ایم۔ ٹی۔ جے الیون کی ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی


مبشر زیدی نے جدید دور کی ایک کہاوت کا حوالہ دیا ہے جو کہ دلچسپ ہونے کے ساتھ خاصی قابل غور بھی ہے۔ کہاوت کچھ اس طرح سے ہے ”مغرب کا مرد کام کو دماغ میں رکھتا ہے اور سیکس کو عضو تناسل پر۔ پاکستانی مرد سیکس کو دماغ میں رکھتا ہے اور کام کو عضو تناسل پر“۔ اب اسی کہاوت کی توپوں کا رخ ہماری موجودہ تباہ حال قومی کرکٹ ٹیم کی طرف موڑ دیجئے، ممکن ہے آپ کو برا لگے جس کے لیے پیشگی معذرت مگر حقائق کچھ اسی طرف ہی نشاندہی کر رہے ہیں۔

” ہمارے شاہین محنت کو عضو تناسل پر رکھتے ہیں جبکہ ورچو سگنلنگ کو دماغ میں“۔ اس کہاوت کو زیادہ دل و دماغ پر سوار کرنے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے بلکہ سمجھنے کی ضرورت ہے، اس میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔

مہذب قومیں ہر چیز کو اس کے جائز اور حقیقی مقام پر رکھتی ہیں، مطلب ان کے ہاں کام کے وقت صرف کام ہی ہوتا ہے دوسرا کچھ نہیں اور نجی زندگی میں صرف اور صرف من چاہیاں ہی ہوتی ہیں اور کچھ نہیں۔ وہ پروفیشنل دیانت کو بلند ترین چیز سمجھتے ہیں بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ کام کو عبادت سمجھتے ہیں اور ایک طرح سے ”ورک آلکوحلک “ ہوتے ہیں۔

وہ پروفیشن کو اپنی ذاتیات کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کو پیشہ ورانہ بددیانتی تصور کرتے ہیں جبکہ ہم اپنی ذاتیات کو اپنے پروفیشن پر ترجیح دیتے ہیں اور خالق اور بندے کے درمیان انتہائی نجی سے تعلق کو بھی خالص نہیں رہنے دیتے اور اسے بھی سربازار لے آتے ہیں اور کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری موجودہ ٹیم میں پروفیشنلزم کا خاصا فقدان ہے اور کھلاڑیوں میں تبلیغ کا جنون کی حد تک رجحان پایا جاتا ہے۔ اسی لیے شاید وہ کرکٹ کی طرف بہت کم توجہ مبذول کرتے ہیں جبکہ تبلیغی مشن میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ یہاں ایک بات واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ ہمیں تبلیغ یا مذہب سے قطعاً کوئی مسئلہ نہیں ہے، اپنی نجی زندگی میں اپنے من کی شانتی کے لیے کوئی جو بھی عقیدہ رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے کسی کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ اپنے نجی عقیدے یا فلسفے کو بیچ چوراہے لانے کی کوشش کرتے ہیں یا زبردستی صرف اپنی ذاتی تسکین و راحت یا ثواب کی نیت سے اپنے پروفیشن میں گھسانے کی کوشش کرتے ہیں، ہماری کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے جب سے تبلیغی عنصر ٹیم میں شامل ہوا ہے ہمارے کھلاڑی مذہبی مبلغ تو بہت پائے کے بن چکے ہیں مگر جس ٹیلنٹ کی وہ تنخواہ وصول کرتے ہیں وہ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکا ہے۔

ہم جو دعوے بچپن سے سنتے آئے ہیں ” کہ ہمارا باؤلنگ اٹیک بہت زبردست ہے اور ہمارے سپنرز کا تو دنیا بھر میں کوئی ثانی ہی نہیں ہے“۔ بدقسمتی سے وہ ہمارے سارے کے سارے میٹھے میٹھے سے بھرم افغانستان کی ایک کمزور سی ٹیم نے چکنا چور کر کے رکھ دیے اور ہمارے خواہ مخواہ کے تکبر و غرور کو خاک میں ملا دیا۔

ہمارے خیال میں تو اب محمد رضوان اور انضمام الحق کو پریس کانفرنس کر کے بخوشی دنیا کو بتا دینا چاہیے کہ  ”آج آسمان والا افغانستان کے ساتھ تھا اور ہمیں گھبرانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے، جو ہوتا ہے سب اچھے کے لیے ہوتا ہے، ممکن ہے ہمارے گناہ بہت زیادہ بڑھ گئے ہوں یا ہم دین سے زیادہ دور ہو گئے ہوں شاید اسی وجہ سے قدرت نے ہم کو یہ شرمناک دن دکھایا ہے“

ہم کو یہ بتانے میں تو بہت زیادہ شرم محسوس ہوگی نا!

