آغا شورش کاشمیری: ہمارے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہے

”میں چاہتا ہوں مرنے کے بعد وہ شخص مجھے غسل دے جس نے منبر و محراب کی عظمت کو داغدار نہ کیا ہو“ ۔
”کوئی حکمران میری قبر پر فاتح نہ پڑھے۔“
”جو کبھی انگریز فوج میں بھرتی ہو کر ملکہ معظمہ کی حکومت کے لئے نہ لڑا ہو“ ۔
” جس کا اوڑھنا بچھونا صرف اسلام ہو۔“
” مجھے وہ شخص کفن پہنائے جس کی غیرت نے کبھی کفن نہ پہنا ہو“ ۔
” مجھے وہ اشخاص کندھا دیں جو ظلم و جور کے خلاف لڑتے رہے“ ۔
” میرا قلم اس شخص کو دیا جائے جو اس کو تیشہ کوہ کن بنا سکے جس کو لہو سے لکھنے کا سلیقہ آتا ہو“ ۔
” میری قبر پر ایک ہی کتبہ لکھا جائے کہ“ یہاں وہ شخص دفن ہے جس کی زندگی تمام عمر عبرتوں کا مرقع رہی ہے۔ اپنی موت سے قبل یہ الفاظ آغا شورش کاشمیری جیسا انسان ہی لکھ سکتا ہے جس نے کانٹوں بھرے راستے پر صبر و استقامت کے ساتھ سفر کیا۔
آغا شورش کاشمیری نہ صرف عہد ساز شخصیت تھے، بلکہ کردار ساز تھے اور یہی ان کی سب سے بڑی خوبی تھی، جس نے انہیں صحافت اور سیاست میں منفرد مقام دلایا۔ آج انہیں عقیدت مند کہتے ہیں کہ ان کے نقش قدم پر چلو، مگر یہ اتنا آسان نہیں۔ انہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا اور اقتدار کے ایوانوں سے مرد حر بن کر لڑتے رہے، درویشانہ زندگی پر حرف نہ آنے دیا، بے اصول سیاست، بددیانت صحافت، غریب پر ظلم انہیں بے چین کر دیتا تھا۔ اپنا قلم بے باکانہ استعمال کرتے، جلسوں میں ان کی شعلہ بیانی کی بنیاد ان کا یہی دکھ بنتا تھا۔
آغا شورش کاشمیری کی ساری زندگی ایک شورش ہی تھی ان کا یہ تخلص عین ان کی عادت کے مطابق تھا۔ ان کا نام عبدالکریم تھا، لیکن بہت کم لوگ انہیں اس نام سے جانتے ہیں ان کی تقریر اور تحریر کے بانکپن میں کھوئے ان کے پرستاروں نے ان کا اصل نام جاننے کی کوشش نہیں کی۔ وہ علامہ اقبالؒ کے زیر صدارت خلافت کانفرنس میں تقریر سے کوچہ سیاست میں داخل ہوئے پھر مولانا ظفر علی خان کی صحافت کی خوشہ چینی سے تحریر و تقریر کے فن کو یکتا بنایا۔
الفاظ کے زیرو بم پر انہیں جو عبور حاصل تھا ایسی تحریر دیکھنے کو نہیں ملتی۔ آغا شورش نے مجلس احرار اسلام میں شمولیت اختیار کی۔ وہ امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری کو مرشد کہا کرتے تھے۔ ان کی شعلہ بیانی میں شاہ جی کی جھلک تھی، جن کی تقاریر عوام ساری ساری رات سنا کرتے تھے لاہور کا موچی دروازہ اور برصغیر کا طول و عرض اس کا گواہ ہے۔ آغا شورش کاشمیری کی شعلہ نوائی بھی اسی لئے مقبول عام تھی کہ وہ عوام کے جذبات اور امنگوں کی ترجمانی کرتے اور حاکموں کو للکارتے تھے۔
1946 ءمیں انہیں مجلس احرار اسلام کا سیکرٹری جنرل بنایا گیا۔ آغا مرحوم نے اصولوں کی خاطر جیلیں کاٹیں، ان کا ہفت روزہ ”چٹان“ متعدد بار بند ہوا، جو ہفت روزہ تھا، لیکن اس کا مواد کسی مقبول ترین روزنامے سے زیادہ موثر تھا اور حاکمان وقت ہمیشہ اس سے خوفزدہ رہتے۔ آغا مرحوم نے اگرچہ سیاست مجلس احرار سے شروع کی تھی، لیکن وہ اسلام اور پاکستان کے لئے کسی مسلم لیگی سے بڑے مسلم لیگی تھے۔ مولانا ابو الکلام آزاد سے آغا مرحوم زبردست عقیدت رکھتے تھے ان کی وفات پر اپنے رسالے ”چٹان“ میں نظم لکھی۔
کئی دماغوں کا ایک انساں، میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے، زباں سے زور بیاں گیا ہے
اتر گئے منزلوں کے چہرے، پھر کیا کارواں گیا ہے؟
اپنے دور میں صدر ایوب خان نے کچھ لوگوں کے توسط سے رابطہ کیا تو آغا شورش نے یہ تاریخی پیغام بھجوایا کہ دو چیزیں سدا نہیں رہتیں ایک اقتدار، دوسری مصیبت، آپ کا اقتدار نہیں رہے گا اور ہماری مصیبت انشاءاللہ کٹ جائے گی۔ 1968 ءمیں شورش کو گرفتار کر کے کراچی جیل میں بند کر دیا گیا۔ انہوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کر دی حالت خراب ہونے پر آغا مرحوم کو سول ہسپتال کراچی لایا گیا، جہاں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ڈاکٹر کا روپ بدل کر ان سے ملاقات کی مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔
آغا شورش مرحوم کا تعلق اگرچہ دائیں بازو سے تھا لیکن انہوں نے ذاتی زندگی دائیں اور بائیں کی سیاست سے بالا تر ہو کر گزاری۔ عوامی شاعر حبیب جالب کو لکشمی چوک سے گوالمنڈی پولیس پکڑ کر لے گئی، اس وقت آغا شورش ”چٹان“ کے دفتر میں موجود تھے انہیں جالب کے ساتھ پولیس کی زیادتی کی اطلاع ملی، تووہ فوراً تھانے پہنچے جہاں جالب بیٹھے تھے۔ آغا مرحوم نے پولیس اور اس کے افسران کو اپنے مخصوص انداز میں بے نقط سنائیں۔
گوالمنڈی کے لوگ جو آغا مرحوم سے بخوبی واقف تھے بڑی تعداد میں تھانے میں جمع ہو گئے۔ پولیس اہلکاروں کو معافی مانگنا مشکل ہو گیا بالآخر آغا، حبیب جالب مرحوم کو ہمراہ لے کر چٹان کے دفتر آئے۔ انہوں نے پولیس کی زیادتی پر یہ سوچے بغیر کہ جالب کا تعلق بائیں بازو کے سوشلسٹوں سے ہے زبردست احتجاج کر کے اپنی اصول پسندی ثابت کی جو تاریخ میں انہیں امر کر گئی۔
جنرل یحییٰ خان کے عہد اقتدار میں رانی کا چرچا تھا۔ رانی اور یحییٰ خان کے مابین گل و بلبل اور شمع و پروانہ کا سا تلازماتی تعلق تھا۔ اس دور کی بیورو کریسی اور سیاست کے کئی دیگر جرنیل بھی اقلیم اختر عرف جنرل رانی کی چشم سرمگیں سے شراب التفات کشید کرتے رہے۔ جنرل رانی کی رقابت ملکہ ترنم نور جہاں سے تھی۔ اب یہ ایک کھلا راز ہے کہ یحییٰ خان کی محافل شبینہ میں نور جہاں بھی ساقی گری کے فرائض ادا کرتی رہیں۔ بھٹو دور میں جنرل رانی کا ڈیرہ شارع قائداعظم پر واقع انٹر کانٹی نینٹل کے ایک ”سوئیٹ“ میں تھا۔
مصطفیٰ کھر گورنر بنے تو اطلاعات موصول ہوئیں کہ جنرل رانی کی ”جلوہ گاہ جمال و وصال“ سازشوں کا گڑھ بن رہی ہے۔ آسمان نے رنگ بدلا، حالات نے پلٹا کھایا۔ کھر کے دور میں جنرل رانی مفرور اشتہاری ملزموں کی طرح جابجا چھپتی پھرتی ایک وقت آیا کہ وہ آغا شورش کے آستانے پر رات کے پچھلے پہر پناہ کے لیے پہنچی۔ جنرل رانی نے حکومتی مظالم کی ایک طولانی داستان سنائی اور پناہ کی طلب گار ہوئی۔ آغا صاحب نے کہا کہ میں تمہیں تادیر پناہ نہیں دے سکتا۔
یہ سننا تھا کہ جنرل رانی نے ایک ضخیم البم آغا شورش کو پیش کی اور کہا کہ ’اس میں پاکستان کے سول و ملٹری بیورو کریٹوں، سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کی زندگی کے مخفی گوشے تصویری زبان میں حقیقت حال بیان کر رہے ہیں۔ آغا صاحب نے جنرل رانی کو اپنے ہاں ایک رات ٹھہرنے کی اجازت دی۔ صبح ہوتے ہی وہ چل دی۔ آغا صاحب نے اس کے دیے ہوئے ”تحفہ“ کو اس کی آنکھوں کے سامنے نذر آتش کیا اور کہا ”اقتدار سے محروم ہونے والے لوگوں کے عیب اچھالنا بزدلوں کا کام ہے۔ آج تم یہ تصویریں اٹھائے پھر رہی ہو، کل تم ان لوگوں کے نگارخانہ عیش کی رونق ہوگی“ آغا صاحب نے جو کچھ کہا وہ سچ ثابت ہوا۔ بھٹو حکومت سے جنرل رانی کی ”خفیہ ڈیل“ ہو گئی۔ جنرل رانی بھی زیر زمیں چلی گئی اور اس کی رنگین داستانوں پر بھی پردہ ڈال دیا گیا۔
ایک تقریر کے دوران سقوط مشرقی پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے آغا شورش کاشمیری نے کہا تھا کہ ’اس کے ذمہ داران ان گنت ہیں لیکن ان میں انگور کا پانی اور جنرل رانی نمایاں ہیں۔ آغا شورش کاشمیری 48 سال کی عمر میں 25 اکتوبر 1975 ء کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے اور ان کی نماز جنازہ مولانا مفتی محمود نے یونی ورسٹی گراؤنڈ، لاہور میں پڑھائی۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ شورش کاشمیری کی اولاد نے ان کی شاعری اور نثر نگاری کو کتابی شکل دینے کی کوشش کی نہیں کی، وگرنہ ایک مستند اور دل فریب مجموعہ دنیا کے سامنے آ سکتا ہے۔
آغا شورش کاشمیری ایک بے باک صحافی اور خطیب ہونے کے علاوہ عاشق رسول بھی تھے۔ بقول مجید نظامی مرحوم ”خاتم النبیین کے کروڑوں غلام یہ گواہی دیں گے کہ اپنی ہزار بشری کمزوریوں کے باوجود آغا شورش کاشمیری سرکار دوعالم کے حضور آج سرخرو کھڑے ہوں گے کیونکہ انہوں نے ختم نبوت کا علم اس وقت بھی سر بلند رکھا جب وہ میدان میں تنہا رہ گئے تھے۔ آغا شورش کاشمیری نے دار بقا کی طرف جانے سے پہلے جو کہا وہ حقیقت واقعہ بن کر ہمارے سامنے ہے۔
فضا میں رنگ ستاروں میں روشنی نہ رہے
ہمارے بعد یہ ممکن ہے زندگی نہ رہے
خیال خاطر احباب واہمہ ٹھہرے
اس انجمن میں کہیں رسم دوستی نہ رہے
فقیہ شہر کلام خدا کا تاجر ہو
خطیب شہر کو قرآن سے آگہی نہ رہے
قبائے صوفی و ملا کا نرخ سستا ہو
بلال چپ ہو، اذانوں میں دلکشی نہ رہے
نوادرات قلم پر ہو محتسب کی نظر
محیط ہو شب تاریک روشنی نہ رہے
اس انجمن میں عزیزو یہ عین ممکن ہے
ہمارے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

