قصہ چہار درویش (جدید)


ہر دفعہ کا ذکر ہے کہ ملک خداداد پر، خاکان، خاندان کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ جہاں سندھ جہلم نیلی چناب اور راوی چین ہی چین لکھا کرتا۔ شومئی قسمت کہ تا حال کے آخری فرماں رواں ”سالار بخت“ کو سلطنت بدحالی میں کمر کمر ڈوبی ملی۔ کنگال دیس منہ پھٹ رعایا، باغی راجے، شمال سے اترتا چڑھتا نسوار کش ہجوم اور اتری سیما کے سر اٹھاتے کشٹ ایسے روگ ہوئے کہ بادشاہ کو شورش دبانا پڑی۔ پر مایوسیوں کی گھٹا کم نہ ہوئی تو ویرانے کی راہ لی۔ شام ڈھلی تو بیاباں میں ایک جگہ چار نحیف سے لوگوں کو پایا۔ دیکھ کر خود کو ایک جھنڈ کے اندر چھپایا۔ ان کی باتوں سے لگا کہ چاروں اجڑے ہوئے بادشاہ ہیں اور یہاں مل بیٹھ اپنی اپنی داستانیں سنانے آئے ہیں۔ پہلے درویش نے اپنی بپتا ایسے بیان کی۔

پہلا درویش

عاجز وادی سندھ کے بہت بڑے جاگیر دار خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ کاروبار اور نوٹنکی بھی ملکیت میں تھے۔ چھوٹے ہوتے ایک سوانگ میں میں کام کیا۔ میں یاروں کا یار تھا اور ہم سلطنت کے ہر دل عزیز بادشاہ کے بڑے قریب تھے۔ جب بادشاہ کا تختہ الٹ کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا تو ہمارے دل میں بادشاہ بننے کی آرزو بنی۔ قسمت نے پلٹا کھایا اور اس بادشاہ کی جلا وطن شہزادی سے ہمارا بیاہ ہو گیا اور پھر شہزادی کو تخت بھی مل گیا۔

پھر کیا تھا، ہر روز روز عید اور ہر شب، شب برات۔ ابھی جی بھرا نہ تھا کہ شہزادی سے شاہی چھن گئی پر تین سال بعد دوبارہ اقتدار مل گیا۔ دشمن تاک میں رہے اور ایک بار پھر شہزادی کا تختہ الٹا کر مجھے زنداں میں ڈال دیا گیا۔ مجھ پر بڑے الزام لگے۔ صاحب دس فی صد اور ابو البد عنواناں تک کہا گیا۔ دس سالہ قید کاٹ کر آزاد ہوا تو شہزادی کے قتل نے بے حال کر دیا۔ پھر بطور اجر اللہ نے پوری سلطنت عاجز کی جھولی میں پھینک دی اور یہ سب ملکہ کی شہادت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

پانچ سال بعد شاہی چھوڑنا پڑی اور مخالفوں کے بیچ دس سال دھڑلے سے گزارے۔ کبھی بھی ہار نہ مانی اور آخر اوپر والوں کی کرپا، اپنی خداداد صلاحیتوں اور کچھ مخالفوں کو رام کر کے اپنے سب سے بڑے منہ پھٹ حریف کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ مگر اب صحت اور عمر پہلے والی نہیں ہے اور مایوسی کے ڈیرے ہیں۔ کنارہ کشی چاہی تو غیب سے کسی نے ڈھارس بندھائی اور ملک خداداد کے حاکم سے ملاقات کی راہ سجھائی۔ اسی ہڈک میں اس ویرانے کی خاک چھان کر یہاں تک آیا ہوں۔

دوسرا درویش

صاحبو۔ : میں نے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی اور دین کا ماحول پایا۔ ڈھیر ساری دینی تعلیم پائی اور جامعہ الازہر سے بھی سند لی۔ والد ایک نابغے اور مفتی تھے اور امور ریاست میں حصہ بخرا لیتے رہتے تھے۔ سلطنت کی حکمرانی کے سوا ہر چیز میسر تھی۔ اللہ رب العزت مجھے بھی جزوی طور پر شاہی امور میں مقام فردوس دیتا رہا اور یہ توفیق بھی بخشتا رہا کہ میں اقتدار کی راہوں کے راہروؤں کو جانب منزل کے درست راہ نمائی کرتا رہوں۔

ہم نے سیاست اور مذہب کو جوڑا تاکہ ہر دو کی باہمی جدائی چنگیزی نہ بن جائے۔ اس سفر میں دشمنوں نے ہمیں بڑا بدنام کیا اور میرا ایندھن جیسا کوئی گندا سا نام بھی رکھا۔ میرے مد مقابل کبھی کسی رنڈی کو لائے کبھی خواجہ سراؤں اور کبھی بدمعاش مچھندروں کو لے کر آئے۔ ایک راجواڑے کا راج ملا بھی پر کامل اقتدار کے مزے کہاں؟ سیاست سے بد دل ہونے ہی والا تھا کہ قدرت نے قلب میں ڈال دیا کہ ”اوپر والوں کے فرماں بردا ر رہو اور خلاف ان کے کچھ نہ بولو۔

بولو بھی تو پہلے تولو۔ مگر دینی حمیت و غیرت کہاں اجازت دے کہ کھلے بندوں غاصبوں کی اطاعت کریں اور کلمہ حق نہ کہیں۔ البتہ خفیہ اطاعت اور دوستی میں حرج نہیں۔ سو ملک خداداد کے سفر کا قصد کیا اور عازم سفر ہوا۔ مگر راستہ بھٹک کر سیدھا سر زمین تھائی لینڈ جا پہنچا۔ پہلے گیان اور پھر صراط مستقیم پاکر دیس کو لوٹا اور اب یہاں آپ کے ساتھ بیاباں میں گوشہ نشین ہوں۔

تیسرا درویش

ستر سال پہلے میں نے ایک متمول گھرانے میں جنم لیا۔ پڑھنے اور کھیلنے کا جنون پالا اور نام کمایا۔ پڑھنے کے لیے ولایت گیا مگر خاطر کھیلنے کے پوری دنیا گھومی اور پھری۔ کھیل میں ایک عالم میں انتخاب سمجھا جاتا تھا۔ پوری دنیا کی ناری ذات مجھ پر واری واری جاتی۔ اک بڑا شفا خانہ بھی بنوایا اور لوگوں کی محبت کو پایا۔ بہت سی بدیسی گوریوں کالیوں اور نیلیوں کے دل رکھے اور پھر توڑے۔ مآل ایک ارب پتی میم سے باقاعدہ شادی رچائی اور دو بچوں کا باپ ہونے کی مراد پائی۔

مگر نو سال بعد اک منحوس گھڑی آئی کہ وہ میم بچوں اور طلاق کو لے کر اپنی اصل کو جا، پائی۔ دولت، شہرت اور عزت نے ساتوں آسمانوں کو چھووا تو دوسری طرف پورے دیس پر بادشاہی کا خواب بھی سوا ہوا۔ سر توڑ کوشش کر ڈالی پر من کا باغ ہرا نہ ہوا۔ رب سے لو لگائی اور مایوسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹک سو گیا۔ خواب میں ایک خوبرو ادھیڑ عمر خاتون ایک دربار کے ”چوتھے دروازے“ پر لکھی اس تحریر کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ دیکھا تو دروازے پر لکھا پایا۔ وہی ہوتا ہے جو منظور یہاں ہوتا ہے،

بس راہ سجھائی دینے لگی۔ کشف و عرفان کے در کھلنے لگے۔ فیض بھی حاصل ہونے لگے۔ پھر گھر والی حاجت شدت اختیا ر کرنے لگی تو عاجز نے دوسرا بیا ہ رچا یا اور دلہن کے روپ میں چاند جیسا چہرہ پایا۔ مگر اس بار ہم نے ایک دوسرے کو دھوکہ دینے میں زیادہ دیر نہ کی اور علٰحدگی اختیار کی۔ وہ عورت بد ذات نکلی اور ایک سال کی ساری گندی باتیں ایک گندی کتا ب میں قلم بند کر دیں۔ اب ناچیز روحانیت کی طرف مائل ہوا اور ایک مرشدہ ء کامل کی بیعت کرلی۔

مرشدہ بھی مجھ جیسے مرید کی گھات میں تھی سو خوب گزری جو مل بیٹھے مستانے دو۔ ادھر بڑے آستانے کو فیض رواں ہوا تو ہر جانب بشارتوں نے ڈیرے جما لیے۔ پھر ملک خداداد کی خاطر مرشدہ نے خاوند اور بچوں کی قربانی دے کر اس عاجز سے نکاح فرما لیا۔ اور بالآخر میں تخت سلطنت پر براجمان ہو ہی گیا۔ دشمنوں کا جینا حرام کیا مگر کچھ سالوں بعد اوپر والوں کے فیض میں شدید کمی ہونے لگی۔ میں نے بھی ان پر سر عام چار حرف بھیجنا شروع کر دیے۔

جواب میں انھوں نے بھی تین بار چار حرف دے دیے اور اک سازش کے ذریعے مسکین کو تخت سے پکڑ کر اتار پھینکا۔ ہم نے ریاست میں اودھم مچا دیا اور ایک معرکے میں ٹانگ بھی گنوا بیٹھے۔ دل چھوٹا کیا تو ساتھیوں نے بتایا کہ تیمور بھی لنگڑا ہوا تو اس نے دنیا فتح کر ڈالی۔ مگر صاحبو :دشمنوں نے عاجز کو اس طرح سے گھیرا کہ تیمور لنگ بننے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ ایک ایک کر کے سب ساتھی ساتھ چھوڑتے گئے اور مجھے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔

سخت مایوسی میں غیبی مشورہ ملا کہ تم تکبر کے ہاتھوں اس حال کو پہنچے ہو اور ملک خدا داد کا والی ہی سب دکھوں کا مداوا ہے۔ حالانکہ میں ایک نرم خو آدمی ہوں اور جانوروں تک کا خیال رکھتا ہوں۔ میری سگ بانی و پروری سب جانتے ہیں۔ پھر مرشدہ نے روحانیت کے ذریعے میری روح کو زنداں سے یہاں ویرانے میں پہنچا دیا اور میں آپ کے سامنے نشان عبرت ہوں۔

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ، آہ
چوتھا درویش

دوستو: عاجز کا خاندان کشمیر سے امرتسر اور پھر ملک خداداد آ کر بسا۔ والد لوہے کی تجارت کرتے تھے۔ محنت اور اللہ کے فضل وکرم سے اپنے کارخانے لگا لئے۔ سب کچھ تھا مگر اقتدار کی حسرت بار بار آئے رہتی۔ پیروں اور مولویوں کی خدمت کی اور ایک کو تو بہت زیادہ نواز بیٹھے پر کسی کی دعا اور دوا کار گر نہ ہوئی، آخر ایک مرد حق کے کفش و ضیاء کی بدولت تخت پہ تخت ملنا شروع ہو گئے۔ زوال اور عروج بھی ساتھ ساتھ چلے۔ بڑی بڑی سڑکیں اور پلیں بنوائیں اور سلطنت کو عظیم بنانے کی کوشش کی۔

داتا کی نگری ہماری جنم بھومی ہے اور اسے ہم پیار سے ”لیا ہور“ یعنی something more کہا کرتے تھے۔ داتا صاحب نے ہم دو نوں بھائیوں کو، گنج، بھی بخشا پر ہم کچھ مدت ناخن کاٹنا بھول گئے۔ پھر برادر خورد کی شوبازیوں اور جی حضوریوں نے ہمیں زچ کیا۔ پیر مرد حق کی خلائی رحلت اور سجادگان ”آستانہ عالیہ اوپر والیہ“ کی عدم توجہی و ناراضی کے موجب تخت تاراج ہو گیا۔ عرب کی جانب جلا وطن کیا گیا مگر قسمت نے پھر تخت پر لا بٹھایا۔

اس بار آستانہ عالیہ کا غضب شدید ہو کر آیا اور مجھے میرے دشمنوں کے ذریعے بہت بدنام کر دیا گیا۔ عظمیٰ اور عالیہ کا کردار بھی بھیانک رہا جبکہ چور چور کے شور نے ہمیں بڑا رنج پہنچایا۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور مرد بیمار ٹھہرا۔ ابتدائی علاج زنداں میں ہوا لیکن بعد ازاں اعلیٰ علاج کے لئے ولایت پہنچنے میں کام یاب ہو گیا۔ اچھے وقتوں کی کمائی پردیس میں کام آئی اور شب و روز خوب بیتے۔ ادھر ملک خداداد دن بہ دن کنگال، بد حال و رسوا ہونے لگا۔ اوپر والے سب مہرے آزما چکے تو ایک بار نظر مجھ تک پھر پہنچی اور عاجز کو باب چہارم پر دستک کا عندیہ دیا۔ لو صاحبو وہی دستک دینے ملک خداداد پہنچ چکا ہوں اور کبوتر ہاتھ میں لیے آپ کے سامنے ہوں۔

۔ ۔

چاروں درویشوں کی کہانیوں کو، شہنشاہ سالا ر بخت، غور سے سنتا رہا۔ اب وہ گہری سوچ میں ہے کہ ان چاروں میں سے کس کو ما بعد الدیوالیاتی، ریاست کے لیے چنا جائے۔ پھر دوسرے درویش کو اس فہرست سے نکال دیتا ہے جبکہ باقی تین درویشوں کو خواجہ زر پرست، خواجہ سگ پرست اور خواجہ کبوتر باز کے نام سے یاد رکھ لیتا ہے۔ دل ہی دل میں چوتھے درویش پر قدرے خوش ہے پر جب اسے ملک خداداد کی رعایا اور جمہوریت کا خیال آیا تو بے اختیار منہ سے یہ ورد کرتا اپنے محل کو لوٹا۔ ،

کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آید

Facebook Comments HS