جرم کی سزا


دنیا میں ہر ملک، شہر، کام کی جگہ اور ادارے کے کچھ قوانین ہوتے ہیں۔ جنہیں اس لیے بنایا جاتا ہے تاکہ امن و نظم قائم رکھا جا سکے۔ اگر کوئی ان قوانین کی پابندی کرتا ہے تو نہ صرف اسے بلکہ معاشرے کے دوسرے شہریوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے لیکن جب کوئی قانون توڑتا ہے تو اسے سزا ملتی ہے۔ سزا کی وجہ ایک تو قانون توڑنے کا جرم کرنا ہے۔ دوسرا باقی لوگوں کو یہ سبق دینا ہوتا ہے کہ اگر آپ نے ایسا کوئی جرم کیا تو آپ کو بھی سزا ملے گی۔ جب قانون کی خلاف ورزی کی جاتی اور اس پر سزا نہیں دی جاتی تو معاشرے میں بدامنی اور جرائم رائج ہو جاتے ہیں۔

اس کی بہترین مثال ہمارا اپنا ملک پاکستان ہے۔ جہاں قانون توڑنے کو نہ تو جرم سمجھا جاتا ہے نہ ہی اس کی کوئی سزا ملتی ہے چنانچہ ہر جگہ جرائم پیشہ افراد کا راج ہے۔ چند ماہ کے بچے سے لے کر 80 سالہ بوڑھے شخص تک کوئی محفوظ نہیں۔ قوانین بظاہر جتنے بھی سخت نظر آتے ہوں ان پر عمل کرنے میں ہی انسانوں کی بقاء ہے۔ آج مغرب اسلامی حدود، کوڑے لگانے، ہاتھ کاٹنے، سر قلم کرنے کے، قصاص کو ظالمانہ قرار دے کر انہیں ختم کروانے کی کوشش میں ہے۔ اور ہم بھی اپنے جدت پسند معتدل اور لبرل مسلمان ہونے کا ثبوت پیش کرنے کے لیے ان کی پیروی کر رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہیں۔

وہ تمام ممالک جہاں اسلامی حدود نافذ ہیں جیسے افغانستان، ایران اور سعودی عرب وہاں جرائم کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ اور انگلینڈ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں، جہاں قانون کی بالادستی سمجھی جاتی ہے، جرائم کی شرح بے حد زیادہ ہے۔

شمالی کوریا میں حکومت بہت سخت ہے وہاں کے لوگ حقیقتاً سانس بھی حکومت کی مرضی سے لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں بھی جرائم کی شرح کم ہے۔ ان کے کچھ قوانین سے اختلاف کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ عوام کی آزادی کے خلاف ہیں۔ لیکن بیشتر عوام کی بہتری کے لئے ہیں۔ جیسے کہ اگر کوئی شخص جرم کرتا ہے تو اس کے پورے خاندان آباء و اجداد میں سے جو زندہ ہو، والدین، بیوی اور بچوں کو بھی جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہو گا کہ خاندان کا ہر فرد دوسرے کو کسی بھی جرم سے روکتا ہو گا۔

وہاں پر موجود کوئی بھی شخص خواہ وہ کوئی سیاح ہی کیوں نہ ہو اگر پورن دیکھتے یا بیچتے پکڑا جائے تو اسے سزائے موت ملتی ہے۔ اکثر لوگوں کو یہ سزا بہت زیادہ لگے گی۔ مگر یقین مانیے اس زہر سے بچاؤ کے لیے یہ سزا بالکل مناسب ہے۔ سعودیہ میں اگر کوئی چرس، ہیروئن وغیرہ جیسے نشے بیچتا اسمگل کرتا پکڑا جائے تو اس کا بھی سر قلم کر دیا جاتا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ نشہ چاہے ڈرگز کا ہو یا پورن کا انسان کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔

میری دعا ہے کہ میرے وطن میں بھی کوئی ایسا حکمران اور قاضی القضاہ آئے جو شرعی قوانین کے ساتھ ساتھ دنیاوی قوانین پر بھی عمل کروا سکے تاکہ ہم اغواء، ریپ، قتل، ڈکیتی، رشوت، اقرباء پروری اور دیگر جرائم سے محفوظ رہ سکیں۔

Facebook Comments HS