عابد حسن منٹو کی نظریاتی استقامت

عابد حسن منٹو کی سرگزشت ”قصہ پون صدی کا“ ہماری عوامی سرگزشت کا ایک عبرت ناک باب ہے۔ میں نے عابد حسن منٹو کو پہلے پہل گورنمنٹ کالج کیمبل پور (حال اٹک) میں یوم غالب کی ایک تقریب میں دیکھا اور سنا تھا۔ خود میں نے اس تقریب میں اپنا پہلا مضمون بعنوان ’غالب، غزل سے قصیدے تک‘ پڑھا تھا۔ بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں ہمارے اس کالج میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور پروفیسر محمد عثمان ہر سال تین روزہ ادبی تقریبات کے انعقاد کا اہتمام کیا کرتے تھے۔
ان تقریبات میں پشاور، واہ کینٹ اور راولپنڈی سے بزرگ اور نوجوان ادیب اور شاعر شریک ہوا کرتے تھے۔ انھی محفلوں میں میں نے عابد حسن منٹو اور احمد فراز کی گرمیٔ گفتار سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ جب میں راولپنڈی آ بیٹھا تب عابد حسن منٹو قانون کی تعلیم کی جستجو میں لاہور جا پہنچے تھے۔ ایک ماہر قانون کی حیثیت سے ان کا تاریخ ساز کردار پاکستان مین زرعی اصلاحات کے لیے جہد مسلسل ہے۔
جب میں عابد حسن منٹو کی پاکستان میں زرعی اصلاحات کے نفاذ کی خاطر طویل اور جرات مندانہ عدالتی مہم کا خیال کرتا ہوں تو مجھے خیال آتا ہے کہ کاش انھوں نے اسلام کا بھی اسی انہماک کے ساتھ مطالعہ کیا ہوتا جس کے ساتھ مارکسیت کا کر رکھا ہے۔ جب وہ انتہائی قابل تحسین ذکاوت احساس کے ساتھ پاکستان میں زرعی اصلاحات کے نفاذ کے حق میں اپنا استدلال پیش کرتے ہیں تو مجھے بے ساختہ علامہ اقبال کی نظم ’الارض للٰہ‘ یاد آتی ہے۔ اسلام کی حقیقی روح کے مطابق زمین صرف اور صرف اللہ کی ہے اور اللہ کا جو بندہ جتنے خطۂ زمین پر خود کاشت کرتا ہے اس پر کسی اور جاگیردار (Absentee landlord) کا قطعاً کوئی حق نہیں۔ اقبال نے اپنی نظم بعنوان ’الارض للٰہ‘ میں انتہائی موثر انداز میں اس حقیقت کو آشکار کیا ہے :
پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون؟
کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار؟
خاک یہ کس کی ہے کس کا ہے یہ نور آفتاب؟
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشۂ گندم کی جیب؟
موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب؟
دیہہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں
تیرے آبا کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں
دیہہ خدا کی ترکیب سے عیاں ہے کہ جاگیرداری نظام شرک کی بدترین صورت ہے۔ عابد حسن منٹو کی اس سرگزشت میں تصور پاکستان کے ارتقائی مراحل کو سراسر نظر کر دیا گیا ہے ۔ وہ اپنی بات قائداعظم کی تحریک پاکستان کے آغاز سے شروع کرتے ہیں۔ یہ تحریک پاکستان جس تصور پاکستان سے پھوٹی ہے اس کے ارتقائی مراحل کو سرے سے زیر بحث لایا ہی نہیں گیا۔ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب برطانوی ہند میں لارڈ ہیوم نے انڈین نیشنل کانگرس کی بنیاد رکھی تھی تو سرسید احمد خاں نے اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے استدلال کیا تھا کہ ہندوستان ایک ملک نہیں ایک بر عظیم ہے جس میں کئی قومیں آباد ہیں۔
اپنے اسی بیان میں انھوں نے برصغیر کے مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ اس انڈین نیشنل کانگرس سے دور رہیں۔ یہاں سے اگر ہم علامہ اقبال کے 1930ء کے خطبہ الٰہ آباد تک آئیں تو اس خطبہ میں جہاں اور بہت سے انتہائی خیال انگیز تصورات پیش کیے گئے ہیں وہاں اقبال نے اپنے استدلال کو مکمل کرتے وقت یہ کہنا ضروری سمجھا تھا کہ: انگلستان کا وزیراعظم اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ ہندوستان میں کئی قومیں آباد ہیں۔ ان ہی متعدد قوموں میں سے ایک مسلمان قوم بھی ہے جو اپنی اکثریت کے علاقوں میں اپنی آزاد اور خودمختار مملکت کے قیام کی خاطر سرگرم عمل ہے۔ اس کے بعد جب 1940ء میں قائداعظم محمد علی جناح نے اقبال کے تصور پاکستان کو تحریک پاکستان بنانے کا اعلان کیا تو انھوں نے بھی اس حقیقت کو پھر سے نمایاں کیا کہ ہندوستان ایک ملک نہیں ایک بر عظیم ہے اور ہندوستان کا سیاسی مسئلہ قومی نہیں بین الاقوامی ہے۔
جس روز قائداعظم نے اقبال کے تصور پاکستان کی بنیاد پر تحریک پاکستان کا آغاز کیا تھا وہ نہ تو علامہ اقبال کا یوم پیدائش تھا اور نہ یوم وفات مگر اسی شام پنجاب یونیورسٹی کے سینٹ ہال میں یوم اقبال کا انعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت اے۔ کے۔ فضل الحق نے کی تھی۔ اگلی صبح کے اجلاس کی صدارت خود قائداعظم نے فرمائی تھی اور اپنے خطاب میں اقبال کو اپنا Friend، Philosopher and Guide قرار دیا تھا۔
اگلے سال قائداعظم نے ’Letters of Iqbal to Jinnah‘ کے عنوان سے وہ خفیہ خط و کتابت بھی شائع کر دی تھی جس کے مختصر سے ابتدائیہ میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ قرارداد پاکستان درحقیقت اقبال کے تصورات کی عملی تشکیل ہے۔ علامہ اقبال بڑی دل سوزی کے ساتھ اسلام کی حقیقی انقلابی روح کو پھر سے دنیا میں سرگرم کار دیکھنے کی تمنا میں بے چین رہے۔ عابد حسن منٹو بھی سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد اسباب زوال اشتراکیت کا تجزیاتی مطالعہ بڑی دل سوزی کے ساتھ کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ شکست کارل مارکس کی نہیں نام نہاد روسی مارکوسوں کی ہے۔ مارکسزم کی نہیں سٹالن ازم کی ہے :
”حقیقت یہ ہے کہ جن سوشلسٹ ملکوں میں انقلاب کے راستے سے نیا نظام قائم ہوا ان میں صف اول میں روس کا سوویت یونین میں تبدیل ہونا شامل ہے۔ وہاں کمیونسٹ پارٹی کی ہی قیادت میں یہ انقلاب برپا ہوا اس لیے اس کو اولاً محنت کش طبقے کی ڈکٹیٹر شپ کے نام سے یاد کیا گیا۔ میرے نقطۂ نظر کے مطابق اگر اس نئے نظام میں وسیع تر عوام، جو محنت کش طبقات کی مختلف شکلیں ہیں، اپنی نئی ریاست کی تعمیر کرنے اور اس کا سیاسی نظام چلانے کے عمل میں شامل نہیں ہوتی تو پھر وہ واقعتاً آمریت ہی ہو جائے گی۔
سوشلسٹ تحریک کے دوران جمہوریت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا، اس میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کے مقابل سوشلسٹ جمہوریت کی اصطلاح قائم کی گئی ہے۔ سوشلسٹ جمہوریت کا مطلب وسیع تر محنت کش عوام کی جمہوریت ہے۔ تاریخی طور پر چونکہ کمیونسٹ پارٹیوں نے ہی نیا نظام قائم کیا اور کافی عرصے تک انہی کی حاکمیت قائم رہی، اس لیے یہ سمجھا گیا کہ ڈکٹیٹر شپ آف دی پرولیٹریٹ کمیونسٹ پارٹی کی حاکمیت ہے۔ یقیناً عملی طور پر سوویت یونین اور دوسرے ممالک میں ایسا ہی ہوا لیکن نئے نظام کے قائم کرنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ سرمایہ دارانہ پارٹیوں کی جگہ کمیونسٹ پارٹی کی حاکمیت قائم ہو جائے۔
اس کا مقصد سوشلزم کو قائم کرنے کے لیے معاشی اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ وسیع تر عوام کو اپنا نظام زندگی مرتب کرنے اور اس کے پھیلانے کے عمل میں شامل کرنا بھی تھا۔ جہاں جہاں ایسا نہیں ہوا، وہاں تضادات پیدا ہوئے اور وہاں اس تصور کے تحت انقلاب کے نتیجے میں یا سماجی تبدیلی کے بعد کمیونسٹ پارٹیوں کی، نہ کہ پرولتاریہ کی، ڈکٹیٹر شاپ قائم ہو گئی۔“ 1
عابد حسن منٹو نے اپنے دورۂ روس کے دوران ذاتی مشاہدات و تاثرات کی روشنی میں جو نتائج اخذ کیے ہیں میں ان پہ یقین رکھتا ہوں۔ مجھے سوویت یونین کے بکھراؤ کے بعد اپنے مختصر قیام روس کے دوران وہ تجربہ اور مشاہدہ یاد آیا ہے جو میں نے وہاں کے عوام و خواص میں کمیونزم سے اٹوٹ وابستگی کی صورت میں دیکھا تھا۔ میں نے جس کسی سے بھی یہ سوال کیا تھا کہ ”آپ کے خیال میں اشتراکی نظام کی ناکامی کا بنیادی سبب کیا ہے؟“ اس پر ہر کسی نے تڑپ کر ایک ہی جواب دیا تھا: ”نہیں! اشتراکی نظام تو ناکام نہیں ہوا، ہم ناکام ہوئے ہیں۔“ ان میں سے ہر ایک نے سٹالن کے دور اقتدار کے مظالم کا حوالہ بڑی دردمندی کے ساتھ دیا تھا۔ عابد حسن منٹو کا زیر نظر زندگی نامہ بھی اسی حقیقت کا شاہد عادل ہے۔ یہاں ہمیں اس حقیقت کو ہر گز فراموش نہ کرنا چاہیے کہ پاکستان میں جب اقبال کے تصور پاکستان کو پس پشت ڈال کر ایوب خاں کے تصور پاکستان کو اپنا لیا گیا تو کرائے کے سپاہی ہمارے حکمران بن بیٹھے!
٭٭٭
حوالہ جات
1۔ قصہ پون صدی کا، (خود نوشت) ، عابد حسن منٹو، جہلم بک کارنر، 2023ئی، صفحات 128، 129

