انہیں بستی بسانا آتا ہے


میں چھڑی پکڑے گھر سے نکلا ہوں ذرا دائیں سامنے دو گیٹ نما ستونوں سے نکلتے چڑھائی چڑھتی پگڈنڈی سے پہلے پختہ فرش پہ چار خوبصورت لیٹر بکس نصب ہیں۔ ہر ایک میں پندرہ بیس خانے نزدیکی گھروں کے لیٹر بکس ہیں۔ میں چھڑی ٹیکتا پیچھے بنے سیلابی پانی ذخیرہ کرنے والی کوئی دو ایکڑ پہ بنی مصنوعی جھیل کے لئے بنائے گئے بند پہ چڑھتا ہوں۔ پگڈنڈی کے دونوں طرف خوبصورت پھولوں سے لدے چھوٹے درخت اور جھاڑیاں ہیں۔ میرے گھر کے سامنے بند کے اوپر ایک چوڑی جگہ پہ خوبصورت ٹائلوں کے فرش پر لگے بنچ پر بیٹھ سامنے بنے وسیع سر سبز نظارہ اور درمیان چمکتا پانی دیکھنے لگ جاتا ہوں جس میں بطخیں اپنے بچے لئے تیر رہی ہیں۔

بیٹھتے وقت پیچھے دیکھتے مجھے اپنے گھر کی دیواروں پہ چھت تک پہنچی خزاں کے رنگوں میں رنگین ہو چکے پتوں والی بیل کی شاخیں ہوا میں جھومتی لٹکتی نظر آتی ہیں۔ مجھے یاد آتا ہے پورے ساٹھ برس قبل پہلی مرتبہ مری کی سیر کرتے کشمیر پوائنٹ کی طرف جاتے گورنر ہاؤس سے کچھ پہلے گرجا گھر کی دیواروں پہ چڑھی یہی بیل مجھے بھا گئی تھی اور پھر انیس سو ستر میں ٹیکسلا کے کھنڈرات گھومتے وہاں کے عجائب گھرکی بیلوں کے سبز پتوں سے مکمل ڈھکی دیواریں دل میں گھر کر گئی تھیں۔

سولہ سال بعد پیپلز کالونی فیصل آباد میں گھر بنایا تو پہلو کی سڑک کی طرف عشق پیچاں کے رنگین پھول بہار دکھلاتے تو سامنے کی طرف گلو کی بیل پھیلائی تھی اور یہاں بھی جنون پورا ہو گیا۔ مصنوعی جھیل کے پیچھے سے برساتی نالہ گزرتا ہے بالکل چھوٹی سی پانی کی لکیر بناتا مگر اس کے دونوں طرف پرانے جنگلوں کے درختوں کو ویسے ہی چھوڑ دیا گیا ہے اور زیادہ بارش یا سیلاب کے فالتو پانی کو اس ذخیرہ میں ڈالنے کا اور واپس نالے میں ڈالنے کا بندوبست ہے۔

اس جھیل نما پانی کے ذخیرہ کے گردا گرد سرکنڈے خود رو جھاڑیاں اور درخت اس مہارت سے اگائے گئے ہیں کہ بالکل قدرتی ماحول بنا ہے۔ یہاں سیلاب سے بچاؤ، ماحولیات، آبی حیات کی اور پرندوں کی رہائش و افزائش اور راحت جاں بنتی سیر والی پگڈنڈی کے فوائد کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ شمالی طرف ایک خوبصورت سفید بڑا سا مکان ہے کوئی تین سو ایکڑ محیط اس رقبہ پر تعمیرات کی اجازت سے پہلے یہ فارم ہاؤس کے مالک کا گھر تھا۔ اب شاید ایک سو اسی سال سے زیادہ پرانے خالص بڑھیا ٹھوس لکڑی سے بنے گھر کو قومی ورثہ قرار دے اس کے بیرونی ناک نقشہ کو تبدیل کرنے پہ مکمل پابندی ہے۔ اندر سے تزئین کی جا سکتی ہے۔

