چیونٹی اور گڑ
چیونٹی اور گڑ کا ساتھ تو بہت پرانا ہے۔ جہاں گڑ ہو گا چیونٹی تو آئے گی ہی۔ مگر اس ٹاپک کو دیکھ کے میرے ذہن میں سورہ النمل آ گئی۔ قرآن پاک میں بہت سے پرندوں اور جانوروں کا ذکر ہے مگر اس چھوٹی سی چیونٹی میں کیا خاصیت ہے کہ اس کا ذکر بھی اس مقدس کتاب میں ایک اعلی قدر نبی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ویسے تو اس پہ ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے مگر میں اس کے بارے میں صرف وہ لکھوں گی جو میں نے پڑھا ہے یا دیکھا ہے۔
چیونٹی نہایت جفاکش اور محنتی مخلوق ہے۔ اپنا کام نہایت دیانتداری سے کرتی ہے۔ زمین کے اندر سوراخ کر کے کئی منزلہ عمارت بناتی ہے جس میں ہر چیز کے لئے الگ الگ کمرے بنائے جاتے ہیں۔ گندم کے لئے الگ کمرا، گڑ کے لئے الگ، دالوں کے لئے الگ غرض کہ ہر چیز آپ کو منظم انداز میں نظر آئے گی۔ ہر کام کے لئے مختلف گروہوں کی ڈیوٹیز لگی ہوتی ہیں۔ اور ہر گروہ اپنا کام نہایت محنت سے کرتا ہے۔ پانی اسٹور کرنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ پانی پی کر چیونٹیاں انگور کے دانے جتنی بڑی ہو جاتی ہیں اور ایک جگہ کھڑی ہو جاتی ہیں۔ جیسے پانی کی ٹینکیاں۔
آج کا ہی واقعہ ہے کہ ہمارے مالی نے ایک نہایت دلچسپ واقعہ سنایا۔ ان کے دوست کے پاؤں کے پاس ایک ٹڈی مری پڑی تھی اس نے دیکھا کہ ایک چیونٹی اسے گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب نہ ہلا سکی تو واپس چل دی۔ اس شخص نے ٹڈی اٹھا لی۔ چیونٹی دو تین چیونٹیوں کے ساتھ واپس آئی اور ٹڈی کو ادھر ادھر ڈھونڈا۔ پھر باقی چیونٹیاں تو واپس چلی گئیں مگر ایک وہیں کھڑی رہی۔ یقیناً یہ وہی پہلی چیونٹی تھی جو باقیوں کو بلا کر لائی تھی۔ اس شخص نے ٹڈی کو اس کے سامنے رکھ دیا۔ چیونٹی نے پھر گھسیٹنے کی کوشش کی مگر ناکام ہو کر اوروں کو بلانے چل دی۔ پہلے سے کچھ زیادہ چیونٹیاں آئیں۔ مگر وہ شخص ٹڈی کو پہلے ہی اٹھا چکا تھا۔
آنے والی چیونٹیوں نے ادھر ادھر ٹڈی ڈھونڈی اور واپس چل دیں ماسوائے ایک کے۔ اس شخص نے ٹڈی پھر اس کے سامنے کر دی۔ ایک بار پھر وہی تماشا ہوا۔ اس، بار بڑی تعداد میں چیونٹیاں آئیں۔ اور جب ٹڈی نہ ملی تو ایک چیونٹی پہ حملہ کر دیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ یقیناً یہ وہی پہلی چیونٹی تھی جو ان کو بار بار بلا کر لا رہی تھی۔ کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ باقی سب نے اسے اس بیدردی سے کیوں مار دیا؟ کیونکہ اس بار اس کے ساتھ گارڈ چیونٹیاں، سمجھ لیں پولیس آئی تھی۔ جس نے اسے جھوٹ بولنے کی سزا میں قتل کر دیا۔
تو جناب چیونٹی جیسی چنی منی سی مخلوق بھی جھوٹ سے نفرت کرتی ہے اور اس قدر نفرت کہ اس کی سزا موت کی صورت میں ملتی ہے۔ کیا یہ ان سب اداؤں پہ بھاری ادا نہیں جس کی وجہ سے اس کا ذکر قرآن پاک میں آنا تو بنتا ہے نا۔ اشرف المخلوقات ہو کر جھوٹ سمیت ہر حرام کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ اس میں سرتاپا غرق ہیں اور رتی برابر نہیں ڈرتے جبکہ چیونٹی اللہ کی عدالت میں جانے سے پہلے ہی زمینی عدالت میں نافرمان خدا کا فیصلہ کر دیتی ہے۔
کیا یہ مخلوق ہمارے لئے ایک نمونہ نہیں کہ ہم بھی بحیثیت انسان اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری اور محنت سے کریں؟