کہ ہمارے کرکٹنگ پروفیشن کو ہماری غفلت کھا گئی۔ ہماری باؤلنگ، بیٹنگ حتی کہ فیلڈنگ تک کا جنازہ نکل گیا اور ہمیں پتا بھی نہ چلا وہ تو شکر ہے افغانستان کا جن کی وجہ سے ہم کو ہماری اوقات پتا چلی۔ ” کہ بھائی ہماری کرکٹ تو گلی محلے کی سطح سے بھی بہت نیچے جا چکی ہے“
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں میں غیر سنجیدگی کا عنصر کب پیدا ہوتا ہے اور کیوں ہوتا ہے؟ ظاہر ہے جب ان کی توجہ منتشر ہوگی یا ان کے ذہن میں اپنے پروفیشن سے زیادہ کوئی اور اہم چیز سما گئی ہو۔ فوکس اور جان توڑ محنت کسی بھی پروفیشن کا طرہ امتیاز ہوا کرتی ہے، کسی بھی فیلڈ سے جب یہ دونوں جوہر رخصت ہو جائیں تو سمجھ لیجیے کہ پروفیشن گیا بھاڑ میں۔

معذرت کے ساتھ اس وقت ہماری ٹیم کسی اور ہی مشن پر ہے، یہ قومی کرکٹ ٹیم سے زیادہ ایم۔ ٹی۔ جی الیون لگنے لگی ہے جن کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے

” کہ دنیا اور اس کے کھیل سب عارضی سے تماشے ہیں جن کی آخرت میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور انسانوں کی زندگیوں کا اصل مقصد تو آخرت کی فکر کرنا ہے“۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اس فکر و فلسفے کے ساتھ کرکٹ یا پروفیشن سے بھلا کون انصاف کر سکتا ہے؟ جب دل و دماغ کی ترجیحات ہی تبدیل ہو جائیں تو پھر یہی حال ہوتا ہے جو افغانستان نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔

ہمیں آپ کے طرز زندگی یا مشابہت و شباہت پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہے آپ اپنے حساب سے زندگی گزارنے میں آزاد ہیں لیکن اتنا تو کیجئے کہ اپنے پروفیشن کو چھوڑ چھاڑ کے پورے کے پورے تبلیغ میں داخل ہو جائیں۔ دوہری زندگی جینے سے کہیں بہتر نہیں کہ ایک دیانت دارانہ طرز کی کھری زندگی بسر کی جائے، حوصلہ کیجئے اور منافقت کا لبادہ اتارنے کی کوشش کیجئے اور اعلان کیجئے کہ ہم مالک کی رضا کی خاطر اپنے پروفیشن کو دین پر قربان کر رہے ہیں کیا آپ ایسا کچھ کریں گے؟

آپ کو دیانتداری سے اپنی ترجیحات کا تعین کرنے کی ضرورت ہے ورنہ دنیا بھر میں ہماری جگ ہنسائی یونہی ہوتی رہے گی، حیرت تو اس وقت ہوتی ہے جب ہماری ٹیم کوئی میچ جیت جاتی ہے تو جناب ہر طرح کی ورچو سگنلنگ کا مظاہرہ عروج پر ہوتا ہے مگر جب ہار جاتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔

مطلب ہماری عبادات بھی ہماری جیت کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں اور ذہن پر ایک ہی بات سوار ہوتی ہے کہ جیتنے کے لیے کرکٹ تو پھر بھی کھیلی جا سکتی ہے لیکن دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو اپنی مذہبی رسومات سے مرعوب کر کے راہ راست پر لانا ہی سب سے بڑا کمال اور اعزاز کی بات ہے۔ ہار جیت تو گیم کا حصہ ہوتی ہے لیکن نیکی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments