سنہ 2030 تک ٹیکنالوجی اس دنیا کو تبدیل کر دے گی


ٹیلی کمیونی کیشن انڈسٹری کے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ 2030 کے قریب دنیا بھر میں اسمارٹ فونز کی مقبولیت کم ہو جائے گی اور 6 جی ٹیکنالوجی کمرشل مارکیٹ کا حصہ بن جائے گی۔ کتنا عجیب لگے گا کہ دنیا اسمارٹ فونز سے ہٹ کر اسمارٹ عینکوں اور دیگر ڈیوائسز پر منتقل ہو جائے گی اور زیادہ تر ڈیوائسز ہمارے جسم میں ہی نصب ہوجائیں گی۔ ابھی یہ تو واضح نہیں ہے کہ وہ ڈیوائسز کون سی ہوں گی لیکن یہ خبریں اب عام ہیں کہ کچھ کمپنیز ”برین کمپیوٹر انٹرفیز“ ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کوئی بھی کام کرنے کے لیے انسانی ذہن کے سگنلز ایک ڈیوائس پر منتقل ہوں گے اور مشین وہ کام کردے گی۔

دنیا میں اب موبائل کمیونی کیشن ٹیکنالوجی ”6 جی ٹیراہرٹز“ پروٹو ٹائپ کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس کی رفتار 5 جی ٹیکنالوجی سے 50 گنا زیادہ ہو گی۔ فائیو جی ٹیکنالوجی میں موبائل ڈیٹا ٹرانسفر کی رفتار 40 ایم بی پی ایس (میگابٹس فی سیکنڈ) سے 1100 ایم بی پی ایس تک ہوتی ہے جب کہ اوسطاً یہ رفتار تقریباً 200 ایم بی پی ایس ہو سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں 6 جی ٹیکنالوجی کے لیے ڈیٹا ٹرانسفر اسپیڈ 1101 ایم بی پی ایس سے شروع ہو کر ایک ٹیرابٹس فی سیکنڈ (دس لاکھ ایم بی پی ایس) تک چلی جاتی ہے۔

6 جی موبائل کمیونی کیشن میں ٹیراہرٹز اسپیکٹرم سے تعلق رکھنے والی ریڈیو لہریں استعمال کی جاتی ہیں جن کی فریکوینسی 100 گیگاہرٹز سے 10 ٹیراہرٹز تک ہوتی ہے۔ 6 جی ٹیراہرٹز وائرلیس ٹیکنالوجی پروٹو ٹائپ کے اس مظاہرے میں 140 گیگاہرٹز کا ڈیجیٹل وائرلیس لنک استعمال کرتے ہوئے 6.2 گیگابٹس فی سیکنڈ ( 6200 ایم بی پی ایس) کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کیا گیا ہے۔ یعنی اس رفتار پر عام ڈی وی ڈی جتنا ڈیٹا صرف ایک سے دو سیکنڈ میں منتقل کیا جا سکے گا۔

کہا جا رہا ہے کہ 6 جی ٹیکنالوجی سے ڈیٹا ٹرانسفر کی رفتار، فائیو جی کے مقابلے میں 50 گنا تک زیادہ ہوگی جب کہ اس کی اوسط رفتار، 5 جی سے 10 گنا زیادہ ہوگی۔ موجودہ پروٹو ٹائپ میں وہ مختصر ہارڈویئر بھی شامل ہے جو متوقع طور پر 2030 تک دنیا بھر میں استعمال ہونے والی 6 جی موبائل کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے لیے بنیاد کا کام کرے گا۔ دنیا بھر میں اس وقت سے سے تیز ٹیکنالوجی 5 جی ہے جسے دنیا کے مختلف ممالک میں 2019 میں متعارف کروایا گیا تھا مگر اب بھی دنیا کے بیشتر ممالک اس موبائل انٹر نیٹ ٹیکنالوجی کو اپنے عوام تک نہیں پہنچا سکے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق دنیا میں ہر 7 میں سے صرف 1 فرد 5 جی اسمارٹ فون استعمال کر رہا ہے۔

اس وقت کم از کم 6 ممالک میں 6 جی ٹیکنالوجی ہر مبنی پروگرامز پر کام ہو رہا ہے۔ اگرچہ 6 جی ٹیکنالوجی کے دنیا میں آنے میں اب بھی کافی وقت باقی ہے لیکن متعدد ممالک پہلے ہی 6 جی کے لئے آر اینڈ ڈی پروگرام شروع کرنے کے اپنے ارادوں کا اعلان کرچکے ہیں۔ اب تک، 6 جی پر تحقیق کے ارادوں کے پانچ سب سے زیادہ عوامی اعلانات جن ممالک سے آئے ہیں ان میں چین، جنوبی کوریا، فن لینڈ، جاپان، نیدرلینڈ اور امریکہ شامل ہیں

نومبر 2019 میں چین کے بیان نے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ہی فائیو جی کے کمرشل رول آؤٹ کے اعلان کے بعد ٹیکنالوجی سپر پاور نے اشارہ دیا کہ وہ مستقبل کے کام کو شروع کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کر رہا اور اس پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ چین کے اعلان نے نمایاں توجہ حاصل کی لیکن جنوبی کوریا نے بھی اس حوالے سے اعلان کیا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال 2028 میں ہی شروع کر دے گا۔ یہ اقدام یقیناً وقت سے پہلے معلوم ہو تا ہے لیکن شاید یہ مسابقت کی خاطر صرف آغاز تک ہی محدود رہے کیوں کہ محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ابھی اس کے لیے تیار نہیں۔

اگر چہ ایشیا میں 6 جی کے ارد گرد سرگرمیوں کی لہر شہ سرخیوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے لیکن فن لینڈ کی اولو یونیورسٹی پہلے ہی اپنی دوسری سالانہ 6 جی وائرلیس سمٹ پر ہے۔ فن لینڈ کا 6 جی فلیگ شپ پروگرام 6 جی کے استعمال پر تحقیق کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں سیلف ڈرائیونگ کاریں اور ورچوئل رئیلٹی شامل ہیں۔ تقریباً اسی وقت جب چین نے 6 جی کے لئے آر اینڈ ڈی منصوبوں کا اعلان کیا، جاپان کی دو سب سے بڑی ٹیکنالوجی فرمز نے انٹیل کے ساتھ شراکت قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

نیدرلینڈز اگرچہ اپنے فلیگ شپ پروگرام کے بارے میں خاموش ہے لیکن اس کے باوجود، آئنڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ اینٹینا اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے لئے اپنے کامیاب تجربات کے ساتھ سرخیوں میں آ رہی ہے جسے 6 جی کو چلانے کی ضرورت ہوگی۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت امریکہ اس دوڑ میں پیچھے رہے۔

چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 2030 میں 6 جی کا تجارتی استعمال شروع ہونے کا قومی امکان ہے۔ چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی رہنمائی میں جون 2019 میں تشکیل پانے والے آئی ایم ٹی 2030 ( 6 جی) تشہیری گروپ کی جانب سے جاری وائٹ پیپر کے مطابق نیکسٹ جنریشن موبائل مواصلاتی ٹیکنالوجی جدید کمپیوٹنگ، بگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بلاک چین کو مربوط کرے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ 6 جی نیٹ ورک حقیقی فزیکل دنیا اور ورچوئل ڈیجیٹل کو گہرا مربوط کرتے ہوئے عملی جامہ پہنائے گا اور ہر چیز کے ذہین رابطے اور ڈیجیٹل جڑواں کی ایک نئی دنیا تعمیر کرے گا۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں تاحال فائیو جی انٹرنیٹ سروس بھی شروع نہیں ہوئی لیکن چین نے ونٹر اولمپکس 2022 کے دوران 6 جی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق سرمائی اولمپکس کے دوران چین کی ٹی شنگوا یونیورسٹی کے ماہرین نے تجرباتی وائرلیس کمیونیکشن لائن جنوری 2022 میں اولمپکس کمپاؤنڈ میں بچھائی تھی، جس سے دس ہزار سے زائد ویڈیوز کو بیک وقت فیڈ کیا جاسکتا ہے۔ اس تجربے کی مدد سے وہ ایک سیکنڈ میں ایک کلومیٹر کے رقبے پر ایک ٹی بی ڈیٹا ٹرانسمیٹ کرنے کے قابل ہو گئے۔

موبائل ڈیوائسز میں تاحال الیکٹرو میگنیٹک ویوز استعمال کی جاتی ہیں جو ریاضیاتی نکتہ نظر سے محض 2 ڈی ہیں جب کہ کورٹیکس الیکٹرو میگنیٹک ویوز تھری ڈی ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں کمیونیکشن بینڈ ودتھ میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے لئے بڑا چیلنج گھومنے والی لہروں کے فاصلے کو بڑھانا ہوتا ہے اور ایسا کرنے سے کمزور سگنل ہائی اسپیڈ ڈیٹا ٹرانسمیشن کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ اس رکاوٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے چینی سائنسدانوں نے ایک منفرد ٹرانسمیٹر تیار کیا جو زیادہ فوکس ورٹیکس بیم تیار کرتا ہے اور اس سے لہروں کے گھومنے کا عمل 3 مختلف موڈز میں تقسیم ہوجاتا ہے، جس کے بعد ریسیونگ ڈیوائس بڑی مقدار میں ڈیٹا کو اسپلٹ سیکنڈ میں پک اور ڈی کوڈ کر سکتی ہے۔

موبائل مواصلات نے گزشتہ چار دہائیوں میں دنیا کو تبدیل کر دیا ہے، ہر دہائی میں کم از کم ایک نئی نسل کی ٹیکنالوجی کے ابھرنے کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ 5 جی ٹیکنالوجی نے انٹرنیٹ آف تھنگز کے دروازے کھولے ہیں، 6 جی کا مقصد ”منسلک انٹیلی جنس“ کے پلیٹ فارم کے طور پر ترقی کر کے اس تصور کو مزید آگے بڑھانا ہے۔ توقع ہے کہ 6 جی ٹیکنالوجی موبائل کمیونیکیشن نیٹ ورکس کو اسمارٹ ڈیوائسز کی ایک وسیع رینج کو مربوط کرنے میں مدد دے گی، جس سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ کے ذریعے جسمانی اور ڈیجیٹل دنیا کے درمیان حقیقی وقت میں رابطہ ممکن ہو گا۔ اس کے علاوہ، یہ ممکنہ طور پر لوگوں کو حقیقی وقت میں معلومات کی دولت تک رسائی حاصل کرنے اور بازیافت کرنے کے قابل بنائے گا، اور انہیں ایک ذہین، باہم مربوط دنیا میں داخل ہونے میں مدد ملے گی۔ اس طرح، 6 جی ڈیجیٹلائزیشن کی اگلی لہر کا آغاز کرے گا۔

اگرچہ 6 جی ابھی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ 6 جی ٹیکنالوجی میں مختلف نیٹ ورکس شامل ہوں گے جن میں سیلولر، سیٹلائٹ اور ڈرون سے فراہم کردہ مواصلات شامل ہیں تاکہ معلومات جمع کرنے میں مدد ملے۔

نیٹ ورک کی کارکردگی کے اشارے کے لحاظ سے، 6 جی سے توقع کی جاتی ہے کہ ٹرانسمیشن کی شرح، اینڈ ٹو اینڈ لیٹنسی، قابل اعتماد، سپیکٹرم اور نیٹ ورک کی کارکردگی اور بہت کچھ میں نمایاں بہتری آئے گی، اس طرح عمودی صنعتوں کی متنوع نیٹ ورک کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔

6 جی ٹیکنالوجی پیداوار کو فروغ دینے، لوگوں کے طرز زندگی کو بہتر بنانے، کارکردگی کو بڑھانے، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے شعبے میں جدت طرازی کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل معیشت کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گی۔ ٹیکنالوجی کی ممکنہ ایپلی کیشنز میں مربوط فضائی، خلائی اور زمینی مواصلات شامل ہیں، جو صارفین کو شہروں، دیہی علاقوں اور یہاں تک کہ ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں پر بھی موبائل براڈ بینڈ تک بلا تعطل رسائی حاصل کرنے کی اجازت دے گی۔ اس طرح یہ واضح ہے کہ 6 جی صنعتوں کو با اختیار بنانے، مختلف شعبوں کو ضم کرنے اور مثال کے طور پر اسمارٹ فیکٹریاں بنانے، منسلک گاڑیوں کو فروغ دینے اور ٹیلی میڈیسن کو فروغ دینے میں مدد کرے گا۔

Facebook Comments HS