پارا چنار، شیعہ سنی فسادات اور نظریاتی ڈی کنسٹرکشن
میرا ایم فل کا تھیسس پری نائن الیون جہادی ڈسکورس اور پوسٹ نائن الیون دہشت گری کے ڈسکورس پر تھا۔ جو جہاد سے دہشت گری کی طرف ڈسکورس کی منتقلی کی بنیادی وجوہات کو تلاش کرنے کی اپنی سی کوشش پر مشتمل تھا۔ میں اپنے تھیسس کی تکمیل پر اس بات کا قائل ہو گیا تھا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی اور شدت پسندی کو ، ریاستی و سماجی سطح پر رائج نظریات کی وسیع پیمانے پر ڈی کنسٹرکشن کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور اس ریاستی و سماجی نظریاتی شناخت کی ڈی کنسٹرکشن انتہائی ضروری ہے جو ضیا ء انتظامیہ نے وقتی مفاد اور اپنی جہالت کے باعث قوم پر مسلط کی ہے۔ کیونکہ شناخت اور تشدد کا گہرا تعلق ہے۔
پارا چنار میں تشدد، دہشت گردی اور فرقہ واریت کی جڑیں ویسے تو بہت پرانی ہیں۔ مگر موجودہ فرقہ واریت کے پیچھے ضیا دور کی غلط پالیسیوں کا زیادہ ہاتھ ہے۔ سید مہدی بخاری ڈان نیوز پر لکھتے ہیں ”80 کی دہائی میں پارا چنار روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کا بیس کیمپ ہوا کرتا تھا۔ اس کی وجہ پارا چنار کی منفرد لوکیشن تھی۔ اس کو اک جانب سے افغانستان کا صوبہ پکتیا لگتا ہے تو دوسری جانب سے خوست، تیسری سمت ننگرہار ہے۔“
ان کیمپوں میں جنگجوؤں کی تربیت کے لیے زمین کی ضرورت تھی، جس کے لیے ضیاء الحق انتظامیہ نے پارا چنار کے لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو پارا چنار کی شیعہ کمیونٹی نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا اور اپنی زمینیں دینے سے انکار کیا۔ جس کے جواب میں شیعہ کمیونٹی کے مخالف گروپ جنداللہ اور جھنگوی گروپ کو فرقہ واریت کے لیے استعمال کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں فرقہ واریت کی آگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیا اور روزانہ شیعہ سنی لوگ قتل ہونے لگے۔
اس دور میں سلفی آئیڈیالوجی کو پروموٹ کیا گیا کیونکہ روس افغان جنگ میں سعودیہ عرب بہت بڑا سٹیک ہولڈر تھا۔ سلفی آئیڈیالوجی کو استعمال کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ضیاء انتظامیہ کی نظریاتی اصطلاحات سے پہلے ملک میں مقامی سطح پر بریلوی مکتب فکر اکثریت میں تھا جو جنگ اور لڑائی جھگڑے سے دور رہنا پسند کرتا تھا۔ جبکہ سلفی آئیڈیالوجی جنگ پر زور دیتی ہے۔
کرم ایجنسی میں شیعہ کمیونٹی کی بجائے سنی سلفی لوگوں کو مضبوط کرنے اور انہیں آگے لانے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ کرم ایجنسی کی شیعہ کمیونٹی، شیعہ ہونے کی وجہ سے ایران کے قریب سمجھی جاتی ہے جبکہ روس افغان جنگ کے دوران ایران اور سعودیہ ایک دوسرے کے شدید مخالف تھے کیونکہ افغانستان میں دونوں کے مفاد الگ الگ تھے۔
تیسری بڑی وجہ سی آئی اے کے خدشات تھے۔ مڈل ایسٹ میں سی آئی اے کی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ساتھ جنگ چل رہی تھی۔ جس کی وجہ سے سی آئی اے انتظامیہ یہ سمجھتی تھی پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کو مضبوط کرنا ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کرم ایجنسی میں شیعہ کمیونٹی کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھانے کے پیچھے ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ ایران مڈل ایسٹ میں امریکہ اور سعودیہ کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے کرم ایجنسی سے جنگجو بھرتی کرتا رہا ہے جن میں فاطمیون اور زینبیون بریگیڈ کا نام خاص طور پر انٹرنیشنل میڈیا پر بار بار لیا جاتا رہا۔ یہ تنظیمیں زیادہ تر افرادی قوت کرم ایجنسی، کوئٹہ اور کراچی سے بھرتی کرتی تھیں، جنہیں عراق و شام میں مقامات مقدسہ کی حفاظت کے نام پر جنگ میں استعمال کیا جاتا رہا۔
پاکستان میں شیعہ سنی مسلکی مسئلہ پہلی بار 1987 میں مسلکی مسئلے سے نکل کر سیاسی مسئلہ بنا جب ضیا ء الحق نے زکؤۃ آرڈیننس پاس کیا۔ جس کی مخالفت میں شیعہ کمیونٹی نے سخت احتجاج کیا۔ اس وقت شیعہ کمیونٹی کی رہنمائی مفتی جعفر حسین اور علامہ عارف الحسینی کے ہاتھوں میں تھی۔ عارف الحسینی شیعہ کمیونٹی میں مقبول ترین رہنما تھے جنہیں پاکستان کا خمینی کہا جاتا تھا۔ شیعہ کمیونٹی کی طرف ان کا قتل ہوا جس کا الزام اس کے وقت خیبر پختونخوا کے گورنر جنرل فضل حق پر عائد کیا گیا۔
کچھ عرصہ بعد جنرل فضل حق بھی قتل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب کے شہر جھنگ سے مولانا حق نواز جھنگوی سامنے آتے ہیں جو شیعہ کمیونٹی کے خلاف انتہائی سخت موقف رکھتے ہوئے جہاد کے قائل تھے۔ ہمارے ہاں فضل الرحمٰن کا ہمدرد طبقہ یہ بتانے سے گریز کرتا ہے کہ حق نواز جھنگوی نے 1988 کے الیکشن میں فضل الرحمٰن کی جمیعت علما اسلام کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ یہ وہ وقت ہے جب پاکستان میں فرقہ واریت عروج پر تھی۔ اسی دوران حق نواز جھنگوی کو 22 فروری 1990 کو قتل کر دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں فرقہ واریت پورے ملک میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔
کرم ایجنسی میں بھی ان چنگاریوں نے آگ بھڑکانے کا پورا کام کیا۔ جس کے نتیجے میں کرم ایجنسی خاص کر اس کا شہر پارا چنار پانچ دہائیوں سے فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہے۔ پارا چنار کا 2017 میں ہونے والا قتل عام ہو 2023 میں اساتذہ کا قتل، عموماً اس مسئلے کو کبھی زمینی تنازعے کا رنگ دے کر چھپایا جاتا ہے تو کبھی خاندانی دشمنی بتا کر حقائق سے پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس علاقے میں فرقہ واریت کے لیے بے پناہ خلا موجود ہے اور شیعہ سنی تقسیم اس قدر گہری ہے کہ اس میں سوائے نفرت اور انتقام کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔
اس نفرت اور دہشت گردی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ جہالت ہے۔ اس علاقے کا بہت بڑا حصہ تعلیم سے محروم ہے۔ 2021 کے ایک سروے کے مطابق کرم ایجنسی میں صرف 13 فیصد لوگ خواندہ ہیں۔ دوسری بڑی وجہ ریاست کی غلط پالیسیاں ہیں جن کہ وجہ سے وہاں متشدد اور انتہا پسند لوگوں کو اپنے اپنے گروہ بنانے کا موقع ملا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں سلفی آئیڈیالوجی مضبوط ہوئی ہے۔ ویسے یہ پورے پاکستان کا المیہ ہے کہ سلفی نظریات پر عمل پیرا لوگ انتہائی اقلیت میں تھے، مگر ریاست کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اب یہ آئیڈیالوجی ایک غالب آئیڈیالوجی کا درجہ رکھتی ہے۔
جھنگوی اور عارف الحسینی کے قتل کے بعد پورے ملک میں فرقہ واریت کی آگ اس قدر تیزی سے پھیلی کہ آج تک ریاست اس آگ کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی۔ ضیاء الحق کے دور میں کی گئی نصابی، آئینی، داخلی اور سماجی تبدیلیوں نے اس آگ کو اس حد تک بڑھا دیا کہ بعد میں اس آگ سے خود ریاستی ادارے، ریاستی اہلکار اور یہاں تک کہ فوج کے اعلیٰ عہدیداران بھی محفوظ نہ رہے۔ ریاست نے کئی دفعہ فرقہ واریت کو ختم کرنے کے نام پر اقدامات کیے مگر وہ فرقہ واریت کو ختم کرنے کی بجائے کنٹرول کرنے کے لیے تھے جس کی وجہ سے ہمیں عملی سطح پر کوئی ٹھوس کام نظر نہیں آتا۔ جبکہ پارا چنار کے لوگوں کے ساتھ ہونے والے مظالم ایک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی تھی۔ اس کے باوجود، آج تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
بہرحال اگر ہم ان تمام واقعات کی وجہ مختصراً بیان کرنا چاہیں تو وہ دو لفظ میں بیان ہو سکتی ہے وہ دو لفظ نظریاتی شناخت ہیں۔ انسان نے نظریاتی شناخت تب اپنائی جب اسے اپنے علاقے سے باہر نکل کر مفادات حاصل کرنے کے لیے قبضہ کرنا تھا۔ ورنہ شروع میں انسان کے پاس سماجی اور جغرافیائی شناختیں تھیں۔ نظریات کا مقصد زیاد سے زیادہ وسائل اور زمین پر اپنا کنٹرول رکھنا ہوتا ہے اس لیے نظریاتی شناخت کی کوکھ میں نفرت ( اپنے سے الگ نظریے اور لوگوں سے نفرت) ہر صورت موجود ہوتی ہے۔ یہی نفرت وقت کے ساتھ طاقت ور ہو کر تشدد اور انتہا پسندی میں بدل جاتی ہے جس کا نتیجہ دہشت گردی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ (فرانسیسی فلاسفر دریدا اس لیے شناخت کے خلاف تھا) ہمارے ہاں بھی تشدد اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر نظریات کی ڈی کنسٹرکشن ضروری ہے۔
اکیسویں صدی میں کسی بھی معاشرے کا بنیادی ڈھانچہ، اس کے نظریہ، آئین، نصاب، ادب اور داخلہ خارجہ پالیسی سے مل کر بنتا ہے۔ ہمیں آج ان تمام شعبوں کی نظریاتی سطح پر ڈی کنسٹرکشن کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی نظریاتی شناخت کی ڈی کنسٹرکشن اور آئین کی از سر نو ترتیب کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد نصاب کو ترمیم شدہ نظریے اور آئین کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے، بعد میں سماجی سطح پر موجود طاقت ور مذہبی مراکز اور شخصیات کا کردار محدود کیا جائے اور انہیں ریاستی قوانین کا پابند بنایا جائے۔
ہمارے ہاں ضیاء الحق کے بعد مشرف نے نظریات کی ڈی کنسٹرکشن پر کام کیا، مگر وہ ناکام رہا۔ مشرف نے سماجی سطح پر موجود مذہبی مرکزی طاقت کے اداؤں اور شخصیات کا کردار اور ان کا معاشرے پر اثر محدود کرنے کی کوشش کی۔ گو کہ اس کام کے پیچھے عالمی طاقتیں تھیں مگر ہمیں اس کام کو عالمی طاقتوں کی بجائے اپنے مفاد کی خاطر جاری رکھنا چاہیے تھا۔ لیکن مشرف کے بعد کیانی اور راحیل شریف نے اس پروجیکٹ کو ختم کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سماجی سطح پر ریاست سے زیادہ طاقتور ادارے اور لوگ موجود ہیں۔ جو ریاستی رٹ اور مفاد کو چیلنج کر رہے ہیں، جن کی وجہ سے ہم تین نسلیں فرقہ واریت کی آگ میں جھونک چکے ہیں۔


