وڈیو کریسی – اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
سائنس کی بے پناہ بلکہ خدا پناہ کی حد تک ترقی سے ہر فرد کے ہاتھ جام جمشید لگ چکا ہے جس کے ذریعے دنیا و ما فیہا کی جملہ حرکات من و عن قابل سماعت و بصارت ہیں۔ یہ سب ویڈیو اور آڈیو کریسی کی ترقی و اخلاق باختہ شکلیں ہیں۔ اب خلوتوں کے آداب ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے ہیں۔ جلوتوں میں معاذ اللہ کہنے والوں کے خلوتی، کرتوت ہائے سیاہ، کا منظر عام پہ آنا معمول کی بات ہے۔ اب غزالان حرم سے صحبتوں کے ثبوتوں سے مکر ممکن نہیں رہا۔
جہاں ”اللہ دیکھ رہا ہے وہاں کیمرا بھی شریک ہے۔ گویا شہر کا شہر الٰہ دین کا چراغ لئے لوگوں کے عیوب ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ ان حالات میں نہ صرف شوگر ڈیڈیوں کی تشخیص کا معما بھی حل ہو گیا ہے بلکہ شوگر ممیوں کی معقول تعداد بھی منصہ شہود پر آ چکی ہے۔ اب اطلاقی دل پھینک اور بوالہوسوں کی مٹی پلید ہونے کے وسیع اہتمام موجود ہیں۔ دفاتر، گھر، ریستوران، نیٹ کیفے، مدارس، دربار، شادی، غمی، ہسپتال، سکول اور نہ جانے کہاں کہاں کیمروں کی آنکھیں جھانک رہی ہیں اور ان میں لگے کان انہماک سے سب کچھ سن رہے ہیں۔
لوگ جمالیاتی اور منہ کا لیاتی حس کے تحت بغلیں بجا تے اور پھرجھانکتے ہیں۔ اب تو روز ہی بڑے بڑے عزت و لذت مآب کسی رخ زیبا سے نا زیبا کلمات کا تبادلہ کرتے سنے جاتے ہیں تو کبھی کسی کے بصری فحش نمونے سوشلئیوں کے حظ کا ساماں بنتے ہیں۔ جیسے کراچی کے اک سیاسی ڈاکٹر اپنی بیگموں کو پیارے ہوتے ہوتے آڈیو کریسی سے غیرت کھا کر حسب لیاقت اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اس سے پہلے اک اور سیاسی راہنما کسی ہوٹل میں بنا کچھ زیب تن کیے کیمرے میں محفوظ ہو کر زیب داستاں بنے۔ کچھ لمحے غیر ملبوس ہوئے تو قیامت ٹوٹ پڑی۔ گاندھی جی بھی تو عمر بھر ایسے پھرتے گئے مگر پھر بھی قوم کے باپو ہیں۔ اسی طرح چند سال پہلے صاحب نیب کی خودی کا “ اقبال جاودانہ ”اتنا بلند ہو گیا کہ اپنے دفتر میں ہی اپنی رضا کھول کر بیان کردی۔ ایسی آنکھیں لگیں کہ پھر آنکھ کا لگنا دشوار ٹھہرا مگر کیمرے کی آنکھ نے یہاں بھی سب کچھ دیکھ لیا۔
اک اور بڑے ملک الاحتساب کو کیمرے کی آنکھ نے اس وقت دیکھ لیا جب وہ چل کر پینے گئے مگر اٹھا کر لائے جا رہے تھے۔ بس ذرا کم ظرفی سے اک جام میں لڑکھڑا کر جا گرے۔ کیا کرتے، ، کثرت دباؤ، سے گھبرا کے پینے پہ جا لگے۔ آڈیو اور ویڈیو کریسی کے ظہور سے قبل ماضی کے کتنے مناظر ہوں گے جو منظر عام پہ آنے کی سعادت سے محروم رہے اور دنیا ان کی زیارت بنفس نفیس نہ کر پائی۔ ستر کی دہائی میں آغا جانیوں اور ان کی رانیوں کی حشر سامانیوں کا سمعی و بصری مواد تو سنبھالے نہ سنبھلتا۔
ازمنہ قدیمہ اور قرون وسطیٰ کے کروڑوں بصری مناظر بن دیکھے ہی سپرد خلا ہو گئے۔ جن کے بعد ان پر اپنی اپنی مرضی کی تواریخ رقم ہوئیں اور حقیقتیں یکسر اجنبی رہیں۔ ذرا چشم تصور سے دیکھیں تو اقوام عاد و ثمود اور نوح و لوط کیمروں کی آنکھ سے کتنے محفوظ تھیں۔ دنیا ان کے کارناموں کے بصری تجسس سے نا آشنا رہی۔ زلیخا کے الزامات کی قلعی بھی کھل جاتی۔ اموی، عباسی اور عثمانی خلفاء بھی اپنے درباری مورخین کے سبب خاصے معتبر ٹھہرے ہیں۔
کاش محمد شاہ رنگیلا کے دور میں 36 تصویروں والا کیمرہ ہی میسر ہوتا تو کیا تماشا لگتا۔ پھر ویڈیو کریسی کی صورت میں مغلوں، خلجیوں، غوریوں، لودھیوں اور ماضی قریب کے کچھ جنرلوں کے معاملات کیا ہوتے؟ جبکہ بادہ خواری کی کثرت کے باعث غالب ہمیشہ مغلوب ہی رہتا اور ولی بننے کا ادنیٰ دعویٰ بھی نہ کر پاتا۔ ابراہیم ذوق کی فیس بک پہ غالب کی حالت کیا ہوتی؟ کیا الزامات، کیا دشنام اور کیا الم غلم کا سماں رہتا۔ ویڈیو کریسی کے بطن سے نکلی ”ٹک ٹاک“ تو روایتی میڈیا سے بھی چار قدم آگے جا نکلی ہے۔ایوان صدر اور مینار پاکستان کے نام خوب روشن ہوئے۔
سچ پوچھئے تو پوری قوم ٹک ٹاک کیمروں میں بند ہو چکی ہے۔ مفتیان عظام بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور بدرجہ اتم شہرت پا رہے ہیں۔ اب سمجھے کہ علماء کیمروں کو حرام کیوں قرار دیتے ہیں۔ اب جان، مال اور عزت کیمروں کی مرہون منت ہیں۔ یادش بخیر لاہور کی خوبرو مغنیہ بھی، نقش بر آب، بنانے کے شوق میں اک موبائل والے کے ہاتھوں خود ہی وائرل ہوئی اور پچھتاوے پر تائب ہو کر دختر نیک اختر بنی۔ مگر حالیہ لیکس کی، سحر، انگیزیاں، یو ٹیومرز کے اخلاقی وجود پر سوالیہ نشان ہیں۔ آج وڈیو کریسی کی معراج کا دور ہے جسے، حریم شاہی، دور کہنا غلط نہ ہو گا۔ نہ جانے اس sexth generation war کی وحشت ہمیں کہاں لے جا کر دم لے۔ بقول جان ایلیا،
اب نہیں کوئی بات خطرے کی۔ اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے۔


