ہمارے سماج کا بنیادی مسئلہ: اخلاقیات یا جمالیات


رومانوی نژاد فرانسیسی ڈرامہ نگار یوجنائے آونیسکو نے ایک بار کہا تھا: ”لوگ لکھاریوں اور مصنفوں سے جوابات کی توقع کیوں رکھتے ہیں؟ میں ایک مصنف ہوں کیونکہ میں سوال پوچھنا چاہتا ہوں، اگر میرے پاس جوابات ہوتے تو میں ایک سیاستدان ہوتا!“ یہ بات اگرچہ یوجنائے نے ازراہ تفنن کہی تھی مگر ہے خدا لگتی! مزاح میں کی ہوئی بات ضروری نہیں کہ خالی از معنی ہو، دنیا کا سنجیدہ سے سنجیدہ فلسفہ بھی مزاح میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ نابغہ روزگار مزاحیہ شاعر انور مسعود کا قول ہے کہ قہقہہ وہ ہوتا ہے کہ جسے نچوڑیں تو آنسو ٹپکے۔

اول الذکر قول کو نقل کرنے کا مقصود و مطلوب یہ ہے کہ کہیں قاری ناچیز سے جواب کی خوش فہمی نہ رکھے۔ کوئی بھی مسئلہ پہلے لکھاری کا اپنا مسئلہ ہوتا ہے، قاری کی تحسین و تنقید کی باری بعد میں آتی ہے۔ لکھنے والا پڑھنے والے کے سامنے صرف ایک تناظر رکھتا ہے، اپنی رائے دیتا ہے، وہ ریڈر کو اپنی عینک لگا کر پڑھنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مرض کا علاج تشخیص کے بعد ہوتا ہے، صحیح تشخیص کامیاب علاج کی ضامن تو نہیں لیکن مددگار ضرور ہوتی ہے۔ ہمارے سماج کے مسئلے حل نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسئلہ اپنی ذات کے اندر مسئلہ بن کر ہی سامنے نہیں آتا۔ یعنی نفس مسئلہ

Philosophization اور Problematization

کے طریقہ کار سے ہی نہیں گزرتا۔ مثلاً ایک سوال کو لیجیے : کیا وجہ ہے کہ ایک مسجد جس کی تعمیر کے لیے ایک پیسہ تک نہیں ہوتا، چند مہینوں کے اندر اس کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے جمع ہو جاتے ہیں مگر اسی گلی جس میں خانہ خدا تعمیر کیا جا رہا ہے، میں نالی یا سیوریج کا مسئلہ بیس سال تک بھی حل نہیں ہو پاتا۔ کیونکہ مسجد کی تعمیر ہمارے لیے ایک مسئلہ ہے۔ اسے کار خیر اور ”جنت میں گھر“ کی امید پر شب بھر میں تعمیر کر لیا جاتا ہے جبکہ گلی میں کھڑا سیوریج کا پانی ہمارا مسئلہ نہیں۔ وہ شودر کا کام ہے اور جس کا کام مسئلہ بھی اسی کا!

اب آتے ہیں اپنے اصل مدعا کی طرف، ہمارے سماج کا بنیادی مسئلہ اخلاقیات ہے یا جمالیات؟ امراض دو طرح کے ہوسکتے ہیں۔ ایک وہ جن کا ادراک کیا جا سکے اور دوسرا وہ جن کا نا کیا جا سکے۔ یہاں پہ کہتے چلیں کہ مرض کا ادراک درد سے ہوتا ہے۔ درد مرض نہیں ہوتا لیکن مرض پر دلالت کرتا ہے۔ ہماری سوسائٹی کو دونوں عارضے بدرجہ اتم لاحق ہیں لیکن المیہ یہ کہ اخلاقی کوتاہیوں کی نشاندہی ہوتی رہتی ہے۔ مگر جمالیاتی محرومیوں پر بات کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ رونے والے دو ہیں، ایک کے آنسو پونچھنے والا کوئی موجود ہوتا ہے مگر دوسرے کی آہ تک سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔

اصغر ندیم سید نے ایک بار اپنے کالم میں لکھا تھا کہ جو شخص جمالیات سے ناواقف ہے اسے سبحان اللہ کہنے کا حق نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایک بات عام ہے کہ جب بھی الٹے جوتے پر نظر پڑتی ہے تو ہم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرا سوال یہ کہ اس میں کیا اخلاقی قباحت ہے؟ عزیزو! یہ اخلاقی نہیں جمالیاتی بات ہے۔ برسبیل تذکرہ بیان کیے دیتے ہیں کہ اردو کے کلاسیکل شاعر مظہر جان جاناں اگر الٹا پیالا دیکھ لیتے تو ان کے سر میں شدید درد شروع ہوجاتا۔

انتہائی احترام کے ساتھ گزارش ہے کہ جتنا زور ہمارے علما کرام نے فجر نماز کی مذہبی اہمیت پر دیا ہے، کاش اتنا اس کے جمالیاتی پہلوؤں پر غور کیا جاتا تو شاید فجر پڑھنے والے نماز جمعہ پڑھنے والوں سے بڑھ گئے ہوتے۔ حسن کیا ہے؟ حسین مناظر کے انسانی نفسیات پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟ اس سے ہمیں کیا سروکار! خدا کبھی فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی توفیق دے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مسجد کے اندر اتنی زیادہ لائٹس جلائی ہوتی ہیں کہ نماز عشاء کا گمان ہونے لگتا ہے، آہ!

جمالیاتی تسکین کیا ہوتی ہے، داغ کا شعر ملاحظہ فرمائیں۔
اے فلک سامان محشر ہی سہی
اپنی آنکھوں کو تماشا چاہیے

ایک حکایت ہے کہ باپ اپنے بیٹے کو کرہ ارض کا نقشہ پھاڑ کر دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ اسے جوڑو۔ بچہ تھوڑی دیر بعد بعینہ نقشہ جوڑ کر لے آتا ہے۔ باپ پوچھتا ہے کہ بیٹا یہ کیسے کیا؟ بیٹا جواب دیتا ہے کہ میپ کی دوسری طرف انسان کی تصویر تھی۔ میں تصویر جوڑتا گیا، نقشہ بنتا گیا۔ بالکل اسی طرح ہمارا یہ کہنا ہے کہ جمالیاتی حظ یا تسکین کے ذرائع سوسائٹی میں بڑھائے جائیں، اخلاقی کوتاہیاں کم ہوتی جائیں گی۔ دیکھا جائے تو اخلاقیات بھی جمالیات کا ہی ایک پہلو معلوم ہوتا ہے۔

قدیم رومی بادشاہت میں انسان اور شیروں کے درمیان کھیلے جانے والے کھیل سے تو ہم سب واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے کھلاڑی کو گلیڈی ایٹر کہا جاتا تھا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کھیل کو منعقد کرنے والے شہنشاہ میں اخلاقی کمزوری زیادہ تھی یا جمالیات سے ناواقفیت؟

Facebook Comments HS