پاکستان کا لاوارث قومی تشخص
ہمارے ایک محترم دوست نے اپنی فیس بک وال پر لکھا کہ ”افغان ایک قوم ہیں، اور وہ ایک قومی ریاست ہے، جبکہ پاکستان میں کئی اقوام ہیں لہذا یہ ایک قومی ملک نہیں ہے“ تو راقم نے اس موضوع پر ان کی خدمت میں اپنا موقف بھی پیش کیا ”افغان بھی کئی اقوام کا مجموعہ ہیں۔ وہ پختون، تاجک، فارسی بان، ازبک اور دیگر بہت سی دیگر چھوٹی، بڑی اقوام کا مجموعہ ہیں۔ اگر تفریق اور فرق ہی دیکھنا ہو تو کسی بھی علاقے مثلاً پوٹھوہار کو ہی دیکھ لیں، اس میں کتنی“ اقوام ”آباد ہیں کیا اب محلے، گاؤں، قصبے اور شہر کے تناسب اور اکثریت کی بناء پر تقسیم کریں گے تب بات رشتے داریوں اور گھروں کی اسی بنیاد پر تقسیم تک جائے گی مسئلہ پھر بھی حل ہونا ممکن نہیں۔
پاکستان میں ایک قوم بننے کے بہت سے مضبوط دلائل، وجوہات اور علامات و امکانات ہیں، یہ تصور اتنا مضبوط ہے کہ اس نے متحدہ ہندوستان کی اکثریتی اور زیادہ متمول وبا اثر ہندو اکثریت کی مخالفت کے باوجود اپنے لیے ایک الگ خودمختار ملک بنانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی، جس میں بہت بڑا اور بنیادی کردار اس وقت کی باشعور مسلم قیادت کا ہی تھا، جنہوں نے مختلف قسم کے اختلافات، عصبیات اور تعصبیات کے شکار مسلمانوں کی اکثریت کو ایک واضح مقصد دے کر اکٹھا کر دیا اور اپنی منزل مراد حاصل کر لی۔
لیکن قیام پاکستان کے بعد پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مخلص اور ولولہ انگیز قیادت سے بہت جلد محروم ہو گیا، اور اس کے بعد پاکستان کے سیاسی پارلیمانی نظام کے خلاف کچھ عالمی طاقتوں کی مرضی کے مطابق ریشہ دوانیاں اور سازشیں شروع ہو گئیں، پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے ایک جلسہ عام میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ ان کے قاتل کو بھی گرفتار کرنے کے بجائے موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا، اس کیس کی تحقیقات کرنے والے اور اس کیس کے شواہد حیدرآباد کے نزدیک ایک“ طیارہ حادثہ ”میں ختم ہو گئے، اس کے بعد اس رہے سہے اقتدار کو سیاسی قیادت سے چھین کر ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے حوالے کر دیا گیا، پاکستان کا اقتدار ایک میوزیکل چئیر جیسا کھیل بنا دیا گیا، کیونکہ اس بیوروکریٹک قیادت کے پیچھے عوامی حمایت موجود نہ تھی، تو یہ اپنے تحفظ کے لیے فوجی قیادت کا سہارا لیتے رہے، بظاہر اس بیوروکریٹک قیادت کی ڈوریاں پہلے سے ہی ان کے ہاتھوں میں ہی تھیں، لیکن بالآخر ان کٹھ پتلیوں کو ہٹا کر خود سامنے آنے کا فیصلہ کر لیا گیا، اور براہ راست پاکستان کے اقتدار پر جنرل ایوب خان براجمان ہو گئے۔
پاکستان کا نیا آئین بنایا گیا اور ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہوا کہ اس کے اثرات سے پاکستان سڑسٹھ ( 67 ) سال گزر جانے کے باوجود اب تک نہیں نکل سکا۔ بدقسمتی سے یہاں آمریت کے ردعمل اور اپنی بقاء کے طور پر سیاسی قیادتوں نے علاقائی قومیتوں کو اپنے اپنے طاقت کے مراکز میں قومی سطح پر آمریت کے غلبے اور طاقت کے مقابلے کے لیے علاقائی اور نسلی قومیت، کو اپنا دفاعی ہتھیار اور مورچہ بنایا، اور پھر اسے بوجوہ فروغ بھی دیا۔
جب کہ اس کے جواب میں جس لیڈر شپ کو پاکستانی قوم کا سلوگن دینا تھا، وہ بار بار آمریت کی گود میں جا بیٹھتی رہی، اور اگر بہ رضا و رغبت نہ بیٹھتی تو آمر اپنی گود میں بٹھانے کے لیے انھیں منسوخ و مسترد کرتے ہوئے اپنی مدد کے لیے نئی سیاسی قیادتیں تشکیل دے لیتے، اس پر بھی بے یقینی اور سیاسی قیادتوں پر عدم اعتماد کا عالم یہ رہا کہ نوبت“ غیر جماعتی ”مجلس شوریٰ تک بھی پہنچتی پاکستان کے عوام نے دیکھی، ریفرنڈم میں جنوں اور بھوتوں کو بھی ووٹ ڈالتے پھٹی ہوئی حیرت زدہ آنکھوں کے ساتھ دیکھا۔
لہذا اس طرح“ ہر قسم کے ”علاقائی قوم پرستوں کے لیے میدان بالکل خالی چھوڑا گیا، اور اب تو ان کو پاکستان کے موجودہ ابتر حالات معاشی ناگفتہ بہہ صورتحال کی بدولت پاکستان کی تاریخ، جواز اور ضرورت سے ناآشناء نوجوان نسل کے اذہان تک براہ راست اور یک طرفہ رسائی حاصل ہو چکی ہے، یہاں پاکستانی قومیت کے نظریے کو ایک جرم اور گناہ جیسی حیثیت میں پیش کیا جانے لگا ہے، پاکستان کے روایتی دشمنوں نے بھی اس صورتحال کو بڑھانے، ابھارنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے، انہوں نے پاکستان میں کسی مضبوط نظریاتی بنیاد اور سوچ سے بے خبر اور اس وطن کے قیام کے مقصد سے ناآشنا آمریت گزیدہ بدنصیب نسل کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا ہے، اور پاکستان کے بہت سے نام نہاد دانشور، و دیگر، کی مدد اور استعمال سے اپنے وطن کے تاریخی جواز سے ناآشناء اور بے خبر نوجوانوں کی سوچ کو اس وطن کی اہمیت، مقاصد اور جواز کے بارے میں مایوسی کا شکار بنانے کا کام کھلے عام کیا جا رہا ہے۔
ایسی سوچ کو اس طرح نوجوانوں اور عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، جیسے کہ یہ ملک اور قوم دشمن سوچ رکھنا بہت“ دانش ”کی بات اور“ ترقی پسندی ”کی علامت ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ ہمارے ہمسائے بھارت میں تقریباً سوا سو سے زیادہ“ قومیتیں ”اور ڈیڑھ سو سے زیادہ الگ الگ زبانیں پائی جاتی ہیں، لیکن ہمارے ان احباب کی نظر میں بھارت کو آپس میں باندھ کر رکھنے والی اور اس کے مشترکہ قومی تشخص کی محافظ وہاں“ جمہوریت ”ہے، گویا وہاں جمہوریت کی چھتری تمام علاقائی، نسلی، لسانی، مذہبی تضادات کا علاج ہے، لیکن پاکستان کے بارے میں یہ حکماء مختلف قومیتوں کے تشخص کے نام پر ایک الگ نسخہ تجویز کرتے ہیں، اور یہاں کے لیے علاقائی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم اور تفریق، کو“ حل ”بتایا اور سمجھا جاتا ہے، جبکہ اصولی طور پر اصرار، مطالبہ اور جدوجہد اسی کامیاب نسخے یعنی، جمہوریت، پر ہی ہونا چاہیے تھی، جو نسخہ تضادات سے بھرپور ہمارے ہمسایہ بھارت میں کامیاب اور موثر ہے، لیکن اپنے ملک میں اسی نسخے یعنی“ جمہوریت ”کے بجائے علیحدگی، تقسیم اور منافرت میں حل دکھایا جاتا ہے۔
دوسری طرف پاکستان پر مسلط کردہ اس اندھیرے سائے یعنی آمرانہ سوچ نے اپنے مقاصد کے لیے جواز پاکستان، نظریہ پاکستان اور پاکستان کی طرح عوام اور نوجوانوں کی سوچ اور نظام تعلیم کو سوچے سمجھے منصوبہ بند طریقے سے متاثر کیا، پاکستان کی تاریخ تک کو بری طرح اپنے مذموم مقاصد کے تحت مسخ کیا گیا، اس ملک کے نظام تعلیم کو ایسا بنا دیا گیا کہ اس میں سے باشعور انسانوں کے بجائے صرف زومبی ذہنیت ہی برآمد ہو سکے، جن کو مذہب، قومیت اور مملکت کے نام پر باآسانی کسی بھی طرف کو ہانکا جا سکے۔
پاکستان میں آمریت اور اس کی خواہش نے اپنی ہی پیدا کی گئی اس جاہلیت اور عوام کی قیام پاکستان کے مقاصد سے لاعلمی سے پورا پورا فائدہ بھی اٹھایا، حتیٰ کہ یہ نوبت آ چکی ہے کہ اب پاکستان میں“ مطالعہ پاکستان ”ایک طعنہ اور طنز بنا دیا گیا ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہم آج پاکستان کے موجودہ سیاسی، سماجی، اقتصادی، فکری، نظریاتی زوال کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ آج بھی کوئی بڑی پارٹی پاکستانی قومیت کا سلوگن لے کر قوت، اخلاص اور سچائی کے ساتھ سامنے آئے تو پاکستان کے عوام کی اکثریت یقیناً ان ہی کی حمایت کرے گی، مثال کے طور پر موجودہ پاکستان پیپلز پارٹی نے، جس کی قوت کا مرکز بنیادی طور پر سندھ ہے، لیکن پورے ملک میں سیاست کرنے لے لیے وہ بھی“ پاکستان کھپے ”کا اظہار کر کے پورے ملک میں سیاست اور نمائندگی کا جواز تشکیل کرتے ہیں، ہم یہ بھی دیکھتے ہیں، کہ باقی صوبوں کی معروف قوم پرست قیادتیں بھی جب اسمبلیوں میں پہنچتی ہیں، تو ان کے نمائندے وہاں پاکستان میں جمہوریت اور قومیت کے علمبردار دکھائی دیتے ہیں، ان کا پاکستان کی اسمبلیوں میں پہنچنا، وہاں بیٹھنا پاکستان کے پارلیمانی نظام سے اپنے آئینی اور قومی حقوق کے حصول کی امید رکھنا ہی اس بات کا واضح ثبوت ہے، کہ ان کی حب الوطنی اور اخلاص پر لگائے گئے الزامات کی حقیقت کیا ہے۔
مشر محمود خان اچکزئی اور اے این پی کی قیادت کا پارلیمانی کردار اس بات کی روشن مثال ہے۔ اپنے علاقوں کے اور وہاں رہنے والے عوام کے جمہوری و آئینی حقوق کا مطالبہ کرنا، ملکی ترقی میں ان کی نمائندگی کی خواہش کسی بھی علاقے کے عوام کی قیادت کے جائز ترین مطالبات ہوتے ہیں، لیکن بدنیتی سے ان جمہوری اور آئینی مطالبات کو“ آمرانہ سوچ ”اپنے مفادات کے تحت غلط سمت یعنی علاقائی نفرت انگیز قوم پرستی حتیٰ کہ ملک دشمنی تک کی طرف موڑنے، اور الزام دینے کا حربہ استعمال کرتی ہے۔
آج کے پاکستان کے موجودہ بدترین حالات میں، جنھیں، ملک کی سیاسی و غیر جمہوری تاریخ کے شاخسانے کے طور پر بھی دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے، پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے کہ کوئی بڑی سیاسی جماعت جذبہ، اخلاص اور سچائی کے ساتھ دوبارہ سے پاکستانی قومیت کا پرچم بلند کرے، تاکہ آج بھی اپنے وطن پاکستان سے محبت کرنے والے عوام کی اکثریت کو ایک مرکز پر اکٹھے ہونے اور اپنے وطن کی خدمت اور ترقی کا موثر پلیٹ فارم مہیا ہو سکے۔
اس طرح پاکستانی قومیت کے خلاف سازشوں کا عوامی انداز میں عوام کی رائے سازی اور مدد کے ذریعے جمہوری طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ منطقی طور پر یہ نعرہ اپنانے اور، پاکستانی قوم، کا پرچم بلند کرنے کی صلاحیت اور اہلیت ہمیں پاکستان مسلم لیگ (ن) میں دکھائی دیتی ہے، لیکن اس نظریاتی احیاء کی ذمہ داری کی اہلیت حاصل کرنے کے لیے انھیں اپنی صفوں کی تطہیر و ترتیب نو کی شدید ضرورت ہے۔ ہم ان سب علاقوں جو آج پاکستان پر مشتمل ہیں قدیم ترین تاریخ کے مطابق ان سب علاقوں کو مشترکہ طور پر“ انڈس سویلائزیشن ”کہا اور لکھا جاتا ہے، تو آج ہم شاندار مشترکہ ورثے کی حامل اس قدیم ترین تہذیبی اکائی کو پاکستان کہتے کیوں شرماتے ہیں، ہمیں تو دنیا کی اس قدیم ترین اور شاندار ماضی کی حامل تہذیب کا حصہ ہونے پر فخر کرنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے آس پاس کے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں اس خطے میں اپنے مقام اور پاکستانی قومیت اور وطن کی اہمیت کا شعوری تجزیہ یہ حقیقت مدنظر رکھتے ہوئے ضرور کرنا چاہیے کہ تاریخ کا سفر ہمیشہ آگے کی طرف جاری رہتا ہے اور اسے کسی بھی طرح واپس“ ماضی ”میں نہیں لے جایا جا سکتا، یہ خواہش نہ صرف ناممکن بلکہ گمراہ کن بھی ہے۔ اپنے وطن سے مایوسی کا اظہار کر کے اسے ہی ہر مصیبت اور برائی کی جڑ بتا کر ہم آخر متبادل میں کیا کرنا چاہتے ہیں، کس جگہ، کس کے زیر سایہ، کون سا مقام، حاصل کرنا چاہتے ہیں یا اس کی امید رکھتے ہیں، کیا ہم نریندر مودی سے، افغان طالبان سے، ایرانیوں سے یا چینیوں سے یا“ بحیرہ عرب ”سے یہ امید رکھیں کہ وہ ہمیں اپنے“ زیر سایہ لے کر ہماری حسب منشاء ”کفالت“ کریں گے، یا ہم مغلیہ دور کے بعد کا پنجاب بننا چاہتے ہیں، جہاں ہر سال بیرونی حملہ آور آ کر تمام جمع شدہ مال و متاع، عزت و آبرو، بزور چھین کر لے جایا کرتے تھے۔ ذرا سوچئیے گا!


