فلسطینی ایسا کیا کریں کہ اسرائیل ناراض نہ ہو – مکمل کالم


چلیے آج ’شیطان کے وکیل‘ بن کر کچھ سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہیں۔ پہلا سوال: حماس نے اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کیا جس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر خوفناک بمباری کی، نتیجے میں اب تک پانچ ہزار سے زائد فلسطینی عورتیں، بچے اور جوان شہید ہوچکے ہیں، بمباری کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، تو کیا یہ سمجھا جائے کہ حماس نے حملہ کر کے حماقت کی جس سے فلسطینیوں کو نقصان پہنچا؟ دوسرا سوال: حماس نے نہتے اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے جن میں عورتیں بھی شامل ہیں اور مغربی میڈیا کے مطابق حماس کے حملوں میں بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں تو کیا ایسے بے رحمانہ اقدامات کی دو ٹوک مذمت نہیں کی جانی چاہیے؟ تیسرا سوال: اگر فلسطینیوں نے اسرائیل سے نمٹنا ہے اور اپنا کھویا ہوا خطہ زمین واپس لینا ہے تو اِس کے لیے ضروری ہے کہ دانشمندانہ حکمت عملی اپنائی جائے، حماس جیسے گروہ اِس دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اُلٹا فلسطینی ’کاز‘ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، کیا یہ بات درست ہے؟

اِن سوالوں کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ اِن میں پوشیدہ مفروضوں کو سامنے لایا جائے۔ مثلاً ہم نے فرض کر لیا ہے کہ حماس کے حملے سے پہلے فلسطینی، گو کہ اسرائیل کے زیرِ تسلط تھے اور اسرائیل اُن کے علاقوں پر قابض تھا، مگر پھر بھی اُن کی زندگیاں جیسے تیسے امن سے گزر رہی تھیں، وہ صبح اُٹھ کر اپنے کاموں پر جاتے تھے، چار پیسے کماتے تھے، شام کو اپنے بچوں کے پاس بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے، لیکن حماس کے حملے کے بعد تو اُن کے ہاتھ سوائے تباہی کے کچھ نہیں آیا۔ اِس مفروضے کی دھجیاں بسیم یوسف نے اڑا دیں، بسیم ایک مصری ٹی وی اینکر اور سیاسی طنز نگار ہے، گزشتہ دنوں اُس نے برطانوی صحافی پئیرس مورگن کو ایک انٹرویو دیا جسے یوٹیوب پر اب تک 18 ملین لوگ دیکھ چکے ہیں، جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کا فلسطین کے خلاف مقدمہ کس قدر کھوکھلا ہے اور وہ اپنے حقِ دفاع کی آڑ میں کس طرح فلسطینیوں کی نسل کُشی کر رہا ہے وہ یہ انٹرویو ضرور دیکھیں۔

بسیم یوسف نے کہا کہ چلیے ایک ایسی دنیا کا تصور کرتے ہیں جہاں حماس نہیں ہے اور اُس دنیا کا نام مغربی کنارہ رکھ دیتے ہیں کیونکہ مغربی کنارے میں حماس کا وجود نہیں، اِس کے باوجود اسرائیل اِس سال وہاں 172 فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ لہذا یہ کہنا کہ حماس کے حملے سے پہلے راوی چین ہی چین لکھتا تھا یا فلسطینی کم از کم اپنے گھروں میں سکون کے ساتھ رہ رہے تھے بالکل حقائق کے منافی بات ہے۔

دوسرا مفروضہ حماس کی دہشت گردی سے جُڑا ہے، مغربی میڈیا کے اینکر فلسطین کے حامیوں کو اپنے پروگرام میں مدعو کر کے کہتے ہیں کہ کیا آپ حماس کی دو ٹوک مذمت نہیں کرتے اور اگر نہیں کرتے تو اِس کا مطلب ہے کہ آپ کو اسرائیل کی مذمت کا بھی کوئی حق نہیں۔ یہ موازنہ بھی گمراہ کُن ہے کیونکہ اِس موازنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کے اقدامات کو جواز مل جاتا ہے جبکہ فلسطینیوں کا استدلال یہ ہے کہ خطے میں اگر کوئی دہشت گرد ہے تو وہ اسرائیلی فوج ہے جو فلسطین کی زمین پر قابض ہے اور یہ بات بین الاقوامی قانون سے ثابت شدہ ہے۔ ایسے میں جب مغربی میڈیا حماس کو فوکس کرتا ہے تو وہ دراصل اسرائیل کو ’بلینک چیک‘ دے رہا ہوتا ہے کہ اب اسے فلسطینی بستیوں پر بمباری کا پورا حق ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے حامیوں کو مغربی میڈیا کے کسی اینکر نے بلا کر یہ نہیں پوچھا کہ تم لوگ اپنی فوج کی عام شہریوں پر بمباری کی مذمت کیوں نہیں کرتے، اصل میں یہ ہے وہ دہرا معیار جس کی وجہ سے حماس کی مذمت نہیں کی جاتی۔

اب کچھ بات حکمت عملی کی بھی ہو جائے۔ فلسطینی کاز کے حامیوں پر یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ وہ دانشمندانہ حکمت عملی اپناتے تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ چلیے مان لیا، اب آپ اُن کے لیے کوئی ایسی حکمت عملی بنا کر دکھائیے جس سے اسرائیلی فوج کا قبضہ بھی ختم ہو جائے اور وہ امن اور عزت سے زندہ بھی رہ سکیں! صرف یہ کہنا کہ دنیا میں طاقت ور کا حکم چلتا ہے کوئی ایسی بات نہیں جس سے دانش جھلکتی ہو یا جس میں کوئی گہرا تجزیہ شامل ہو۔

