پیپلز پارٹی کا وقار: سردار محمد سلیم (1)


10 اگست 2023 کو سردار سلیم نے فیس بک پر اپنے اکاؤنٹ میں اپنے دیرینہ دوست جاوید حکیم قریشی کی وفات کی خبر پوسٹ کی اگلے دو روز بعد ان ہی کے اکاؤنٹ پر ان کی وفات کی خبر آ گئی جاوید حکیم قریشی کا شمار پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں ہوتا ہے وہ 1970 ء میں پیپلز پارٹی راولپنڈی کے جنرل سیکریٹری تھے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے ان کا اوڑھنا بچھونا ہی لے فٹ کی پالیٹکس تھا جنرل ضیاء الحق کے مارشل لائی دور میں پیپلز پارٹی کے ”ہارڈ لائنر“ پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا تو انہوں نے جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی برطانیہ میں سیاسی پناہ لے لی اور اپنی آخری سانس تک برطانیہ میں ہی علم کے چراغ روشن کرتے رہے وہ تین چار سال قبل پاکستان آئے تو پیپلز پارٹی کے بانی رکن ابرار رضوی نے 70 ء کے عشرے کے دوستوں کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا اس ری یونین میں سردار سلیم، الحاج نواز کھوکھر، سید ظفر علی شاہ، عبد الرشید شیخ، شاہد ظفر اور راقم السطور سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی یہ ان سرگرم سیاسی کارکنوں اور طالبعلم لیڈروں کا اجتماع تھا جنہوں نے ایوب خان کی آمریت کے خلاف تحریک میں حصہ لیا اور بعد ازاں اپنی اپنی پسند کی جماعتوں کو جوائن کر لیا جب کہ میں واحد طالبعلم لیڈر تھا جس نے صحافت کے شعبہ کو اپنا کیریئر بنایا۔

سردار سلیم مجھ سے خاصے سینئر تھے میرا تعلق دائیں بازو سے تھا جب کہ وہ بائیں بازو کے سرخیل تھے ہم دونوں میں نظریاتی ہم آہنگی نہیں تھی بلکہ آپ کہہ لیں کہ ”آگ اور پانی“ جیسا رشتہ تھا لیکن ہمارے درمیان دوستی کا مضبوط رشتہ تھا ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے نظریات میں اختلاف ہونے کے باوجود ہم ایک دوسرے کے بڑے قریب تھے ان کا سدھن قبیلے سے تعلق تھا ان کی جنم بھومی راولا کوٹ (آزاد جموں و کشمیر) تھی سابق صدر سردار ابراہیم ان کے ماموں تھے انہوں نے کشمیر کی سیاست نہیں کی پوری عمر راولپنڈی میں گزار دی یہ عرصہ کم و بیش نصف صدی پر محیط ہے اس لئے میں ان کو خطہ پوٹھوہار کا نامور سیاسی کارکن ہی لکھوں گا۔

گو کہ ان کا خمیر کشمیر سے اٹھا لیکن انہوں نے اپنی سیاست کے لئے راولپنڈی کا انتخاب اس لئے کیا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں عام آدمی کی حالت تبدیل کرنے کی جنگ لڑنا چاہتے تھے انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم پر سیاست کی جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خاتمہ کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ساری زندگی ایک ہی جماعت میں گزار دی وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکن تھے انقلابی سوچ رکھتے تھے ان سے گاہے بگاہے ٹیلی فون پر رابطہ قائم رہتا تھا ”فیس بک“ پر بھی بڑے سرگرم رہتے تھے ان سے آخری بار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک تقریب میں ملاقات ہوئی وہ اپنی سیاسی جد و جہد کے بارے میں فیس بک پر لکھتے تھے میرے علاوہ کئی دوستوں نے انہیں اپنی یادداشتوں کو کتابی شکل دینے کا مشورہ دیا تو انہوں نے فیس بک پر یادداشتوں کو لکھنا چھوڑ دیا تھا اور اپنی تمام تر توجہ کتاب لکھنے پر مرکوز کر دی۔

فیس بک پر ایک پوسٹ میں انہوں نے 23 مارچ 1973 ء میں لیاقت باغ میں ہونے والے یو ڈی ایف کے جلسہ عام پر پیپلز پارٹی کی طرف سے کی جانے فائرنگ کا دفاع کیا تو میں نے ان سے برملا اختلاف کیا میں اس واقعہ کا عینی شاہد تھا اور کہا کہ لیاقت باغ میں یو ڈی ایف کے کارکنوں کا قتل عام غلام مصطفی کھر کی نگرانی میں ہوا تھا سید ظفر علی شاہ کا شمار پاکستان کے نامور وکلاء میں ہوتا ہے انہوں نے سانحہ لیاقت باغ بارے میں پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے خلاف کیس کیا یہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا اس کوئی نتیجہ نہ نکلا آج اس مقدمہ کے مستغیث کو بھی معلوم نہیں یہ کس جج کی عدالت کے سردخانے میں پڑا ہے؟

بہر حال اگر یہ کہا جائے تو کہ بہتر ہے کہ ایسے کئی کیسز تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو گئے ہیں سردار سلیم اختلاف رائے کا برا نہ مانتے تھے لیکن وہ اپنے نکتہ نظر پر ڈٹے رہتے تھے میں نے ان کو کتاب کی تدوین و اشاعت میں تعاون کی پیشکش بھی کی شنید ہے ان کی سیاسی جدوجہد پر مشتمل سوانح عمری مکمل ہو گئی تھی لیکن اشاعت کے مراحل طے نہیں کر پائی میں نے سردار سلیم کے صاحب زادے یاسر سلیم جو ملازمت کے سلسلہ میں امریکہ میں مقیم ہیں تعزیت کے موقع پر ان کی کتاب کی اشاعت کی بات کی تھی سردار سلیم اور میری بچیاں اکٹھے سٹیشن سکول نمبر 1 راولپنڈی میں زیر تعلیم رہے سردار سلیم عملی سیاست سے ریٹائر ہو چکے تھے لیکن وہ کبھی کبھی فیس بک پر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے تھے انہوں نے کم وبیش 89 سال عمر پائی وہ اپنی عمر کے آخری حصہ تک صحت مند تھے ان کا شمار پیپلز پارٹی کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے عملاً جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف بندوق اٹھائی۔

عزت نفس پر کبھی کمپرومائز نہیں کیا مجھے یاد ہے پیپلز پارٹی راولپنڈی کے کارکنوں کے ایک اجلاس میں جو ان کی زیر صدارت منعقد ہو رہا تھا میں اس وقت کے پارٹی سیکریڑی جنرل چوہدری احمد مختار نے کہا کہ پارٹی کی قیادت ان لوگوں کے پاس ہونی چاہیے جو پارٹی کے اخراجات برداشت کر سکتے ہوں تو سردار سلیم اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل کی تقریر کو پارٹی کے جیالوں کی توہین قراردیا اور پارٹی کی صدارت چھوڑ دی۔

انہوں نے تنگ دستی میں خاصا وقت گزارا لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا جب ان کے صاحبزادے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے امریکہ چلے گئے تو ان کی مالی مشکلات بھی ختم ہو گئیں اللہ تعالٰی نے بھی ان دھن کی ایسی بارش کی کہ خوشحالی نے ان کے ہاں ڈیرے ڈال دیے سردار سلیم ذوالفقار علی بھٹو کا شیدائی اور وفادار ساتھی تھا مرتضٰی بھٹو کے ساتھ جلاوطنی کی زندگی گزاری محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد ان کی نظروں میں کوئی لیڈر جچا ہی نہیں ان کا دامن سیاسی آلودگیوں سے پاک تھا سدھن قبیلہ کے اس بہادر سپوت نے زندگی بھر عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے کی جدوجہد کی۔