اس گھر کو کریڈٹ ویو روڈ سے ملاتے راستے کے دونوں طرف وہی قدیم درخت ہیں اور درمیان میں بنی سڑک سے آگے بچوں کا خوبصورت پارک ہے۔ بیٹھنے کے لئے بنچ ہیں۔ شمالا ”جنوبا“ کوئی تین چار کلو میٹر کے فاصلے میں ہی اس برساتی نالہ کے گرد چار ایسے اس سے بہت وسیع رقبہ پہ بھی بنی یہ مصنوعی جھیلیں اور ان کے خزاں میں بدلتے رنگ اور گرے پتے ایک حسین آتشی نارنجی ماحول بنائے ہیں۔ میں جھیل کے گرد چکر لگاتے قدیم، آسمان کو چھوتے میپل لیف کے درختوں پہ چڑھے رنگوں کا لطف لیتے سڑک پار کر کچھ آگے بڑھتا ہوں ہر گھر کے آگے ہریالی تزئین اور شہر کے محکمہ باغبانی کے لگائے ایک درخت اور اس کے نیچے گرے پتوں کی رنگین چادر دیکھتے اس بیس پچیس ایکڑ کے قدیم جنگل تک پہنچ جاتا ہوں جو اسی برساتی نالہ کے دونوں طرف محض ماحول کی خوبصورتی کے لئے چھوڑ دیا گیا اس کے بیچوں بیچ گزرتی آج کل رنگین پتوں کی چادر اوڑھے پگڈنڈی پہ سائیکل گرائے ایک پندرہ سولہ لڑکا کھڑا ہانپ رہا ہے۔

بتاتا ہے کہ پچھلے کوئی ڈیڑھ گھنٹے میں پورے شہر کے سبزہ زاروں اور برساتی نالوں کے ساتھ بنے سائیکلنگ اور ہائیکنگ کے لئے پگڈنڈیوں کے جال پہ کوئی بیس کلو میٹر سائیکلنگ کر کے اب گھر کو جا رہا ہے۔ اس جنگل کے سکوت یا ہواؤں سے جھومتی ٹہنیوں کی سرسراہٹ میں سیر کرتے ( موسم کی رعائت سے ) ہفتہ میں ایک دو بار گزرنا میرے لئے فرحت بخش لمحے لاتا ہے۔ شمالی جانب نکلتے پھر دائیں جانب نکلتی پختہ چوڑی پگڈنڈی اسی برساتی نالہ پہ بنے خوبصورت پل کے نیچے شفاف برساتی یا پہاڑی یا سردیوں اور اوائل گرما میں پگھلتی برف کا پانی چمکتی مڑتی بل کھاتی لکیر بنے نظارہ دکھاتی ہے۔

پل کے پار چڑھائی چڑھ کے سڑک پہ پہنچتا ہوں تو دوسری طرف پھر درختوں کا ذخیرہ نظر آتا ہے۔ کوئین روڈ کو سٹیلز ایوینیو سے ملاتی برساتی نالہ کے متوازی چلتی اس سڑک کے کوئی چار کلو میٹر ٹکڑے پر دو پرائمری سکول واقع ہیں۔ ( پہلے موڑ سے دائیں مڑتے میرے گھر کا راستہ ہے اور یہ کوئی تین کلو میٹر کا چکر بن جاتا ہے ) ۔ آٹھ لاکھ ہو چکی آبادی والے برامپٹن شہر میں کوئی دو سو پچاس سے زائد سرکاری، چند کیتھولک مشن کے بھی، سکول ہیں۔

مختلف مذاہب اور مکاتب فکر یا پرائیویٹ تنظیمیں بھی سکول بنانے کا حق رکھتی ہیں مگر ان کو پڑھائی کا نصاب تو وہی رکھنا ہوتا البتہ ساتھ اپنے تہذیبی یا مذہبی ورثہ کے مطابق عمل سکھانے کی اجازت ہے۔ اور من مانی فیس بھی لے سکتے ہیں۔ خوب صورت اور وسیع عمارتوں والے یہ سکول بھی دو سے پانچ سات ایکڑ یا زائد جگہ پہ ہیں۔ کوئی بھی نئی آبادی بننی ہو متوقع رہائشی عمارتوں کے مطابق متوقع آبادی کا اندازہ کرتے کمرشل پلازہ سکول اور رفاہ عامہ کے دیگر اداروں کے لئے جگہ مختص کی جاتی ہے۔

ہائی سکول تک ( بارہویں کلاس ) تعلیم مفت ہے اور سکول بس بھی۔ دو سو چھیاسٹھ مربع کلو میٹر رقبہ پہ محیط اس شہر کی بہت سی زمین ابھی خالی ہے۔ مگر دس پندرہ سال پہلے منصوبہ بندی کی جاتی ہے کہ آبادی کو کس طرف اور کس رنگ میں بڑھانا ہے کمرشل مال بڑے اور چھوٹے کدھر کدھر بننے ہیں اور انڈسٹریل ایریا کدھر اور کثیرالمنزلہ عمارات کہاں۔ اور آبادی کے مطابق رفاہ عامہ کے ادارے اور تفریح گاہیں کدھر۔ اور اسی لحاظ سے زوننگ کی جاتی ہے جسے تبدیل کرانا بہت مشکل اور لمبی کارروائی کے متقاضی ہونے کے ساتھ ارد گرد کے باسیوں کی رضامندی بھی ہونا بھی لازم ہے۔

سرکاری عمارتیں اور سڑکیں، سیور وغیرہ شہری انتظامیہ بناتی ہے بجلی گیس وغیرہ سے کی سہولیات سڑکیں بننے سے پہلے متعلقہ کمپنیاں پہلے مکمل کرتی ہیں۔ آج تک کہیں کوئی سڑک ان کے لئے کھدی نہیں دیکھی سوائے ایمرجنسی کے۔ شہری حکومت مختلف جگہوں پر تیس سے زائد بہت بڑے رقبہ پر محیط کمیونیٹی اور تفریحی سنٹر بنا چکی ہے جن میں معمولی فیس پر بڑی ورزش گاہیں یعنی جمنازیم، نہانے کے تالاب آئس ہاکی سکیٹنگ، اور بچوں بڑوں کے لئے اکثر ان ڈور کھیل کھیلنے ٹریننگ دینے اور مقابلے کرانے کا انتظام ہے۔

باہر آؤٹ ڈور، ہاکی فٹبال والی بال، کرکٹ ٹینس وغیرہ کے گراؤنڈ ہیں۔ محکمۂ صحت کے سروے کے مطابق شہریوں خصوصاً عمر رسیدہ لوگوں کی ورزش پر خرچ ہوئے ہر اسؔی ڈالر، علاج کے ایک ہزار ڈالر کا خرچ کم کرتے ہیں۔ اتفاق یا نصیب کہ آبادی کے تناسب سے پاکستانی سب سے کم جسمانی ورزش اور کھیلوں میں حصہ لینے والے ہیں۔ چینی، افریقی النسل اور سکھ حضرات سب سے آگے۔ برفانی کھیلوں میں گورے اور چینی سب سے آگے۔ علاوہ ازیں سوشل میٹنگ اور تقریبات کے لئے کمرے، ہال مہیا ہیں۔

ہر آبادی میں جگہ جگہ بچوں کے پارک ہیں جہاں بڑے بھی گپ شپ کرتے ہیں۔ علاج مفت ہے عام ہی نہیں انتہائی پیچیدہ، طویل اور مہنگا بھی مفت۔ یہاں مریض کی خدمت اور حسن سلوک کے نظارے ملتے ہیں۔ آنکھوں اور دانتوں کے اکثر اور چند مخصوص قسم کے امراض کے لئے ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ قبرستان بہت وسیع ساٹھ ستر ایکڑ یا زائد رقبہ والے بھی پرائیویٹ کمپنیوں کے ہیں۔ اور خوبصورت پارک اور سبزہ زار نظر آتے ہیں۔ متنوع مذاہب اور ان کے فرقوں سے معاہدہ کے تحت اب مختلف قطعات مخصوص کیے جاتے ہیں قبور کو تدفین کے بعد بالکل ہموار کر کے گھاس لگا دی جاتی ہے۔ صرف سرہانے کتبہ یا نام کی تختی اور قدموں میں قبر نمبر کی پلیٹ ہوتی ہے۔ (یہاں کسی دوسرے مذہب یا عقیدے کی میت کی تدفین سے کسی مخالف کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کی جسارت ہی نہیں کر پاتے، کہ ڈنڈا بہت سخت ہے۔ اور سب سے بڑا جرم مذہب، فرقہ، رنگ نسل یا کسی بنیاد پر نفرت انگیز بیان مہم طعنہ یا نعرہ یا وال چاکنگ ہے۔ بس موازنہ فرما لیں ) جن مذاہب میں مردہ جلاتے ہیں ان کے لئے مذہبی رسوم کے مطابق جلانے کے انتظام کے لئے شاید گیس والی بھٹیاں ہوتی ہیں اور اسی طرح مٹی کی گڑوی میں راکھ ورثا کو دی جاتی ہے، وہیں لاکر بنے ہیں جہاں یہ سٹور کیے جاتے ہیں اور وطن جاتے ساتھ لے جاتے ہیں۔

تدفینی عمل مشینری سے پندرہ بیس منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے ۔ تدفین سے پہلے کے فرائض کے لئے علیحدہ فیونرل ہومز بھی بنے ہیں۔ میت کی کولڈ سٹوریج میں حفاظت، عقیدہ و مذہب کے مطابق تدفین کی تیاری، غسل اور وہیں تعزیت کے لئے آنے اور آخری دیدار کرنے والوں کے اجتماع ہوتے ہیں۔ بیک وقت ایک کمرے میں عیسائی، دوسرے میں ہندو اور تیسرے میں مسلم ہو سکتا ہے۔ ایک میں پاٹھ، دوسرے میں پوجا اور تیسرے میں نماز یا نماز جنازہ ہو رہی ہوتی ہے۔ کوئی پلید نہیں ہوتا۔ قبرستان میں پسماندگان اپنے پیاروں کی یاد میں شجر کاری کرتے ہیں یا بیٹھنے کے لئے بنچ وغیرہ کمپنی سے لگواتے ہیں اور ان کے یادگاری پلیٹیں لگائی جاتی ہیں۔ کیوانیز کلب کے نام کی تنظیم نے یہی تحریک چند مخصوص پارکوں میں شروع کر رکھا ہے۔ ان میں نشئی اور ہر قسم کے لوگ آتے جاتے ہیں۔ کہیں کوئی پلیٹ غائب نہیں دیکھی۔ شجر کاری کے شوق میں اضافہ کا یہ بہت ہی پیارا سا نسخہ ہے۔

یاد آیا فیصل آباد میں گھر کے باہر پچاس پیسے فی پودا کے کے حساب سے گارڈینیا کے پودے لگائے تھے۔

اگلی صبح سو میں سے انتالیس غائب تھے۔ بہت بڑے پارک مختلف علاقوں میں ہیں اور متنوع سہولتوں کے حامل ہیں۔ میرے گھر کے پچھواڑے کوئی چار منٹ کے پیدل سیر کرتے وسیع ایلڈوریڈو پارک ہے، جس کے درمیان سے کریڈٹ ریور ( دریائے کریڈٹ ) گزرتا ہے۔ یہ فیملی پکنک اور بڑی چھوٹی سوشل پارٹیز اور میٹنگز کے لئے بہت مقبول ہے اور اچھے موسم میں ہر قوم و نسل و ملک کے لوگ اپنے رنگ رونق لگائے ہوتے ناچتے گاتے کھیلتے اور کھا پکا رہے ہوتے ہیں۔ ہر علاقے میں جا بجا بچوں کے پارک کے علاوہ بہت بڑے پارک مختلف قسم کی تفریح مہیا کرتے ہیں۔

یہاں میونسپل وارڈ کے کونسلر سے لے شہر کے میئر تک اور صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبر اور وزراء تک کسی میں اکڑ نہیں ہوتی۔ کسی مسئلہ کے لئے ای میل کردو، جواب ضرور آئے گا۔ کسی کارنر میٹنگ میں بھی بلاؤ تو آج تک تو کسی وزیر تک کا معمولی سا پروٹوکول نہیں دیکھا۔ نہ حفاظتی گارڈ۔ پاکستان میں تو اب گٹر کے ڈھکنے رکھنے فٹ پاتھ، چھوٹی سی پلی بننے کی افتتاحی تقریب اور افتتاح کنندہ لیڈر کی تختی کی نقاب کشائی کی تقریب بڑے منصوبوں کی صورت میں ہزاروں لاکھوں کروڑوں کا خرچ اور لیڈر کا چالیس پچاس گاڑیوں کا جلوس آوے ای آوے کے نعروں میں آتا ہے۔ یہاں پورے ملک میں شاید چند بہت بڑے منصوبوں کے کہیں ( پوری بڑی ہائی وے تک بھی ) کبھی کوئی افتتاحی تقریب یا نقاب کشائی یا چمچہ گیری کرتی افتتاحی تختی اور یاد گار نہیں نظر آئی۔

قرآن کریم کے بغور مطالعہ، حیات طیبہ کی مثالوں اور دنیا کے سب سے پہلے اور عظیم معاشرتی چار ٹر خطبۂ حجہ الوداع میں پر امن اور روادار، تعصب اور رنگ و نسل کی تفریق سے بالا انسانی برابری کے اصول پر مبنی معاشرہ کی تشکیل کی راہیں بیان فرمائی یا عمل سے دکھائی گئی ہیں ان میں سے اکثر ( سوائے جنسی آزادی جیسے چند ) یہاں سختی سے لاگو ہیں۔ بس اسلام کا نام تو ادھر کہیں رہ گیا اور اصولوں اور قوانین اور ضابطۂ حیات پہ عمل ہوتا ادھر نظر آتا ہے۔

لطیفہ ہوا۔ پاکستان سے عزیز آئے ہوئے تھے اور ہم میاں بیوی اپنے جنون کے مطابق انہیں شہر کی مضافاتی اور قابل دید علاقوں کی سڑکوں پر گھماتے پھر رہے تھے۔ اچانک مہمان عزیزہ بول اٹھیں، ”میں اب تک غور سے دیکھتی آ رہی ہوں کہ کہیں مجھے سڑک کنارے یا پارک میں یا پکنک ایریا میں کوئی کوڑا کرکٹ نظر آ جائے، مگر شاید ہی کہیں پڑا دیکھا ہو“ بیگم کے منہ سے اچانک برجستہ نکلا کہ ارشاد مبارکہ کے مطابق صفائی نصف ایمان ہے، تو نصف ایمان تو یہ لوگ پہلے یہاں لا چکے۔

ہاں یہ بتاتا چلوں کہ ایسا بھی نہیں کہ یہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہو۔ جہاں حضرت انسان کا وجود ہو گا، جرائم بھی ہوں گے اور قانون توڑا بھی جائے گا۔ مگر پہلے جرائم قانون کی سختی اور ڈر کے باعث بہت کم تھے۔ ہم کئی کئی گھنٹے گھر یا کار کے دروازے کھلے چھوڑ نکل جاتے۔ اب غیر ملکی تارکین وطن خصوصاً جرائم کی آماجگاہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک، ہر بر اعظم کے، جوں جوں بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر قسم کے جرائم میں اضافہ کی رفتار بہت بڑھ چکی۔ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس کو مہمیز لگائی ہے اور کورونا کی وبا کے نتائج، خصوصاً بے تحاشا اور کئی گنا مہنگائی نے اور اس کے بعد کینیڈا کی حکومت کی طلباء کے متعلق فراخدلانہ پالیسی کے باعث بغیر سرپرستوں کے مادر پدر آزاد کھلے ماحول میں بگڑتے بچوں کی آمد نے یک دم لاقانونیت اور جرائم میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ منظم گروہ وجود میں آچکے۔ صرف مسی ساگا اور برامپٹن میں اسی سال جنوری کے پہلے ہفتہ میں ساڑھے چھ سو کاریں چوری ہوئیں۔ ڈاکے، چوری، قتل اغوا، بڑھ چکے۔ کھلے عام سڑکوں پہ لاٹھیاں پکڑے طلباء کے گروہ آپ میں لڑتے نظر آتے ہیں اور بغیر احتیاط دروازہ کھولنا مناسب نہیں رہ گیا۔

پاکستان چھوڑنے کا ارادہ کیے تیس، قطعی فیصلہ کیے چھبیس اور اور چھوڑے اکیس برس بیت چکے۔ جان مال عزت کے غیر محفوظ ہونے، ڈاکے چوری بدعنوانی مذہبی و فرقہ وارانہ تعصب اور دھمکیاں، انصاف اور قانون کی بگڑتی صورت حال اور ملا گردی میں اضافہ کو جس حد تک جانے کے خطرے اور اندازے اور پیش بینی نے یہ فیصلہ کرنے میں مدد کی تھی اس سے کوئی سو گنا سے زیادہ پاکستان نیچے جا چکا ۔ یہاں آ کے صفر سے دوبارہ شروع ہونے والی شدید جد و جہد اور سختیوں سے واسطہ پڑنے کے باوجود ایک لمحہ کے لئے کبھی پچھتاوا نہیں ہوا۔

اور شاید ہی کوئی دن گزرتا ہو کہ دن بدن قعر معزلت میں گرتے جاتے اس پیارے وطن کے راہنماؤں، محافظوں قانون اور انصاف کے ستونوں کو اپنے ملک پہ رحم کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست مالک دو جہاں سے نہ کی ہو۔ اور یہ اکتوبر کے آخری دن۔ یہ اواخر اکتوبر تو میرے لئے ایک جذباتی سا ہفتہ ہمیشہ ہوتا ہے اکتوبر انیس سو سینتالیس کے اسی آخری ہفتہ کے کسی دن کی خنک شام واہگہ بارڈر پار کر کے پاکستان زندہ باد کے نعروں میں پاکستانی حدود میں داخل ہوتی بس میں سے نکل کر اس چھ سالہ لئیق احمد نے ایک بوڑھے چھابڑی فروش سے ایک آنے کے چھ، ابھی ہرے کچے کھٹے سنگترے خرید کے کھائے تھے۔ نہ اسے اب تک ان کھٹے سنگتروں کی مٹھاس بھولی نہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ۔

آج پھر اکتوبر کے آخری ہفتہ میں گھر سے باہر بیٹھے خزاں کے رنگوں میں رنگے گرتے پتے دیکھتے پھر وہی کھٹے سنگتروں کی مٹھاس ابھری اور دل سے دعا نکلی ہے کاش میرے ملک کے عام آدمی سے لے اشرافیہ انتظامیہ انصافیہ محافظہ کو ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھتے پاکستان کو زندہ باد کرنے اور رکھنے کی پگڈنڈی نظر آ جائے۔ کاش انہیں بستی بسانا آ جائے، کاش انہیں ملک بسانا آ جائے۔

Facebook Comments HS