عرش کی مٹی میں گندھا ہوا فرش کا آدمی


کتاب اور تخلیقی انسان، خاص طور وہ انسان جو انسانیت اور انسانوں کی ہمدردی کے لئے لکھتے ہیں، میرے دل کے بہت قریب ہوتے ہیں۔

معروف صحافی، نامور شاعر اور متحرک سماجی کارکن جناب شیراز راج کی شاعری کی کتاب ”عرش کی مٹی“ گزشتہ ماہ ڈاک کے ذریعے کراچی میں وصول ہوئی تو محبت اور اپنائیت کا ایک عجیب احساس ہوا، یوں تو شیراز راج سے نہ کبھی ملاقات ہوئی نہ زندگی میں کبھی واسطہ پڑا لیکن ان سے آن لائن گفتگو کر کے روح میں یہ احساس ضرور ہوا کہ ان سے تعلق روح کا رشتہ اور علم کا راستہ ہے۔

311 صفحات پر مشتمل یہ کتاب القا پبلیکیشنز جو کہ معروف پاکستانی اشاعتی ادارے ”ریڈنگز“ کا ذیلی ادارہ ہے، نے رواں سال کے آغاز میں شائع کی ہے جو اب تک قارئین سے خوب داد وصول کر چکی ہے۔ دیدہ ذیب سرورق، عمدہ طباعت، شاندار اور معیاری پرنٹنگ نے اس کتاب کو منفرد پہچان دی ہے۔

شیراز راج نے یہ کتاب پیٹر راج، روزلین راج، ایزابیل گال اور ایماگیتا نجلی کے نام منسوب کی ہے۔

میری نظر میں بے شک شیراز راج کی شاعری کی آواز انفرادی ہے لیکن وہ اجتماعی احساسات کی ترجمانی کرتی ہے، ان کی شاعری میں احساس اور عالمگیر رنگ پایا جاتا ہے۔

بلکہ ان کی شاعری میں اپنائیت ہے اور محبت بھی شامل ہے، ایک ایسے شخص کی شاعری جو معاشرے سے بغاوت بھی کرتا ہے اور محبت بھی، جو اپنے وجود سے اس جہاں کو اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ کبھی اپنی تحریر، تحریک اور شاعری سے۔ یہ کمال عام لوگوں کو کہاں نصیب ہوتا ہے یہ دل اور روح میں اترتا ہے۔

ان کی شاعری جہاں ان کے جذبات، زندگی کے براہ راست مشاہدات اور تجربات کو بیان کرتی ہے، وہیں انسانوں کے لیے محبت، احساس اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جستجو کی خواہش بھی سمائے ہوئے ہے۔

میرے لیے اس شاعری کی کتاب کو پڑھنے سے زیادہ مصنف کی زندگی، سوچ اور خیالات سے واقف ہونا تھا، اس لیے اس کتاب کو پڑھنے کے علاوہ میں نے ان کا آن لائن انٹرویو بھی کیا، جو ان کی زندگی، عملی سفر اور جدوجہد کے بارے میں تھا، لیکن اس میں پاکستان اور بالخصوص نوجوانوں کے لیے ایسے معاشرے کی تشکیل کا اعادہ بھی کیا گیا جو پاکستان کے وجود کی حقیقی تصویر ہے۔

آئیں شیراز راج کی زندگی کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ 17 اگست 1967 کو لاہور میں ایک باشعور مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صحافت جبکہ والدہ تدریس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ لارنس مڈل سکول اور ڈان باسکو ہائی سکول سے حاصل کی۔
ایف اے، ایم اے او کالج اور بی اے، پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔
وہ لکھتے ہیں۔

”میں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی جہاں شاعری اور موسیقی اوڑھنا بچھونا تھیں۔ یہ کوئی علمی گھرانا نہیں بلکہ رچا ہوا، سادہ سا، ایک غریب گھرانا تھا جہاں کن رس ہونا، سریلا ہونا اور باذوق ہونا باعث افتخار تھا۔“

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے گھر کا ماحول بہت تعلیمی اور ادبی تھا ان کے والد کا رجحان بائیں بازو کی سیاست سے تھا۔ ان کے والد وسیع مطالعہ اور سوچ کے حامل انسان تھے، جو ذوالفقار علی بھٹو کے پرجوش مداح تھے۔ یہ گھر کے ماحول اور والد کے سیاسی و سماجی ذوق کا اثر تھا کہ شیراز راج زمانہ طالب علمی میں بائیں بازو کی طلباء تنظیم نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن میں شامل ہوئے۔

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پیشہ ورانہ زندگی کی شروعات صحافت سے کی اور لاہور کے کئی اردو، انگریزی روزناموں اور ہفت روزہ جرائد میں کام کیا۔

صحافتی زندگی کا آغاز ہفت روزہ آج کل سے کیا جو لیجنڈ صحافی خالد احمد کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ اس سے قبل وہ عظیم صحافی، حسین نقی کے زیر تربیت رہ چکے تھے۔

وہ انسانی حقوق کی تعلیم کے ادارے جمہوری کمیشن برائے انسانی ترقی کے ماہنامہ ”نوائے انسان“ کی ذمہ داریاں بطور ایڈیٹر بھی نبھاتے رہے اور چند برس بعد ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ میں انسانی حقوق کی تعلیم اور سیاسی آزادیوں کے پروگرام سے وابستہ ہو گئے۔

انہوں نے ایک ثقافتی تنظیم ”الاپ“ کی بنیاد رکھی اور ثقافتی اور علمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کام کیا۔
وہ 7۔ 2006 میں حلقۂ ارباب ذوق لاہور کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔

شیراز راج کی زندگی شاعری، موسیقی اور فنون لطیفہ کے فروغ کے ساتھ ساتھ انسانی مساوات، صنفی برابری، سیاسی و شہری حقوق اور آزادیوں کی جدوجہد سے عبارت ہے۔

گزشتہ چند سالوں سے وہ بیلجیم میں مقیم ہیں جہاں انہوں نے پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لیے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا اور پاکستان کی عظیم خواتین پر ایک کتاب بھی شائع کی ہے۔

وہ اپنی کتاب کے پیش لفظ ”دل کی بات“ میں یوں لکھتے ہیں۔

” یہ شاعری کسی دعوے کے بغیر شائع کی جا رہی ہے۔ اس کتاب کا قاری اس شاعری کے بارے میں جو کچھ بھی سوچے، سر انکھوں پر، لیکن میرے لیے یہ کتاب خود بینی کی ایک کوشش ہے جو مہاجرت کا لازمہ ہوتی ہے۔

ادھیڑ عمری میں ہوئی مہاجرت دل کا جو حشر کرتی ہے اس سے کسے مفر ہے۔
یوں سمجھیے کہ پردیس کی یخ بستگی میں جو تہ خانہ تعمیر کرنا ہے، اس کا مٹی گارا ہے یہ کتاب۔

مٹی گارا بھی، فرش و فصیل و سقف بھی اور اس کی تزئین و آرائش بھی۔ ان دیواروں پر سجی تصویریں مجھے ایک لہر میں بہا لے جاتی ہیں۔ اونچا، بہت اونچا۔ یہ میرا عرش بھی ہے اور عرش کی مٹی بھی۔

وہ لکھتے ہیں۔ ”یہ کتاب ایسے ہی کچھ خوابوں کی زنبیل ہے۔ کچھ آرزووٴں کا صندوقچہ ہے۔ جس میں ہیرے موتی بھی ہیں اور کنکر بھی! یہ کتاب جو آپ تک پہنچی ہے تو کہیں نہ کہیں آپ بھی انہیں خوابوں کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ آپ بھی اسی دنیا کا سپنا دیکھ رہے ہیں جہاں انسان اور ملک ایک دوجے کو ختم نہ کریں بلکہ ایک دوجے میں ختم ہوں۔ جہاں موسیقی، رقص، شعر اور موئے قلم باعث تنگ نہ ہوں، باعث تکریم ہوں۔ جہاں خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر نہ ہوں اور حرف حق کہنے والی انگلیاں قلم نہ ہوں۔“

شیراز راج ہمیشہ سیاسی و سماجی تحریکوں، انسانی حقوق کی جدوجہد اور صحافتی و ثقافتی آزادیوں کے علم بردار رہے ہیں۔ میں اگر انہیں ایک لائن میں بیان کر سکوں تو وہ عرش کی مٹی میں گندھا ہوا فرش کا آدمی ہے۔

چونکہ شاعری کی صنف پر میری دسترس بہت کم ہے اس لئے میں ان کی شاعری کے تخلیقی معیار اور مہارت پر بات کرنے کی بجائے اپنی پسند کے ان کے چند اشعار پیش کرنا چاہوں گا تاکہ آپ کو ان کے اسلوب اور تخلیقی انفرادیت کا اندازہ ہو سکے۔

ع: اتنی بلندیوں سے گرا ہوں کہ بارہا
دل کو بری لگی ہے شجر کی اٹھان بھی
ع: راج تیرے دل میں کیسی آگ ہے؟
یہ پھواروں کی جلن میں کون ہے؟
ع: جانتا ہے وہ کہ صدیوں کا سفر درپیش ہے
جس کو جانا ہے ترے انکار سے اقرار تک
ع: تاریکی کے تالے ٹوٹتے ہیں
دن نکلے تو بستی کھلتی ہے
ع: میں چومتا ہوں موت کی دیوی کے سرخ ہونٹ
میری گرفت میں اسے بے اختیار دیکھ
ع: کوئی ملے تو مجھ سے میرا حال نہ پوچھے
میں نے اپنے آپ سے رشتہ توڑ دیا ہے
ع: کبھی لگتا ہے یہاں راج بہت درد ہے، بے چارگی ہے
کبھی لگتا ہے ہمیں تیرہ زمانے میں اجالا کریں گے۔

Facebook Comments HS