وہ اک تارا قسط نمبر10
ہوائیں ظالم و جابر لوگوں کی طرح چنگھاڑتی پھرتی تھیں۔ ٹھنٹھ درختوں کی ویرانی اور ان کی سیاہی سفید اور کہر سے بھرے منظروں میں خوفناک سی دکھتی تھی۔
تھکاوٹ بھی تھی اور نڈھالی بھی محسوس کر رہی تھی جب کام سے لوٹی اور گھر میں داخل ہوئی تھی۔ آنے کے ساتھ ہی اس نے پرس کی سٹریپ کندھے سے اتار کربیگ کو یوں صوفے پر پھینکا جیسے وہ نہایت بیکار اور فضول چیز ہو۔
ہیثم کی طرف دیکھا۔ اس وقت ہیثم کو کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اسے بھی کوئی فضول اور بیکار شے سمجھتی ہو جو مفت میں آنکھوں کی راہ میں حائل ہو رہی ہو۔ کرسی پر بیٹھنے کے ساتھ ہی اس نے دونوں بازو میز پر پھیلاتے ہوئے سر ان کے درمیان رکھ دیا۔
کتنی دیر بیت گئی۔ لاؤنج میں موت کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ باہر دھند اتر رہی تھی۔ کھڑکیوں کے شیشے دھندلا رہے تھے اور اندر اس کا رویہ جذبات و احساسات کو دھندلا رہا تھا۔ وہ کوفت اور بیزاری سے کھڑا ہوا۔ کمرے میں چند چکر کاٹے۔ شیشوں سے سڑک پر کچھ دیکھنے کی کوشش کی پھر واپس آیا۔
”اینا کیا بات ہے؟“
اس نے سر اٹھایا۔ گھائل نظروں سے اسے دیکھا۔ کچھ کہنے کی بجائے ریموٹ کا بٹن دبایا۔ ٹی وی شور کی آواز سے آن ہوا۔ ابھی سکرین پر دکانوں کے سامنے ڈبل روٹی اور واڈکا کے لئے لمبی قطاروں کا منظر ابھرا ہی تھا کہ اس نے کھٹ سے اسے دوبارہ بند کر دیا۔
وہ اٹھی۔ کچن میں گئی۔ کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ باہر نکلی اور بولی۔
”گھر میں تو کچھ بھی نہیں۔“
”گھر تمہارا بھی ہے میرا ہی نہیں۔ اس کی ذمہ داری تم پر بھی ہے۔“
”اف“ ۔ اس نے لمبی سانس بھری تھی۔
باہر واڈکا کے لئے لمبی قطاریں، کھانے پینے کی چیزوں کے حصول کے لئے قطاریں، روبل کو ڈالرز میں تبدیل کرنے کے لئے قطاریں، ریگن اور دوسرے مغربی لیڈروں کی گوربا چوف کی تعریفوں کی لمبی قطاریں، گوربا چوف اوریلسن کے جھگڑوں کے لمبے سلسلے۔ ان سب کے درمیان اس کے چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی قطاریں جو اب گھریلو مسائل کے علاوہ ملکی حالات پر بھی اختلاف کی صورت میں لمبے لمبے جھگڑوں کا باعث بننے لگے تھے۔
”تمہارے ساتھ چلنا کتنا مشکل ہو گیا ہے؟ تم کتنے ڈیمانڈنگ اور ظالم ہو رہے ہو۔ آج کل کتنی ٹینشن ہے؟ قوم کی بقا داؤ پر ہے۔ ملک بھی آتش فشاں پہاڑ کے دہانے پر جیسے کھڑا ہے۔ تمہیں کوئی پرواہ ہی نہیں۔“
”کس قدر افسوس ہے تم پر۔ کس حق سچ پر کھڑی ہو تم؟ میں تو غلام ہوں سوویت کا۔ میری بلا سے کل کا ٹوٹتا آج ٹوٹ جائے۔ مائی فٹ جو بویا تھا وہی کاٹنا ہے اسے۔“
اس وقت وہ بڑی ڈپریس سی تھی۔ کچھ زیادہ بولی نہیں۔ بس تھیلا اٹھایا اور باہر نکل گئی۔
وہ سوچوں میں گم سم بیٹھا تھا۔ پھر جیسے خود سے بولا۔ سوویت کے حالات کی طرح اس کی محبت بھی اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں کسی بھی لمحے کوئی دھماکہ ہو سکتا ہے۔
وہ دیر بعد آئی۔ کچن میں گئی۔ سوپ بنایا۔ کھانے کی میز پر رکھا اور اسے صوفے میں دھنسے بیٹھے کو بازو سے پکڑ کر اٹھا کر لائی۔ اور جب وہ چھوٹی چھوٹی بائٹ لیتا اور سوپ پیتا تھا وہ بہت متاسف سا تھا کہ آخر اس نے ایسا کیوں کیا؟ کیا تھا جو وہ خود چیزیں لے آتا؟ کتنی مشکل اور تکلیف سے وہ یہ سب لائی ہو گی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب وہ اٹھا اس نے اس کے بالوں پر پیار کرتے ہوئے اپنے سینے سے بہت لمبی سی سانس نکالتے ہوئے کہا تھا۔
”اینا شاید تم یہ کبھی نہ سمجھ سکو کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں اور تمہاری توجہ کا کتنا طلب گار ہوں۔“
وہ بھی بھری بیٹھی تھی۔ اس کے سینے سے لگی تو جیسے برسات سی ہو گئی۔
وہ ٹی وی پر سوویت یونین کی کونسل آف منسٹرز کے چیئرمین نکولائی رژکوف کے ساتھ سوال جواب میں گورباچوف کی گورنمنٹ کا تیا پانچہ کرنے پر تلی بیٹھی تھی۔ اناج اور آلو وافر مقدار میں موجود مگر دکانوں پر کیوں نہیں؟ سگریٹ فیکٹریوں میں بکثرت موجود مگر دکانیں خالی۔ گوشت گوداموں میں سڑ رہا ہے۔ مگر لوگوں کو نہیں مل رہا۔
رژکوف کی ہر بات تو وہ گاجر مولی کی طرح کاٹتی تھی۔ نظریاتی طور پر وہ سوشلزم کی حامی تھی۔ لینن محبوب لیڈر تھا۔ پر حالات جس نہج پر آ گئے تھے وہاں کسی بھی ازم کا اب کوئی سوال نہیں رہا تھا۔ سرمایہ داری کے لئے سب راستے ہموار ہو رہے تھے۔ سوویت یونین کی ملحقہ ریاستوں کے حوالے سے بات ہوئی۔ بالٹک ریپبلکیں لتھوینیا، لتویا اور استھونیا میں ایجی ٹیشن اور 1940 ء سے پہلے کے سٹیٹس پر جانے کے مطالبے پر بات ہوئی۔ کاکیشیائی ریاستیں اور ان کا مستقبل کھل کر زیربحث آئے۔ مشرقی جرمنی، چیکو سلواکیہ، رومانیہ اور ہنگری کے حالات بھی نظر انداز کرنے والے نہ تھے۔
ڈیڑھ گھنٹے کے اس پروگرام کے بعد جب وہ گھر آئی۔ ایک گرما گرم بحث اس کے انتظار میں تھی۔
”اینا اپنے نقطہ نظر میں ذرا وسعت پیدا کرو۔ لوگوں کے دل کی بات سنو اور سمجھو۔ سٹالن کی طرح اپنے حقوق اور آزادی کے لئے ہلکی سی آواز بھی تم سے برداشت نہیں ہوتی۔“
” ہیثم تمہیں یہ بات نہیں کہنی چاہیے۔ ریاستیں اگر آزادی چاہتی ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ مسئلہ اگر ہے تو دنیا میں روسی عظمت، وقار اور مقام کا۔ لیکن ان کی غلط پالیسیوں کی تو میں خود سب سے بڑی نقاد ہوں۔“
”اب کوئی پوچھے کہ اس وقار کو داؤ پر لگانے والے کون ہیں؟ افغانستان میں پنگوں کی ضرورت تھی بھلا۔ دراصل مہم جوئی کا جنوں چین لینے نہیں دیتا نا۔ کیوبا پر ضرورت سے زیادہ مہربانیاں۔ مشرقی یورپ پر عنایتیں۔ ریپبلکوں پر جپھے۔ ہتھیاروں اور میزائلوں کی دوڑ میں سبقت کا جنون۔
عام روسی بے چارہ تو لائنوں میں کھڑا ہے جس کی آدھی دیہاڑی ایک ڈبل روٹی کے حصول میں گزرتی ہے۔ وہ کیوں نہ چلائے اور کہے۔ اپنا آپ سنبھالو۔ چار سو بکھیڑے ڈالے ہوئے ہیں۔ دنیا کے آدھے رقبے پر قبضہ کیے بیٹھے ہو۔ اب جان چھوڑو ان سب کی اور اپنی نبیڑو۔
مغرب اور آئی ایم ایف کے ہتھکنڈے آنے والے سالوں میں دیکھنا تو سہی کیا کیا تماشے دکھاتے ہیں؟ ”
بظاہر دونوں بڑے باریک بین تھے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک معاشی اور اقتصادی میدانوں میں کن کن ذلت آمیز ہتھکنڈوں سے سوویت یونین کا گلا گھونٹنے اور اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ خود گوربا چوف کیا چاہتا تھا؟ یلسن کے عزائم کیا تھے؟ ملک تیز رفتاری سے کس نہج پر جا رہا تھا۔ اسے سمجھنے میں ہیثم زیادہ تیز تھا۔ اس کے تجزیے حقیقت کے زیادہ قریب ہوتے۔
ایناکو یلسن سے زیادہ امید تھی۔ اس کے عوامی انداز اسے پہلے حکمرانوں سے مختلف لگے تھے۔ کم ازکم اس کی صورت میں وہ ایک امید، روشنی کی ایک کرن ضرور دیکھتی تھی۔
ہیثم اس سے قطعی متفق نہیں تھا۔ وہ یلسن کو نرا فراڈ اور ڈرامہ باز خیال کرتا تھا۔ ان دنوں وہ اکثر اسے کہتا۔
”اینا یلسن کو ذرا گہرائی میں جا کر دیکھو۔ بڑے گھٹیا اور چیپڑے انداز ہیں اس کے۔ تم جیسی سمجھ دار بھی اس کے فریب میں آ گئی ہے تو بے چارے عام روسی تو کسی گنتی میں شمار نہیں؟ لوگوں نے بڑی امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔
ہیثم ہنستا تھا۔ اس کے لب و لہجے کی نقلیں اتار تا تھا۔
”مجھے سرکاری گاڑی نہیں چاہیے۔ ڈرائیور کی ضرورت نہیں۔“
اب وہ عام لوگوں کی طرح میٹرو سے سفر کرتا ہے۔ مارکیٹوں پر چھاپے مارتا ہے۔ تقریروں میں بیوروکریسی کے لتے لیتا ہے اور بلے بلے کے نعرے لگواتا ہے۔ کل دیکھنا۔ اسی بیوروکریسی کے بغیر وہ سانس بھی نہیں لے سکے گا۔ سورڈ پووسک کا یہ بورس یلسن پورا ایکٹر ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کے رنگ دیکھنا۔ باپ ہے سب کا۔
1990 ء میں Kuznetsk کوونسک کے علاقے میں روسی کان کنوں کی ہڑتال اتنی ہمہ گیر اور شدید تھی کہ گوربا چوف کی حکومت ہل کر رہ گئی۔
٭٭٭