جب آپ کے سامنے ظلم ہو رہا ہو اور آپ کو اچھی طرح علم ہو کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون تو کسی بھی دانشور کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ظالم کی کھُل کر نشاندہی کرے اور مظلوم کے حق میں آواز بلند کرے۔ اگر وہ یہ نہیں کرتا اور دلیل کے طور پر کہتا ہے کہ طاقت ور کے خلاف آواز بلند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو پھر وہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑا ہے کیونکہ وہ بالواسطہ طریقے سے ظالم کی حمایت کر رہا ہے۔ یہی کام آج امریکی یونیورسٹیوں کے وہ پروفیسر کر رہے ہیں جن کی نوکریاں سپریم کورٹ کے ججز کی طرح محفوظ ہیں لیکن اِس کے باوجود وہ فلسطین کی حمایت میں بولنے سے قاصر ہیں، اِن کا لبرل ازم صرف ایران میں عورتوں کے خلاف بننے والے قوانین تک ہے، بغل میں اسرائیل آ کر اُن کے پر جلتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہارورڈ کے جن طلبا نے فلسطین کے حق میں قرارداد پر دستخط کیے تھے اُن کے نام افشا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور مہم چلائی جا رہی ہے کہ انہیں مستقبل میں نوکریاں نہ دی جائیں، یہی نہیں بلکہ امریکہ سے یہودی نوجوان ’جہاد‘ کی غرض سے اسرائیل بھی آرہے ہیں۔ سو اُن کا جہاد، جہاد ہے اور ہمارا جہاد دہشت گردی!

حکمت عملی پر واپس آتے ہیں۔ فلسطینیوں کے پاس حکمت عملی کے کیا آپشن ہیں؟ ماضی میں کون سا آپشن کامیاب ہوا اور آئندہ کیا حکمت عملی ہونی چاہیے؟ فلسطینیوں نے پُر امن جد و جہد اور بین الاقوامی قانون کی عملداری کی دہائی دے کر دیکھ لیا ہے، دنیا اُن کی آواز پر کان نہیں دھرتی، اسرائیل بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے مگر امریکہ اور مغربی ممالک اُس کے ’حق دفاع‘ کو جواز بنا کر اُس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ماضی میں پی ایل او نے مسلح جدہ جہد کی، نتیجے میں اوسلو معاہدہ ہوا، امریکہ، اسرائیل اور فلسطینیوں نے دو ریاستوں کے قیام پر اصولی اتفاق کر لیا مگر آج تک اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے لیے راہ ہموار نہیں کی۔ اب بتائیے کہ فلسطینی کیا کریں؟

اسرائیلی حکومت آئے دن فلسطینیوں کا قتل کرتی ہے، اُن کی زمین پر نئی بستیاں تعمیر کرتی ہے، جب چاہے اُن کی بجلی، پانی اور کھانا بند کر دیتی ہے، فلسطینی اپنی ایک ایک ضرورت کے لیے اسرائیل کے محتاج ہیں، اِس کے باوجود قصور فلسطینیوں کا ہے کیونکہ دنیا کا اصول ہے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس، واہ! اِس اصول کے تحت کسی مزارع کو اُس وقت مزاحمت نہیں کرنی چاہیے جب علاقے کا چوہدری بندوق کے زور پر اُس کی بیٹی کو اٹھا کر لے جائے بلکہ اسے کوئی ایسی حکمت عملی بنانی چاہیے کہ چوہدری بھی ناراض نہ ہو اور اُس کی بیٹی بھی واپس آ جائے چاہے یہ حکمت عملی بنانے کے دوران مزارع کی بیٹی حاملہ ہی کیوں نہ ہو جائے!

مجھے اندازہ ہے کہ میری کچھ باتیں جذباتی ہیں، لیکن میں گوشت پوست کا انسان ہوں کوئی مشین نہیں کہ جذبات سے عاری ہو کر بات کروں۔ میں دنیاوی معاملات میں مذہب سے دلیل دینے کا عادی نہیں ہوں لیکن جو دینی اکابرین یہ مقدمہ پیش کر رہے ہیں کہ حماس کے حملے سے فلسطینیوں کو نقصان پہنچا تو اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ دنیا کی ہر بات نفع و نقصان یا سود و زیاں کو ذہن میں رکھ کر نہیں کی جاتی۔ نبوت کے اعلان کے بعد قریش مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو ہر وہ پیشکش کی جس میں آپ ﷺ کا دنیاوی فائدہ تھا مگر آپ ﷺ نے جواب دیا کہ اگر میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند بھی رکھ دو تو میں اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوں گا۔ حماس کے حملے کے بعد بظاہر یہی لگتا ہے کہ فلسطینیوں کا زیادہ نقصان ہو رہا ہے لیکن اگر آپ کے پاس کوئی حکمت عملی ہے تو بسم اللہ پیش کیجیے، لیکن خیال رہے کہ اسرائیل ناراض نہ ہو، کیونکہ اگر وہ ناراض ہوا، جو کہ وہ بہت معمولی بات پر ہوجاتا ہے، تو غزہ اور مغربی کنارے کو فاسفورس بم مار کر ملیا میٹ کر دے گا۔ اب بتائیے فلسطینی کیا کریں؟

یاسر پیرزادہ

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 482 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments