طوائف کا دوپٹہ کس نے چھینا؟


سن 72 میں ریلیز ہونے والی مشہور زمانہ فلم پاکیزہ کا شہرہ آفاق نغمہ ”انہی لوگوں نے لے لینا دوپٹہ میرا“ غلام محمد کی موسیقی میں سارنگی کی سنگت میں طبلے اور تالی کی تھاپ، لتا جی کی لوچ دار ادائیگی، مینا کماری کے باوقار رقص اور کمال امروہوی کے پرت در پرت سجائے ہوئے کوٹھے کے سیٹ جیسے حوالوں سے ہمیشہ میرا پسندیدہ گیت رہا ہے۔ البتہ مجروح کی شاعری اس گیت میں کبھی میری توجہ حاصل نہ کر سکی۔

اب یہ معروضی ملکی حالات کا تناظر تھا یا کچھ اور، پچھلے دنوں یہ گیت دوبارہ سنا تو اس کے الفاظ ذہن میں اٹک سے گئے۔

بازاری لہجہ کی اردو کے بظاہر عامیانہ سے بولوں میں ایک طوائف اپنے دوپٹے کے چھن جانے کی کہانی سنا رہی ہے۔ تین انتروں کے اس گیت کے پہلے انترے میں طوائف ایک بزاز کا ذکر کرتی ہے جس سے اس نے یہ دوپٹہ اشرفی گز کے ریٹ پر خریدا، جبکہ دوسرے انترے میں وہ ایک رنگریز کا ذکر کرتی ہے جس نے اس دوپٹے کو گلابی رنگ دے دیا۔

مجھے یوں لگا کہ یہ دو کردار ہمارے معاشرے کے دو طبقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بزاز ملک کی معاشیات کے ذمہ داروں کا نمائندہ ہے۔ زمیندار ہو یا کارخانہ دار یا دکاندار، یہ طبقہ ملک کا معاشی پہیہ گھمائے رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسے اپنی جیب میں آتی اشرفی سے غرض ہوتی ہے، اور اپنی پراڈکٹ کی کھپت کی فکر ہوتی ہے۔ یہ پراڈکٹ زرعی جنس ہو، مل کی پیداوار یا آئی ٹی کی خدمات، ہر شعبے سے وابستہ یہ ”بزاز“ ہر حال میں ملکی معیشت کا پہیہ گھومتا رہنے میں ہی اپنی بھلائی دیکھتا ہے۔

بزاز کے دوپٹے کو اپنے رنگ میں رنگنے والا یہ رنگریز معاشرے کا سیاسی اور سماجی رنگ طے کرنے والے طبقے کا نمائندہ ہے، ملکی سیاسی منظر نامے کا خالق یہ سیاستدان طبقہ ایک مشاق رنگریز کی طرح وہی رنگ رنگتا ہے جو بکتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہ رنگی تقسیم ایسی خلط ملط ہو گئی ہے کہ دائیں کا سبز اور بائیں کا سرخ کب کے ایک دوسرے میں مدغم ہو چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف طبقاتی تقسیم ایک خلیج کی شکل اختیار کر چکی ہے وہیں نظریاتی تقسیم ایسی حذف ہوئی کہ پیپلز پارٹی جیسی بائیں بازو کی جماعت بھی نہ صرف اپنے جھنڈے سے سبز رنگ نہ نکال پائی بلکہ اپنی سوشلزم پر ”اسلامی“ کا تڑکا لگانے پر بھی مجبور ہوئی۔

دوسری جانب واضح دینی پس منظر رکھنے کے باوجود طاہر القادری صاحب اپنی تحریک کو عوامی قرار دینے اور اپنے جھنڈے کو سرخی لگانے پر مجبور دکھائی دیے۔ اور پھر اپنے انصافی بھائیوں نے تو پورا پورا انصاف کرتے ہوئے آدھا لال آدھا ہرا انقلابی جھنڈا ایجاد کر ڈالا۔ آخر کو آل راؤنڈر کرکٹر کی پارٹی ہے وکٹوں کے دونوں جانب کھیلنے کی اہمیت ان سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔

دوپٹوں کا رنگ واضح اور غیر مبہم ہو تو تماش بین کو فیصلہ کرنے میں آسانی رہتی ہے کہ کون سی طوائف کیسا ناچی۔ اگلی ویل سبز دوپٹے والی کو ملنی ہے یا سرخ والی کو۔ ملکی سیاسیات میں نظریاتی تقسیم کی سرحدیں واضح ہوں تو ووٹر کو ایک واضح منشور کے حوالے سے کارکردگی جانچنے میں آسانی رہتی ہے۔ یہ سرحدیں مدھم پڑ جائیں تو بیچنے کو محض لفاظی اور کارکردگی کے نام پر صرف شعبدہ بازی رہ جاتی ہے۔ ایسے میں طوائف کے سر پر کسی رنگریز کا دوپٹہ سجے گا یا کوئی اسے سرکا لے جائے گا، اور شہر اقتدار میں عوام کا نمائندہ براجمان ہو گا یا کوئی اور یہ فیصلہ تماش بینوں کی ویلیں اور بیلٹ بکس کے ووٹوں کے بس سے باہر ہوجاتا ہے۔

بزاز اور رنگریز، دونوں بخوبی سمجھتے ہیں کہ طوائف کی سج دھج سلامت رہے گی تو ان کا کپڑا اور رنگ بکتا رہے گا۔ یہ طوائف کے عشق میں نہ سہی اپنی اپنی دکان چمکانے کے لئے ہی طوائف کی سج دھج برقرار رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تو پھر طوائف کے سر بازار اجڑنے اور معاشرے میں طوائف الملوکی پھیلتے جانے کا ذمہ دار کون ٹھہرا؟ چھ دہائیاں پہلے مجروح سلطان پوری نے تو گانے کے تیسرے انترے میں یہ راز فاش کر دیا تھا کہ بیچ بازار اس کا دوپٹہ سپاہیا نے چھینا ہے۔ کیا پچھتر سال میں ہمارا معاشرہ اس راز کو جان پایا ہے؟ شاید معاشرہ تو ہمیشہ سے جانتا رہا ہے، لیکن کیا ہمارا بزاز اور رنگریز یہ سمجھ پائے ہیں کہ دوپٹہ سپاہیا کے ہاتھ میں دے دینے سے طوائف الملوکی ختم نہیں ہوتی، بلکہ رنگوں کی تقسیم میں ابہام مزید بڑھ جاتا ہے؟

یہ بات قطعاً غیر متعلق ہے کہ کسی ایک وقت میں طوائف کر سر سے کھینچے جانے والا دوپٹہ کس رنگریز کا تھا۔ بنیادی برہنہ حقیقت طوائف کی بے توقیری ہی ہے

ہوش کیجیئے اس سے پہلے کہ دوپٹے کے ساتھ طوائف بھی سپاہیا کی جھولی میں جا گرے۔

Facebook Comments HS