کوئی جداگانہ تشخص نہیں ہے۔ اس ملک کے بنانے والوں نے اسے ایسا بنایا ہے کہ اس کے ساتھ جتنا متھا مار لیا جائے اور اس کی دم سیدھی کرنے کی کوشش کی جائے۔
یہ کسی صورت درست راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ اس ملک میں جس کے ہاتھ لاٹھی ہے ؛اسی کی بھینس ہے۔ یہاں جس کا بس چلتا ہے ؛ وہی سڑک پر چلتا ہے۔ قانون نام کی کوئی چیز یہاں نہیں ہے۔ اداروں کی باہمی چپقلش اور بد دیانتی نے ملک کو حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ زرعی زمین کو پلاٹ در پلاٹ کر دیا ہے۔ اس ملک میں آزادی سے رہنا، آزادی سے لکھنا اور اپنا نکتہ نظر پیش کرنا شجر ممنوعہ ہے۔ یہاں معمولی سے مسلکی اور فقہی اختلاف پر بلاسفیمی کا مقدمہ درج ہوجاتا ہے۔
رضا مندی سے ڈیٹ پر جانے کے بعد بیچ راستے پکڑے جانے پر ریپ کا مقدمہ درج ہوجاتا ہے۔ بچیوں کو کام کا لالچ دے کر عزت سے کھیلا جاتا ہے۔ یہاں جس کے پاس دولت کا جتنا پیمانہ وسیع ہے۔ وہ اتنا ہی طاقتور اور بدمعاش ہے۔ شعور کیا ہے، فکر کیا ہے، تدبر کسے کہتے ہیں۔ آگہی کیا بلا ہے۔ ترقی کا فلسفہ کیا ہے۔ انسانیت سے کیا مراد ہے۔ ہم آہنگی اور رواداری کا مفہوم کیا ہے۔ یہ سب بکواس اور بیکار باتیں ہیں۔ مختصر یہ کہ اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا ۔
اب آپ یہ کہیں گے کہ ایسا بھی نہیں ہے۔ آپ جھوٹ اور حقیقت کے برعکس یہ بیان بازی کر رہے ہیں۔ یہاں قانون بھی موجود ہے اور عزت کے تحفظ کا منظم نظام بھی موجود ہے۔ مہنگائی ہے لیکن اتنی نہیں ہے۔ غربت ہے لیکن ذرا کم ہے۔ ادارے کرپٹ ہیں لیکن گزارہ ہو رہا ہے۔ بھوک مرنے مارنے والی نہیں ہے۔ شعور بھی ہے اور فکر بھی ہے۔ آزادی بھی ہے اور آزادی کی پریکٹس کے مواقع بھی ہیں۔ اچھا جی! چلے آپ کی بات مان لیتے ہیں۔ ذرا یہ بتائیے!
۔ مذکورہ دونوں آرا میں ایک رائے درست تو درست ہے نا! اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ یا تو میں پاگل، بے وقوف، جاہل اور حقیقت سے عاری ہوں یا پھر اس ملک میں وہ سب ٹھیک ہے جو ٹھیک ہے اور وہ سب غلط ہے جو در حقیقت غلط ہے۔ جھوٹے اور سچے کا فیصلہ کون کرے گا۔ جمہوریت اس ملک کا نظام سیاست ہے تو ایک ادارہ جمہوریت کی نسل کشی کیوں کر رہا ہے۔ بادشاہت اس ملک کے لیے زہر ساں ہے تو پھر ستر سالہ بڈھا شیر ملک کی تقدیر سنوارنے کی دھاڑیں کیوں مار رہا ہے۔
خلافت اگر بے سود ہو چکی ہے تو مساجد سے لبیک لبیک کے نعرے کیوں بلند ہو رہے ہیں۔ ملوکیت کا تصور ختم ہو چکا تو خفیہ طاقتوں کی ہرزہ سرائیاں کیوں پنپ رہی ہیں۔ آمریت کی یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے تو پھر پچھتر برس سے آمریت کو یہاں کیوں روا رکھا گیا ہے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ کچھ تو ہے جسے تاریخ کے اوراق میں دفنایا جا رہا ہے۔ کچھ تو ہے جو برابری کا ہوتا تو صبر آ جاتا۔ کچھ تو ہے کہ شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے۔
بات سیدھی سی ہے کہ جس معاشرے کو تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا۔ اس معاشرے کے افراد میں شعور، تعقل، تدبر، فکر اور تنقیدی تقابل کا رجحان پیدا ہو گا۔ ملک کے باسی کو ملک کی جملہ صورتحال پر رائے دینے سے، اچھے برے کی تمیز کرنے سے، اپنا نکتہ نظر واضح کرنے سے اور اپنی فکر کو (خواہ وہ سخت ترین اور لائق تعزیر کیوں نہ ہو) عام کرنے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی اجازت دینے ہو گی۔ آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے سے اختیار جبر کو مدوامت نہیں مل سکتی۔
جن معاشروں نے اپنے باسیوں کی فکر پر تالا لگایا اور شعور و تدبر کو قفس میں ڈالا ؛وہاں خوشحالی و ترقی اور ہم آہنگی و رواداری کا جنازہ ہی نکلا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس ملک کی جملہ صورتحال کا جنارہ نکل چکا ہے۔ اس جنازے کو کندھا دینے والے اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ہم تو شریک جرم ہیں اور ہم ہی لواحقین متوفیٰ بھی۔ خدا کے وجود اور اس کی اہمیت سے انکار کرنے والے بخشش و نجات عذاب سے محروم کر دیا جائے گا۔
یہ فیصلہ رب تعالیٰ کا ہے۔ اسی طرح ملک کے وجود اور اس کی بقا کے تصور سے انکاری کے لیے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ رب تعالیٰ کی طرح یہ ہر ریاست کا اٹل فیصلہ ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست جب خود ریاست کے مخالف ہو جائے تو پھر کس کو قصور وار گردانا جائے گا۔ ریاست کو دیس نکالا دیا جائے گا یا ریاست مخالف عناصر کو۔ جو ہو چکا، جو بیت چکا، جو گزر چکا۔ وہ ماضی تھا۔ ماضی کو فراموش کر کے آگے بڑھنے میں ہماری بھلائی ہے۔
باپ بوڑھا ہو جائے تو جوان بیٹے پر خاندان کی کفالت کی ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے۔ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں اور ہم جوان۔ اب ہمیں موقع دیں گے اور ہمیں سنیں اور ہم پر بھروسا کریں اور ہماری صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کے مواقع فراہم کریں۔ ہم مایوس نہیں کریں گے۔ اگر آپ ہمیں مایوس کریں گے تو پھر دنیا ہماری راہ دیکھ رہی ہے۔ ہم ایک بار گھر سے نکل گئے تو پھر واپس نہیں آئیں گے۔


