نواز شریف کی بے موقع اور بےمحل واپسی


خبر جنگل میں آگ کی طرح بھیلی ہوئی تھی کہ سابق وزیراعظم جناب میاں محمد نواز شریف وطن واپس آرہے ہیں اور یہاں پہنچ کر وہ مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب کریں گے۔ تو گویا آ کر پوچھیں گے کہ مجھے کیوں نکالا کیونکہ چار سال پہلے وہ یہی پوچھتے پوچھتے علیل ہو گئے تھے اور پھر علاج کے لئے لندن چلے گئے تھے۔

یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ انہیں اپنے سوال کا جواب ملا یا نہیں مگر اس وقت میرے ذہن میں جو سوال آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ وہ واپس کیونکر آ رہے ہیں کیونکہ ہماری عدلیہ کے مطابق تو وہ وزارت عظمیٰ سے نااہل ہو گئے تھے کیونکہ پانامہ کیس میں اقامہ نظر آ جانے پر وہ قصوروار ثابت ہوئے۔ صبح کا تخت نشیں شام کا مجرم ٹھہر گیا تھا۔ جیل کی جس کال کوٹھڑی میں ڈالا گیا اس کے بارے میں اس وقت کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ یہاں کا اے سی اتروا دوں گا۔ وہ یہ بھی بتاتے تھے کہ نواز شریف ایک کرپٹ آدمی ہے اور ان کو کبھی این آر او نہیں دوں گا اور کافی حد تک وہ اس بات پہ قائم بھی رہے لیکن شومئی قسمت کہ بعد ازاں خود ان کو اسی جیل میں جانا پڑا اور جیل کے باہر کے مناظر و معاملات یکسر بدل گئے۔

19 نومبر 2019 کو میاں نواز شریف علاج کے غرض سے لندن چلے گئے۔ 16 اکتوبر 2020 کو پی ڈی ایم اتحاد کے گوجرانوالہ جلسے میں میاں نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سلیکٹڈ (عمران خان) کو لانے والوں کو جواب دینا پڑے گا۔‘ شاید اسی جوابدہی کے لئے آ رہے ہوں مگر ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ہمارے ہاں دس دس سال جیلوں میں رکھ کر ملزم کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا خاص طور پر اگر وہ سیاسی لیڈر ہوں۔

اب میں اصل بات کی طرف آتی ہوں کہ میاں محمد نواز شریف کی واپسی بے موقع بھی ہے اور بے محل بھی کیونکہ میرے خیال میں وہ تقریباً انہی حالات میں واپس آئے ہیں جن میں یہاں سے تشریف لے گئے تھے اور اپنے والد، والدہ اور اپنی بیوی کے جنازوں کو کندھا تک نہ دے سکے۔ یہ سسٹم کی خرابیاں تھیں جن پر کام ہونا چاہیے تھا۔ وہی سسٹم جو کبھی سابق وزیراعظم عمران خان تو کبھی خود نواز شریف کو جیل کی سلاخوں کو پیچھے پہنچا دیتا ہے۔ وہی سسٹم جو حکمرانوں کو حکومتوں سے نکال باہر کرنے کے لئے وقت کے وزیراعظم پر کرپشن کے الزام کو کافی سمجھ لیتا ہے اور الیکشنز کا انتظار نہیں کرتا۔ وہی سسٹم جو پہلی آئین ساز کمیٹی ہی کو ختم کر دیتا ہے اور وہی سسٹم جو دہائیوں پر محیط مارشل لا ادوار کو جوابدہ نہیں بنا پاتا۔

تو اس صورتحال میں آپ کی واپسی غیر تعلیم یافتہ اور پسے ہوئے عوام میں شاید سیاسی ہلچل کا باعث تو ہو مگر کسی طویل مدت خوشحالی کا پیش خیمہ ہرگز نہیں۔ مانا کہ کچھ معاملات تو یقیناً طے ہوئے ہوں گے مگر جناب والا کیا اس جلسہ گاہ میں جہاں آپ شام کو خطاب کرنے پہنچ رہے ہیں وہاں ہمارے لئے سوائے مخاطب کے بھی کچھ بدلا ہے یا نہیں۔ میری اس تحریر کے مکمل ہونے کے کچھ دیر بعد آپ اسی جگہ پر خطاب کرنے جا رہے ہیں جہاں چند ہی برس پہلے جناب عمران خان صاحب نے کیا تھا، جس پر اگلی تحریر میں بات کروں گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments