علیزے سحر کی ننگی ویڈیو اور مسئلہ فلسطین


خاصے دنوں سے سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ مسئلہ فلسطین بنا ہوا تھا اور اہل ایمان ایک دوسرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے میں مصروف عمل تھے، اچانک سے علیزے سحر کی ایک ننگی ویڈیو ریلیز ہوتی ہے اور لمحہ بھر میں مسئلہ فلسطین منظر سے غائب اور علیزے سحر ٹاپ ٹرینڈ۔

اور پارسا یک زبان ہو کر کے صرف ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں ”کہ یار کسی کے پاس علیزے کی نیوڈ ویڈیو کا لنک ہے تو پلیز شیئر کریں تاکہ جنسی فرسٹریشن کا کوئی سدباب کر سکیں“

یار ہم کون لوگ ہیں جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ذرا سی دیر بھی نہیں لگاتے اور جو مسئلہ فلسطین ہمارے غیرت و ایمان کا حصہ بنا ہوا تھا وہ چند لمحوں میں ایک نیوڈ ویڈیو کی نذر ہو گیا۔

ہر طرح کی معاشرتی تنزلی، کرپشن، مہنگائی و بیروزگاری کے باوجود علیزے نامی ایک لڑکی کی نیوڈ ویڈیو کا ٹاپ ٹرینڈ بن جانا ہماری مجموعی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ” کہ بطور ہجوم ہماری سوچ کی شروعات شلوار سے شروع ہو کر شلوار پر ختم ہو جاتی ہے“

ایک فضول سی جھلک منظر عام پر آنے کی دیر تھی کہ ہمارے ہاتھ شلوار میں چلے گئے اور فلسطین کو لپیٹ لپاٹ کے ایک طرف کر دیا اور ” لنک لنک لنک“ کی گردان شروع کر ڈالی۔

کتنے پارساؤں نے اب تک یہ مطالبہ کیا ہے کہ جس بندے نے بھی یہ ویڈیو ریلیز کی ہے اسے سائبر کرائم قانون کے تحت سزا دی جائے؟ اور ایسے لوگ جو کسی کی نجی ویڈیو لیک کرتے ہیں انہیں سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہو؟

مطالبہ کرنا تو بہت دور کی بات ہے، کیا ہمارے کسی محترم عالم دین نے جنہیں سات سمندر پار یورپ کی عریانیت و بے غیرتی تو نظر آ جاتی ہے اپنے گھر کے ”عریانی رویوں“ پر کوئی لب کشائی کی ہو؟

اس قسم کا سنجیدہ رویہ ابھی تک تو دیکھنے میں نہیں آیا۔ ممکن ہے ”لنک لنک“ کی گرد بیٹھ جانے کے بعد ہمارے پارساؤں کو ہوش آ جائے؟

ہاں روایتی الزام بازی ضرور شروع ہو چکی ہے مثلا
علیزے سحر نے اپنی فالونگ بڑھانے کے لیے خود گند بازی کا یہ اسٹنٹ کھیلا ہے۔
طوائفوں کا یہی وتیرہ ہوتا ہے اور مقبول ہونے کے لیے کچھ بھی کر لیتی ہیں۔
یہ جان بوجھ کے ایسا کرتی ہیں تاکہ لوگ انہیں فالو کریں۔ یہ ٹھرکی ہوتی ہیں اور ٹھرک بازوں کو دعوت دینے کے لیے یہ سب کرتی ہیں۔
جو ٹک ٹاکر ہوتی ہیں وہ بد کردار ہوتی ہیں۔

بھلا جو ذہنیت پہلے ہی تسلیم کیے بیٹھی ہو کہ عورت کا وجود ہی سراپا گناہ یا مجسمہ دعوت گناہ ہے ان سے اس قسم کی فضول گوئی کے علاوہ اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ خدانخواستہ ہمارے گھر کی کسی بیٹی کے ساتھ ایسا کچھ ہو جائے یا کوئی ظالم زبردستی اپنی جنسی بھوک مٹانے کے لیے ویڈیو بنانے کے بعد لیک کر دے تو پھر ہمارا رویہ کیا ہو گا؟

کیا ہم لوگوں سے لنک مانگتے پھریں گے یا پردہ ڈالنے کی کوشش کریں گے؟ کیونکہ ہم جنسی بھیڑیوں کے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں جنسی مریض جا بجا کھلے پھرتے ہیں کہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ ہر کوئی طوائف کے قصے سنا کر دل پشوریاں کرتا دکھائی دیتا ہے لیکن ”خریداروں“ کی بات کوئی نہیں کرتا۔

ہر کسی کو طوائف کا گند تو نظر آتا ہے مگر جنسی بھوک مٹانے والے ”گاہکوں“ کی غلاظت نظر نہیں آتی۔ علیزے سحر جو بھی ہو اور جیسے بھی زندگی گزارنا چاہے کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ لیکن لنک مانگنے والوں کو کیا کہیں گے؟

عجیب معاشرہ ہے جہاں خاتون کا گناہ تو سب کو دکھ جاتا ہے لیکن اس مرد کا گناہ کسی کو نہیں دکھتا جو اپنے اندر کے جانور کو رام کرنے کے لیے پیسوں کے عوض ایک مجبور و بے بس خاتون کے جسم کو نوچتا ہے اور تسکین حاصل کرتا ہے۔

اپنے بوڑھے بیمار ماں باپ کی دوائیوں کا بندوبست کرنے اور نشئی بھائی کو روزگار پر کھڑا کرنے کی تگ و دو میں اپنا جسم بیچنے والی قندیل بلوچ میں تو فوراً طوائف نظر آ جاتی ہے لیکن اس کے جسم سے تسکین حاصل کرنے والے ”قوی“ اور دولت مند جو منہ اندھیرے اس کے پاس جاتے ہیں وہ نظر نہیں آتے۔

ارے چلو علیزے سحر تو اپنا دھندا کرتی ہے مگر لنک مانگنے والے پارسا کیا کرتے ہیں؟ فحاشی فحاشی کرنے والوں سے پوچھنا تو چاہیے کہ فحاشی کے اڈوں کو آباد کون کرتا ہے؟ ہمارے محترم علماء کرام موجودہ ٹرینڈ شفٹ، ”فلسطین ٹو علیزے“ کے متعلق کیا کوئی فتویٰ جاری کریں گے؟

جنہوں نے پل بھر میں امت مسلمہ کے اہم ترین مسئلے کو جو کافی روز سے سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا تھا اسے ایک طرف کرتے ہوئے علیزے سحر کے سکینڈل کو ٹاپ ٹرینڈ بنا ڈالا؟ پروفیسر شیر علی سے معافی منگوانے والے ”پارسان“ امت مسلمہ کی مجموعی ذہنیت کے متعلق کیا کہیں گے؟

کیا ہمارے معزز علمائے دین ان وقتی پارساؤں سے بھی معافی منگوانے کا کوئی بندوبست یا اہتمام کریں گے؟

Facebook Comments HS