ایک فلسطینی بچی کا خط


عالم اسلام کے باسیو!
فلسطین کی ایک زخمی بیٹی کی طرف سے سلام۔
شاید میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، ہر طرف اندھیرا ہے جو ہم فلسطینیوں کے مقدر سے بھی گہرا ہے
میرے جسم کے ساتھ ساتھ روح پہ بھی ان گنت زخم ہیں، مجھے اپنے والد کا لہو رنگ بدن نہیں بھول رہا، جن بازوؤں میں میرا بچپن کھیلتا ہنستا تھا، انہیں بے جان اور خون سے تر دیکھ کر میں نے بے ساختہ خدا کو یاد کیا تھا۔

ہم تو ویسے ہی محاصرے میں ایسی زندگی جی رہے تھے جو کہ محض سانسوں کی آمدورفت ہی تھی، پھر ہم پہ قیامت ٹوٹ پڑی۔ میں ایک ہسپتال کے خون آلود سٹریچر پہ پڑی آپ سے مخاطب ہوں۔

ظلم کیا ہوتا ہے اور مظلومیت کی زندگی کیسے بسر کرتے ہیں یہ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا، ہم سے اپنے گھر چھینے گئے، اپنی مٹی پہ ہم اجنبی ٹھہرے لیکن ہمیں سوائے زبانی دلاسوں کے کچھ نہ ملا۔ میں نے کبھی سنا تھا کہ مسلمان جہاں بھی ہوں اگر کسی بھی خطے میں ایک مسلمان کو تکلیف ہو تو اس کا درد پورا عالم اسلام محسوس کرتا ہے، لیکن ہمارے لئے ایسا کیوں نہیں ہے؟ ہاں تو میں اپنی زخمی روح کی بپتا سنا رہی تھی۔ میرا چھوٹا بھائی جس کی ایک مسکراہٹ میرے لئے کائنات سے زیادہ قیمتی تھی میری ماں کی چھاتی سے لگا اپنے ہونٹوں پہ ہمیشہ کی زخمی مسکراہٹ لئے اس انصاف سے خالی دنیا سے چلا گیا۔ مجھے معلوم ہی کہ میرے جسم و جاں کا رشتہ بہت قلیل وقت کے لئے ہے لیکن اگر میں زندہ رہ بھی گئی تو اپنی ماں کی بے نور آنکھوں اور ان وحشت سے پھٹی آنکھوں میں چھپے سوالوں کو یاد کر کے میرا دل پھٹ جائے گا۔ اپنے خالق کے حضور پیش ہو کر سوال ضرور کروں گی کہ مجھے جو زندگی عطا کی گئی اس میں سوائے درد، دکھ اور اذیت کے کیا تھا۔ ایک پناہ گزین کیمپ میں آنکھ کھول کر پوری لیکن انتہائی مختصر سی زندگی قیدیوں کی طرح اپنی ہی سرزمین پہ گزارنے والوں کی بھلا زندگی ہے ہی کیا؟

میرے ہر طرف اندھیرا ہے، خون کی بو ہے، زخمیوں کی آہ و بکا ہے۔ بچھڑنے والوں کے پیچھے رہ جانے والی خشک آنکھیں ہیں کہ اب آنسو بھی ختم ہو چکے۔ میں نے سنا تھا کہ جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، ہم تو کتنے دن سے محاصرے میں ہیں، پانی بھی نہیں مل رہا، کربلا کی یاد تازہ ہو رہی ہے لیکن پورا عالم اسلام ایک اور کربلا برپا ہوتے دیکھ رہا ہے۔ مجھے بس ایک تسلی ہے کہ عالم اسلام سے بددعاؤں کے کنٹینر بھر بھر کے اسرائیل کی تباہی کے لئے بھیجے جا رہے ہیں لیکن ان سے نہ ہمارے زخموں پہ کوئی مرہم لگ سکتا ہے ناں ہی ہماری مظلومیت کم ہو سکتی ہے۔ فلسطین کی گلیاں لاشوں سے اٹ گئیں ہیں۔ خون کا ایک دریا ہے جو رواں ہے۔ معصوم بچوں کے بے گناہ لاشے اس نام نہاد مہذب دنیا کی بے حسی پہ نوحہ کناں ہیں۔ ہمارے لئے تو نہ کوئی او آئی سی ہے نہ کوئی اقوام متحدہ ہم پہ ہونے والے ظلم پہ بند باندھنے آئی ہے۔

ہمارے دشمن نے ہمارے گھروں، مکانات کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں، سکولوں، عبادت گاہوں پہ بھی حملے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

عالم اسلام کے باسیو!
ہماری مظلومیت کے گواہ رہو
میری آنکھیں بند ہو رہی ہیں
ہاتھوں میں مزید لکھنے کی سکت نہیں ہے
دشمن کے طیاروں کی آواز قریب تر ہے
شاید یہاں بھی جس ہسپتال کے خون آلود سٹریچر پہ میرا زخمی بدن آخری سانسیں لے رہا ہے، حملہ ہونے کو ہے
الوداع۔

Facebook Comments HS