سماجی علوم کا بھوت میرا محبوب (تیسری قسط)


تیسری قسط لکھنے میں تاخیر ہوئی۔ صاحب سلامت شاعر پر کہ اس زبان زد خاص و عام مصرعے کی سچائی دل سے تسلیم ہوئی ”ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا“ ۔ دوسری قسط میں کتاب ”نظریات ابلاغ“ مرتب پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ باب چہارم تک کی تلخیص پیش کی گئی تھی۔ اس کے بعد کے چار ابواب ”محدود اثرات کا نظریہ“ ، ”رویے کی تبدیلی کے نظریات“ ، رویوں میں تبدیلی کے نظریات ”اور“ محدود اثرات کے نمونے کا ظہور ”پر مشتمل ہیں یعنی مرکزی خیال“ فرد اور ابلاغ عامہ کا تعلق ”ہے لیکن دائرہ علم نفسیات تک محدود نہیں ہے۔ باب پنجم اتنا وسیع تناظر رکھتا ہے کہ میں اس پر لطف کش مکش میں مبتلا ہوتی ہوں کہ تلخیص کروں یا پیراگراف کے پیراگراف نقل کردوں؟

باب پنجم۔ محدود اثرات کا نظریہ، تحریر اسٹینلے جے باران اور ڈینس کے ڈیوس، ترجمہ فوزیہ جبیں : 1938ء، اکتوبر کا اواخر، ایک پر سکون رات کو بہت سے امریکی باشندے سی بی ایس کے ریڈیائی نشریاتی رابطے پر ایک رقص گاہ کا موسیقی کا پروگرام سن رہے تھے۔ ریڈیو بطور ذریعہ ابلاغ ابھی نیا تھا لیکن سامعین نے اس پر اعتبار کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس وقت یورپ پر جنگ کے سائے منڈلا رہے تھے اور لوگ تازہ ترین خبروں کے لیے ریڈیو سنتے تھے۔

اورسن ویلز (Orsonwelles) جو ایک نوجوان ریڈیو پیش کار تھا، ایک فرضی خبر نامہ پیش کیا۔ یہ خیال جی ایچ ویلز کے ناول وار آف دی ورلڈز سے ماخوذ تھا۔ کہانی نویس ہوورڈکاچ نے اس خیال پر مبنی ریڈیائی ڈرامے کا مسودہ لکھا لیکن کاچ نے مسودے کو دہشت پھیلانے والی خبروں کے انداز اور حوالوں کی تفصیلات سے آراستہ کیا۔ اس فرضی خبرنامے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سننے والوں میں سراسیمگی پھیل گئی، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے، آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھنے لگے، اپنے پڑوسیوں کے دروازے بجانے لگے، اس سراسیمگی کی خبریں نیویارک کی نشر گاہ تک پہنچیں تو باشعور مبصرین نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر صرف ایک ریڈیو پروگرام اتنے بڑے پیمانے پر خوف اور دہشت پھیلا سکتا ہے تو واضح طور پر ایک طے کردہ پروپیگنڈا مہم اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ (واضح رہے کہ پروپیگنڈا مضمون بین الاقوامی تعلقات اور علم عمرانیات کا موضوع ہے جسے ابلاغیات کے نظریات کی کتاب میں موضوع بنایا گیا، یہ باور کرانے کا مقصد اپنے محبوب کی توصیف ہے، عاشق سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے ) ۔

فضائی لہروں پر قابض ہو کر کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے کا ایک مرتبہ یقینی غلبہ۔ پرنسٹن یونیورسٹی میں عمرانی محققین ( ذرائع ابلاغ کے مشتملات کے اثرات پر تحقیقات کا آغاز دیگر سماجی علوم کے ماہرین نے کیا اور دنیا بھر میں آج بھی کر رہے ہیں ) نے یہ معلوم کرنے کی ٹھانی کہ ایک فرضی خبرنامہ اتنا زود اثر کیسے ثابت ہوا؟

پال لازرسفیلڈ آسٹرین امریکن ماہر عمرانیات اور کارل آئیور ہوولینڈ امریکی ماہر نفسیات نے کولمبیا یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر ذرائع ابلاغ کے اثرات کے بارے میں گراں قدر مطالعات کا آغاز کیا۔ یہ ماہرین اس بات کے قائل تھے کہ معروضی اور تجربی طریقے استعمال کر کے ذرائع ابلاغ کے اثرات کا بہترین تعین کر سکتے ہیں اور سائنسی طریقے ذرائع ابلاغ کی طاقت کو قابو فکر نے کے لیے ضروری اسباب مہیا کرتے ہیں۔ وہ طبعی سائنس کے شعبے میں ہونے والی زبردست کامیابیوں سے بہت متاثر تھے۔

مثلاً ناقابل یقین ہوائی جہاز، انتہائی تباہ کن بم اور نہ روکے جا سکنے والے ٹینک، یہ ہتھیار اچھے اور برے دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ جمہوریت کو تحفظ دینے کے لیے بھی اور کلیت پسندی کی اعانت کے لیے بھی۔ اگر جمہوریت کو قائم و دائم رہنا ہے تو اسے بہترین سائنس دان پیدا کرنے ہوں گے اور ان کو اپنے سیاسی نظریات کی اشاعت کے لیے ٹیکنالوجی پر عبور پانا ہو گا۔ طبعی سائنس اگر طبعی دنیا کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت دیتی ہے تو علوم عمرانی کو ہمیں عمرانی دنیا کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت دینی چاہیے۔ علمی نظریات کو عمرانی واقعات کی سببی وضاحتیں مہیا کرنی چاہئیں۔ اگر ایک مرتبہ معاشرہ سمجھ لے کہ واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں تو ان پر قابو پانے کے طریقے بھی تلاش کر سکتا ہے۔ مثلاً ہوولینڈ نے ترغیبی ابلاغ (Persuasive Communication) کا مطالعہ کیا، وہ ترغیب دینے والی طلسمی کنجیوں کی تلاش میں تھا۔

پارہ بعنوان ”پیراڈائم شفٹ“ جس کا ترجمہ اس باب میں ”نمونے کی تبدیلی“ کیا گیا ہے، فکری موضوع ہے۔ اس پیراگراف کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ”اس بات کی تشریح کرنے کے لیے کہ 1940ء سے 1960ء کے دو عشروں میں ذرائع ابلاغ کے نظریے کے ساتھ کیا ہوا، ایک راستہ یہ ہے کہ اس کو “ نمونے کی تبدیلی ”کے طور پر دیکھا جائے۔ تھامس کوہن جو ایک سائنسی تاریخ نویس تھا یہ استدلال پیش کیا کہ سائنسی ترقی کی راہ ہمیشہ کسی نظریے کی انقلابی ٹوٹ پھوٹ سے ہموار ہوئی ہے۔“ ۔ کوئی نمونہ تمام مشاہدات کی موزوں وضاحت مہیا نہیں کر سکتا۔ روایت شکن ہمیشہ علیحدہ ہو کر کام کرتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ متبادل تناظر تشکیل دیتے ہیں تاہم ان کے خیالات کی اہمیت اور دریافتوں کو نظرانداز کیا جاتا رہا تاوقتیکہ برسوں بعد کوئی طبع زاد تحقیق پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔ ”

باب پنجم کا پارہ بعنوان ”عمرانی تجربی محققین مختلف علوم میں عمرانی تحقیق کے دائرے کی حد تک استحکام پانے میں کامیاب ہو گئے : مثلاً سیاسیات، تاریخ، نفسیات، عمرانیات، عمرانی نفسیات اور معاشیات کے علوم میں ہونے والی تحقیق سے ابلاغی تحقیق کو بھی تقویت ملی جب مختلف ابلاغی علوم کا دائرہ پھیلا تو پہلے سے مستحکم علوم عمرانی میں ہونے والی تحقیق نے ابلاغی شعبوں میں ہونے والی تجربی عمرانی تحقیق میں رہنمائی فراہم کی۔

علوم عمرانی کے نظریات اور تحقیقی طریقے اہم خیال کیے جانے لگے۔ یہ نظریات اور طریقے جامعات میں ہونے والی صحافتی تحقیق، تقریری ابلاغ اور نشریاتی شعبوں میں غالب آچکے ہیں۔ (اس پیراگراف کو نمایاں کرنے والی وجہ ذاتی دکھ ہی سمجھ لیں اور اس دکھ کا سبب سماجی علوم سے ہماری والہانہ و دیرینہ وابستگی کے علاوہ کچھ نہیں ) ۔

باب ششم۔ رویے کی تبدیلی کے نظریات، مصنف ایضا، ترجمہ بینا صدیقی: میرا دل چاہتا ہے کہ اس بات کا بار بار ذکر کروں کہ یہ کتاب ابلاغیات کے نظریات پر مشتمل ہے اور ہر باب کا آغاز ذہن کے دریچے وا کرتا چلا جاتا ہے۔ سوال اٹھاتا ہے اور پھر ان کے جواب دیتا ہے۔ یہ ترجمہ 1998ء میں شائع ہوا، آج سے تقریباً پچیس سال قبل، کتاب 1994ء95 کی ہے۔ اس باب کے ابتدائی چار پیراگرافوں کی تلخیص پیش کرنا چاہوں گی: 1991 ء کی خلیج فارس میں ہونے والی جنگ کو یاد کیجیے۔

جنگ کے آغاز سے قبل امریکی عوام اس نکتے پر تقریباً مساوی طور پر منقسم تھے کہ آیا امریکہ کو صدام حسین کی فوجوں سے نبرد آزما ہونا چاہیے یا نہیں؟ لیکن جنگ کے آغاز کے فوراً بعد لیے جانے والے جائزے کے نتائج نے ظاہر کیا کہ اب بیس فیصد کے مقابلے میں اسی فیصد لوگ اس جنگ کے حق میں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوامی رائے جنگ جیسے سنجیدہ اور اہم معاملے پر اتنی تیزی سے کیسے تبدیل ہو سکتی ہے؟ دراصل امریکی فوج نے ویت نام کی جنگ سے کافی سبق سیکھے تھے۔

جنگ خلیج کی کوریج میں صحافیوں پر سخت گرفت رکھی گئی تھی، اخبارات پر پابندیاں لگانے کے لیے موثر حکمت عملیاں وضع کی گئیں تھی۔ لہٰذا اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ واقعات کو بعینہ ویسے ہی پیش کیا جائے جیسا کہ فوج چاہتی ہے۔ بہت سے صحافیوں نے جنگ کا تمام عرصہ محض ان علاقوں میں محصور ہو کر گزارا جو خبر نگاری کے لیے انہیں تفویض کیے گئے تھے اور جن صحافیوں نے انہیں توڑنے کی کوشش کی انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان تمام کوششوں کے ذریعے فوج خبروں میں ایسی غلط اطلاعات شامل کرنے کے قابل ہو گئی تھی جو صدام حسین کو امریکی فوج کے آئندہ حملوں کے منصوبوں سے گمراہ کرسکیں۔

صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے ناقدین نے اس قسم کی کوریج کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھائے کہ اس سے کیا پیش قیاسی ہو سکتی ہے کہ مستقبل میں جنگوں یا ایسے تنازعات کی کوریج کس نوعیت کی ہوگی؟

کیا پریس نے حکومت سے بہت زیادہ تعاون کیا؟
کیا میڈیا نے اجتماعی طور پر جنگ کے بالکل آغاز میں ہی عائد ہونے والی سنسر شپ پر آواز اٹھائی؟
کیا جنگ مخالف نظریات کو اس دوران کوریج ملی؟

کیا جنگ کے خونیں مناظر کی تصویر کشی کر کے لوگوں میں جنگ مخالف جذبات کو ابھارنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؟

سی این این کو بکثرت دیکھنے والے ناظرین کی یادداشتوں میں محفوظ ہو گا کہ فوجیوں کی کامیابی پر پرجوش خبریں تو بہت پیش کی جاتی تھیں تاہم جنگ کے ہولناک مناظر کی کوریج بالکل نہیں کی گئی تاکہ عوام میں جنگ موافقت رویہ پیدا کیا جا سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی صدام حسین ایک اور ایڈولف ہٹلر تھا جیسا کہ صدر جارج بش نے دعویٰ کیا اور بہت سے امریکیوں نے اس پر یقین کر لیا۔ اس صورت حال میں ہم رائے عامہ پر ذرائع ابلاغ کے اثرات کو کیوں کر جانچ سکتے ہیں؟

کیا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جنگ کے دوران جنگ کی خبروں کی کوریج کس طرح کی گئی؟ اگر ایسا ہے تو ہم فوج کی عائد کردہ سنسر شپ اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں سے کیوں پریشان ہوں؟ صحافیوں کو محاذ جنگ پر بھیجنے میں پیسہ کیوں ضائع کیا جائے؟ اس جنگ کے دوران فوجیوں نے گویا ثابت کر دیا کہ صحافیوں کا کام محض نیویارک میں بیٹھ کر جنگ کے نمایاں واقعات کی سنسنی خیز اور ڈرامائی مناظر کی تدوین ہے۔

جنگ کے دوران امریکی ذہنوں کی تبدیلی کے جائزے کے جو نتائج سامنے آئے انہوں نے وہ سوال پیدا کیے جن کا جواب کمیتی ابلاغی تحقیق او ر محدود اثرات کے تناظر کا نظریہ دونوں ہی دینے سے قاصر تھے۔ ”

یہ ایقان ایک نئے سفر کا آغاز تھا، ایک دوسری منزل کی جانب اشارہ۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS