علمی نثر کی روایت اور ڈاکٹر ناصر عباس نیئر

تعلیم کی تحصیل کے بعد ملازمت کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ پاکستان میں بنیادی تعلیم کی تحصیل ایک مسئلہ بن چکی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے تو رانجھے کی طرح بیس پچیس برس بھینسیں چرانا پڑتی ہیں۔ اس کٹھن مشقت کے باوصف ہیرمانتی ہے اور نہ ہیر کے گھر والے۔ بھینیں بھی مہنگی ہو گئی ہیں اور ہیر کے نخرے بھی پہلے کی نسبت بڑھ گئے ہیں۔ رانجھا میاں کیا کریں۔ پڑھنا بھی ہے اور ملازمت بھی وائٹ کالر والی چاہیے۔ ماڈرن رانجھے ؛ ماڈرن ہیر کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
کوئی امید دور، دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ میں پرانے زمانے کا رسیا ہوں۔ اگرچہ بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں میرا شعور پختہ ہوا۔ ارد گرد کی چیزوں کو دیکھنا، پرکھنا اور ٹٹولنا شروع کیا۔ ہر چیز میں ترتیب کی ترتیب کا عدم توازن دکھائی دیا۔ اس خلجان کے بارے میں جب سوچا، اسے بدلنا چاہنا۔ اپنا حلیہ لائق عبرت بنا لیا۔ رانجھے سے بڑھ کر بات مجنوں کے جنون تک جا پہنچی ہے۔ یہ جنون اب مجھے راس آ گیا ہے۔
اس میں دل لگتا ہے۔ اس میں سکون ملتا ہے۔ اس کی اذیت و سراسیمگی کے جملہ لطائف سے حظ اٹھانا عادت بن چکی ہے۔ گویا ؛جنون ایک اچھی چیز ہے۔ جسے یہ لت لگ گئی۔ اس کی نیا ٹھکانے لگ گئی۔ بات علمی نثر کی تمہیدی گفتگو سے شروع ہوئی تھی اور جنون تک آ پہنچی۔ علمی نثر کی روایت میں ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کا مقام اسی جنونیت کا حامل ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نے نثر لکھی۔ بہت خوب لکھی۔ خوب سے بھی خوب تر۔ نثر لکھنے کے بعد انھوں نے علم اور نثر کا باہم اتصال ایک نئے زاویے سے پیش کیا۔
جسے علمی نثر کا نام دیا گیا ہے۔ علمی نثر سے کیا مراد ہے؟ علمی نثر کی غرض و غایت کیا ہے؟ علمی نثر کے تقاضے اور اس کے مضمرات کیا ہیں؟ علمی نثر کا جواز کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ علمی نثر کے اس نکتہ نظر کے حوالے سے بہت سے سوالات کیے گئے جن کے تشفی بخش جوابات ناصر عباس نیر نے اپنی جملہ تخلیقات میں دیے ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی نثر کا اسلوب علمی نثر سے عبارت ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر حسن خاں، وارث علوی، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر سید عبداللہ وغیرہ ایسے علمی نثر کے جید محققین کی جملہ اسلوبیاتی اپج میں ترمیم و تنسیخ کر کے نثر کے مستعمل اسالیب کو ایک نیا رخ دیا ہے۔
اس نئے اسلوب میں انھوں نے ایجاز و اختصار اور جامعیت کے وصف کو سب سے مقدم قرار دیا ہے۔ علمی نثر کے امتیازیات میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھا گیا ہے کہ بات دلیل سے ہٹ کر نہ کی جائے۔ مبالغہ کو شجر ممنوعہ سمجھا جائے۔ شاعرانہ آہنگ کو زہر تصور کیا جائے۔ علم بیان و بدیع کے عناصر سے کم سے کم کام لیا جائے۔ پرانے کتبوں کی دریافت پر زور دیا جائے۔ جدید اور مابعد جدید نظریات کو کلاسیکی متن کے ساتھ تقابل کر کے دیکھنے کا رجحان ابھارا جائے۔
سائنسی اپروچ کو فلسفیانہ نکتہ نظر سے بین السطور اور متوازی ڈسکورس کے شامل تحریر گردانا جائے وغیرہ۔ اس طرح کے اور مفید اصول علمی نثر کی لکھت کے ذیل میں ان کے لیکچر سے گزشتہ دنوں سننے کا اتفاق ہوا۔ علمی نثر کی اہمیت، روایت، افادیت اور اس کی ادب و نقد میں اہمیت و جواز پر لمز یونی ورسٹی نے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا جس کا عنوان علمی نثر: اصول و رسمیات تھا۔ مقررین میں ڈاکٹر ناصر عباس نئیر، ڈاکٹر فاطمہ فیاض، ڈاکٹر عتیق اللہ، ڈاکٹر عابد حسین سیال اور ڈاکٹر نجیب صاحب شریک تھے۔
دو روزہ اس تربیتی ورکشاپ میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ۔ ڈی کے اسکالرز کے علاوہ سکولز، کالجز اور جامعات کی ایک ذہین اور زرخیز اذہان کی تعداد موجود تھی۔ ڈاکٹر ناصر عباس نئیر نے علمی نثر کے اصول و رسمیات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وقت اب بدل چکا۔ تنقید لکھنے کے جملہ اسالیب اور معیارات کا ڈسکورس بدل چکا۔ پرانی روش کو ترک کرنا ہو گا۔ عہد حاضر کے تقاضوں اور معیارات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تحریر کے جدید طریقہ ہائے نقد و نظر کو اختیار کرنا ہو گا۔
ڈاکٹر فاطمہ فیاض نے تقابل ادبیات میں ایک بلند مقام کو تسخیر کر رکھا ہے۔ انہوں نے آرٹیکل کا ملخص یعنی ایبسٹریکٹ لکھنے کا جدید طریقہ سکھایا اور یہ بتلایا کہ مغرب میں تحقیق کا ڈسکورس کیا ہے اور ملخص کو تحقیق میں کیا اہمیت حاصل ہے۔ ملخص لکھنے کا فن جس انداز میں ڈاکٹر فاطمہ فیاض نے بتایا اور پریکٹس سے سمجھایا ہے۔ اس سے پہلے اس کا تصور بھی میرے ذہن میں نہ تھا۔ ڈاکٹر عتیق اللہ سرحد پار کے جید محقق اور نقاد ہیں۔
انہوں نے علمی نثر کے حوالے سے خوبصورت تقریر کی۔ یہ باور کروایا کہ لکھتے رہنا چاہیے۔ لکھتے رہنے سے کچھ نیا لکھنے کے قابل ہو سکیں گے۔ دوسرے دن کے سیشن کا آغاز ڈاکٹر عابد حسین سیال کے لیکچر سے ہوا۔ ڈاکٹر عابد صاحب نے کتابیات کے موضوع پر سیر حاصل لیکچر دیا۔ انھوں نے ایک محقق یعنی اسکالر (ایم فل۔ پی ایچ۔ ڈی ) پر یہ واضح کیا کہ محض ایک مقالہ لکھ کر ڈگری لے لینے سے آپ محقق اور نقاد نہیں بن جاتے۔ یہ ایک ریہرسل ہے ؛دبے کتبوں اور پنہاں حقائق کی دریافت و بازیافت کی؛ جس سے آپ کا سابقہ عمر بھر رہنا ہے۔
ڈاکٹر نجیب جمال صاحب نے موضوع کے انتخاب پر جس انداز میں اپنے جملہ نکات ہمارے سامنے رکھے ؛وہ سامعین کے لیے حیرانی کے ساتھ مسرت کا باعث بھی تھے۔ ڈاکٹر نجیب جمال نے موضوع کے انتخاب، موضوع کی اہمیت، موضوع کی وسعت اور موضوع کے انتخاب سے متعلقہ مسائل کا آسان ترین حل موضوع سے عشق کی صورت بتلایا۔ مجموعی طور پر یہ ورکشاپ شرکا کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوئی۔ گرمانی مرکز زبان و ادب کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نضرہ شہباز خاں نے سرٹی فیکیٹ تقسیم کیے۔
سوال و جواب کے سیشن میں یہ خوشخبری سننے کو ملی کہ لمز یو نی ورسٹی پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ (اردو ادبیات) کا ارادہ رکھتی ہے اور جلد خوش کن امر کو علمی جامعہ پہنانے کی خواہش بھی رکھتی ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیئر نے لمز کے سالانہ رسالہ بنیاد کو بھی علمی نثر کی علمی شکل میں ڈھالنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ یہ کام انتہائی ذمہ داری اور کٹھن ریاضت کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستانی جامعات میں تحقیق کا جو معیار ہے ؛ وہ انتہائی مایوس کن ہے۔
ڈگریاں تھوک کے حساب بک رہی ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ایک موضوع پر مختلف جامعات میں دسیوں ڈگریاں دی جا چکی ہیں۔ اردو زبان و ادب میں تحقیق کی یہ صورت حال ہے کہ شخصیت و فن اور فکری و فنی جائزہ نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ہر چیز کا ارتقا جاری ہے۔ ہر کوئی تاریخ لکھتا ہے۔ جسے دیکھو تجزیہ ہی کرتا نظر آتا ہے۔ تقابلی جائزہ نے جینا مشکل کر دیا ہے۔ گویا کوئی نیا موضوع موجود ہی نہیں۔ کلاسیکی سرمائے پر تحقیق ہو چکی۔
نیا کچھ نہیں لکھا جا رہا تو تحقیق کیا کریں۔ ایک مقالہ لکھنا ہے تو پانچ مقالے سامنے رکھیں۔ مقالہ تیار ہو جائے گا۔ خاکہ سازی اور حواشی و حوالہ جات اور کتابیات کے اندراج میں ہر یونی ورسٹی کا اپنا طریقہ کار ہے۔ ایک عجب تماشا ہے جس کے ختم ہونے کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ غیر جانبدار ہو کر اردو ادبیات سے متعلق اساتذہ نو آموز محققین اور علم کے طالبوں کے لیے سیاست کی طرح کوئی ایک پیج بنا کر باہمی رضا و شغف سے جملہ مسائل کے حل کی علمی کوشش کریں۔ اس سے تحقیق کو ایک نیا ڈسکورس ملے گا نیز اردو زبان و ادب سے متعلقہ تحقیق کو بین الا اقوامی سطح پر پذیرائی ملے گی۔