سردار سلیم ذوالفقار علی بھٹو کا شیدائی تھا وہ بھٹو کے مخالفین سے لڑ مرنے کے لئے تیار ہوجاتا تھا اس نے ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی کے لئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جلاوطنی کی زندگی بسر کی ان کا کہنا ہے کہ 4 اپریل 1979 ء پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اس روز بھٹو کو ایک عدالتی حکم کے تحت شہید کر دیا گیا ذوالفقار علی بھٹو کے ”جرائم“ کی فہرست کافی طویل ہے پہلا جرم یہ تھا کہ اس نے بے زبان ہاریوں اور مزدوروں کو زبان دی اپنے حقوق کے حصول کے لئے مل مالکان اور جاگیر داروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی قوت عطا کی طلبہ کو یونین سازی کا حق دیا آئین سازی کے عمل میں واضح اکثریت کے باوجود تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کر ایک مشترکہ آئین تشکیل دیا۔ فوجی جنرلوں کی شکست کے اثرات ختم کر کے بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر شملہ معاہدہ کیا۔ جنگی قیدی رہا کرائے اور بھارت کے قبضے سے پانچ ہزار مربع میل کا علاقہ واپس حاصل کیا۔ پاکستان میں اسلامی سربراہ کانفرنس بلائی جس میں سارے عالم اسلام نے بیک زبان ہو کر کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے معاملہ کو آگے بڑھایا۔ مسلمان ممالک کو تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی راہ دکھائی لیکن کچھ لوگ ”شعوری یا غیر شعوری طور پر ابھی تک ضیاء الحق کو اپنا“ سیاسی باپ ”۔تصور کرتے تھے۔

ضیاء دور میں سیاسی کارکنوں کو کوڑوں اور قید کی سزائیں دی گئیں اگر کوئی سڑک کے کنارے واقع کسی دیوار پر لکھ دیتا کہ جمہوریت بحال کرو تو پولیس کو حکم دیا جاتا کہ اس شخص کو تلاش کر کے سزا دلاؤ اور جب ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کر دیا گیا تو ہم کچھ لوگ اس نتیجے پر پہنچے کہ ضیاء الحق کی زندگی میں جمہوریت کی بحالی ممکن نہیں۔ ہم لوگ بنیادی طور پر پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ تھے مگر اس سوچ میں پیپلز پارٹی کی قیادت کی رائے شامل نہیں تھی جب ضیا ء الحق نے دیکھا کہ یہ لوگ مجھے مارنا چاہتے ہیں تو اس نے دہشت گرد کہنا شروع کر دیا آزادی کے متوالوں بھگت سنگھ اور سوبھاش چندر کو انگریز دہشت گرد کہتا تھا اسرائیل کی ناجائز حکومت یاسر عرفات کو کی تنظیم الفتح کو دہشت گرد کہتی تھی محض ایک ہوائی جہاز اغوا کرنے سے کوئی دہشت گرد نہیں ہو سکتا اگر ایسا ہے تو لیلیٰ خالد بھی دہشت گرد تھی اصل مقصد وہ غرض ہے جس کے لئے اغوا کیا جائے کراچی کے کچھ ساتھیوں کو جب اطلاع ملی کہ ضیا پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماؤں کو سزائے موت دینا اور کچھ پی ایس ایف کے کارکنوں کو طویل قید کی سزا دے کر ان جوانی کو جیل میں ڈال کر ختم کر نا چاہتا ہے تو ان کی رہائی کے لئے ان کو یہی طریقہ نظر آیا اور اس طرح انہوں نے جیلوں سے 54 لوگوں کو رہا کرا دیا الذوالفقار کا مقصد صرف اور صرف جمہوریت کی بحالی تھا اس کا ثبوت یہ ہے کہ محمد خان جونیجو کی لولی لنگڑی جمہوری حکومت کے دوران بھی ہم نے اپنی تمام سرگرمیاں بند کر دیں ہم ضیاء اور اس کے قریبی ساتھیوں کو مارنا چاہتے تھے تاکہ جمہوریت بحال ہو سکے ہم ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں جو ہائبرڈ جمہوریت ہے یہ اسی وقت ممکن ہوئی جب ضیا اس دنیا میں نہیں رہا۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS