اسرائیل کا قیام: اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کی تقریر


پاکستان کے قیام کے فوری بعد 1947 میں اقوام متحدہ میں فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام کا مسئلہ پیش ہوا۔ اس وقت قائد اعظم نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کے طور پر بھجوایا۔ ابھی انہیں پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ اس وقت نہ صرف امریکہ اور مغربی طاقتیں بلکہ سوویت یونین بھی اسرائیل کے قیام کی حمایت کر رہا تھا۔ جب یہ صاف نظر آنے لگا کہ اب بڑی طاقتیں ہر قیمت پر چھوٹے ممالک پر دباؤ ڈال کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے یہ قرارداد منظور کرا کے دم لیں گی تو 28 نومبر 1947 کو پاکستانی وفد کے سربراہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کی۔ اس تقریر کے کچھ اقتباسات کا اردو ترجمہ اس کالم میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سائٹ پر اصل اور مکمل انگریزی متن پڑھا جا سکتا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا اس تقریر میں بیان کیے گئے خدشات درست ثابت ہوئے کہ نہیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے تقریر کے شروع میں کہا :

جناب صدر یہ امر قابل اطمینان ہے کہ آپ اس مقصد کے لئے کوشاں ہیں کہ کم از کم یہاں پر اس سوال کے متعلق بغیر کسی خلل یا اثر اندازی کے بحث ہو۔ کیا رائے شماری بھی اسی طرح آزادانہ اور بغیر کسی اثر اندازی کے ہو گی۔ اب اس بارے میں کوئی اطمینان نہیں پایا جاتا۔ میں اس پر زیادہ وقت نہیں لوں گا۔

وہ لوگ بھی جو اس بات کا علم نہیں رکھتے کہ پس پردہ کیا ہو رہا ہے، پریس کے ذریعہ بہت کچھ جان چکے ہیں۔ یہ تو صرف ایک مسئلہ ہے اب تو یہ اندیشہ جنم لے رہا ہے کہ جو عظیم ادارہ دنیا کے مستقبل کے لئے امیدوں کا مرکز بنا ہوا ہے، اس عظیم ادارے میں جب بھی کوئی اہم مسئلہ پیش ہو گا اور اس پر سوچ بچار ہو گی تو اس سوچ بچار کو آزاد نہیں چھوڑا جائے۔

یہ ایک اہم لمحہ ہے۔ دنیا کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے۔ اور اس عظیم۔ کم از کم ہمیں یہ امید تو کرنے دیں کہ یہ ایک عظیم ادارہ ہے، اس عظیم ادارے کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے۔ آج اقوام متحدہ کٹہرے میں کھڑی ہے۔ اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ کیا یہ سرخرو ہو کر نکلتی ہے کہ نہیں۔ شاید یہ پہلو اتنا اہم نہیں ہے کہ تقسیم منظور ہوتی ہے یا اس تجویز کو مسترد کیا جاتا ہے۔ زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ آیا اہم مسائل پر اپنے ضمیر کے مطابق دیانتدارانہ اور منصفانہ فیصلے کرنے کا کوئی امکان باقی رہا بھی ہے کہ نہیں۔

ہم ماضی میں زیادہ دور نہیں جاتے۔ بتیس سال قبل مغربی اتحادی یورپ کی محوری طاقتوں سے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ترکی ابھی جرمنی کا ساتھی بن کر اس جنگ میں شامل ہوا ہی تھا۔ اتحادی طاقتوں کی قسمت اس توازن میں کانپ رہی تھی۔ مشرق وسطیٰ کے اہم خطے میں صرف عرب ہی اس توازن کو درست کر سکتے تھے۔ انہیں اس بات کی دعوت دی گئی کہ وہ ترکی سے اپنا اتحاد توڑ کر اتحادیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اس کے بدلہ میں انہیں کیا ملے گا؟ پہلے برطانیہ اور پھر فرانس نے ان سے وعدہ کیا کہ اس جد و جہد کے آخر میں وہ اپنے اپنے علاقوں میں آزاد ہوں گے۔ عرب مان گئے اور انہوں نے اپنا کردار ادا کر دیا۔

ان سے جو عہد کیے گئے تھے انہیں کس طرح پورا کیا گیا؟ ہمیں اکثر یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ دس میں سے نو وعدے تو پورے کر دیے گئے۔ اور اب اسے ہی کافی سمجھو۔ کیا یہ وہ معیار ہے جو ہمیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر بلکہ ذاتی سطح پر بھی قائم کرنا چاہیے؟ کہ ہم نے دس میں سے نو وعدے تو پورے کر دیے۔ اب اسے ہی کافی سمجھو۔ اگر ایسا ہی ہے تو ذرا رک جائیں اور سوچیں کہ کیا کسی عہد و پیمان کا کوئی بھروسا قائم رہے گا۔ خاص طور پر مغربی طاقتوں کے عہد و پیمان کا کوئی بھروسا قائم رہے گا؟ مغربی طاقتو! یاد رکھو شاید کل تمہیں دوستوں کی ضرورت پڑے۔ شاید تمہیں مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کی ضرورت پڑے۔ میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ ان ممالک میں اپنی ساکھ کو تباہ و برباد نہ کرو۔

Jaffa – Once part of Palestine, Now Israel

تاریخ میں ایسے بہت کم دور نظر آتے ہیں جب یورپ کے کسی نہ کسی حصہ میں یہودیوں پر مظالم نہ کیے گئے ہوں۔ انگریز بادشاہ اور نواب اگر کبھی ان سے نرم سلوک کرتے تھے تو یہودی تاجروں اور ساہو کاروں کے دانت نکلوایا کرتے تھے تا کہ ان کو اقتصادی مدد دینے کے لئے آمادہ کیا جا سکے۔ اور اس وقت یہ یہودی عرب سپین میں آ کر پناہ لیا کرتے تھے۔ اور عربوں کی یہ سلطنت ان کے لئے پناہ گاہ تھی۔ اور آج یہ کہا جا رہا ہے کہ بیچارے یہودیوں پر یورپ میں بڑے مظالم ہوئے ہیں، اس لئے فلسطین کے عربوں کو چاہیے کہ سپین کے عربوں کی طرح نہ صرف انہیں ٹھکانا مہیا کریں، انہیں پناہ دیں بلکہ ایک ریاست بھی دیں تاکہ وہ عربوں پر حکومت کر سکیں۔ کیا ہی سخاوت ہے۔ کیا ہی انسانیت ہے۔

فلسطین کس صورت میں آزاد ہو گا؟ کیسی آزادی ہو گی؟ ہمیں کیا کہا جا رہا ہے کہ ہم کس قسم کے حل کی حمایت اور تائید کریں۔ دراصل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ یہ فیصلہ ہم کریں گے۔ فلسطین کے لوگ نہیں کریں گے۔ خود اپنا فیصلہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ جن پر حکومت کرنی ہے ان کی مرضی دریافت کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں کہ فلسطین کو کیسی آزادی دی جائے۔

ہم فلسطین کو آزاد اور خود مختار کہیں گے لیکن عملاً یہ ہماری ملکیت ہو گا۔ پہلے ہم فلسطین کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کریں گے۔ تین ٹکڑے یہودی ٹکڑے ہوں گے اور تین ٹکڑے عرب ٹکڑے ہوں گے۔ پھر ہم جافا کے حصے کو کاٹ کر علیحدہ کریں گے۔ اور فلسطین کا دل، یروشلم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک بین الاقوامی شہر رہے گا۔ یہ آغاز ہے اس صورت کا جو فلسطین کو دی جائے گی۔ جب فلسطین کے جسم کو اس طرز پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا تو پھر ہم اس جسم کو جس سے خون رس رہا ہو گا ہمیشہ کے لئے صلیب پر کھینچ دیں گے۔ اور یہ عارضی نہیں ہو گا۔ یہ صورت حال مستقل رہے گی۔ فلسطین کبھی بھی اپنے باشندوں کی ملکیت نہیں بن سکے گا۔ یہ ہمیشہ کے لئے مصلوب رہے گا۔

اقوام متحدہ کو یہ قدم اٹھانے کا کیا حق حاصل ہے۔ کون سا جائز حق؟ کون سا قانونی حق حاصل ہے کہ ایک آزاد ملک کو ہمیشہ کے لئے اقوام متحدہ کا غلام بنا دیا جائے؟

فلسطین میں تیرہ لاکھ عرب اور ساڑھے چھ لاکھ یہودی موجود ہیں۔ اور مزید یہودیوں کے لئے جگہ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس مسئلہ کا حل نظر نہیں آ رہا تو کہا جا رہا ہے کہ ہمیں فلسطین کی تقسیم کرنے دو کیونکہ یہ انصاف سے بعید ہو گا اگر تنتیس فیصد یہودیوں کو، جو آج فلسطین میں یہود کی آبادی ہے، ایک متحدہ ریاست میں ایک اقلیت کی حیثیت سے رہنا پڑے۔ تو اب ہم ایک منصفانہ حل بتاتے ہیں۔ عربوں کو ان کی ریاست ملے گی اور یہودیوں کو ان کی ریاست ملے گی۔ اور اس کے مطابق سرحد کھینچی جائے گی۔ عرب ریاست تو ان معنوں میں عرب ریاست ہو گی کہ اس میں صرف دس ہزار یہودی اور تقریباً دس لاکھ عرب ہوں گے۔ بہت خوب اب دیکھتے ہیں کہ یہودی ریاست کیسی ہو گی؟ اس میں 465000 یہودی اور 435000 عرب ہوں گے۔ یہودیوں کو عرب ریاست میں اقلیت بن کر نہیں رہنا ہو گا مگر عربوں کو یہودی ریاست میں اقلیت بن کر رہنا ہو گا۔ اگر ان میں سے ایک حل انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے تو دوسرا حل بھی انصاف کے مطابق نہیں ہے۔ اگر ان میں سے ایک مسئلے کا حل نہیں کہلا سکتا تو پھر دوسرا بھی مسئلے کا حل نہیں کہلا سکتا۔

اب ہمیں ایک لمحے کے لئے متعین سرحدوں کا جائزہ لینے دیں۔ یہودیوں کی آبادی 33 فیصد اور عربوں کی آبادی 67 فیصد ہے مگر فلسطین کا 60 فیصد رقبہ یہودیوں کی ریاست میں شامل کیا جائے گا۔ اس علاقے کی کیفیت کیا ہے۔ ایک لمحے کے لئے ہم صحرا کو جس کا ذکر میں بعد میں کروں گا، نظر انداز کرتے ہیں۔ قابل کاشت اراضی میں سے عمومی انداز میں میدانی علاقہ یہودیوں کو اور پہاڑی علاقہ عربوں کو دیا گیا ہے۔

برطانیہ کے نمائندے کی طرف سے نمائندگان کمیٹی کوایک دستاویز بھجوائی گئی تھی۔ اس کے مطابق جس زمین کو پانی مہیا ہے اور جو قابل کاشت ہے اس کا 84 فیصد یہودیوں کی ریاست کو جائے گا اور 16 فیصد عربوں کی ریاست کو جائے گا۔ کیا ہی منصفانہ تقسیم ہے۔ ایک تہائی آبادی کو 86 فیصد رقبہ ملے گا اور دو تہائی آبادی کو 16 فیصد رقبہ ملے گا۔

آج اگر ہم اپنے ووٹوں سے تقسیم کی تائید نہ کریں تو اس مسئلے کو حل کرنے کے باقی راستے بند نہیں ہو جاتے۔ لیکن اگر آج ہم اپنے ووٹوں سے تقسیم کو منظور کر لیں تو پر امن حل کی تمام امیدیں ختم ہو جاتی ہیں۔ جو اس کی ذمہ داری لینا چاہتا ہے، اسے ایسا کرنے دیں۔ میری آپ سے یہ اپیل ہے کہ اس امید کو ختم نہ کریں۔ اقوام متحدہ کو تو چاہیے کہ لوگوں کو متحد کرنے اور یکجا کرنے کے کے راستے ڈھونڈے، نہ کہ ان کو تقسیم کر کے علیحدہ کرے۔

اس تقریر کے کچھ اقتباسات پیش کر دیے گئے ہیں۔ آج 75 سال بعد پڑھنے والے اس تقریر کے بارے میں اپنی آزادانہ رائے خود قائم کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS