مغرب میں اردو شاعری۔ تیسری اور آخری قسط



انسانی رشتوں کے رومانوی اور ازدواجی پہلوؤں کی گتھیاں سلجھانے کے بعد مشرقی مہاجروں کو جس آزمائش کا سامنا کرنا پڑا وہ خاندانی زندگی کی روایت تھی۔ مشرق سے مغرب میں ہجرت کرنے والے مہاجروں کی اکثریت نے روایتی بڑے خاندانوں
(Traditional Extended Families)
میں پرورش پائی تھی جن کی اپنی مخصوص اقدار تھیں۔ جب انہیں مغرب کے چھوٹے اور غیر روایتی خاندانوں
( Single Parent/Nuclear)

سے واسطہ پڑا تو ان کے خاندانوں کے بارے میں نظریات، خیالات اور توقعات بہت مجروح ہوئے۔ ایک طرف وہ اپنے خاندانوں سے بہت دور آچکے تھے اور دوسری طرف انہیں نئے ماحول سے جن محبت، خلوص، قربت اور قربانی کے جذبوں کی توقع تھی وہ نہ ملے تو ان کی امیدوں، آرزوؤں اور خوابوں کے شیش محل چکنا چور ہو گئے۔

ہم کو ہر رشتے سے جنت کی تھی امید پر اب
خاندانوں کی جہنم میں جلے ہیں چپ ہیں
(آزاد فضائیں : خالد سہیل)

ہجرت کے اس سفر میں بعض مہاجر خاندان بہت سے جذباتی، معاشرتی اور معاشی مسائل کا شکار ہو گئے اور بہتر زندگی کے خواب، شناخت کی تلاش، معاشرتی

بے اطمینانی عدم تحفظ کا احساس اور دو ثقافتوں کے درمیان تضادات ان کی زندگیوں میں زہر گھولنے لگے۔ جن کی علامتیں مختلف صورتوں میں ظاہر ہونے لگیں۔

بعض نوجوان جوڑے ایک دوسرے سے بات بات پر لڑنے جھگڑنے لگے۔
کھل کے دونوں لڑ رہے تھے اک ذرا سی بات پر
روکنے کے واسطے گھر میں کوئی بوڑھا نہ تھا
(زخم زخم اجالا: ظفر زیدی)
بعض والدین اپنے ہمسائیوں سے معمولی معمولی باتوں پر الجھنے لگے۔
بچے کھیل ہی کھیل میں لڑ کر ایک ہو جاتے ہیں
اور ان کی خاطر ٹھن جاتی ہے ماؤں کے بیچ
(اند مال: حمیرا رحمان)
اور بعض بزرگ نرسنگ ہومز کی دہلیز پر جا بیٹھے اور انسانی رشتوں کی قربت اور حرارت سے محروم ہو گئے۔
نرسنگ ہومز
صبح سے آس کی دہلیز پہ جا بیٹھتے ہیں
دن ڈھلے یاس کو چوکھٹ سے لگا دیتے ہیں
جسم ہر عمر میں چاہت سے نمو پاتا ہے
ہو نہ رشتوں کی حرارت تو یہ مر جاتا ہے
(آدھی گواہی: نسیم سید)

مہاجر خاندانوں کا ایک اہم مسئلہ ان کے بچے تھے۔ مہاجر والدین اپنے بچوں کے بارے میں ملے جلے جذبات کا شکار تھے۔ ایک طرف وہ مشرقی والدین تھے جو مغرب کی نا آشنا زندگی اور اجنبی ماحول میں اکثر فکر مند رہتے۔

گڑیوں سے کھیلتی ہوئی بچی کی آنکھ میں
آنسو بھی آ گیا تو سمندر لگا مجھے
(حرف باریاب:افتخار عارف)

انہیں احساس تھا کہ ان کے اپنے تضادات کی وجہ سے ان کے بچے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کی جذباتی، تعلیمی اور اخلاقی زندگیاں مجروح ہو رہی ہیں۔

جو نسل واقف ہجرت تھی اس نسل کے بعد
نہ جانے آ گئی کیوں ہجرتوں کے نرغے میں
( ہم اجنبی ہیں : اشفاق حسین)

مہاجر خاندانوں کے یہ بچے جب مغربی فضا اور ماحول میں جوان ہوئے تو وہ مشرقی شرم و حیا اور عزت اور احترام کی روایات سے بہت دور ہٹ گئے۔ جن کا ان کے والدین کو بہت دکھ ہوا۔

یہ بات بات پہ اب مجھ کو ڈانٹ دیتا ہے
دیار غیر میں بیٹا مرا جوان ہوا
(بادشمال:بخش لائلپوری)

جب مشرقی والدین مغرب کی زندگی کے مسائل اور تضادات کی شدت کا سامنا نہ کر سکے اور ان کی محبتوں نے تلخیوں اور شادیوں نے طلاقوں کا روپ دھار لیا تو ان کے معصوم بچے ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

طلاق یافتہ ماں باپ کے حسیں بچے
کبھی تو باپ کبھی اپنی ماں کے بچے ہیں
(تلاش: خالد سہیل)

مہاجر خاندانوں کے بچوں کو اپنے والدین کے مسائل سے بری طرح متاثر ہوتے دیکھ کر بعض حساس اور صاف گو اصحاب نظر کہنے لگے۔

ہمارے عہد کو وہ کرب آگہی کے ملے
بہت سے بچوں کو دیکھا ہے خود کشی کرتے
(آزاد فضائیں : خالد سہیل)

پریشان حال اور فکر مند والدین کے ساتھ ساتھ مشرقی خاندانوں میں ایسے والدین کی کمی بھی نہ تھی جو مغربی ماحول کی آزاد فضا سے خوش تھے اور ایسے ماحول میں والدین بننے پر شاد تھے۔

وہ لمحہ جب میرے بچے نے ماں پکارا مجھے
میں ایک شاخ سے کتنا گھنا درخت بنی
(حمیرا رحمان)

ایسے والدین اپنے بچوں کی پرورش سے بہت مطمئن تھے وہ جانتے تھے کہ ان کے بچے روایتی ماحول، فرسودہ روایات اور جابرانہ نظام کی بجائے ایک صحت مند اور لبرل ماحول میں پرورش پائیں گے جہاں نہ صرف ان کی تمنائیں اور آرزوئیں پوری ہوں گی بلکہ ان کے خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوں گے اور جب وہ بچے اس ماحول میں جوان ہوں گے تو انسانیت کے مستقبل کے لیے ایک نئی روشنی اور آگہی کا پیغام لے کر آئیں گے۔ ایسا پیغام جو ارتقا کے سفر کے لیے بہت کار آمد ثابت ہو گا۔

گھروں میں حسن محلوں میں آگہی لائیں
ہمارے بچے وہ جگنو جو روشنی لائیں
(تلاش : خالد سہیل)
اگرچہ ذہن ہیں چھوٹے پہ ہیں سوال بڑے
ہمارے بچے ہیں ہم سے ہزاروں سال بڑے
کھلی فضا جو ملی ہے تو کم سنی میں ہی
ابھر کے آنے لگے ذہن میں سوال بڑے
(ہم اجنبی ہیں : اشفاق حسین)

ہجرت کے سفر نے جہاں مہاجروں کو اپنی ذاتی، رومانوی اور خاندانی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا وہیں اس تجربے نے ان کے سماجی شعور کو جلا بخشی، ان میں سیاسی بیداری پیدا ہوئی اور معاشرتی اور بین الاقوامی تضادات سے ایک نئے انداز سے روشناس ہوئے۔ ان مہاجروں کو شدت سے احساس ہوا کہ وہ خاندان، اسکول یا معاشرے جو اپنے بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرتوں، عداوتوں اور تعصبات کے بیچ بوئیں گے وہ ایک دن اپنے اوپر عذاب نازل ہوتا دیکھیں گے۔

خاندانوں پہ عذاب آئے گا
نفرتیں خون میں بونا کیسا
(برف زار: عبدالقوی ضیا)

اور لوگ اتنا غیر محفوظ محسوس کریں گے کہ وہ اپنے گھروں کے دروازوں پر اپنے نام کی تختی لگاتے بھی گھبرائیں گے۔

چمکے گا رنگ و نسل کے داغوں کا سلسلہ
دروازے پر بھی نام نہ لکھا کرے کوئی
(ہم اجنبی ہیں : اشفاق حسین)

اگر تعصبات حد سے بڑھ جائیں تو انسانی رشتوں میں منافقت کی چنگاریاں سلگنے لگتی ہیں جو آہستہ آہستہ عداوت کے شعلوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔

عجیب لوگ ہیں اس شہر میں بنام وفا
ہوائیں دیتے ہیں اس شعلہ عداوت کو
(سپنے جاگتی آنکھوں کے : عابد جعفری)
اور اس آگ کو پورے شہر میں پھیلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔
اک گھر سے پھیل سکتی ہے سارے گھروں میں آگ
جب بستیوں میں ہم ہیں وہ گنجان بھی تو ہیں
(متاع عزیز:عزیز الحسن)

اور ایک دفعہ یہ نفرتوں، عداوتوں اور تعصبات کے شعلے چاروں طرف پھیل جائیں تو لوگوں کے دلوں میں چھپے ہوئے سارے تاریک جذبے سانپ بن کر پھنکارنے لگتے ہیں اور پورے شہر میں قتل و غارت، جبر اور استحصال کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ یہ تضادات اور تعصبات اگر ملکی حدود کو پھلانگ جائیں تو بین الاقوامی رشتوں میں بھی تلخیوں کا زہر پھیلنے لگتا ہے اور ہمسائے ممالک دوستی کی بجائے دشمنی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔

ہمسائے بھی بن جاتے ہیں پھر خون کے پیاسے
اک حشر بپا رکھتے ہیں قوموں میں تضادات
(آزار فضائیں :خالد سہیل)

جب حالات اس قدر ناگفتہ بہ ہو جائیں اور عوام نہ اپنے گھروں میں محفوظ محسوس کریں اور نہ ہی اپنے ملک میں انہیں امن اور سکون کا احساس ہو تو ان میں سے جو زیادہ با شعور ہیں وہ پوچھتے ہیں۔

تلاش امن ہے تو کس لئے ہیں بندوقیں
حدوں میں رہنا ہے تو اس قدر جہاز ہیں کیوں
(دوسرا گھر:سلمان اختر)

اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان ایک دوسرے سے رنگ، نسل، زبان اور مذہب سے ماورا ایک انسانیت کے رشتے میں بھی منسلک ہیں۔ وہ سب ایک ہی خاندان کے افراد ہیں اور اس ناتے سے ان کے دکھ بھی سانجھے ہیں اور سکھ بھی۔

انسانیت کے رشتے
زبان اس کی تھی لیکن سوال اپنا تھا
وہ اجنبی تھا مگر ہم خیال اپنا تھا
عجیب حال ہوا جب بھی حال اس کا سنا
زوال اس کا لگا یوں زوال اپنا تھا
(تلاش: خالد سہیل)

اور وہ مل کر اس دن کا خواب دیکھتے جب وہ انسانیت کی اکائی کو دریافت کر لیں گے اور انسانی رشتوں میں مفاہمت اور دوستی کی بنیادیں مخالفت کی نسبت زیادہ مستحکم ہوں گے۔

اہل زمین کے نام
ہم ایک ہیں
اگر ہم ایک ہیں تو کیوں نہ بڑھ کے ہاتھ تھام لیں
حصار درد میں کوئی شگاف پڑ ہی جائے گا
اگر ہم ایک ہیں
تو کیوں نہ امن اور صداقتوں کی راہ سے
مہرباں رفاقتوں کی راہ سے
اسی مقام پر چلیں جہاں سے ابتدا ہوئی
جہاں ہم ایک تھے
(ندائے امن: نزہت صدیقی)

ہجرت کے سفر میں مشرقی مہاجروں کو اندازہ ہوا کہ بیسویں صدی میں دنیا بھر کے انسانوں کے خدا، مذہب اور اخلاقیات کے ساتھ رشتوں میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان انسانوں کو جو اپنے آپ کو زمین پر خدا کا نائب سمجھا کرتے تھے احساس ہوا کہ وہ ایک نا مکمل تخلیق اور ادھورا خواب ہیں اور انہیں مکمل انسان بننے کے لئے ابھی بلوغت اور ارتقا کے کئی مراحل طے کرنے ہیں اور اس راستے میں ان کے خالق نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

تو مطمئن نہیں تو مجھے کب ہے اعتراض
مٹی تو پھر سے گوندھ مری پھر بنا مجھے
(دوسرا گھر: سلمان اختر)
کر کے تخلیق ہمیں بھول گیا ہو جیسے
پالنے والا کوئی اور خدا ہو جیسے
(بے نشاں :شاہین)

ان انسانوں نے جنہوں نے اپنے ذہنوں میں ایک مہربان، منصف اور سخی خالق کا تصور بسا رکھا تھا جب اپنے چاروں طرف نگاہ ڈالی تو انہیں انسانی زندگی محرومی، مایوسی، نا انصافی اور ظلم کے آسیب سے متاثر نظر آئی۔

سائل زیست کے دروازے پر کب سے کھڑا یہ دیکھ رہا ہے
بہرے کو اک گیت کا تحفہ اندھے کو اک پھول ملا ہے
(تلاش : خالد سہیل)
اسرار دو عالم
۔
یہ بھی بجا ہے کہ جب کوئی نوزائیدہ
اپنی فاقہ زدہ ماں کی مرجھائی چھاتی سے مایوس ہو کر
تڑپتے ہوئے ایڑیوں کو رگڑتا ہے
اور آب زمزم تو کیا
ایک بھی بوند پانی کی لے کر فرشتے نہ آئیں
تو دل چیخ اٹھتا ہے
مذہب سے ایسے خدا سے ہمیں کیا
(دائرے : ابرار الحسن)

ان حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے سوچنے لگے کہ یا تو خدا ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو اس کی حیثیت ایک خاموش تماشائی سے زیادہ کچھ نہیں۔ بیسویں صدی کے انسان اور خدا کے رشتے کا یہ المیہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی تنہائیوں میں اسیر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

خدا کو چھوڑ دیا ہے فلک پہ انساں نے
کیا ہے ظلم بہت اس نے اپنے رب کے ساتھ
(غزال:افتخار نسیم)
مرا اکیلا خدا یاد آ رہا ہے مجھے
یہ سوچتا ہوا گرجا بلا رہا ہے مجھے
(زندہ پانی سچا: ساقی فاروقی)

جہاں بیسویں صدی میں خدا کے تصور میں تبدیلیاں آئی ہیں وہیں انسان کا مذاہب پہ ایمان بھی تنقید کا نشانہ بنا ہے۔ جن مذاہب کو پیغمبروں نے انسانی فلاح کے لئے پیش کیا تھا ان ہی مذاہب کو پیغمبروں کے پیروکاروں نے کاروبار بنا لیا، سادہ لوح کو جی بھر کے لوٹا اور حاکموں نے اپنے ظلم، جبر اور استحصال کے جواز کے طور پر پیش کیا۔

کو بہ کو ہو گئیں تعمیر عبادت گاہیں
جمع کرتے ہی رہے ہم تو مکاں کے پتھر
(سپنے جاگتی آنکھوں کے :عابد جعفری)
کھل گئی ہو گی دکاں شہر میں ہر معبد کی
اور معبود کی بازار میں بولی ہو گی
(تیرے شہر وصال میں :افضال نوید)

بیسویں صدی کے انسان اور خدا کے تصور کے درمیان بہت سے تضادات پیدا ہو گئے ہیں اور ان تضادات نے انسانوں کے دل میں کسک اور روح میں ایک بے چینی پیدا کر دی ہے۔

کشاکش
وہ حجابوں میں پوشیدہ بکھرا ہوا
میں طلسم تجسس کا مارا ہوا
بس خدا اور میں
اور کشاکش یہی روز و شب درمیاں
شرط اس کی اقرار پہلے کروں
شرط میری ہے دیدار میں کر سکوں
بس خدا اور میں
اور کشاکش یہی روز و شب درمیاں
بس کشاکش یہی روز و شب درمیاں
(دائرے :ابرار الحسن)

جوں جوں انسان خدا کی ذات کے بارے میں عقل، سائنس اور منطق کے حوالے سے سوچنے لگا اس کے ایمان میں کمی اور شک میں اضافہ ہونے لگا اور آخر کار وہ مذہب اور خدا کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گیا۔

رہبری چھوڑ دی عقیدوں نے
اب یقیں کم ہے اور قیاس بہت
(دوسرا گھر:سلمان اختر)

شروع شروع میں تو انسان مصائب اور تکالیف میں خدا کی طرف پلٹ کر دیکھتا رہا لیکن جب اس کا اپنی ذات پر اعتماد بڑھ گیا اور اس کی دہریت بلوغت کی سرحدوں کو چھونے لگی تو وہ کہنے لگا۔

لبوں پر ٹوٹتی امید کے نوحے تو آتے ہیں
مرا دل اب اے اشفاق سوئے رب نہیں آتا
(ہم اجنبی ہیں : اشفاق حسین)
آخر مغرب کے انسان نے نیٹشے (Nietsche) کی زبان میں
God is Dead
اوکٹا ویاپاز (Octavio Paz) کی زبان میں
We all killed him together, you killed him and I killed him. We are all his murderers
اور برنارڈ شاکی زبان میں
God is in the Making
کا اعلان کر دیا۔

بیسویں صدی کے بعض انسانوں کو آہستہ آہستہ اپنے انفرادی اور اجتماعی شعور پر اتنا بھروسا ہونے لگا کہ انہوں نے آسمانوں کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنی چھوڑ دیں۔ وہ جان گئے کہ:

کوئی فرشتہ مدد کے لئے نہ آئے گا
تو اپنے ذہن سے یہ واہمہ نکال ہی دے
(باد شمال:بخش لائلپوری)

انہوں نے اپنی زندگی گزارنے کے لئے آسمانی قوانین کی بجائے زمینی قوانین اور مذہبی اصولوں کی بجائے انسانی اصولوں کا سراغ لگایا اور اپنے ذہنوں میں انسان دوستی کا نیا نقشہ تخلیق کیا۔ ایسا نقشہ جو ایک ایسے نظام کی بنیاد ڈال سکے گا جس میں انسان مذہبی تعصبات سے بالاتر ہو کر عدل و انصاف، محبت و اخوت اور امن و سکون کی بنیادوں پر ایک معاشرہ تعمیر کر سکیں گے۔ ایسا معاشرہ جس میں انسانیت کے احترام کو بنیادی قدر تسلیم کیا جائے گا۔

جو خدا پر نہیں انسان پہ رکھتا ہو یقیں
دل کو اچھا لگا اس شخص کا کافر ہونا
(غزال:افتخار نسیم
کسی کے دین و مذہب سے نہیں ہے واسطہ مجھ کو
عقائد کا نہیں میں آدمیت کا پجاری ہوں
(باد شمال: بخش لائلپوری)

مغرب میں آ بسے مشرقی مہاجروں کو اپنے نظریات، اعتقادات اور فلسفوں کا تنقیدی اور معروضی انداز میں محاسبہ کرنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ کرہ ارض پر زمین پر، جانوروں، ہوا میں پرندوں اور پانی میں مچھلیوں کو زندہ رہنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ انسانوں کو۔

بیسویں صدی کے انسانوں کو دھیرے دھیرے یہ شعور حاصل ہو رہا ہے کہ انسانیت کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ نہ صرف وہ اپنی ذات اور دوسرے انسانوں کے ساتھ بلکہ جانوروں، پرندوں، پودوں، ہواؤں، سمندروں اور مچھلیوں کے ساتھ بھی دوستانہ انداز میں رہنا سیکھیں اور انسانی ارتقا کے لئے اہم ہے کہ وہ انسان دوستی کے ساتھ ساتھ فطرت دوستی کا بھی رویہ اپنائیں ورنہ فطرت کے نظام میں اتنا بحران پیدا ہو جائے گا کہ ہر ذی روح کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی اور انسان خود اپنی اگلی نسلوں کی خود کشی یا قتل کا ذمہ دار ٹھہرے گا۔

با شعور مہاجرین نے جانوروں، پرندوں، درختوں، مچھلیوں اور اپنے ماحول کی دیگر مخلوقات کے ساتھ غیر ہمدردانہ اور بعض دفعہ ظالمانہ رویوں کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کی اور ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دی۔

میں شیر دیکھ کے پنجرے میں خوش نہیں ہوتا
کہاں گنوا دی بچپن کی سادگی میں نے
(غزال :افتخار نسیم)
یہ کس نے زہر گھولا پانیوں میں
کسے ان مچھلیوں سے دشمنی ہے
(خالد سہیل)
جھیلیں، پھول، پرندے، بادل اور آکاش
پوچھتے ہیں کب ان کا حق مجھ پر ہو گا
(ندائے امن:نزہت صدیقی)

مغرب میں آ کر بس جانے والے مشرقی مہاجروں کو احساس ہوا کہ بیسویں صدی کے انسانوں کے لئے ماضی کی فرسودہ روایات سے چھٹکارا حاصل کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ان کے لئے نئے خوابوں، نئے فلسفوں اور نئے آدرشوں کا سراغ لگانا بھی ضروری ہے۔ تاکہ اکیسویں صدی کے انسانوں کے لئے ایسا منشور تیار ہو سکے جو بدلتے ہوئے حالات کا ساتھ دے سکے اور انسانیت کے مستقبل کے لئے تخریب کی بجائے تعمیر کے پہلو اجاگر کر سکے۔

انہیں احساس ہوا کہ انسانوں کے لئے اپنی ذات، دوسرے انسانوں اور اپنی فطرت سے ایک ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ بھی اس کرہ ارض پر باقی مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں اور اگر انہوں نے دوسری قوموں اور باقی مخلوقات کے ساتھ امن اور آشتی کے ساتھ زندگی گزارنا نہ سیکھا تو ان کا ارتقا ہی نہیں ان کی بقا بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ مغربی دنیا میں ان مشرقی مہاجرین کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے جن کے دو زبانوں، دو تہذیبوں، دو ثقافتوں اور دو معاشروں میں رہنے کے تجربے نے (جن میں سائنسدان، فلسفی، ادیب اور شاعر سبھی شامل ہیں ) ان کے داخل کی تیسری آنکھ کھول دی ہے۔ یہ تیسری آنکھ نہ صرف انہیں انسانی روح کی گہرائیوں میں اترنے میں مدد دیتی ہے بلکہ ایسی بصیرتیں بھی بخشتی ہے جن کے اعتماد پر وہ کہہ سکتے ہیں۔

بخش ہمارا حرف صداقت
انسانی منشور بنے گا
(باد شمال: بخش لائلپوری)
سوچو تو وہ دن کتنا سندر ہو گا
جس دن سارا عالم اپنا گھر ہو گا
(ندائے امن:نزہت صدیقی)

ایسے مہاجرین نہ صرف انسان دوستی کی روشنی میں اپنی ساری عمر گزارنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ جہان فانی سے کوچ کرتے وقت یہ وصیت بھی کر جاتے ہیں۔

وصیت
میں جانتا ہوں
میں وہ شجر ہوں جس کو اک دن
کاٹ کے نیچے گرایا جائے گا۔ اور پھر
میرے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلایا جائے گا
بے شک مجھے کوئی کاٹ دے میں ڈرتا نہیں
البتہ میری آخری خواہش پوری کی جانی چاہیے
مجھے جلانے کی بجائے۔ میرے جسم سے
مشرق و مغرب کے بیچ بہنے والے
عداوت و کینہ کے گہرے دریا پہ
ایسا پل بنایا جائے، جہاں سے گزر کر
انسانیت، انسانیت کو گلے لگائے
(قطبین:نصر ملک)
نوٹ:اس مضمون میں شامل سب اشعار اور نظمیں مغرب میں بسنے والے اردو شاعروں کی تخلیق کردہ ہیں۔
خالد سہیل

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail