سسکتا غزہ لہو لہو
اسرائیل پر حماس کے حالیہ حملے نے وہ آگ لگائی ہے جو غزہ کے راکھ ہونے پر بھی نہیں بجھ رہی ہے۔ حماس کے اسرائیل پر حملے نے 1400 اسرائیلی باشندوں کی جان لی لیکن اس کے بدلے میں 7000 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور 30000 کے قریب زخمی ہے۔ اسرائیل نے اس بار بم باری صرف رہائشی علاقوں میں ہی نہیں کی بلکہ ہسپتال، ڈسپنسریاں، اسکولوں اور گرجا گھروں پربھی حملے کر رہا ہے۔ آج انیسویں دن بھی بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ جس نے پورے غزہ کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
اس بار غزہ میں ڈاکٹرز نے ایسی پریس کانفرنس کی جو شاید ہی دنیا میں کسی نے دیکھی ہوں۔ بچوں اور بڑوں کی لاشوں کے بیچ میں کھڑے ہو کر یہ بتایا ہے کہ اب ان لاشوں کو نہ رکھنے کی جگہ ہے نہ دفنانے کی اس لیے اسرائیل اب کچھ دم لیں اور فاسفورس بم اگلے والوں کے لیے اٹھا کر رکھے جب تک ہم ان کا کفن دفن کر دیں لیکن اسرائیل کو چونکہ فلسطین کی بقایا 22 فیصد زمین بھی چاہیے اس لیے اب وہ غزہ کی 20 لاکھ کی آبادی کا صفایا چاہتا ہے تاکہ فلسطین کی تقدیر کا فیصلہ جلد از جلد ہوں۔ اس تکلیف دہ منظر کو دیکھے تو ہمیں اس میں تین فریق نظر آتے ہیں اسرائیل، حماس اور فلسطینی عوام جبکہ اس میں تیسری فریق فلسطین کی حکومت کو ہونا چاہیے تھا لیکن وہ اس معاملے پر صرف دبا دبا سا احتجاج کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ موجودہ فلسطینی ریاست کیسے وجود میں آئی ذرا اس پر نظر ڈالتے ہیں۔
1917 میں برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں یہودیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے عثمانیوں کے زیر کنٹرول فلسطین میں یہودیوں کے قومی گھر کے قیام کا وعدہ کیا جو 1948 میں انھوں نے اسرائیل کے قیام میں مدد دیں کر پورا کیا۔
اسرائیل دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے یہ زمین فلسطینیوں سے خریدی جبکہ یہ زمین فلسطینیوں کی تھی ہی نہیں پہلی جنگ عظیم کے بعد اس زمین کے مالک فلسطینی نہیں تھے بلکہ برطانوی تھے اس لیے کہا جاتا ہے کہ 1930 میں جو یہودیوں نے زمین خریدی وہ 52.6 فیصد غیر فلسطینیوں سے خریدی گئی، صرف 24.6 فیصد زمین فلسطینیوں کی تھی 13.4 فیصد زمین اس وقت کی حکومت اور گرجا گھروں کی تھی اور 9.4 فیصد کسانوں کی تھی۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے اس سرزمین پر مسلمان، عیسائی اور یہودی تینوں مذاہب کے پیروکار رہتے تھے اس کے علاوہ دیگر مذاہب بھی تھے۔
فلسطین کی سرزمین تینوں مذاہب کے لیے مقدس سمجھی جاتی ہے کیونکہ بیت المقدس یہود و نصاریٰ کا قبلہ ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے لیکن نبی کریم ﷺ نے محسوس فرمایا کہ بنی اسرائیل کی امامت کا دور ختم ہو چکا اور اس کے ساتھ بیت المقدس کی مرکزیت بھی ختم ہوئی لہٰذا اب اصل مرکز ابراہیمی کی طرف رخ کرنے کا وقت آ گیا ہے اس لیے مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوا۔ جس مسجد میں عبادت کے دوران تحویل قبلہ کا حکم آیا اسے مسجد قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد کہا گیا جو آج بھی قائم ہے۔
سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، ”سو ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں پس اب اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیے“ ۔
اس آیت قرآنی سے یہ بات ہم پر واضح ہوجاتی ہے کہ اب ہمارا مرکز خانہ کعبہ ہے نا کہ بیت المقدس اور جس وقت اسرائیل کا قیام ہوا یعنی 15 مئی 1948 اس وقت برطانوی راج تھا اس لیے تاریخی طور پر دیکھا جائے تو برطانوی حکومت نے عربوں کے قلب میں اسرائیلی حکومت اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے بنائی جیسے کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے بیچ میں ایک مسلسل قضیہ کی طرح رکھا گیا اور کشمیریوں کی خواہش کے باوجود انھیں پاکستان سے نہ الحاق کرنے دیا اور نہ ہی حق خودارادیت استعمال کرنے دیا۔ آج 75 سال بعد بھی کشمیری اپنے حق خودارادیت سے محروم ہیں۔ پاکستان بے پناہ مشکلات کے باوجود ایک ایٹمی ملک ہے، آبادی کے حساب سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اس لیے مقبوضہ کشمیر پر فلسطین جیسا ظلم ڈھانے کی بھارت کی کبھی ہمت نہیں ہوئی اور کشمیریوں نے بھی کبھی پاکستان کی حمایت نہیں چھوڑی۔
فلسطین کے مسئلے کا ہم اگر بغور مطالعہ کرے تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ 14 مئی 1948 ء کو اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان میں جنگیں چھڑ گئیں۔ یہ جنگیں 1967 ء تک چلیں۔ جنگ کی شروعات میں اسرائیل نے مغربی بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور فلسطین کے کچھ اور علاقے بھی اپنے قبضے میں لے لئے۔ بقیہ فلسطین کے مختلف علاقوں پر مصر، شام، لبنان اور اردن کا قبضہ ہو گیا۔ 1967 تک بیت المقدس کا مشرقی علاقہ، جس میں حرم شریف مسجد اقصیٰ سمیت مقدس مقامات ہیں، اردن کے قبضے میں تھے پھر 1967 ء کی عرب۔اسرائیل جنگ کے اختتام پر اسرائیل کا پورے فلسطین پر قبضہ ہو گیا۔ مقدس مقامات تاریخ میں پہلی مرتبہ یہودیوں کے قبضہ میں چلے گئے لیکن فلسطینیوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور 15 نومبر 1988 میں مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور یروشلم کے علاقوں پر مشتمل علیحدہ ریاست قائم کی جس کو موجودہ فلسطین کہتے ہیں۔ چونکہ فلسطین ایک کمزور ریاست تھی اور ایک کمزور و مقبوضہ ریاست اپنی عوام کی کیسے حفاظت کرتی جبکہ اس ریاست کے پاس اپنی کوئی منظم فوج بھی نہیں اس لیے فلسطینی آزادی کے بعد بھی محکوم ہی رہے۔ ایسی کمزور ریاستیں تو صرف اپنے عوام کو طاقتور کے ہاتھوں مرتا ہوا دیکھ سکتی ہیں اور ایسا ہی سب کچھ فلسطین کے ساتھ ہو رہا ہے۔
اسرائیل جو کہ ایک چھوٹا مگر ایٹمی ملک ہے اب موجودہ فلسطین کو نقشے پر بھی دیکھنا نہیں چاہتا اب وہ مکمل کنٹرول چاہتا ہے اور اس لیے فلسطینیوں کی نسل کشی پر آمادہ ہے۔ قیامت کی اس گھڑی میں امریکا اور برطانیہ مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کرنے کے بجائے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایک ٹوٹی پھوٹی سسکتی ہوئی ریاست کو کچلنے کے لیے تیار ہے۔ اب یہ وقت عرب ممالک کے امتحان کا ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے برادر اسلامی ملک کی کیسے مدد کرتے ہیں؟
اگر اسرائیل غزہ پر قابض ہوجاتا ہے تو عرب ممالک ان مظلوم فلسطینیوں کے لئے کون سا درمیانی راستہ نکالے گے؟ کیا انھیں اپنے ملکوں میں پناہ دیں گے؟ اور کیا اسرائیل کی فلسطینیوں سے یہ جنگ آخری جنگ ہوگی یا وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی فلسطینیوں والا سلوک روا رکھے گا اور اردن، شام اور مصر پر آئندہ بھی حملے کرتا رہے گا۔
اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ عرب، فلسطین اور اسرائیل ایک میز پر بیٹھ کر بات کریں تب ہی اس جنگ کا خاتمہ ہو گا کیونکہ اگر اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار ہے تو عربوں کے پاس کثیر آبادی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہیں جن کی عمریں 30 سال سے کم ہے۔ مسلسل جنگ اور آمریت میں رہنے کی وجہ سے یہ نوجوان مایوسی اور برہمی کا شکار ہیں۔ اگر اسرائیل نے یہ جنگ ختم نہ کی تو تباہی کا ایک اور رستہ کھل جائے گا اور ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو جائے گی۔
اسرائیل کے ساتھ آدھی دنیا بھی کھڑی ہو جائے لیکن عرب۔ اسرائیل کا مسئلہ اپنی جگہ قائم رہے گا۔ یہ بات اسرائیل سمیت اس کے تمام اتحادیوں کو یاد رکھنی چاہیے کہ ہر جنگ کا اختتام مذاکرات پر ہی ہوتا ہے اس لیے اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے جتنی جلدی حل کر لیا جائے اچھا ہے ورنہ اس وقت دنیا تیسری جنگ عظیم کے لیے تیار نظر آ رہی ہے۔


